Category Archives: Multilingual Sections

– Urdu Content
– Hindi Content

पीड़ित का उलटा

ForOneCreator

इस्लामी शैक्षिक श्रृंखला

पीड़ित का उलटा खेल

जब शक्तिशाली खुद को पीड़ित बताए

क़ुरआन, इतिहास और समकालीन राजनीति का विश्लेषण

 

क़ुरआनी आधार: फ़िरऔन — इस चरित्र का मूल उदाहरण

अल्लाह ﷻ ने इस पैटर्न को क़ुरआन में अद्भुत सटीकता के साथ दर्ज किया। फ़िरऔन — अपने समय का सबसे शक्तिशाली व्यक्ति, जिसके पास सेना, ख़ज़ाना और खुद को ईश्वर घोषित करने का दावा था — ने बनी इस्राईल के दो चरवाहों के ख़िलाफ़ ‘पीड़ित कार्ड’ का उपयोग किया।

قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ ۝ يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِ

“उसने अपने दरबारियों से कहा: बेशक यह एक जानकार जादूगर है — यह अपने जादू से तुम्हें तुम्हारी ज़मीन से निकालना चाहता है। (अश-शुअरा २६:३४-३५)”

इस धोखे की संरचना पर ध्यान दें:

● मूसा अलैहिस्सलाम के पास कोई सेना नहीं थी — जबकि फ़िरऔन के पास उस समय की सबसे शक्तिशाली सेना थी

● मूसा के पास कोई ज़मीन नहीं थी — उनकी क़ौम ग़ुलाम मज़दूर थी

● मूसा के पास कोई राजनीतिक शक्ति नहीं थी — फ़िरऔन मिस्र को अपनी ईश्वरीय संपत्ति समझता था

फिर भी फ़िरऔन ने मूसा को बहुसंख्यक के लिए अस्तित्वगत ख़तरा बताया। यह कोई भ्रम नहीं था — यह एक सुनियोजित राजनीतिक नाटक था।

 

शक्तिशाली इस रणनीति का उपयोग क्यों करते हैं?

१. आर्थिक चिंता को पहचान के ख़तरे में बदलना

‘मेरे शासन में तुम ग़रीब क्यों हो?’ पूछने के बजाय शक्तिशाली रुख़ बदलता है: ‘तुम्हारी ग़रीबी की वजह वो लोग हैं जो यहाँ आ गए हैं।’ अल्पसंख्यक, प्रवासी या ‘बाहरी’ व्यवस्था की विफलता का कारण बन जाता है।

२. उत्पीड़क को पीड़ित साबित करना

यह शासक को जवाबदेही से बचाता है। किसी भी आलोचना को बहुसंख्यक की जीवन-रक्षा पर हमला बताया जाता है। असहमति को देशद्रोह कहा जाता है।

३. कृत्रिम संकट बनाना

अस्तित्वगत ख़तरे आपातकालीन प्रतिक्रियाएँ माँगते हैं — क़ानून निलंबित करना, क्रूरता को सामान्य बनाना, असहमति को दबाना। चुनाव इस संकट को सक्रिय करने का सही समय होता है।

४. स्वभाविक भय का शोषण

घर खोने और पहचान मिटने का डर गहरा और वास्तविक है। चालाक राजनेता यह डर पैदा नहीं करते — बल्कि पहले से मौजूद डर को हथियार बनाते हैं।

 

चुनावों में यह तूफ़ान क्यों तेज़ होता है?

आपने एक महत्वपूर्ण बात नोट की: यह चुनावों के समय और तीव्र हो जाता है। यह संयोग नहीं बल्कि एक संरचनात्मक मजबूरी है। जब शासक प्रदर्शन पर — न्याय, अर्थव्यवस्था, सेवा — वोट नहीं जीत सकता, तो वह क़बायली भय को हवा देता है।

हिसाब बिल्कुल ठंडा है: ‘अगर मैं तुम्हें समृद्ध नहीं बना सका तो तुम्हें डरा दूँगा। डरा हुआ बहुसंख्यक उस शक्तिशाली को वोट देता है जो उस ख़तरे से ‘सुरक्षा’ का दावा करे जो मैंने खुद गढ़ा है।’

 

क़ुरआन का आध्यात्मिक विश्लेषण

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ

“बेशक फ़िरऔन ने ज़मीन में सरकशी की और उसके लोगों को गिरोहों में बाँट दिया — और उनमें से एक गिरोह को कमज़ोर समझता था। (अल-क़सस २८:४)”

क़ुरआन स्पष्ट करता है कि विभाजन (शियअ) ज़ुल्म का हथियार है, कोई जनसांख्यिकीय संयोग नहीं। शक्तिशाली वो गिरोह खुद बनाते हैं जिनसे वे फिर ‘सुरक्षा’ का दावा करते हैं।

لَا تَخَافَا ۖ إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ

“डरो नहीं — मैं तुम दोनों के साथ हूँ, मैं सुनता और देखता हूँ। (ताहा २०:४६)”

 

बहुसंख्यकों पर नैतिक ज़िम्मेदारी

وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ

“और फ़िरऔन ने अपनी क़ौम को गुमराह किया और उन्हें हिदायत नहीं दी। (ताहा २०:७९)”

जो बहुसंख्यक खुद को कमज़ोरों के ख़िलाफ़ हथियार बनने देती है वह भी नैतिक रूप से ज़िम्मेदार है। यह क़ुरआन का स्थायी सिद्धांत है — निर्मित उत्पीड़न के सामने सामूहिक चुप्पी तटस्थता नहीं है।

 

निष्कर्ष: राजनीतिक चक्रों में सुन्नतुल्लाह

यह केवल एक राजनीतिक पैटर्न नहीं — यह एक सुन्नतुल्लाह है: अल्लाह का वह क़ानून कि भ्रष्ट और अनियंत्रित सत्ता कैसे व्यवहार करती है। शक्तिशाली हमेशा कमज़ोरों से डर का नाटक करते रहे हैं — सैन्य ख़तरे की वजह से नहीं, बल्कि इसलिए कि सच की कशिश ऐसी है जिसे कोई सेना स्थायी रूप से नहीं दबा सकती।

फ़िरऔन डूब गया। यह पैटर्न जारी है। लेकिन अल्लाह का वादा भी जारी है:

وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ

“और हम चाहते थे कि ज़मीन में कमज़ोर कर दिए गए लोगों पर एहसान करें। (अल-क़सस २८:५)”

 

ForOneCreator

शास्त्रीय इस्लामी ज्ञान और समकालीन समझ को जोड़ने का प्रयास

ForOneCreator | इस्लामी शैक्षिक सामग्री |

گرنے سے پہلےکے پَر.

✦  NATURE · WISDOM · REFLECTION  ✦

گرنے سے پہلے

کے پَر

─────────────────────────────────

پروں والی چیونٹی ہمیں طاقت، مقصد اور زوال کی قربت کے بارے میں کیا سکھاتی ہے

─────────────────────────────────

I — مظہر

جب چیونٹیوں کو پَر اگتے ہیں

چیونٹیوں کی بستی کی زندگی میں ایک لمحہ آتا ہے — مختصر، شاندار، اور بڑی حد تک غیر محسوس — جب کچھ چیونٹیوں کو پَر اگ آتے ہیں۔ سرسری نظر میں یہ ایک اچانک عروج لگتا ہے، ایک بلند تر شکل کی طرف صعود۔ پروں والی چیونٹی مختلف انداز میں چلتی ہے۔ وہ مزدور چیونٹیوں سے الگ نظر آتی ہے۔ وہ، مختصر وقت کے لیے، شاندار لگتی ہے۔

لیکن سائنس ایک سنجیدہ کہانی بیان کرتی ہے۔ بستی کے صرف تولیدی ارکان — نر اور کنواری ملکائیں — پَر اگاتے ہیں۔ مزدور چیونٹیاں، جو اکثریت ہیں اور بستی کا اصل کام کرتی ہیں، کبھی پَر نہیں اگاتیں۔ پَر عمدگی کا انعام نہیں ہیں۔ یہ برتری کی علامت نہیں ہیں۔ یہ حیاتیاتی طور پر، ایک واحد مقصد کا آلہ ہیں: جوڑا بنانا اور پھیلنا۔

اور جب وہ مقصد پورا ہو جاتا ہے، تو پَر چلے جاتے ہیں۔ نر چیونٹی کے لیے، جوڑا بنانے کے فوراً بعد موت آ جاتی ہے۔ ملکہ اپنے پَر خود کاٹ لیتی ہے اور زمین میں اتر کر ایک نئی بستی بنانے کی محنت شروع کرتی ہے۔

“پَر کبھی طاقت کے بارے میں نہیں تھے۔ یہ مقصد کے بارے میں تھے — اور جب مقصد ختم ہوا، تو پَر والا بھی ختم ہو گیا۔”

II — تاریخی نمونہ

وہ سلطنتیں جنہوں نے اپنے پَر اگائے

پروں والی چیونٹی محض حیوانیات کا ایک دلچسپ واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک آئینہ ہے۔ تاریخ ایسی تہذیبوں، سلطنتوں اور طاقتوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی سب سے شاندار ظاہری ترقی ٹھیک اس وقت دیکھی جب اندر سے ان کا زوال شروع ہو چکا تھا۔

