Category Archives: Tafseer Summaries

قرآنِ کریم اور غیر مسلموں کے ساتھ بظاہر امتیازی برتاؤ کا سوال اور قرآنی جواب

تفاسیر کی روشنی میں ایک علمی جائزہ

قرآنِ کریم اور غیر مسلموں کے ساتھ

بظاہر امتیازی برتاؤ کا سوال اور قرآنی جواب

تفاسیر کی روشنی میں ایک علمی جائزہ

 

اسلامی فکر میں یہ سوال ہمیشہ سے زیرِ بحث رہا ہے کہ قرآنِ کریم میں ایمان والوں اور کافروں کے درمیان جو فرق بیان کیا گیا ہے، کیا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتِ عامہ کے منافی نہیں؟ حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی صفات میں سب سے نمایاں ”الرَّحْمٰن” اور ”الرَّحِیْم” ہیں جو تمام مخلوقات پر احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ ذیل میں اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا جاتا ہے۔

 

۱۔ بنیادی علمی کلید: رحمانیت اور رحیمیت میں فرق

اس پوری بحث کی اصل چابی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دو مستقل پہلو ہیں — اور انھیں خلط ملط کرنے سے ہی یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے:

اَلرَّحْمٰنُ — وہ رحمتِ عامہ جو پوری کائنات کو محیط ہے، مومن ہو یا کافر، ہر مخلوق اس سے حصہ پاتی ہے۔ اَلرَّحِیْمُ — وہ رحمتِ خاصہ جو اہلِ ایمان کو آخرت میں عطا ہوگی اور جو ایمان و عمل کے صلے میں ملتی ہے۔

 

یہ فرق امتیاز نہیں بلکہ ”عطائے عمومی” اور ”جزائے خاص” کا فرق ہے۔ سورج کی روشنی سب پر یکساں پڑتی ہے، لیکن جو اس کی طرف رخ کرے، اس کی حرارت پوری طرح محسوس کرتا ہے۔

سنن ترمذی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ نے رحمت کو سو حصوں میں تقسیم فرمایا، نناوے حصے اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ زمین پر اتارا — اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوقات میں محبت اور شفقت پائی جاتی ہے۔

وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ

(الاعراف: ۱۵۶) ”اور میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔”

 

۲۔ وہ آیاتِ کریمہ جن پر اعتراض کیا جاتا ہے

(الف) سورۃ البقرہ ۲:۶-۷ — ”وہ ایمان نہیں لائیں گے”

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۞ خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ

ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، انھیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، یکساں ہے — وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ہے۔

اعتراض:

کیا اللہ نے ان لوگوں پر پہلے سے کفر کا فیصلہ لکھ کر پھر انھیں اس کی سزا دی؟ یہ تو ظلم معلوم ہوتا ہے۔

قرآنی جواب اور تفسیر:

قرآن خود اس کی وضاحت کرتا ہے:

كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ

(المطففین: ۱۴) ”بلکہ ان کے دلوں پر وہ (زنگ) چڑھ گیا جو وہ کماتے رہے۔”

مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں فرماتے ہیں: یہ آیت مکہ کے ان مخصوص سرداروں کے بارے میں ہے جنھوں نے ہر نشانی دیکھنے کے بعد شعوری طور پر انکار کیا۔ یہ کوئی ابدی الٰہی حکم نہیں بلکہ ایک مخصوص گروہ کی حالت کا بیان ہے جو ان کے اپنے ارادوں کا نتیجہ ہے۔ مہر ان کے اپنے بار بار کے انکار کا منطقی انجام ہے، نہ کہ ابتدائی ظلم۔

 

(ب) سورۃ المائدہ ۵:۵۱ — ”یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ”

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ

ترجمہ: اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا ولی نہ بناؤ۔

اعتراض:

کیا قرآن تمام غیر مسلموں سے ہر قسم کے تعلقات منع کرتا ہے؟ کیا یہ فرقہ وارانہ نفرت کی تعلیم نہیں؟

قرآنی جواب — لفظ ”اولیاء” کی تحقیق:

عربی لفظ ”وَلِیّ / اَوْلِیَاء” کا مطلب محض ”دوست” نہیں، بلکہ یہ سیاسی سرپرست، فوجی اتحادی، یا وہ شخص جس کے حوالے اپنے تمام معاملات کردیے جائیں — کے معنوں میں ہے۔ یہ آیت دشمن قوتوں کو سیاسی سرپرست بنانے سے منع کرتی ہے، عام دوستی اور ہمسائیگی سے نہیں۔

معارف القرآن میں اس کی تین درجے بندی یوں ہے:

• مُوَالاۃ (گہری وفاداری و سیاسی اطاعت) — دشمنانِ اسلام کے ساتھ حرام

• مُدَارَاۃ (شائستہ اور ادب آمیز میل جول) — تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز

• عَدل و اِنصاف (انصاف کا برتاؤ) — قرآن کا صریح حکم (الممتحنہ: ۸)

لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ… أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ

(الممتحنہ: ۸) ”اللہ تمھیں ان لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی۔”

 

(ج) سورۃ التوبہ ۹:۵ — ”آیتِ سیف”

فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ

ترجمہ: پس مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔

اعتراض:

کیا یہ تمام غیر مسلموں کے خلاف دائمی جنگ کا حکم نہیں؟

قرآنی جواب — سیاق و سباق:

مولانا مودودیؒ اس آیت کے پس منظر پر بالتفصیل روشنی ڈالتے ہیں:

یہ آیت ہجرت کے نویں سال کے مخصوص حالات سے متعلق ہے۔ مکہ فتح ہوچکا تھا اور عرب کے کئی مشرک قبیلوں نے صلح نامے توڑ دیے تھے۔ یہ ان عہد شکن قبیلوں کے خلاف فوجی حکم تھا — عمومی غیر مسلموں کے بارے میں کوئی دائمی دینی حکم نہیں۔

اسی سورت کے آگے ارشاد ہے:

وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ

(التوبہ: ۶) ”اور اگر کوئی مشرک پناہ مانگے تو اسے پناہ دو یہاں تک کہ وہ کلامِ الٰہی سنے، پھر اسے اس کی پناہ گاہ پہنچا دو۔” — یہ انسانی وقار کا کھلا اعتراف ہے۔

 

(د) سورۃ آل عمران ۳:۲۸ — ”کافروں کو دوست نہ بناؤ”

مولانا مودودیؒ اس آیت کی توضیح میں تقیہ (بحالتِ مجبوری) کی اجازت کا ذکر کرتے ہیں:

جو مومن کمزور اور بے بس ہو اور اسے ظلم یا قتل کا خوف ہو، اسے اپنا ایمان چھپانے اور ظاہراً دشمنوں سے دوستانہ رویہ رکھنے کی اجازت ہے۔ یہ استثنا ثابت کرتا ہے کہ آیت نظریاتی وفاداری اور سیاسی تسلیم کے بارے میں ہے — عام انسانی شفقت اور مہربانی کے بارے میں نہیں۔

 

۳۔ قرآن کا اپنا جواب — سورۃ الزمر ۳۹:۵۳

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

ترجمہ: کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہ معاف فرمادیتا ہے۔ وہ غفور و رحیم ہے۔

مولانا مودودیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”یہاں خطاب ”عِبَادِی” (میرے بندوں) سے ہے اور کوئی مضبوط دلیل نہیں کہ اسے صرف مسلمانوں تک محدود سمجھا جائے۔ یہ آیت اہلِ جاہلیت کو بھی خطاب کرتی تھی جو اپنے گناہوں کی کثرت سے مایوس ہوچکے تھے۔ پیغام یہ ہے: جو بھی اپنے رب کی طرف پلٹ جائے، اس کا ہر گناہ معاف ہے۔”

 

۴۔ تفاسیر کا خلاصہ — تین بنیادی اصول

اصولِ اول: جنگ کا سیاق بمقابلہ امن کا سیاق

تمام ”سخت” آیات تقریباً بلا استثنا ان لوگوں سے متعلق ہیں جو فعلاً جنگ میں تھے، عہد توڑ چکے تھے، یا مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے تھے۔ یہ فوجی اور سیاسی احکام ہیں — غیر مسلموں کی انسانی حیثیت کے بارے میں الٰہی موقف نہیں۔

اصولِ دوم: رحمانیت بمقابلہ رحیمیت

اَلرَّحْمٰن — ہر جاندار کو رزق، صحت، اور وجود دینے والی عالمگیر رحمت اَلرَّحِیم — ایمان و عمل کے بدلے آخرت میں ملنے والی خصوصی رحمت یہ تفریق استحقاق کی بات نہیں — یہ ردِّعمل کی بات ہے: رحمت سب کو گھیرے ہوئے ہے، لیکن اسے جو پوری طرح سمیٹنا چاہے وہ ایمان کا راستہ اختیار کرے۔

اصولِ سوم: نبی کریم ﷺ — رحمۃٌ للعالمین

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

(الانبیاء: ۱۰۷) ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔”

”عالمین” میں صرف مسلمان نہیں — تمام انسان، بلکہ تمام مخلوقات شامل ہیں۔ خود رسالتِ مآب ﷺ کا وجود تمام بنی نوع انسان پر اللہ کی رحمت کا ظہور ہے۔

