بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۣ ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَہٗ ۙ﴿۲﴾ یَحۡسَبُ اَنَّ مَالَہٗۤ اَخۡلَدَہٗ ۚ﴿۳﴾ کَلَّا لَیُنۡۢبَذَنَّ فِی الۡحُطَمَۃِ ۫﴿ۖ۴﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحُطَمَۃُ ؕ﴿۵﴾ نَارُ اللّٰہِ الۡمُوۡقَدَۃُ ۙ﴿۶﴾ الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الۡاَفۡـِٕدَۃِ ؕ﴿۷﴾ اِنَّہَا عَلَیۡہِمۡ مُّؤۡصَدَۃٌ ۙ﴿۸﴾ فِیۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ ٪﴿۹﴾
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ﴿مُنہ در مُنہ﴾ لوگوں پر طعن اور ﴿پیٹھ پیچھے﴾ بُرائیاں کرنے کا خوگر ہے۔ جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اُس کا مال ہمیشہ اُس کے پاس رہے گا۔ ہرگز نہیں، وہ شخص تو چَکنا چُور کر دینے والی جگہ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چَکنا چُور کر دینے والی جگہ ؟ اللہ کی آگ، خُوب بھڑکائی ہوئی، جو دلوں تک پہنچے گی۔ وہ اُن پر ڈھانک کر بند کر دی جائے گی ﴿اِس حالت میں کہ وہ﴾ اُونچے اُونچے ستونوں میں ﴿گھِرے ہوئے ہوں گے﴾ ۔ ؏١
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Woe to every person who is given to taunting people to their face and backbiting them behind their backs. Who gathers wealth and counts it over and over. He thinks that his wealth will remain with him forever. By no means! He will be thrown into the crushing place. And what do you know what the crushing place is? It is Allah’s fire, kindled to a blaze, which will reach to the very hearts. It will close in on them from all sides, while they are tied to pillars stretched high.
Surah Al-Humazah
Name:
The word “Humazah” in the first verse has been taken as the name of this surah.
Period of Revelation:
All commentators agree that this surah is Meccan in origin. Reflecting on its theme and style of expression also suggests that it belongs to the surahs revealed in the early Meccan period.
Subject and Theme:
This surah condemns certain moral vices that were found among the wealth-obsessed rich of the pre-Islamic (Jahiliyyah) society — vices that every Arab knew were actually present in their society, and which everyone considered reprehensible; no one regarded them as virtues. After presenting this repugnant character, the surah describes what fate awaits such people in the Hereafter. Both elements — the character on one hand, and its consequence in the Hereafter on the other — are presented in a manner that leads the listener’s mind, almost automatically, to the conclusion that such conduct deserves precisely this outcome. And since people of this character go unpunished in this world, indeed appear to prosper and flourish, the occurrence of the Hereafter becomes absolutely inevitable.
If this surah is examined within the sequence of surahs running from Surah Az-Zalzalah up to this point, one can clearly see the method by which, in the early Meccan period, the beliefs and moral teachings of Islam were impressed upon people’s minds. Surah Az-Zalzalah explains that on the Day of Judgment, a person’s complete record of deeds will be placed before him, and not even the smallest good or evil deed done in this world will fail to appear before him there. Surah Al-Adiyat points to the plunder, bloodshed, and pillaging that was rampant throughout Arabia; after making people realize that such misuse of the powers granted by God amounts to immense ingratitude, it informs them that the matter will not end in this world alone — rather, in the next life after death, not only their actions but even their intentions will be scrutinized, and their Lord knows full well who deserves what treatment. Surah Al-Qari’ah, after presenting a picture of the Day of Resurrection, warns people that a person’s good or bad outcome in the Hereafter will depend on whether the scale of his good deeds is heavy or light. Surah At-Takathur takes to task the materialistic mentality that keeps people striving, until their last breath, to acquire ever more worldly benefits, pleasures, comforts, and status, and to outdo one another — and then, after warning of the evil consequence of this heedlessness, tells people that this world is not a feast for plunder where one may grab as much as one pleases in whatever manner one likes; rather, for every single blessing received here, one will have to answer to one’s Lord — how it was obtained, and how it was used once obtained. Surah Al-Asr states in the most direct terms that every individual of humankind, every group, every nation — indeed the entire human world — is in loss, unless its members have faith and righteous deeds, and unless mutual exhortation to truth and patience becomes a common practice within their society.