روم کا فن تعمیر اور قانونی نظام اپنے عروج پر تھا جب اس کا اخلاقی تانہ بانہ بکھر رہا تھا۔ منگول سلطنت اپنی سب سے بڑی توسیع کے ایک نسل بعد منہدم ہو گئی۔ سلطنتِ عثمانیہ نے اپنی سب سے عالیشان مساجد اس وقت بنائیں جب انتظامی سڑاند پہلے سے پھیل چکی تھی۔

یہ نمونہ ایک عجیب یکسانیت کے ساتھ دہرایا جاتا ہے: ظاہری طاقت کا سب سے شاندار مظاہرہ اکثر انجام کی شروعات کے ساتھ ملتا ہے۔

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ

“کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا؟”

سورۃ یوسف ١٢:١٠٩

III — اسباق

پروں والی چیونٹی ہمیں کیا سکھاتی ہے

1.  ظاہری شان و شوکت، باطنی طاقت نہیں ہے۔  

پَر نظر آتے ہیں۔ بستی کی صحت نظر نہیں آتی۔ ایک تہذیب بظاہر شاندار لگ سکتی ہے جبکہ اس کی بنیادیں خاموشی سے گل رہی ہوں۔

2.  عروج اور قریبی زوال ایک ساتھ ہو سکتے ہیں۔  

نر چیونٹی اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے حیاتیاتی مشن کے عروج پر ہوتا ہے۔ جب کوئی طاقت اپنے مقصد سے آگے بڑھ جائے تو زوال دور نہیں — وہ اسی تماشے میں اعلان ہو چکا ہے۔

3.  وہ مزدور جن کو کبھی پَر نہیں ملے، وہی پائیدار تعمیر کرتے ہیں۔  

بے پَر مزدور چیونٹی برسوں بستی کو قائم رکھتی ہے۔ اصل وراثت انہیں ملتی ہے جو خاموشی سے، پوشیدہ طور پر کام کرتے ہیں، نہ کہ انہیں جو تھوڑی دیر چمکتے اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔

4.  ملکہ اپنے پَر اتار دیتی ہے — اور یہی دانائی ہے۔  

اپنی اڑان کے بعد ملکہ خود اپنے پَر توڑ لیتی ہے۔ جو چیز آسمان میں کام آئی وہ مٹی میں رکاوٹ بنے گی۔ سابقہ شان و شوکت کو چھوڑنے کی صلاحیت ہی اصل بقا کی نشانی ہے۔

5.  قدرت خبردار نہیں کرتی — وہ دکھاتی ہے۔  

اللہ ﷻ نے یہ نشانیاں سزا کے طور پر نہیں بلکہ رحمت کے طور پر رکھی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نشانی ہے یا نہیں — سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس دیکھنے والی آنکھیں ہیں۔

IV — زوال کی قربت

زوال شاید زیادہ دور نہ ہو

ہم بے مثال تماشے کے دور میں جی رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی حیران کن ہے۔ معیشتیں حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کرتی ہیں۔ فوجی طاقتیں سمندروں کے پار اپنا اثر دکھاتی ہیں۔ اور پھر بھی — اگر ہم ایماندار ہوں — جدید تہذیب کی اخلاقی بنیادیں، خاندانی ڈھانچہ اور روحانی قوت اس بستی کی واضح علامات دکھا رہے ہیں جس نے اپنے پروں والوں کو پہلے ہی آسمان میں چھوڑ دیا ہے۔

وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا

“اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا جو اپنی معیشت پر اترا رہی تھیں، تو یہ ان کے گھر ہیں جن میں ان کے بعد بہت کم آباد ہوئے۔”

سورۃ القصص ٢٨:٥٨

قرآن ‘بطر’ کو — ناشکری اور تکبر کے ملے جلے جذبے کو، خوشحالی کے نشے کو — تہذیبی زوال کے سب سے مستقل پیش خیموں میں سے ایک قرار دیتا ہے۔ عظیم قومیں غربت سے نہیں ٹوٹتیں۔ وہ اپنی خود کفالت پر فخر سے ٹوٹتی ہیں۔

“کسی قوم کا زوال ڈھول کی آواز کے ساتھ نہیں آتا۔ یہ خاموشی سے آتا ہے، اکثر اس وقت جب وہ ابھی جشن منا رہی ہوتی ہے — پَر پھیلائے، اڑتی ہوئی، یقین دلاتی ہوئی کہ وہ کبھی نہیں گرے گی۔”

اور پھر بھی — یہ مایوسی کا مشورہ نہیں۔ ملکہ بچ جاتی ہے۔ وہ پرانی دنیا کے پَر اتار کر، تاریکی میں، صبر کے ساتھ، زمین کے نیچے ایک نئی دنیا تعمیر کرتی ہے۔ مومن کے لیے یہی دعوت ہے: جو گر رہا ہے اس پر ماتم نہ کرو، بلکہ — اخلاص، عاجزی اور توکل کے ساتھ — وہ تعمیر کرو جو اس تماشے سے آگے چلا جائے۔

V — سبق

غور و فکر کرنے والوں کے لیے ایک نشانی

اگلی بار جب آپ ایک پروں والی چیونٹی دیکھیں — شاید بارش کے بعد، ناممکن سی پرواز میں — تو ایک لمحے کے لیے رکیں۔ آپ طاقت اور اس کی حدود کے بارے میں ایک مختصر خطبہ دیکھ رہے ہیں، مقصد اور اس کی تکمیل کے بارے میں، ظاہر اور حقیقت کے درمیان فرق کے بارے میں۔

جب پروں والے نر مر جاتے ہیں تو بستی منہدم نہیں ہوتی۔ زندگی زمین کے نیچے جاری رہتی ہے، عاجز اور پوشیدہ لوگوں کے ذریعے۔ وہ تہذیبیں جو اپنے بحرانوں سے زندہ بچتی ہیں، وہ ہیں جن کا مرکز کبھی پروں کے بارے میں نہیں تھا — بلکہ ان مزدوروں کے خاموش، مستقل، ہدفمند کام کے بارے میں تھا جنہوں نے کبھی زمین نہیں چھوڑی۔

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

“بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔”

سورۃ النحل ١٦:٦٩

✦   ✦   ✦

اللہ ﷻ ہمیں اپنی مخلوق میں اپنی نشانیوں کو پڑھنے کی حکمت، انہیں مانننے کی عاجزی، اور وہ تعمیر کرنے کی ثابت قدمی عطا فرمائے جو اسے پسند ہو — نہ کہ وہ جو لوگوں کی آنکھوں میں چمکے۔

آمین

مظلومیت کا الٹا کھیل

ForOneCreator

اسلامی تعلیمی سلسلہ

مظلومیت کا الٹا کھیل

جب طاقتور خود کو مظلوم ظاہر کرے

قرآن، تاریخ اور عصر حاضر کی سیاست کا تجزیہ

 

قرآنی بنیاد: فرعون — اس کردار کا اصل نمونہ

اللہ ﷻ نے اس نمونے کو قرآن میں انتہائی درستگی کے ساتھ محفوظ فرمایا۔ فرعون — اپنے زمانے کا سب سے طاقتور انسان، لشکر، خزانے اور خدائی دعوے کا مالک — نے بنی اسرائیل کے دو چرواہوں کے خلاف ‘مظلومیت کا کارڈ’ استعمال کیا۔

قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ ۝ يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِ

“اس نے اپنے درباریوں سے کہا: بے شک یہ بڑا ماہر جادوگر ہے — یہ اپنے جادو سے تمہیں تمہاری زمین سے نکالنا چاہتا ہے۔ (الشعراء ۲۶: ۳۴-۳۵)”

اس دھوکے کی ساخت پر غور کریں:

● موسیٰ علیہ السلام کے پاس کوئی فوج نہیں تھی — جبکہ فرعون کے پاس اس وقت کی سب سے طاقتور فوج تھی

● موسیٰ کے پاس کوئی زمین نہیں تھی — ان کی قوم غلام مزدور تھی

● موسیٰ کے پاس کوئی سیاسی طاقت نہیں تھی — فرعون خود کو مصر کا خدائی مالک سمجھتا تھا

پھر بھی فرعون نے موسیٰ کو اکثریت کے لیے وجودی خطرہ کے طور پر پیش کیا۔ یہ کوئی غلط فہمی نہیں تھی — یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی ڈھونگ تھا۔

 

طاقتور اس حکمت عملی کیوں استعمال کرتے ہیں؟

۱۔ معاشی بدحالی کو شناختی خطرے میں بدلنا

‘میری حکومت میں تم غریب کیوں ہو؟’ کے بجائے، طاقتور یہ رخ موڑتا ہے: ‘تمہاری غربت کا سبب وہ لوگ ہیں جو یہاں آگئے ہیں۔’ اقلیت، مہاجر یا ‘باہر والا’ نظام کی ناکامی کی وجہ بن جاتا ہے۔