 

۵۔ خلاصۂ بحث

قرآنِ کریم ایمان والوں اور کافروں میں فرق ضرور کرتا ہے — لیکن یہ فرق آخرت اور تعلق کی نوعیت کے باب میں ہے، انسانی وقار اور دنیاوی الٰہی رحمت کے باب میں نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اپنے اوپر لازم ٹھہرائی ہے (الانعام: ۱۲)، ہر مخلوق کو رزق دیتا ہے، ہر دل میں محبت رکھتا ہے۔ مخصوص آیات میں جو سختی نظر آتی ہے وہ جنگ، عہد شکنی، اور سیاسی غداری کی مخصوص تاریخی صورتِ حال کا جواب ہے — غیر مسلموں کے بارے میں عمومی الٰہی موقف نہیں۔

سورۃ الفاتحہ کی ساخت خود اس پوری بحث کا جواب ہے: اللہ سب سے پہلے ”رَبُّ الْعَالَمِیْن” (تمام جہانوں کا رب) ہے — یعنی آفاقی ربوبیت پہلے آتی ہے۔ پھر ”رَحْمٰن” اور ”رَّحِیم” کے طور پر ذکر ہوتا ہے، اور پھر ”مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن” (جزا کے دن کا مالک) — یعنی آفاقی پرورش پہلے ہے، مخصوص جزا بعد میں۔

 

وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

اور اللہ ہی درستی کو سب سے بہتر جانتا ہے

قرآنی آیات پر صنفی امتیاز کے الزامات اور ان کا قرآن و تفاسیر سے جواب

Allegations of Gender Discrimination in the Quran — Rebuttal from Quran & Tafaseer

تعارف

یہ دستاویز ان قرآنی آیات کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے جن پر مغربی یا سیکولر ناقدین کی جانب سے صنفی امتیاز کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ہر آیت کے ساتھ عربی متن، اردو ترجمہ، الزام اور پھر قرآن و تفاسیر — بالخصوص مولانا مودودیؒ کی تفہیم القرآن، ابن کثیرؒ اور دیگر علماء — کی روشنی میں مدلل جواب پیش کیا گیا ہے۔

اسلامی علمی روایت کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ یہ آیات دو متکمل جنسوں کے درمیان فنکشنل اور قانونی تفریق بیان کرتی ہیں — نہ کہ کسی کی روحانی، عقلی یا انسانی برتری یا کمتری کا اعلان۔

 

۱. سورۃ النساء ۴:۳۴ — قوّامیّت

عربی آیت:

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ

اردو ترجمہ:

“مرد عورتوں پر قوّام ہیں، اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور اس لیے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبردار ہیں، غیب میں اس چیز کی حفاظت کرنے والی ہیں جس کی حفاظت اللہ نے چاہی۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا خوف ہو انہیں سمجھاؤ، پھر انہیں خوابگاہوں میں تنہا چھوڑ دو، پھر انہیں مارو۔”

الزام:

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آیت مردوں کی مستقل برتری اور عورتوں کی تابعداری قائم کرتی ہے، خصوصاً لفظ اضربوھن (مارنا) انتہائی متنازعہ ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — لفظ ‘قوّام’ کا اصل مطلب

مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں وضاحت فرماتے ہیں: قوّام یا قیّم وہ شخص ہوتا ہے جو کسی فرد یا ادارے کے معاملات کی نگرانی، حفاظت اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ہو۔ یہ کسی کی ذاتی برتری کا اعلان نہیں بلکہ مالی ذمہ داری اور سرپرستی کا کردار ہے۔

ب — ‘فضل’ سے مراد فنکشنل فرق

لفظ فضّل سے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ کسی کو دوسرے پر فطری یا روحانی شرف حاصل ہے۔ یہ صرف تکمیلی کرداروں کے درمیان فرق کی بات ہے — نہ کہ انسانی وقار میں تفاوت۔

ج — ‘اضربوھن’ — لغوی اور سیاقی باریکی

عربی میں ‘ضَرَبَ’ کے بیس سے زائد معنی ہیں: سفر کرنا، مثال بیان کرنا، الگ کرنا وغیرہ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ — سب سے بڑے مفسّر صحابی — نے فرمایا: اگر مارنا ہو تو ‘غیر مُبرِّح’ ہو، یعنی ایسا جو نشان نہ چھوڑے۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنی پوری زندگی کبھی کسی عورت کو نہیں مارا۔

