بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلۡہٰکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿۱﴾ حَتّٰی زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ ؕ﴿۲﴾ کَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۳﴾ ثُمَّ کَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ؕ﴿۴﴾ کَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡیَقِیۡنِ ؕ﴿۵﴾ لَتَرَوُنَّ الۡجَحِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الۡیَقِیۡنِ ۙ﴿۷﴾ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ یَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ ٪﴿۸﴾
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دُوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دُھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ ﴿اِسی فکر میں﴾ تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا ۔ پھر ﴿سُن لو کہ﴾ ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ ہر گز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے ﴿اِس روش کے انجام کو﴾ جانتے ہوتے ﴿تو تمہارا یہ طرزِ عمل نہ ہوتا﴾۔ تم دوزخ دیکھ کر رہو گے، پھر ﴿سُن لو کہ﴾ تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لوگے۔ پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔ ؏١
In the name of Allah, the Most Compassionate, the Most Merciful.
The craze of seeking more and more, and outdoing one another in worldly gain, has kept you heedless until ⟨in this very pursuit⟩ you reach the edge of the grave. Nay! Soon you will come to know. Then ⟨hear this again:⟩ Nay! Soon you will come to know. Nay! Had you known ⟨the outcome of this conduct⟩ with certain knowledge, ⟨you would not have behaved this way⟩. You shall surely see Hell. Then ⟨hear this:⟩ you shall see it with the certainty of direct sight. Then, on that Day, you will surely be questioned about these bounties. ﴾Section 1﴿
Name
The word At-Takathur from the first verse has been taken as the name of this surah.
Period of Revelation
Abu Hayyan and Shawkani state that, according to all commentators, this is a Makki surah, and Imam Suyuti’s view is that the most well-known opinion is that it is Makki. However, some reports have led some to call it Madani. Ibn Abi Hatim narrated, on the authority of Abu Buraidah (may Allah be pleased with him), that this surah was revealed concerning two Ansari tribes, Banu Harithah and Banu al-Harith. The two tribes first boasted to one another about the number of their living men, then went to the graveyard and boasted about their dead as well. At that point the divine words “Alhakumut-takathur” were revealed. But if one keeps in view the method the Companions and the Tabi’in followed regarding the “occasions of revelation,” this report is not actually evidence that the surah was revealed on that very occasion — rather, it means that the surah’s content fittingly applies to that incident.
Imam Bukhari and Ibn Jarir have recorded a statement from Ubayy ibn Ka’b (may Allah be pleased with him) that they used to consider the Prophet’s (peace and blessings be upon him) saying — that if a son of Adam had a valley full of wealth, he would still long for a third valley, and that nothing but dust can fill the belly of the son of Adam — to be part of the Qur’an, until “Alhakumut-takathur” was revealed. This hadith has been cited as evidence that Surah At-Takathur is Madani, on the grounds that Ubayy accepted Islam in Madinah. But Ubayy’s statement does not make clear in what sense the Companions considered the Prophet’s saying to be “from the Qur’an.” If it means they thought it was literally a verse of the Qur’an, that is not credible, because the vast majority of the Companions were thoroughly familiar with every letter of the Qur’an — how could they have mistaken a hadith for a Qur’anic verse? And if “being from the Qur’an” is taken to mean “derived from the Qur’an,” then the report could equally mean that when the Companions who entered Islam in Madinah first heard this surah recited by the Prophet, they assumed it had just been revealed, and then thought that his above-mentioned saying was derived from this very surah.
Ibn Jarir, Tirmidhi, Ibn al-Mundhir and other scholars of hadith have recorded a statement of Ali (may Allah be pleased with him) that they remained in doubt about the punishment of the grave until “Alhakumut-takathur” was revealed. This has been taken as evidence that the surah is Madani, on the grounds that the punishment of the grave was mentioned only in Madinah, not in Makkah. But this is incorrect. The punishment of the grave is mentioned in numerous places in the Makki surahs of the Qur’an, in language clear enough to leave no room for doubt — see, for example, Al-An’am 93, An-Nahl 28, Al-Mu’minun 99–100, and Al-Mu’min (Ghafir) 45–46, all of which are Makki surahs. So if Ali’s statement proves anything, it is that Surah At-Takathur had already been revealed before these Makki surahs, and that its revelation removed the Companions’ doubt about the punishment of the grave. This is precisely why, despite these reports, the overwhelming majority of commentators agree that it is Makki. Indeed, this surah is not only Makki — its content and style indicate that it belongs to the surahs revealed in the early Makkan period.
Theme and Subject Matter
In this surah, people are warned of the evil consequences of that worldliness which keeps them, until the moment of death, engrossed in amassing ever more wealth, worldly benefits, pleasures, status, and power — competing with one another for these things and taking pride in acquiring them — so absorbed in this single preoccupation that they have no awareness left to turn toward anything beyond it. After warning of its evil outcome, people are told that these bounties which they are gathering here so carelessly are not merely bounties — they are also the means of their trial. They will be held accountable in the Hereafter for every one of these bounties.