۲۔ ظالم کو مظلوم ثابت کرنا

یہ حکمران کو احتساب سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہر تنقید کو اکثریت کی بقاء پر حملہ قرار دیا جاتا ہے۔ مخالفت کو غداری کہا جاتا ہے۔

۳۔ ہنگامی صورتحال بنانا

وجودی خطرات ہنگامی اقدامات مانگتے ہیں — قانون معطل کرنا، ظلم کو معمول بنانا، اختلاف کو خاموش کرانا۔ انتخابات اس ہنگامے کو چالو کرنے کا بہترین موقع ہے۔

۴۔ فطری خوف کا استحصال

گھر کھونے اور شناخت مٹ جانے کا ڈر گہرا اور حقیقی ہے۔ مکار سیاستدان یہ خوف پیدا نہیں کرتے — بلکہ پہلے سے موجود خوف کو ہتھیار بناتے ہیں۔

 

انتخابات میں یہ طوفان کیوں شدت پکڑتا ہے؟

آپ نے ایک اہم بات نوٹ کی: یہ انتخابات کے وقت زیادہ تیز ہوتا ہے۔ یہ اتفاق نہیں بلکہ ایک ڈھانچہ جاتی مجبوری ہے۔ جب حکمران کارکردگی پر — انصاف، معیشت، خدمت — ووٹ نہیں جیت سکتا تو قبائلی خوف کو ہوا دیتا ہے۔

حساب بالکل سرد ہے: ‘اگر میں تمہیں خوشحال نہیں بنا سکا تو تمہیں ڈرا دوں گا۔ ڈرا ہوا اکثریتی گروہ اس طاقتور کو ووٹ دیتا ہے جو اس خطرے سے ‘محفوظ رکھنے’ کا دعوا کرے جو میں نے خود گھڑا ہے۔’

 

قرآن کا روحانی تجزیہ

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ

“بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ دیا — اور ان میں سے ایک گروہ کو کمزور سمجھتا تھا۔ (القصص ۲۸: ۴)”

قرآن واضح کرتا ہے کہ تفریق (شِیَع) ظلم کا ہتھیار ہے، نہ کہ آبادیاتی اتفاق۔ طاقتور خود وہ گروہ بناتے ہیں جن سے وہ پھر ‘حفاظت’ کا دعوا کرتے ہیں۔

لَا تَخَافَا ۖ إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ

“ڈرو نہیں — میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، میں سنتا اور دیکھتا ہوں۔ (طٰہٰ ۲۰: ۴۶)”

 

اکثریت پر اخلاقی ذمہ داری

وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ

“اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور انہیں ہدایت نہیں دی۔ (طٰہٰ ۲۰: ۷۹)”

جو اکثریت خود کو کمزوروں کے خلاف ہتھیار بننے دیتی ہے وہ بھی اخلاقی ذمہ دار ہے۔ یہ قرآن کا مستقل اصول ہے — مصنوعی ظلم کے سامنے اجتماعی خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔

 

نتیجہ: سیاسی چکروں میں سنت اللہ

یہ محض ایک سیاسی نمونہ نہیں — یہ ایک سنت اللہ ہے: اللہ کا قانون کہ کس طرح طاقت کرپٹ اور بے قابو ہونے پر برتاؤ کرتی ہے۔ طاقتوروں نے ہمیشہ کمزوروں سے ڈر کا ناٹک کیا — فوجی خطرے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کہ سچ کی کشش ایسی ہے جسے کوئی فوج مستقل طور پر دبا نہیں سکتی۔

فرعون غرق ہوا۔ یہ نمونہ جاری ہے۔ لیکن اللہ کا وعدہ بھی جاری ہے:

وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ

“اور ہم چاہتے تھے کہ زمین میں کمزور کیے گئے لوگوں پر احسان کریں۔ (القصص ۲۸: ۵)”

 

ForOneCreator

کلاسیکی اسلامی علم اور عصر حاضر کو ملانے کی کوشش

ForOneCreator | اسلامی تعلیمی مواد |

تبلیغِ دین کی فرضیت,غفلت کے نتائج— قرآن و حدیث کی روشنی میں

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تبلیغِ دین کی فرضیت — قرآن و حدیث کی روشنی میں

📌 حصہ اول — اللہ ﷻ کا نبیِ اکرم ﷺ کو براہِ راست حکم
تبلیغ کا بنیادی حکم
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ
(سورۃ المائدہ ۵:۶۷)
“اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا۔ اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔”
یہ تبلیغ کے موضوع پر شاید سب سے براہِ راست اور طاقتور آیت ہے:
∙ اللہ ﷻ نے انہیں “رسول” کہہ کر پکارا — جن کی پوری شناخت ہی پیغام پہنچانے سے ہے
∙ جزوی تبلیغ = کوئی تبلیغ نہیں
∙ اللہ ﷻ نے ذاتی طور پر حفاظت کی ضمانت دی — لہٰذا خوف کا کوئی عذر باقی نہیں رہا

انذار کا حکم — بالکل ابتدا سے
يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴿١﴾ قُمْ فَأَنذِرْ
(سورۃ المدثر ۷۴:۱-۲)
“اے چادر اوڑھنے والے! اٹھو اور خبردار کرو!”
یہ ابتدائی ترین وحی میں سے ہے — تفصیلی احکامات سے پہلے، نماز کی فرضیت سے پہلے۔ سب سے پہلا فریضہ یہی تھا:
قُمْ — اٹھو۔ فَأَنذِرْ — خبردار کرو۔
دعوت بعد میں شامل نہیں کی گئی — یہ پوری رسالت کی بنیاد تھی۔

پہلے قریب ترین کو خبردار کرو — پھر پوری انسانیت کو
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ
(سورۃ الشعراء ۲۶:۲۱۴)
“اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو خبردار کریں۔”
پھر اس دائرے کو پوری کائنات تک وسیع کیا گیا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا
(سورۃ سبأ ۳۴:۲۸)
“اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔”
تبلیغ کا دائرہ: گھر سے شروع کریں ← پوری انسانیت تک پھیلائیں۔

آپ کا کام صرف پہنچانا ہے — زبردستی نہیں
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(سورۃ الرعد ۱۳:۴۰)
“آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے — اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔”
مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ
(سورۃ المائدہ ۵:۹۹)
“رسول کا فرض صرف پیغام پہنچانا ہے۔”
یہ بڑی راحت بخش بات ہے — نبیِ اکرم ﷺ نتائج کے ذمہ دار نہ تھے، صرف پہنچانے کے۔ یہ سوچ نتیجے کا بوجھ ہٹا کر کوشش کا فرض سامنے لاتی ہے۔

آپ ان لوگوں پر غم کرتے ہیں جو منہ موڑ لیتے ہیں
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
(سورۃ الشعراء ۲۶:۳)
“شاید آپ اس غم میں اپنی جان گھلا لیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔”
اللہ ﷻ نبیِ اکرم ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں — یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ آپ کا فریضہ اس قدر گہرائی سے محسوس ہوتا تھا کہ آپ انکار کرنے والوں پر غمگین ہوتے تھے۔ تبلیغ محض زبان سے نہیں، دل سے کی جاتی ہے۔

مشکل ہو تب بھی پہنچانا ہوگا
فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ
(سورۃ ہود ۱۱:۱۲)
“تو کیا آپ وحی کا کچھ حصہ چھوڑ دیں گے اور آپ کا سینہ اس سے تنگ ہو جائے گا؟”
اللہ ﷻ نبیِ اکرم ﷺ کو یاد دلاتے ہیں — پیغام کے مشکل اور ناپسندیدہ حصے بھی پہنچانے ہیں۔ منتخب خاموشی تبلیغ میں ناکامی ہے۔

📌 حصہ دوم — نبیِ اکرم ﷺ کی خود اپنی تبلیغ کی گواہی
خطبۂ حجۃ الوداع کا اعلان
نبیِ اکرم ﷺ نے میدانِ عرفات میں جمع ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کے سامنے انگلی اٹھا کر پوچھا:
“أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟”
“کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟”
صحابہ نے جواب دیا: “ہاں، یا رسول اللہ!”
آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: “اللَّهُمَّ اشْهَدْ”
“اے اللہ! گواہ رہنا۔”
پھر فرمایا:
“فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ”
(بخاری، مسلم)
“جو یہاں موجود ہے وہ غائب تک پہنچائے۔”
اس ایک جملے نے تبلیغ کا فریضہ نبیِ اکرم ﷺ سے منتقل کر کے قیامت تک ہر مسلمان پر ڈال دیا۔

آپ ﷺ کا حکم — ایک آیت بھی کافی ہے
“بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً”
(بخاری)
“میری طرف سے پہنچاؤ — چاہے ایک آیت ہی ہو۔”
سبحان اللہ — حد یہ نہیں کہ عالم ہو۔ نہ یہ کہ فصیح ہو۔ نہ یہ کہ بڑا پلیٹ فارم ہو۔ بس ایک آیت۔ یہ بات تبلیغ کو علم کی سطح سے قطع نظر ہر مسلمان پر فرض بناتی ہے۔