د — قرآن کا مساواتی موقف — الاحزاب ۳۳:۳۵

إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ…

یہ آیت مسلمان مرد و عورت دونوں کو تیرہ اوصاف میں برابر قرار دے کر دونوں کے لیے یکساں اجر کا وعدہ کرتی ہے۔

 

۲. سورۃ البقرہ ۲:۲۸۲ — دو عورتوں کی گواہی

عربی آیت:

وَٱسْتَشْهِدُوا۟ شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ

اردو ترجمہ:

“اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بناؤ؛ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرو — تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے۔”

الزام:

ناقدین کہتے ہیں کہ عورت کی گواہی مرد کی نصف ہے، جو اس کی کمتر عقل یا قابلیت کی دلیل ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — ‘اِشہاد’ اور ‘شہادت’ میں فرق

محمد عمارہ جیسے معاصر علماء نے یہ اہم فرق واضح کیا ہے: ‘شہادت’ عدالتی گواہی ہے اور ‘اِشہاد’ کاروباری دستاویز سازی میں گواہ بنانا۔ یہ آیت صرف مالی معاملات کی دستاویز سازی سے متعلق ہے — تمام عدالتی معاملات پر عمومی حکم نہیں۔

ب — ‘تَضِلَّ’ کا سیاق

لفظ ‘أن تَضِلَّ’ (بھول جائے) ایک خاص سیاق میں ہے — ساتویں صدی میں عورتیں تجارتی معاملات سے بڑی حد تک دور رکھی جاتی تھیں، اس لیے یہ نادانی نہیں بلکہ ناتجربہ کاری کا معاملہ تھا۔ دوسری عورت یادداشت کی مدد کے لیے ہے، آزادانہ گواہی کے لیے نہیں۔

ج — ایک تاریخی انقلاب

دور جاہلیت میں عورت کو گواہی کا کوئی قانونی حق ہی حاصل نہ تھا۔ قرآن نے عورت کو پہلی بار باقاعدہ قانونی گواہ کا درجہ دیا — یہ تاریخ میں ایک انقلابی قدم تھا۔

د — قرآن نے تنہا عورت کی گواہی بھی قبول کی

سورۃ النور ۲۴:۶ تا ۹ (لعان) میں ایک عورت کی تنہا قسم اس کے خاوند کی قسم کے برابر قانونی وزن رکھتی ہے۔ ثابت ہوا کہ جنس بذات خود کبھی مطلق معیار نہیں رہی۔

 

۳. سورۃ النساء ۴:۱۱ — وراثت

عربی آیت:

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصْفُ

اردو ترجمہ:

“اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں حکم دیتا ہے: لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اگر سب لڑکیاں ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی ملے گا؛ اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اسے نصف ملے گا۔”

الزام:

عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف وراثت ملتی ہے — اسے معاشی ناانصافی قرار دیا جاتا ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — مالی ذمہ داریوں کا توازن

مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں وضاحت فرماتے ہیں: اسلامی قانون میں مرد پر مالی ذمہ داریاں کہیں زیادہ ہیں — مہر، بیوی کا مکمل نفقہ، بچوں کا خرچ — جبکہ عورت پر یہ ذمہ داریاں بالکل نہیں۔ عورت کی وراثت مکمل طور پر اس کی ذاتی ملکیت ہے، اسے کسی پر خرچ کرنا لازم نہیں۔ اس لیے انصاف کا تقاضا یہی تناسب ہے۔

ب — تاریخی انقلاب — ابن کثیر

ابن کثیرؒ نے نوٹ کیا ہے کہ دور جاہلیت میں عورت کو وراثت سے سرے سے محروم رکھا جاتا تھا۔ قرآن نے دنیا کی قانونی تاریخ میں پہلی بار عورت کے لیے ایک متعین، ناقابل تبدیل حصہ لازم قرار دیا۔

ج — قرآن نے عورت کو مرکز بنایا

قرآن نے یہ نہیں کہا: ‘دو عورتوں کا حصہ ایک مرد کے برابر ہے’ — بلکہ کہا: ‘مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے’۔ اس طرز بیان سے عورت کے حصے کو بنیاد بنایا گیا، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

د — بعض صورتوں میں عورت کا حصہ زیادہ یا برابر

اگر عورت اکیلی وارث ہو تو نصف ترکہ اسے ملتا ہے۔ ‘کلالہ’ کی صورت میں بھائی اور بہن برابر کے وارث ہیں (۴:۱۷۶)۔ ماں کو مستقل حصہ ملتا ہے جو باپ سے کم نہیں۔ ۲:۱ کا تناسب ہر صورت پر لاگو نہیں — یہ حالات کے مطابق بدلتا ہے۔