نام :
پہلی آیت کے لفظ التکاثر کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانۂ نزول :
ابو حیان اور شوکانی کہتے ہیں کہ یہ تمام مفسرین کے نزدیک مکی ہے اور امام سیوطی کا قول ہے کہ مشہور ترین بات یہی ہے کہ یہ مکی ہے، لیکن بعض روایات ایسی ہیں جن کی بنا پر اسے مدنی کہا گیا ہے، اور وہ یہ ہیں: ابن ابی حتم نے ابو بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ یہ سورت انصار کے دو قبیلوں بنی حارثہ اوربنی الحرث کے بارے میں نازل ہوئی۔ دونوں قبیلوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں پہلے اپنے زندہ آدمیوں کے مفاخر بیان کیے، پھر قبرستان جا کر اپنے اپنے مرے ہوئے لوگوں کے مفاخر پیش کیے۔ اس پر یہ ارشاد الٰہی نازل ہوا کہ “الھٰکم التکاثر لیکن شانِ نزول کے بارے میں صحابہ و تابعین کا جو طریقہ تھا، اس کو اگر نگاہ میں رکھا جائے تو یہ روایت اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ سورۂ تکاثر اسی موقع پر نازل ہوئی تھی، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں قبیلوں کے اس فعل پر یہ سورت چسپاں ہوتی ہے۔ امام بخاری اور ابن جریر نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس ارشاد کو کہ “اگر آدم زاد کے پاس دو وادیاں بھر کر مال ہو تو وہ تیسری وادی کی تمنا کرے گا۔ ابن آدم کا پیٹ مٹی کے سوا کسی چیز سے نہیں بھر سکتا، قرآن میں سے سمجھتے تھے یہاں تک کہ “الھٰکم التکاثر نازل ہوئی”۔ اس حدیث کو سورۂ تکاثر کے مدنی ہونے کی دلیل اس بنا پر قرار دیا گیا ہے کہ حضرت ابی مدینے میں مسلمان ہوئے تھے۔ مگر حضرت ابی کے اس بیان سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ صحابہ کرام کس معنی میں حضور {{درود}] کے ارشاد کو قرآن میں سے سمجھتے تھے۔ اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ اسے قرآن کی آیت سمجھتے تھے تو یہ بات ماننے کے لائق نہیں ہے، کیونکہ صحابہ کی عظیم اکثریت ان اصحاب پر مشتمل تھی جو قرآن کے حرف حرف سے واقف تھے، ان کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو سکتی تھی کہ یہ حدیث قرآن کی ایک آیت ہے اور اگر قرآن میں سے ہونے کا مطلب قرآن سے ماخوذ ہونا لیا جائے تو اس روایت کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدینۂ طیبہ میں جو اصحاب داخل اسلام ہوئے تھے انہوں نے جب پہلی مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبانِ مبارک سے یہ سورت سنی تو انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ابھی نازل ہوئی ہے، اور پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مذکورۂ بالا ارشاد کے متعلق ان کو یہ خیال ہوا کہ وہ اسی سورت سے ماخوذ ہے۔ ابن جریر، ترمذی اور ابن المنذر وغیرہ محدثین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ “ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں پڑے رہے ہیں یہاں تک کہ “الھٰکم التکاثر نازل ہوئی” اس کو سورۂ تکاثر کے مدنی ہونے کی دلیل اس بنا پر قرار دیا گیا ہے کہ عذابِ قبر کا ذکر مدینے میں ہی ہوا تھا، مکہ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوا تھا۔ مگر یہ بات غلط ہے۔ قرآن کی مکی سورتوں میں بکثرت مقامات پر قبر کے عذاب کا ایسے صریح الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے کہ شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الانعام آیت 93، النحل 28، المومنون 99 – 100، المومن 45 – 46۔ یہ سب مکی سورتیں ہیں۔ اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشاد سے اگر کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ یہ ہے کہ مذکورۂ بالا مکی سورتوں کے نزول سے پہلے سورۂ تکاثر نازل ہو چکی تھی، اور اس کے نزول نے عذابِ قبر کے بارے میں صحابہ کے شک کو دور کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان روایات کے باوجود مفسرین کی عظیم اکثریت اس کے مکی ہونے پر متفق ہے۔ یہ سورت صرف مکی ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا مضمون اور انداز بیان یہ بتا رہا ہے کہ یہ مکے کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔
موضوع اور مضمون :
اس میں لوگوں کو اُس دنیا پرستی کے برے انجام سے خبردار کیا گيا ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک زیادہ سے زیادہ مال و دولت، اور دنیوی فائدے اور لذتیں اور جاہ و اقتدار حاصل کرنے اور اس میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے، اور انہی چیزوں کے حصول پر فخر کرنے میں لگے رہتے ہیں اور اس ایک فکر نے ان کو اس قدم منہمک کر رکھا ہے کہ انہیں اس سے بالاتر کسی چیز کی طرف توجہ کا ہوش ہی نہیں ہے۔ اس کے برے انجام پر متنبہ کرنے کے بعد لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نعمتیں جن کو تم یہاں بے فکری کے ساتھ سمیٹ رہے ہو، یہ محض نعمتیں ہی نہیں ہیں بلکہ تمہاری آزمائش کا سامان بھی ہیں۔ ان میں سے ہر نعمت کے بارے میں تم کو آخرت میں جواب دہی کرنی ہوگی۔