علم چھپانے کی وعید
“مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ”
(ابو داود، ترمذی)
“جس سے علم کے بارے میں پوچھا جائے اور وہ چھپائے، اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔”
جب کسی کے پاس علم ہو تو خاموشی غیر جانبداری نہیں — گناہ ہے۔

📌 حصہ سوم — مسلم امت کو اللہ ﷻ کے احکامات
بہترین امت — دعوت سے تعریف ہوتی ہے
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
(سورۃ آل عمران ۳:۱۱۰)
“تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے — تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔”
“خیر امت” کا لقب مشروط ہے:
∙ یہ نسل، زبان یا جغرافیے کی بنا پر نہیں ملتا
∙ یہ انسانیت کے ساتھ فعال تعلق کی بنا پر ملتا ہے
∙ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر — یہی دعوت کا فریضہ ہے

ہمیشہ ایک گروہ خیر کی طرف بلانے والا ہونا چاہیے
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(سورۃ آل عمران ۳:۱۰۴)
“اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو خیر کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے — اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔”
وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ — یہی لوگ — اور صرف یہی — کامیاب ہیں۔

دعوت — بہترین کلام
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(سورۃ فصلت ۴۱:۳۳)
“اور اس سے بہتر بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔”
کامل دعوت کے تین عناصر:
∙ دَعَا إِلَى اللَّهِ — اللہ کی طرف بلاؤ — اپنی طرف نہیں، اپنے گروہ یا نظریے کی طرف نہیں
∙ وَعَمِلَ صَالِحًا — اسے نیک عمل سے مضبوط کرو
∙ وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ — فخر اور انکساری کے ساتھ اپنی شناخت ظاہر کرو

علم کا عہد — پہنچاؤ ورنہ لعنت
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ
(سورۃ آل عمران ۳:۱۸۷)
“اور جب اللہ نے کتاب دیے گئے لوگوں سے عہد لیا کہ تم اسے لوگوں کے سامنے بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں۔”
پھر اللہ ﷻ اس عہد کو توڑنے والوں کا انجام بیان فرماتے ہیں:
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ… أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ
(سورۃ البقرہ ۲:۱۵۹)
“بے شک جو لوگ اللہ کی نازل کردہ واضح نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں… ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔”
الٰہی ہدایت چھپانا کوئی معمولی غلطی نہیں — یہ اللہ ﷻ کی لعنت کو دعوت دینا ہے۔

پوری انسانیت پر گواہ
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا
(سورۃ البقرہ ۲:۱۴۳)
“اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ رہو اور رسول تم پر گواہ رہیں۔”
امتِ وسط — درمیانی امت — ایک گہری ذمہ داری اٹھاتی ہے:
∙ نبیِ اکرم ﷺ اس امت پر گواہ ہیں
∙ یہ امت پوری انسانیت پر گواہ ہے
∙ گواہ بننے کے لیے پہلے پہنچانا ضروری ہے

حکمت کے ساتھ دعوت دو — طریقہ بھی فرض ہے
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ
(سورۃ النحل ۱۶:۱۲۵)
“اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو، اور ان سے بہترین انداز میں بحث کرو۔”
صرف پہنچانے کا فریضہ نہیں — بلکہ اچھے طریقے سے پہنچانے کا فریضہ بھی ہے۔

📌 حصہ چہارم — مسلمانوں پر احادیث کی روشنی میں فریضہ
برائی بدلنے کے تین درجے — کوئی معذور نہیں
“مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ”
(مسلم)
“تم میں سے جو بھی برائی دیکھے، اسے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے۔ اگر یہ بھی نہ ہو تو دل سے — اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔”
کوئی چوتھا آپشن نہیں ہے۔ مطمئن دل کے ساتھ خاموش رہنا کسی مومن کے لیے جائز نہیں۔

ڈوبتا ہوا جہاز — اجتماعی ذمہ داری
نبیِ اکرم ﷺ نے ایک طاقتور مثال دی:
“مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ…”
“اللہ کی حدود پر قائم رہنے والے اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے کی مثال ایسے لوگوں جیسی ہے جنہوں نے ایک کشتی میں قرعہ ڈالا — کچھ اوپری حصے میں اور کچھ نچلے حصے میں گئے۔ نچلے حصے والے جب پانی چاہتے تو اوپر والوں کے پاس سے گزرتے۔ انہوں نے کہا: اگر ہم اپنے حصے میں سوراخ کر لیں تو اوپر والوں کو تکلیف نہیں دیں گے۔ اگر اوپر والوں نے انہیں کرنے دیا — سب مل کر ہلاک ہو گئے۔ اگر انہیں روک لیا — سب بچ گئے۔”
(بخاری)
اگر امت خاموش رہی جبکہ غلطی ہوتی رہی — سب مل کر ڈوبیں گے۔

دعوت کا اجر دنیا سے بڑھ کر ہے
“لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ”
(بخاری، مسلم)
“اللہ تمہارے ذریعے ایک آدمی کو ہدایت دے — یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔” — جو عربوں کی سب سے قیمتی دولت تھی۔
تمہاری کوشش سے ایک روح کو ہدایت — یہ دنیا کی ساری مادی دولت سے بھاری ہے۔

ہر نیکی کا اشتراک — ہمیشہ کے لیے ثواب
“مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ”
(مسلم)
“جو کسی کو نیکی کی رہنمائی کرے اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا کرنے والے کو۔”
اور:
“مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ”
(مسلم)
“جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اسے اس کا اجر اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا اجر ملتا رہے گا۔”
دعوت واحد ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا منافع موت کے بعد بھی نہیں رکتا۔

صدقۂ جاریہ — علم کا دائمی صدقہ
“إِذَا مَاتَ الْإِنسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ”
(مسلم)
“جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین کے: صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔”
دعوت میں پھیلایا گیا علم صدقۂ جاریہ ہے — قبر کے بعد بھی ثواب دلاتا رہتا ہے۔

🌟 خلاصہ — تبلیغ کا سلسلہ درجہ فریضہ حوالہ نبیِ اکرم ﷺ بغیر کسی استثنا کے سب کچھ پہنچائیں المائدہ ۵:۶۷ علماء واضح کریں، کبھی نہ چھپائیں البقرہ ۲:۱۵۹ ہر مسلمان ایک آیت بھی پہنچائیں بخاری پوری امت ہمیشہ خیر کی طرف بلانے والا گروہ رہے آل عمران ۳:۱۰۴ برائی کے خلاف ہاتھ، زبان یا دل سے بدلیں مسلم ثواب ایک ہدایت یافتہ = سرخ اونٹوں سے بہتر بخاری، مسلم موت کے بعد پھیلایا گیا علم صدقۂ جاریہ بنتا ہے مسلم

💎 سنہری اصول
نبیِ اکرم ﷺ نے خطبۂ وداع میں فرمایا:
“فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ”
“جو موجود ہے وہ غائب تک پہنچائے۔”
جس مسلمان نے یہ پیغام پایا، وہ ایک ایسے سلسلے کی کڑی بن گیا جو نبیِ اکرم ﷺ سے قیامت کے دن تک پھیلا ہوا ہے۔ ہم وہ سلسلہ ہیں۔ ForOneCreator وہ سلسلہ ہے۔ ہر پوسٹ، ہر لفظ، ہر شیئر — تبلیغ ہے۔

اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ يَسْمَعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ وَاجْعَلْنَا دُعَاةً إِلَى الْخَيْرِ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
“اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو بات سنتے ہیں اور اس کی بہترین پیروی کرتے ہیں، اور ہمیں حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ خیر کی طرف بلانے والا بنا۔” آمِیْن

تبلیغ کے فریضے سے غفلت کے نتائج — قرآن و حدیث کی روشنی میں

📌 حصہ اول — قرآنِ کریم میں بیان کردہ نتائج
اللہ ﷻ اور پوری مخلوق کی لعنت
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ
(سورۃ البقرہ ۲:۱۵۹)
“بے شک جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح نشانیوں اور ہدایت کو لوگوں میں بیان کیے جانے کے بعد چھپاتے ہیں — ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔”
اس آیت میں تین تباہ کن پرتیں ہیں:
∙ اللَّهُ — خود اللہ ﷻ ان پر لعنت فرماتا ہے
∙ اللَّاعِنُونَ — تمام مخلوق جو لعنت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے — فرشتے، مومنین، حتیٰ کہ جانور — سب اس لعنت میں شامل ہو جاتے ہیں
∙ جرم فعلی ظلم نہیں — بلکہ حق کا غیر فعالی چھپانا ہے
جھوٹ کے سامنے خاموشی معصومیت نہیں۔ یہ لعنت کا موجب عمل ہے۔