ہ — خالص مالی حیثیت اکثر عورت کے حق میں

ابن القیمؒ اور جمال بدوی جیسے علماء نے حساب لگایا ہے کہ جب مہر، نفقے سے مکمل آزادی اور ذاتی آمدن کو ملایا جائے تو مسلمان عورت اکثر اپنے مرد رشتہ داروں سے زیادہ قابل تصرف دولت رکھتی ہے۔

 

۴. سورۃ البقرہ ۲:۲۲۸ — مردوں کو ایک درجہ

عربی آیت:

وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اردو ترجمہ:

“اور عورتوں کے حقوق بھی ویسے ہی ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں، معروف طریقے سے — البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔”

الزام:

یہ آیت مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ برتر قرار دیتی ہے — اسے ہمہ گیر مردانہ برتری سمجھا جاتا ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — ‘درجہ’ کا مخصوص سیاق

یہ آیت طلاق کے احکام کے ضمن میں نازل ہوئی۔ تمام کلاسیکی مفسرین — طبریؒ، زمخشریؒ، رازیؒ، ابن کثیرؒ — کا اتفاق ہے کہ یہ ‘درجہ’ مرد کے یک طرفہ طلاق کے اختیار (طلاق) سے متعلق ہے — جو ساتھ میں عدت کے دوران نفقہ اور مؤخر مہر ادا کرنے کی ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ یعنی یہ ذمہ داری اور قانونی جوابدہی کا درجہ ہے، نہ کہ مابعدالطبیعاتی یا روحانی برتری۔

ب — آیت کا آغاز مساوات سے

آیت کا پہلا حصہ — ‘وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ’ — یعنی عورتوں کے حقوق بھی اسی طرح ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں — ساتویں صدی کی کسی بھی مذہبی دستاویز میں حقوقِ زوجین کا سب سے جامع اور متوازن اعلان ہے۔

 

۵. قرآنی جواب — مکمل روحانی مساوات کی آیات

ان تمام آیات کو پڑھتے وقت ذہن میں یہ رکھنا ضروری ہے کہ قرآن نے متعدد مقامات پر مرد و عورت کی روحانی، اخلاقی اور الٰہی حیثیت میں کامل مساوات کا اعلان کیا ہے:

 

الحجرات ۴۹:۱۳

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَٰكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَٰكُمْ شُعُوبًا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ

“اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔”

— یہاں مرد یا عورت کا کوئی استثناء نہیں، صرف تقوٰی کا معیار ہے۔

 

آل عمران ۳:۱۹۵

فَٱسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّى لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍ

“پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، خواہ مرد ہو یا عورت — تم ایک دوسرے سے ہو۔”

 

النحل ۱۶:۹۷

مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةً طَيِّبَةً

“جو کوئی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ہم اسے یقیناً پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔”

 

النساء ۴:۱۲۴

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ

“اور جو کوئی نیک اعمال کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔”

 

خلاصہ و نتیجہ

اسلامی علمی روایت — ابن کثیرؒ اور طبریؒ سے لے کر مولانا مودودیؒ اور معاصر علماء تک — مسلسل یہی موقف پیش کرتی ہے کہ مذکورہ بالا آیات دو تکمیلی جنسوں کے درمیان فنکشنل اور قانونی تفریق بیان کرتی ہیں، نہ کہ کسی کی ذاتی، روحانی یا انسانی کمتری کا اعلان کرتی ہیں۔

قرآن کریم کی وہ آیات جو مرد و عورت کی مساوی روحانی حیثیت، یکساں الٰہی جوابدہی اور نیک اعمال پر یکساں اجر کا وعدہ کرتی ہیں، ان تمام دیگر آیات کی تفسیر کا وہ مرکزی فریم ورک فراہم کرتی ہیں جس کی روشنی میں تمام جزوی احکام کو سمجھنا ضروری ہے۔

 

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ

اور اللہ سب سے بہتر جاننے والا ہے

“ kill nonbelievers” clarification

Overview of Quran 9:5

Quran 9:5, often referred to as the “Sword Verse,” states: “But when the forbidden months are past, then fight and slay the Pagans wherever ye find them, and seize them, beleaguer them, and lie in wait for them in every stratagem (of war); but if they repent, and establish regular prayers and practice regular charity, then open the way for them: for Allah is Oft-forgiving, Most Merciful.” Interpretations by scholars emphasize its revelation in the context of 7th-century Arabian conflicts, particularly after the breach of the Treaty of Hudaybiyyah in 628 CE, where polytheist tribes like the Quraysh supported attacks on Muslim allies. 12 This led to a four-month grace period for treaty-breakers to repent or depart safely, after which Muslims could respond defensively. 22 The verse is not seen as a universal mandate for violence against all non-Muslims but targets specific aggressors, excluding non-combatants like women, children, the elderly, monks, and those seeking asylum (as clarified in 9:6). 21 Scholars agree on protections for the People of the Book (Jews and Christians), who are addressed separately in 9:29, and stress that forced conversion is forbidden (haram) in Islam, aligning with verses like 2:256 (“no compulsion in religion”). 20