سُوْرَةُ الْهُمَزَة
نام :
پہلی آیت کے لفظ ھمزۃ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانۂ نزول :
زمانۂ نزول اس کے مکی ہونے پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے۔ اور اس کے مضمون اور انداز بیان پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے۔
موضوع اور مضمون :
اس میں چند ایسی اخلاقی برائیوں کی مذمت کی گئی ہے جو جاہلیت کے معاشرے میں زرپرست مالداروں کے اندر پائی جاتی تھیں، جنہیں ہر عرب جانتا تھا کہ یہ برائیاں فی الواقع اس کے معاشرے میں موجود ہیں، اور جن کو سب ہی برا سمجھتے تھے، کسی کا بھی یہ خیال نہ تھا کہ یہ کوئی خوبیاں ہیں۔ اس گھناؤنے کردار کو پیش کرنے کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت میں اُن لوگوں کا کیا انجام ہوگا جن کا یہ کردار ہے۔ یہ دونوں باتیں (یعنی ایک طرف یہ کردار اور دوسری طرف آخرت میں اس کا یہ انجام) ایسے انداز سے بیان کی گئی ہیں جس سے سامع کا ذہن خود بخود اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اس طرح کے کردار کا یہی انجام ہونا چاہیے، اور چونکہ دنیا میں ایسے کردار والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی، بلکہ وہ پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں، اس لیے آخرت کا برپا ہونا قطعی ناگزیر ہے۔ اس سورت کو اگر اُن سورتوں کے تسلسل میں رکھ کر دیکھا جائے جو سورۂ زلزال سے یہاں تک چلی آ رہی ہيں تو آدمی بڑی اچھی طرح یہ سمجھ سکتا ہے کہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں کس طریقہ سے اسلام کے عقائد اور اس کی اخلاقی تعلیمات کو لوگوں کے ذہن نشین کیا گيا تھا۔ سورۂ زلزال میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں انسان کا پورا نامۂ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور کوئی ذرہ برابری نیکی یا بدی بھی ایسی نہ ہوگی جو اس نے دنیا میں کی ہو اور وہاں اس کے سامنے نہ آ جائے۔ سورۂ عادیات میں اس لوٹ مار، کشت و خون اور غارت گری کی طرف اشارہ کیا گیا جو عرب میں ہر طرف برپا تھی، پھر یہ احساس دلانے کے بعد کہ خدا کی دی ہوئی طاقتوں کا یہ استعمال اس کی بہت بڑی ناشکری ہے، لوگوں کو یہ بتایا گیا کہ معاملہ اسی دنیا میں ختم نہیں ہوجائے گا، بلکہ موت کے بعد دوسری زندگی میں تمہارے افعال ہی کی نہیں، تمہاری نیتوں تک کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون آدمی کس سلوک کا مستحق ہے۔ سورۂ قارعہ میں قیامت کا نقشہ پیش کرنے کے بعد لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ آخرت میں انسان کے اچھے یا برے انجام کا انحصار اس پر ہوگا کہ اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا ہلکا۔ سورۂ تکاثر میں اس مادہ پرستانہ ذہنیت پر گرفت کی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ مرتے دم تک بس دنیا کے فائدے اور لذتیں اور عیش و آرام اور جاہ و منزلت زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، پھر اس غفلت کے برے انجام سے آگاہ کر کے لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ دنیا کوئی خوانِ یغما نہیں ہے کہ اس پر تم جتنا اور جس طرح چاہو ہاتھ مارو، بلکہ ایک ایک نعمت جو تمہیں یہاں مل رہی ہے اس کے لیے تمہیں اپنے رب کو جواب دینا ہوگا کہ اسے تم نے کیسے حاصل کیا اور حاصل کر کے اس کو کس طرح استعمال کیا۔ سورۂ عصر میں بالکل دو ٹوک طریقے سے بتا دیا گیا کہ نوع انسانی کا ایک ایک فرد، ایک ایکگروہ، ایک ایک قوم، حتٰی کہ پوری دنیائے انسانیت خسارے میں ہے اگر اس کے افراد میں ایمان و عملِ صالح نہ ہو اور اس کے معاشرے میں حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کا رواج عام نہ ہو۔ اس کے معاً بعد سورۂ ھمزہ آتی ہے جس میں جاہلیت کی سرداری کا ایک نمونہ پیش کر کے لوگوں کے سامنے گویا یا سوال رکھ دیا گیا کہ یہ کردار آخر خسارے کا موجب کیوں نہ ہو؟