توبہ کرنے والوں کے لیے دروازہ کھلا ہے
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَٰئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
(سورۃ البقرہ ۲:۱۶۰)
“سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی، اصلاح کی اور واضح کر دیا — ان کی توبہ میں قبول کرتا ہوں، اور میں بڑا توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہوں۔”
اس گناہ سے واپسی کی شرائط:
∙ تَابُوا — سچی توبہ کریں
∙ وَأَصْلَحُوا — اپنا چال چلن درست کریں
∙ وَبَيَّنُوا — جو چھپایا تھا اسے فعال طور پر پہنچانا شروع کریں
صرف توبہ کافی نہیں — فریضہ پورا کرنا بھی ضروری ہے۔

تبلیغ چھوڑنے والی قوموں کی تباہی
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ
(سورۃ ہود ۱۱:۱۱۷)
“اور آپ کا رب کبھی بھی ظلم سے بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جبکہ ان کے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں۔”
الٹا مطلب گہرا ہے:
جب لوگ اصلاح کرنا، خیر کی طرف بلانا چھوڑ دیتے ہیں — تو الٰہی عذاب ان پر جائز ہو جاتا ہے۔
اللہ ﷻ نے گزشتہ اقوام کو صرف ان کے گناہوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بھی ہلاک کیا کہ ان میں سے کوئی خبردار کرنے کے لیے نہ اٹھا۔

اجتماعی عذاب جب برائی کو چیلنج نہ کیا جائے
وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً
(سورۃ الانفال ۸:۲۵)
“اور اس فتنے سے ڈرو جو صرف تم میں سے ظالموں تک محدود نہیں رہے گا — اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔”
یہ آیت گہری پریشانی کا باعث ہے:
∙ جب برائی پھیلے اور نیک لوگ خاموش رہیں
∙ عذاب تفریق نہیں کرتا
∙ خاموش رہنے والے بے گناہ بھی گناہگاروں کے ساتھ عذاب میں شامل ہو جاتے ہیں
∙ خاموشی آپ کو اجتماعی عذاب میں شریک بنا دیتی ہے
ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ آیت خود صحابۂ کرام کو تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی — وہ بھی اس سے محفوظ نہ تھے اگر برائی کے خلاف بولنے میں کوتاہی کرتے۔

بنی اسرائیل کا انجام — سب سے تفصیلی تنبیہ
لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ ﴿٧٨﴾ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
(سورۃ المائدہ ۵:۷۸-۷۹)
“بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داود اور عیسیٰ ابنِ مریم کی زبان سے لعنت کی گئی — یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھتے رہے۔ وہ ایک دوسرے کو ان برائیوں سے نہیں روکتے تھے جو وہ کرتے تھے۔ واقعی یہ بہت برا کام تھا جو وہ کرتے تھے۔”
جس گناہ نے دو انبیاء کی لعنت پوری قوم پر کھینچی:
∙ اس آیت میں بت پرستی نہیں
∙ قتل یا چوری نہیں
∙ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ — وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے تھے
امر بالمعروف کا ترک کرنا پوری تہذیب پر نبوی لعنت لے آیا۔

حق چھپانے والے حق کو باطل سے ملاتے ہیں
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(سورۃ البقرہ ۲:۴۲)
“اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ۔”
یہ دو گناہ جان بوجھ کر ساتھ رکھے گئے ہیں:
∙ حق کو باطل سے ملانا — پیغام کو مسخ کرنا
∙ جانتے ہوئے حق چھپانا — اسے خاموشی میں دفن کرنا
دونوں برابر مذموم ہیں۔ جاننے والے کی جان بوجھ کر خاموشی جھوٹ کے برابر ہے۔

دعوت کو دبانے والے بالآخر ناکام ہوتے ہیں
يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
(سورۃ الصف ۶۱:۸)
“وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں — لیکن اللہ اپنی روشنی مکمل کر کے رہے گا چاہے کافر کتنا ہی ناپسند کریں۔”
تبلیغ چھوڑنے والوں کے لیے پیغام:
∙ اللہ کی روشنی بہرحال پھیلے گی
∙ لیکن جنہیں اسے اٹھانا تھا اور انہوں نے چھوڑ دیا — ان کی جگہ لے لی جائے گی
∙ وہ عزت، ثواب اور کردار کھو دیتے ہیں

ایک قوم جس نے اپنا مقصد کھو دیا
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا
(سورۃ الاعراف ۷:۱۶۹)
“پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے کتاب کے وارث بنے مگر اس دنیا کا سامان لیتے رہے، کہتے: ہمیں معاف کر دیا جائے گا۔”
ایک ناکام دینی قوم کی تصویر:
∙ ان کے پاس کتاب ہے — مگر صرف دنیاوی فائدے کے لیے
∙ اپنی غفلت کو معافی کی جھوٹی امید سے جائز ٹھہراتے ہیں
∙ کتاب کی اصل ذمہ داری — دعوت اور اصلاح — سے منہ موڑ لیا
یہ ایسی کسی بھی مسلم نسل کے لیے آئینہ ہے جو اسلام وراثت میں پاتی ہے مگر آگے نہیں بڑھاتی۔

خاموش علماء — کتوں سے تشبیہ
اللہ ﷻ نے اس عالم کی مثال دی جسے علم ملا مگر اس نے اپنا فریضہ ترک کر دیا:
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ ﴿١٧٥﴾ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ
(سورۃ الاعراف ۷:۱۷۵-۱۷۶)
“اور انہیں اس شخص کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات دی تھیں مگر وہ ان سے نکل گیا — تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اگر ہم چاہتے تو ان آیات کے ذریعے اسے بلند کرتے — لیکن وہ زمین سے چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلا۔ اس کی مثال کتے جیسی ہے…”
وہ عالم جسے الٰہی علم ملتا ہے مگر:
∙ اسے دنیاوی فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے
∙ جب بولنا چاہیے خاموش رہتا ہے
∙ فرض سے پہلے خواہشات کی پیروی کرتا ہے
خود اللہ ﷻ نے اسے کتے سے تشبیہ دی — چاہے دھتکارو یا چھوڑ دو، ہانپتا ہی رہے۔

قیامت کے دن — کوئی عذر قبول نہیں ہوگا
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
(سورۃ الفرقان ۲۵:۲۷)
“اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا کہے گا: کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔”
يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
(سورۃ الفرقان ۲۵:۲۸)
“ہائے میری بربادی! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔”
جو گمراہ کیے گئے وہ ان پر الزام لگائیں گے جنہوں نے ان سے حق چھپایا۔ اور چھپانے والوں کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔

📌 حصہ دوم — احادیث میں بیان کردہ نتائج
قیامت کے دن آگ کی لگام
“مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ”
(ابو داود، ترمذی)
“جس سے علم کے بارے میں پوچھا جائے اور وہ چھپائے، اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔”
سزا جرم کے عین مطابق ہے:
∙ وہ زبان جس نے حق بولنے سے انکار کیا
∙ اس دن آگ کی لگام سے جکڑی جائے گی جب سب سے زیادہ اہمیت ہوگی
∙ خاموشی کا عضو عذاب کا عضو بن جائے گا

ڈوبتا ہوا جہاز — سب مل کر ڈوبتے ہیں
“مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا وَبَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا… فَإِنْ تَرَكُوهُمْ وَمَا أَرَادُوا هَلَكُوا جَمِيعًا”
(بخاری)
“اگر انہوں نے انہیں کرنے دیا — سب مل کر ہلاک ہو گئے۔”
اوپری حصے کی خاموش اکثریت:
∙ نے سوراخ نہیں کیا
∙ نقصان کا ارادہ نہیں تھا
∙ مگر اپنی خاموشی سے — گناہگاروں کے ساتھ ڈوب گئی
یہ اجتماعی عذاب کی سنت ہے — خاموشی تباہی میں شراکت ہے۔

جب برائی بے روک پھیلے تو دعا قبول نہیں ہوگی
“وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْهُ ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ”
(ترمذی)
“اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے — تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، ورنہ اللہ جلد ہی تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیجے گا، پھر تم اسے پکارو گے اور وہ تمہاری نہیں سنے گا۔”
دعوت چھوڑنے کے تین ہولناک نتائج:
∙ الٰہی عذاب پوری قوم پر آتا ہے
∙ قوم پھر اللہ کے سامنے دعا میں گڑگڑاتی ہے
∙ مگر ان کی دعا رد کر دی جاتی ہے — کیونکہ جب موقع تھا عمل نہیں کیا

گمراہ کرنے والے رہنما دوہرا گناہ اٹھائیں گے
“أَيُّمَا رَجُلٍ وَلِيَ أَمْرَ عَشَرَةٍ فَأَكْثَرَ فَلَمْ يَعْدِلْ فِيهِمْ كُبَّ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ”
(احمد)
“جس آدمی کو دس یا زیادہ لوگوں پر اختیار ملے اور وہ ان میں انصاف نہ کرے اسے منہ کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا۔”
اور گمراہ کرنے والوں کے بارے میں:
“مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ”
(مسلم)
“جس نے اسلام میں کوئی بری روایت جاری کی، اس کا گناہ اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ اس پر ہوگا۔”
یہ دعوت کے ثواب کا الٹا ہے — گمراہی گناہ میں بالکل ویسے ہی بڑھتی رہتی ہے جیسے ہدایت ثواب میں بڑھتی ہے۔