Historical Context Across Interpretations

All scholars place 9:5 within the events leading to the Conquest of Mecca in 630 CE. The verse was revealed after polytheist tribes violated peace treaties by aiding attacks on Muslim allies (e.g., Banu Bakr vs. Banu Khuza’a). 22 It declares the end of treaties with treacherous groups (9:1-4), mandates fighting only after the grace period, and offers mercy upon repentance, prayer, and charity (often interpreted as signs of genuine submission or piety, not strictly conversion). 23 Classical sources like tafsirs (Quranic commentaries) link it to broader jihad rules, prohibiting initiation of hostilities (per 2:190) and requiring cessation if enemies seek peace (8:61). 13 Modern analyses critique overgeneralization, viewing it as a response to betrayal rather than offensive warfare. 20

Classical Interpretations

Classical scholars (primarily from the 8th-14th centuries) often interpret 9:5 as a firm command against persistent idolaters, sometimes seeing it as abrogating (naskh) earlier peaceful verses, though they limit its application to combatants and emphasize mercy clauses.

  • Al-Tabari (838–923 CE, Sunni): Views the verse as permitting retaliation against treaty-breakers but forbids initiating hostilities; it means “fight those who fight you” and protects non-combatants. 22
  • Al-Qurtubi (1214–1273 CE, Sunni): Emphasizes prohibitions on killing innocents (women, children, monks); the verse applies to aggressive polytheists, with sieges and ambushes as wartime tactics, not indiscriminate violence. 21
  • Fakhr al-Din al-Razi (1149–1209 CE, Sunni): Affirms safe conduct for polytheists seeking to hear the Quran (9:6), even if they remain unbelievers; interprets “repent” broadly as ceasing hostility, not forced belief. 22
  • Ibn Kathir (1301–1373 CE, Sunni): Labels it the “Ayah of the Sword,” abrogating prior treaties with idolaters; commands fighting Mushrikin (polytheists) wherever found, but only aggressors—capture, besiege, or ambush until they embrace Islam (repent, pray, pay zakah). Cites its use by Caliph Abu Bakr against apostates refusing zakah. 19
  • Al-Jalalayn (15th century, Sunni, by al-Mahalli and al-Suyuti): After the grace period, slay idolaters, capture, and ambush them; if they repent from unbelief, establish prayer, and pay alms, leave them free—Allah is merciful to repenters. 19
  • Tanwir al-Miqbas min Tafsir Ibn Abbas (attributed to Ibn Abbas, 619–687 CE, but compiled later): Slay, capture, imprison, besiege, and ambush idolaters post-grace period; release if they repent from idolatry, worship, and pay poor-due. 19
  • Ibn Qayyim al-Jawziyya (1292–1350 CE, Sunni): No compulsion in religion; the Prophet fought only those who aggressed against Muslims. 22
  • Ibn al-Arabi al-Maliki (1165–1240 CE, Sunni): Fight only polytheists who fight back; not a blanket order. 22

Shia interpretations (e.g., from scholars like al-Tusi, 995–1067 CE) align closely with Sunni views on this verse, focusing on defensive warfare against treaty-breakers, though Shia tafsirs may emphasize justice under Imams.

Modern Interpretations

Modern scholars (19th-21st centuries) prioritize historical-critical methods, rejecting excessive abrogation and viewing 9:5 as strictly contextual—defensive against 7th-century aggressors, incompatible with modern blanket applications. They often reference international law and interfaith dialogue.

  • Abul Ala Maududi (1903–1979, Sunni fundamentalist): The “sacred months” refer to the four-month respite; repentance requires establishing salah and paying zakah to validate Islam. Cites Abu Bakr’s use against zakah refusers; grants protection to those seeking Islamic knowledge. 19
  • Shabir Ally (contemporary Canadian scholar): Not a general call to kill polytheists; context-specific to wartime treaty-breakers in Mecca. Classical abrogation overapplied—does not cancel peaceful verses like 60:8 (kindness to non-hostiles). Sequence implies ambush/capture first, killing as last resort; excludes People of the Book. 20
  • Asma Afsaruddin (contemporary academic): Applies only to pagan Arabs of the era; restricted by verses like 2:190 (no initiation), 2:193 (cease if they desist), and 60:8 (kindness to non-hostiles). Emphasizes protections for non-combatants and no coercion. 22
  • Muhammad Sa’id Ramadan al-Buti (1929–2013, Sunni): Fighting not for disbelief alone; read with 9:6-8 to avoid misinterpretation as aggression. 22
  • Academic Scholars (e.g., Patricia Crone, Nicolai Sinai, Gabriel Said Reynolds): “Repent, pray, and give alms” symbolizes general piety, not forced conversion; pre-Islamic terms for charity and prayer apply broadly. No collective punishment of innocents; critiques traditional tafsirs for unreliability, favoring Quranic internal evidence over sira (biographies). 23

Key Comparisons

  • Agreement: Both classical and modern scholars concur on the defensive, contextual nature—targeting treaty-breakers, protecting non-combatants, and offering mercy upon repentance. All reject forced conversion, citing 9:6 and 2:256. 23
  • Disagreement: Classical interpretations (e.g., Ibn Kathir) often apply abrogation broadly, seeing 9:5 as overriding peaceful verses and justifying offensive actions against idolaters. Modern ones (e.g., Shabir Ally) limit abrogation, viewing it as wartime-specific without contradicting coexistence principles. 20 Fundamentalists like Maududi emphasize extending Islamic influence through force if needed, while modernists stress peace and restrict to self-defense. 11
  • Sunni vs. Shia/Other: Minimal differences; Sunni tafsirs dominate sources, but Shia views (e.g., in Tafsir al-Mizan by Allamah Tabatabai) similarly contextualize it as just war against oppressors, with added emphasis on Imamate guidance.
  • Broad vs. Narrow: Fundamentalist readings (broad) allow application beyond the original context for jihad, while modernist/academic ones (narrow) see it as historical, irrelevant to modern interfaith relations. 11

Overall, scholarly consensus holds that 9:5 promotes justice in conflict, not hatred, with interpretations evolving to align with ethical and historical scrutiny. For deeper study, consult full tafsirs like those on quranx.com. 19

“Discrimination” in the Quran Between Believers and Non-Believers

The verses most commonly cited as “discriminatory,” the theological framework that explains them, and the Quranic and tafseeri rebuttal rooted in Allah’s universal mercy.

The Question of “Discrimination” in the Quran Between Believers and Non-Believers
🔑 The Foundational Theological Key
Before examining individual verses, the answer lies in understanding two distinct dimensions of Allah’s mercy — a distinction that resolves apparent tension:
Ar-Rahmān denotes a universal, all-encompassing mercy over the entire universe — every creature, believer and non-believer alike. Ar-Rahīm, by contrast, refers to the particular, intensified mercy Allah shows specifically to the believers in the Hereafter.
This distinction is not discrimination — it is the distinction between Divine Providence (sustaining all creation) and Divine Reward (responding to faith and righteous deeds). The sun shines on all; but only those who turn toward it feel its full warmth.
Most scholars agree that Ar-Rahmān refers to Allah’s universal mercy for all creation. No other divine attribute comes close in frequency of mention in the Quran. Furthermore, this hadith captures it precisely: “My Mercy encompasses all things” (Quran 7:156), and the Prophet ﷺ said that Allah created mercy in one hundred parts and sent down to earth only one part — and because of that single part, there is mutual love among all creation.