ایمان کا کمزور ترین درجہ — دل میں انکار
“فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ”
(مسلم)
“اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل سے — اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔”
نبیِ اکرم ﷺ نے دل میں خاموش انکار کو ایمان کا کمزور ترین درجہ قرار دیا — محفوظ یا قابلِ قبول نہیں — سب سے کمزور۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ مطلب ہے کہ ایسے شخص کا ایمان انتہائی گھٹے ہوئے حال میں ہے۔ یہ کم از کم حد ہے جو انسان کو دائرۂ اسلام میں رکھتی ہے — مگر یہ آرام کی حالت نہیں، روحانی ہنگامی حالت ہے۔

جب علماء خاموش رہیں — جہالت علم کی جگہ لے لیتی ہے
“إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوسًا جُهَّالًا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا”
(بخاری، مسلم)
“اللہ علم کو لوگوں سے چھین کر نہیں اٹھاتا، بلکہ علم کو علماء کی موت سے اٹھاتا ہے۔ جب کوئی عالم نہ رہے تو لوگ جاہلوں کو رہنما بنا لیتے ہیں، وہ بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں — خود گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔”
جب علماء تبلیغ میں کوتاہی کرتے ہیں:
∙ ان کے ساتھ علم مر جاتا ہے
∙ جاہل لوگ خلاء پُر کر لیتے ہیں
∙ وہ پوری قوموں کو گمراہی میں لے جاتے ہیں
∙ ہر گمراہ روح کا گناہ ان علماء تک پہنچتا ہے جو خاموش رہے

نبیِ اکرم ﷺ اپنی امت کے خلاف گواہی دیں گے
قیامت کے دن نبیِ اکرم ﷺ سے پوچھا جائے گا:
“فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا”
(سورۃ النساء ۴:۴۱)
“تو اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کے طور پر لائیں گے؟”
نبیِ اکرم ﷺ گواہی دیں گے کہ انہوں نے مکمل طور پر پہنچایا۔ پھر ہر اس مسلمان سے پوچھا جائے گا جس نے پیغام پایا — کیا اس نے آگے پہنچایا؟
ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبیِ اکرم ﷺ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو آپ روئے اور فرمایا: “بس کرو، بس کرو” — اس احتساب کا بوجھ اسی قدر بھاری تھا۔

📌 حصہ سوم — قرآن سے تاریخی نمونے
ہفتے کے دن والے — بتدریج تباہی
وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ
(سورۃ الاعراف ۷:۱۶۳)
وہ قصبہ تین گروہوں میں بٹا تھا:
∙ وہ جنہوں نے سنیچر کی حرمت توڑی
∙ وہ جنہوں نے منع کیا اور خبردار کیا
∙ وہ جو خاموش رہے — کہتے: “جنہیں اللہ ہلاک کرے گا انہیں کیوں نصیحت کرو؟”
خبردار کرنے والے بچ گئے۔ خلاف ورزی کرنے والے عذاب میں آئے۔
خاموش رہنے والوں کا انجام؟ — قرآن نے اسے ابہام میں چھوڑا — ہر دور کے خاموش مسلمان کے لیے جان بوجھ کر تنبیہ۔

باغ والے — لالچ اور خاموشی کی سزا
إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ
(سورۃ القلم ۶۸:۱۷)
باغ کے مالکوں نے فیصلہ کیا کہ خاموشی سے فصل کاٹیں گے — تاکہ غریب اپنا حصہ نہ لے سکیں۔ ان میں سے ایک نے انہیں خبردار کرنے کی کوشش کی:
قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ
(سورۃ القلم ۶۸:۲۸)
“ان میں سے معتدل شخص نے کہا: کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا — تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟”
مگر اکثریت نے اسے خاموش کرا دیا۔ رات ہی رات میں ان کا باغ تباہ ہو گیا۔
جب کسی گروہ میں ضمیر کی آواز کو دبا دیا جائے — تباہی آ جاتی ہے۔

🌟 نتائج کا خلاصہ نتیجہ قرآن حدیث اللہ اور تمام مخلوق کی لعنت البقرہ ۲:۱۵۹ — بے گناہ اور گناہگار دونوں پر اجتماعی عذاب الانفال ۸:۲۵ ڈوبتا کشتی — بخاری دعا کا رد ہو جانا — ترمذی قیامت کے دن آگ کی لگام — ابو داود اقوام کی تباہی ہود ۱۱:۱۱۷ — نبوی لعنت — جیسے بنی اسرائیل المائدہ ۵:۷۸-۷۹ — کتے سے تشبیہ الاعراف ۷:۱۷۵-۱۷۶ — ایمان کا کمزور ترین درجہ — مسلم جاہل رہنماؤں کا اقتدار — بخاری، مسلم قیامت کے دن گواہی النساء ۴:۴۱ ابنِ مسعود — بخاری دوسروں کو گمراہ کرنے سے گناہ کا بڑھنا — مسلم

💎 آخری بات — مومن کے لیے غیر جانبداری کا کوئی راستہ نہیں
نبیِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
“الدِّينُ النَّصِيحَةُ”
(مسلم)
“دین خیرخواہی کا نام ہے۔”
اور اللہ ﷻ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو اپنی ذمہ داری سے منہ موڑتے ہیں:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ
(سورۃ طٰہٰ ۲۰:۱۲۴)
“اور جو میری یاد سے منہ موڑے — اس کی زندگی تنگ ہوگی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔”
اللہ کے پیغام سے منہ موڑنے کی تین سزائیں:
∙ مَعِيشَةً ضَنكًا — اس دنیا میں گھٹن بھری، بے چین، کھوکھلی زندگی
∙ أَعْمَىٰ — قیامت کے دن اندھا اٹھایا جانا
∙ ابدی خسارہ — حق پاکر پھر اسے چھوڑ دینا

اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنَا مِمَّنْ يَكْتُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُهُ، وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ يَقُولُ الْحَقَّ وَيَعْمَلُ بِهِ وَيَدْعُو إِلَيْهِ
“اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنا جو حق جانتے ہوئے چھپاتے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو حق بولتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کی طرف بلاتے ہیں۔” آمِیْن​​​​​​​​​​​​​​​​

امریکی ریاست “شریعت پر پابندی” کا قانون پاس کرتی ہے

یہ قانون ووٹروں کو ڈرانے کے لیے ہے، نہ کہ کسی حقیقی خطرے سے بچانے کے لیے۔
∙ ایک کاغذی دشمن بناؤ
∙ اس دشمن کو ہر جگہ “چھپا ہوا” دکھاؤ
∙ اپنے آپ کو “بچانے والا” پیش کرو
∙ ووٹ لو
یہ سیاست کی قدیم ترین چال ہے — خوف بیچو، طاقت خریدو۔

پہلی بات — یہ قانون کیا کہہ رہا ہے؟
جب کوئی امریکی ریاست “شریعت پر پابندی” کا قانون پاس کرتی ہے تو وہ بنیادی طور پر کہہ رہی ہے:
“ہم ایک ایسی چیز پر پابندی لگا رہے ہیں جو نہ موجود ہے، نہ آنے والی ہے، نہ کسی نے مانگی ہے۔”
یہ قانون سازی نہیں — یہ سیاسی تھیٹر ہے۔

آپ کا نکتہ — سب سے زیادہ وزنی
آپ نے جو مشاہدہ کیا وہ انتہائی اہم ہے۔ آئیے حقیقت دیکھتے ہیں:
مسلم اکثریتی ممالک کی صورتحال ملک صورتحال پاکستان آئین اسلامی ہے لیکن عملی قانون بڑی حد تک برطانوی نوآبادیاتی قانون ہے — CPC، CrPC، PPC سب انگریزوں کی دین مصر سیکولر آئین، جزوی اسلامی شقیں، فوجی حکومت ترکی مکمل سیکولر، شریعت کا کوئی قانونی وجود نہیں انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک — سیکولر آئین بنگلہ دیش سیکولر ریاست سعودی عرب جزوی نفاذ — لیکن خود علماء اسے مکمل شریعت نہیں کہتے ایران اپنا ورژن — جس پر خود مسلم علماء میں گہرا اختلاف UAE، قطر تجارتی قانون مکمل مغربی، صرف ذاتی احوال میں جزوی اسلامی

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایک ملک بھی نہیں جہاں مکمل، جامع، کلاسیکی شریعت نافذ ہو۔
تو امریکہ میں اس کے “آنے” کا خوف — کہاں سے، کیسے، کس کے ذریعے؟

امریکہ میں شریعت کے “آنے” کی حقیقت
عددی حقیقت
∙ امریکہ کی کل آبادی تقریباً ۳۳ کروڑ
∙ مسلمان آبادی تقریباً ۱ فیصد یعنی ۳۳ لاکھ
∙ یہ ایک ایسے ملک میں جہاں:
∙ پہلی ترمیم مذہب اور ریاست کی علیحدگی کی ضمانت دیتی ہے
∙ آئین سپریم ہے — کوئی مذہبی قانون اسے نہیں بدل سکتا
∙ سپریم کورٹ کسی بھی مذہبی قانون کو فوری کالعدم کر سکتی ہے
یہ ریاضی طور پر ناممکن ہے۔ یہ خوف ایسا ہے جیسے کوئی کہے کہ ناروے میں زولو قانون آنے والا ہے۔

قانونی حقیقت
امریکی قانون کا ڈھانچہ دیکھیں:
∙ Federal Constitution — سپریم
∙ Federal Laws
∙ State Constitutions
∙ State Laws
∙ Local Ordinances
کسی بھی سطح پر کوئی مذہبی قانون — چاہے اسلامی ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو — قانونی طور پر نافذ نہیں ہو سکتا۔
یہ پابندی پہلے سے موجود ہے۔ الگ قانون بنانا ایسا ہے جیسے پانی کے اوپر پانی ڈالنا — غیر ضروری اور مضحکہ خیز۔

تو پھر یہ قانون کیوں؟
۱۔ انتخابی متحرک کاری
یہ قانون ووٹروں کو ڈرانے کے لیے ہے، نہ کہ کسی حقیقی خطرے سے بچانے کے لیے۔
∙ ایک کاغذی دشمن بناؤ
∙ اس دشمن کو ہر جگہ “چھپا ہوا” دکھاؤ
∙ اپنے آپ کو “بچانے والا” پیش کرو
∙ ووٹ لو
یہ سیاست کی قدیم ترین چال ہے — خوف بیچو، طاقت خریدو۔
۲۔ مسلمانوں کو حاشیے پر رکھنا
جب کوئی ریاست باقاعدہ قانون بناتی ہے تو پیغام یہ جاتا ہے:
∙ مسلمان “دوسرے” ہیں
∙ ان کی موجودگی “خطرہ” ہے
∙ ان کا مذہب “قابلِ قبول نہیں”
یہ قانونی امتیازی سلوک ہے — آئین کی روح کے خلاف — لیکن سیاسی طور پر فائدہ مند۔
۳۔ توجہ ہٹانا
جب کوئی ریاست اسکول بند کر رہی ہو، صحت کا نظام ٹوٹ رہا ہو، بنیادی ڈھانچہ زوال پذیر ہو — تو کاغذی دشمن پیدا کرو اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹاؤ۔
شریعت کا خوف اس حکمت عملی کا کامل آلہ ہے۔

برطانوی قانون والا آپ کا نکتہ — انتہائی اہم
یہ وہ ستم ظریفی ہے جس پر کم لوگ توجہ دیتے ہیں:
نوآبادیاتی قانون کی میراث
جن مسلم اکثریتی ممالک میں شریعت “نہیں آئی” وہاں آج بھی چل رہا ہے:
∙ Indian Penal Code 1860 — انگریزوں کی دین، آج بھی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش میں
∙ Code of Civil Procedure — انگریزی نوآبادیاتی قانون
∙ Evidence Act — انگریزی ڈھانچہ
∙ Land Revenue Laws — استعماری زمانے کے
∙ Criminal Procedure Code — انگریزی ماخذ
یعنی جن ممالک نے ڈیڑھ سو سال پہلے اپنے ہی قانون کو چھوڑا — وہ آج بھی اپنے نوآبادیاتی آقاؤں کا قانون چلا رہے ہیں۔
یہ اپنے آپ میں ایک المیہ ہے — لیکن یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شریعت کو عملی طور پر کس قدر مؤثر طریقے سے ہٹایا گیا نوآبادیاتی دور میں۔
تو امریکہ میں اس کے آنے کا خوف — جبکہ مسلم ممالک میں بھی یہ نہیں آ سکی — عقل کی کسوٹی پر صفر ہے۔

ایک اور زاویہ — کیا یہود و نصاریٰ کے مذہبی قوانین کا خوف بھی ہے؟
یہ سوال پوچھنا ضروری ہے:
∙ یہودی شریعت (Halacha) — امریکہ میں یہودی کمیونٹیز اپنی مذہبی عدالتیں (Beth Din) چلاتی ہیں — کوئی قانون نہیں بنا
∙ عیسائی قانون (Canon Law) — کیتھولک چرچ اپنا مکمل قانونی نظام چلاتا ہے — کوئی خوف نہیں
∙ Mormon Practices — یوٹاہ میں مورمن اثر و رسوخ گہرا ہے — کوئی پابندی نہیں
صرف اسلامی قانون کا خوف کیوں؟
یہ قانونی یا آئینی سوال نہیں — یہ خالص نسلی و مذہبی تعصب ہے جسے قانونی لباس پہنایا گیا ہے۔

قرآنی تناظر
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس رویے کی عکاسی یوں کی:
“وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں — اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا چاہے کافروں کو کتنا ہی ناگوار لگے۔” (الصف: ۸)
اور یہ بھی:
“اور وہ مکر کرتے رہے اور اللہ نے بھی تدبیر کی — اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔” (آل عمران: ۵۴)

خلاصہ — ایک جملے میں
شریعت پر پابندی کا قانون ایک ایسی چیز کو روکنے کی کوشش ہے جو موجود نہیں، جو آ نہیں رہی، جو مسلم اکثریتی ممالک میں بھی نہیں آئی — لیکن جس کا خوف بیچنا سیاسی طور پر انتہائی منافع بخش ہے۔
یہ قانون سازی نہیں — یہ خوف کی صنعت کا ایک اور پروڈکٹ ہے۔
مومن کا کام یہ ہے کہ اس بیانیے کو علم، حکمت اور اعداد و شمار سے بے نقاب کرے — غصے سے نہیں، بلکہ اس اعتماد سے جو حق کو باطل کے سامنے حاصل ہوتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین

اللہ کی نعمتیں، کفرانِ نعمت اور شکرِ الٰہی — ایک جامع قرآنی و نبوی راہنما

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

 

 

 

اللہ کی نعمتیں، کفرانِ نعمت اور شکرِ الٰہی

قرآنِ کریم، احادیثِ نبوی اور تاریخ کی روشنی میں ایک جامع راہنما

 

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ

 

”اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی جو امن و سکون کا گہوارہ تھی، ہر طرف سے بفراغت رزق آتا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، ان کرتوتوں کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے۔”

سورۃ النحل: ۱۱۲

 

مرتب: ForOneCreator

ذاتی غور و فکر، اجتماعی گفتگو اور تمام انسانیت کے ساتھ اشتراک کے لیے

 

حصہ اول: حَلَالًا طَیِّبًا — دو الگ اصطلاحات یا ایک ہی مفہوم؟

 

 

یہ ایک اہم اور خوبصورت سوال ہے۔ علمائے کرام نے ان دونوں اصطلاحات کو الگ الگ معنی کا حامل قرار دیا ہے اور انہیں ایک ہی نہیں سمجھا۔ یہ ایک مکمل معیار کے دو مختلف پہلو ہیں۔

 

قرآن میں یہ جوڑ کہاں آیا ہے؟

یہ ترکیب کئی مقامات پر وارد ہوئی ہے:

◆ سورۃ البقرۃ ۲:۱۶۸ — یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا

◆ سورۃ المائدۃ ۵:۸۸ — وَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا

◆ سورۃ الانفال ۸:۶۹ — فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَیِّبًا

◆ سورۃ النحل ۱۶:۱۱۴ — فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا

 

علمائے کرام کی تفریق

۱۔ امام طبری (متوفی ۳۱۰ ھ)

امام طبری نے حلال کو قانونی زمرے میں رکھا — جو شریعت نے جائز قرار دیا ہو — اور طیب کو کیفیاتی شرط قرار دیا — جو پاکیزہ، صحت بخش اور نقصان سے پاک ہو۔ ان کے نزدیک یہ دو الگ فلٹر ہیں جن کا بیک وقت پورا ہونا ضروری ہے۔

۲۔ امام فخر الدین رازی (متوفی ۶۰۶ ھ)

مفاتیح الغیب میں انہوں نے انتہائی واضح تفریق کی:

 

حلال = شریعت کی اجازت (اباحتِ شرعیہ) — جس کا تعین شارع کرتا ہے

طیب = فطری پاکیزگی اور مفید ہونا — جس کا تعین عقل، فطرت اور انسانی مزاج سے ہوتا ہے

 

کوئی چیز بنیادی طور پر حلال ہو سکتی ہے مگر کسی خاص صورت حال میں طیب نہ ہو — جیسے کوئی جائز چیز نقصان دہ مقدار میں کھائی جائے۔ اور اس کے برعکس بھی ممکن ہے۔

۳۔ حافظ ابن کثیر (متوفی ۷۷۴ ھ)

انہوں نے طیب کو گندگی اور نقصان سے پاکیزگی سے جوڑا — یہاں تک کہ وہ چیزیں بھی خارج ہیں جو روحانی طور پر ناپاک (خبیث) ہوں، چاہے بعض مذاہب میں قانونی طور پر جائز ہوں۔ طیب کا براہِ راست متضاد خبیث ہے۔