⚖️ The Most Commonly Alleged Verses

  1. Surah Al-Baqarah 2:6–7 — “They will not believe / Allah has sealed their hearts”
    “Indeed, those who disbelieve — it is the same whether you warn them or not — they will not believe. Allah has set a seal upon their hearts and upon their hearing, and over their vision is a veil. And for them is a great punishment.”
    The alleged charge: That Allah has pre-determined disbelief for certain people — making faith impossible for them, then punishing them for it. This seems unjust.
    Quranic rebuttal (within the same passage):
    The “sealing” is not a primordial decree but a consequence of repeated, willful rejection. Surah Al-Mutaffifin (83:14) explains: “Nay! Rather, the stain has covered their hearts from what they used to do.” The seal is the accumulated result of their own choices, not an arbitrary divine imposition.
    Maududi’s Tafheem: He explains this as describing a particular group — the Qurayshi leaders of Makkah who had seen every sign and consciously rejected — not a universal judgment on all non-believers. The context is prophetic (informing the Prophet ﷺ that his efforts with certain hardened leaders would not bear fruit), not a theological claim about all unbelievers for all time.
  2. Surah Al-Māidah 5:51 — “Do not take Jews and Christians as allies (awliyā’)”
    “O believers! Take neither Jews nor Christians as guardians — they are guardians of each other. Whoever does so will be counted as one of them.”
    The alleged charge: Religious bigotry — blanket hostility toward People of the Book.
    The critical word: Awliyā’
    The Arabic walī/awliyā’ does not simply mean “friend” in the casual sense. It means a political guardian, protector-ally, or one to whom you surrender your loyalty and affairs. The verse forbids making external hostile powers your political and military patrons — not ordinary friendship or neighborly kindness.
    The Maarif-ul-Quran commentary explains there are distinct degrees of relationship: (1) Muwalat — deep emotional allegiance and loyalty — is forbidden with those hostile to Islam; (2) Mudarat — cordial, courteous, and polite dealings — is fully permissible with all non-Muslims, especially when they are guests, neighbors, or when one’s safety depends on it.
    The same Quran that contains this verse also contains:
    “Allah does not forbid you from dealing kindly and fairly with those who have neither fought you nor driven you out of your homes. Indeed, Allah loves those who are just.” (60:8)
    These two verses work in tandem: the prohibition is specifically against taking hostile enemies as your protectors and patrons — not against kind dealings with peaceful non-Muslims.
  3. Surah At-Tawbah 9:5 — The “Sword Verse”
    “When the sacred months have passed, kill the polytheists wherever you find them…”
    The alleged charge: A standing command for perpetual warfare against all non-believers.
    Quranic rebuttal within the same passage:
    The full context makes clear this was a specific command addressing hostile idolaters who had violated their peace treaties with the Muslims — not a universal directive against all non-believers. The very same passage affirms the governing principle: “Allah does not forbid you from dealing kindly and fairly with those who have neither fought nor driven you out” (60:8). If any group seeks peace, Muslims are instructed to accept: “If they incline towards peace, then incline to it also and trust in Allah” (8:61).
    Maududi situates this in the 9th year of Hijrah — a specific geopolitical crisis after years of treaty violations by Arabian polytheist tribes. It is a war-time military order in a specific historical emergency, not a theological doctrine about non-believers in general.
  4. Surah Al-Imran 3:28 — “Believers should not take disbelievers as allies”
    Maududi’s Tafheem explicitly addresses the concern that this verse closes the door on all good relations:
    He explains that a believer who is helpless, in danger of severe wrong or persecution, is permitted to keep faith concealed and even appear friendly with enemies to preserve his life. The exception (taqiyyah under duress) shows that the verse is about loyalty and ideological allegiance, not about human kindness or social civility.
  5. Surah Az-Zumar 39:53 — The Universal Door of Mercy
    This verse is the Quran’s own most comprehensive rebuttal to the charge of divine exclusivism:
    “Say: O My servants who have transgressed against themselves — do not despair of the mercy of Allah. Indeed, Allah forgives all sins. He is the Most Forgiving, the Most Merciful.”
    Maududi comments that the address here is to all mankind — there is no weighty argument to regard only believers as the addressees. This verse brought a message of hope specifically to those who had committed grave sins in the age of ignorance and had despaired of forgiveness. It says: whatever you have done in the past, if you sincerely turn to your Lord’s obedience, every sin will be forgiven.

🏗️ The Overall Structural Framework from Tafaseer
The classical mufassireen, including Maududi, Ibn Kathir, and the Maarif-ul-Quran tradition, collectively resolve the apparent tension through three principles:

  1. Context of Hostility vs. Context of Peace
    Harsh verses almost universally address actively hostile parties — those waging war, violating treaties, or persecuting the Muslim community. They are military and political rulings, not theological statements about the human worth of non-believers.
  2. Rahman vs. Raheem — Universal vs. Particular Mercy
    Ar-Rahmān is the universal mercy that brings existence into being and sustains every creature. Ar-Rahīm is the particular mercy that enables believers to endure and fulfill their created purpose. The distinction is not privilege but response — mercy embraces all, but only those who open themselves to it receive its full transformative effect.
  3. The Prophet ﷺ as “Mercy to All Worlds”
    “We have not sent you except as a mercy to all the worlds” (21:107) — this encompasses believers and non-believers alike. The Prophet’s mission itself was an act of Divine mercy extended universally to all of creation.

🌿 Summary
The Quran does distinguish between believers and non-believers — but the distinction is eschatological and relational, not about human dignity or divine care in this world. Allah sustains, provides for, and has written mercy upon Himself toward all creation (Quran 6:12). The differential treatment in specific verses is contextual — responding to acts of aggression, political treachery, and war — never a blanket theological devaluation of non-believers as human beings.
The very structure of Surah Al-Fātiḥah captures this: Allah is Rabb ul-ʿĀlamīn — Lord of all worlds — before He is specified as Rahmān, Rahīm, and Master of the Day of Judgment. Universal Lordship comes first.