۴۔ سید مودودی (متوفی ۱۹۷۹ء)

تفہیم القرآن میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ جوڑ کھانے کی اخلاقیات کے دو مختلف پہلوؤں کو بیان کرتا ہے: حلال ماخذ اور قانونی حیثیت کو بیان کرتا ہے جبکہ طیب ذاتی معیار، صفائی اور صحت مندی کو۔

۵۔ سید قطب (متوفی ۱۹۶۶ء)

فی ظلال القرآن میں انہوں نے مجموعی نقطہ نظر اختیار کیا: حلال منفی حد ہے (جو ممنوع نہ ہو) اور طیب مثبت معیار ہے (جو حقیقتاً پاک اور بھلا ہو)۔ ان میں سے کوئی ایک اکیلا کافی نہیں۔

 

دونوں کی ضرورت کیوں؟

حلال بغیر طیب کے: قانوناً جائز مگر ممکنہ طور پر نقصان دہ یا ناپاک

طیب بغیر حلال کے: خوشگوار یا مفید مگر حرام ذریعے سے حاصل کردہ — جیسے چوری کا کھانا

 

یہی وجہ ہے کہ قرآن انہیں ہمیشہ ساتھ جوڑتا ہے — یہ ہم معنی نہیں بلکہ باہم مکمل ہیں۔

 

حصہ دوم: کفرانِ نعمت — نعمتوں کو ٹھکرانے کی مثالیں

 

 

یہ قرآنی اخلاقی الٰہیات کا ایک گہرا اور بار بار آنے والا موضوع ہے۔ مختلف ادوار کے علمائے کرام نے کفرِ نعمت کی کئی سطحوں پر بھرپور مثالیں دی ہیں: انفرادی، اجتماعی، تہذیبی اور روحانی۔

 

کفر کی اصل — ک-ف-ر — کا لغوی معنی ڈھانپنا یا دفن کرنا ہے۔ جیسے کسان بیج کو مٹی میں دفن کرتا ہے، اسی طرح کفرانِ نعمت کرنے والا نعمت کو ناشکری، غلط استعمال، انکار یا تکبر سے ڈھانپ لیتا ہے۔

 

زمرہ اول: انفرادی مثالیں

۱۔ ابلیس — اصلِ ناشکری کا نمونہ

تقریباً تمام کبار علماء — طبری، ابن کثیر، مودودی، سید قطب — ابلیس کو کفرانِ نعمت کی ابتدائی مثال قرار دیتے ہیں۔ اسے صدیوں کی عبادت، اللہ کی قربت اور بلند مقام حاصل تھا۔ مگر جب ایک حکم نے اس کی شکرگزاری کو آزمایا تو اس کا تکبر آشکار ہو گیا۔ اس نے اللہ کے وجود کا انکار نہیں کیا — اس نے نعمت کی قدر کا انکار کیا۔

سید قطب لکھتے ہیں: اس کا کفر انکار سے نہیں بلکہ خود پسندی سے شروع ہوا — اس نے نعمت کو دیکھا اور اللہ کے بجائے اپنے آپ کو دیکھا۔

۲۔ قارون — دولت کی نعمت کا کفران

اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ عِنۡدِیۡ

سورۃ القصص: ۷۸

 

”یہ مجھے میرے اپنے علم کی بدولت دیا گیا ہے۔”

امام قرطبی وضاحت کرتے ہیں: یہ ناشکری کی سب سے خطرناک قسم ہے — نعمت کو اپنی ذات سے منسوب کرنا۔ اللہ کو سرے سے مساوات سے خارج کر دینا۔ مودودی نوٹ کرتے ہیں کہ قارون ان تمام تہذیبوں کی علامت ہے جو اپنی خودانگیخت ترقی کو یاد رکھتی ہیں مگر اس صلاحیت کو بھول جاتی ہیں جو خود ایک عطیہ تھی۔

۳۔ دو باغوں والا — غرور کا کفران

مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِیۡدَ ہٰذِہٖۤ اَبَدًا

سورۃ الکہف: ۳۵

 

”میرا خیال نہیں کہ یہ کبھی ختم ہوگا۔”

ابن کثیر اسے دوام کے گمان کا کفرانِ نعمت قرار دیتے ہیں — اس نے نعمت کو ایک مستقل حق سمجھا، الٰہی امانت نہیں۔ سید قطب کا سبق: جس لمحے انسان نعمت کے زوال کا احتمال نہیں رکھتا، ناشکری شروع ہو جاتی ہے۔

۴۔ تین آدمیوں کی حدیث

بخاری و مسلم میں آنے والی مشہور حدیث جسے تقریباً تمام علماء نے نعمت کی آیات کی تفسیر میں ذکر کیا ہے:

 

تین آدمیوں کو اللہ کی رحمت سے — کوڑھ سے شفا، مال، صحت — نعمت ملی۔ ان میں سے دو نے انکار کیا کہ وہ کبھی غریب یا بیمار تھے اور مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ امام نووی اور ابن حجر دونوں اس حدیث سے یادداشت کے مٹ جانے کے ذریعے کفرانِ نعمت کو واضح کرتے ہیں — اپنی سابقہ حالت کو بھول جانا خود ناشکری کی ایک قسم ہے۔

 

زمرہ دوم: اجتماعی و تہذیبی مثالیں

۵۔ قومِ سبا — کفرانِ نعمت کا قرآنی کیس اسٹڈی

لَقَدۡ کَانَ لِسَبَاٍ فِیۡ مَسۡکَنِہِمۡ اٰیَۃٌ ۚ جَنَّتٰنِ عَنۡ یَّمِیۡنٍ وَّ شِمَالٍ ؕ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ رَبِّکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ

سورۃ سبا: ۱۵

 

”یقیناً سبا کے لوگوں کے لیے ان کے گھروں میں ایک نشانی تھی — دائیں اور بائیں دو باغ۔ اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔”

امام طبری نے ان کی ناشکری کے مراحل درج کیے: انہوں نے شکایت کی کہ باغ بہت قریب ہیں — وہ آرام و عیش اور طویل سفر چاہتے تھے — ناشکری جو عزت پسندی کے لبادے میں تھی۔ نتیجہ: مشہور بند ٹوٹا، باغ تباہ ہو گئے۔ مودودی کا سبق: سبا اس معاشرے کی مثال ہے جو عروج پر پہنچ کر تکبر اور ناشکری سے خود کو برباد کر لیتا ہے۔

۶۔ بنی اسرائیل — صحرا میں ناشکری

انہیں آسمانی من و سلوٰی، بادلوں کا سایہ، چٹان سے پانی اور فرعون کی غلامی سے نجات ملی۔ ان کا کفران: ”ہم ایک قسم کے کھانے پر صبر نہیں کر سکتے” — انہوں نے الٰہی عنایت کی خوراک کے بجائے غلامی کی خوراک مانگی۔ سید قطب لکھتے ہیں: ”جسم نے مصر چھوڑا مگر روح نفسانی خواہشات کی غلام رہی۔” (سورۃ البقرۃ: ۵۷-۶۱)

۷۔ سورۃ النحل ۱۶:۱۱۲ کا تجزیہ

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ

سورۃ النحل: ۱۱۲

تمام چار کبار علماء — طبری، ابن کثیر، قرطبی، مودودی — اس بات پر متفق ہیں: یہ آیت اللہ کی سنت قائم کرتی ہے — رد کی گئی نعمت سزا کی شکل متعین کرتی ہے۔ جس نعمت کا کفران کیا اسی کا الٹ ملا: امن کی جگہ خوف، وسعت کی جگہ بھوک۔

 

زمرہ سوم: روحانی و لطیف اقسام

۸۔ نعمتوں کا مقصد کے خلاف استعمال — امام غزالی

احیاء العلوم میں امام غزالی کا سب سے مشہور تعلیم:

 

◆ زبان — ذکر کے لیے دی گئی — غیبت میں استعمال = کفرانِ نعمتِ کلام

◆ آنکھیں — اللہ کی نشانیاں دیکھنے کے لیے — حرام دیکھنے میں استعمال = کفرانِ نعمتِ بصارت

◆ عقل — حق کو پہچاننے کے لیے — باطل کے دلائل گھڑنے میں استعمال = کفرانِ نعمتِ عقل

 

”ہر عضو ایک امانت ہے؛ اسے اس کے مقصد کے خلاف استعمال کرنا نعمت کو دفن کرنا ہے۔”

۹۔ وقت کی نعمت

آپ ﷺ نے فرمایا:

نِعۡمَتَانِ مَغۡبُوۡنٌ فِیۡہِمَا کَثِیۡرٌ مِّنَ النَّاسِ: الصِّحَّۃُ وَالۡفَرَاغُ

”دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فرصت۔”

صحیح بخاری

 

ابن حجر عسقلانی وضاحت کرتے ہیں کہ مغبون (ٹھگا ہوا) وہ ہے جو نعمت رکھتا ہے مگر اس کی قدر نہیں جانتا جب تک وہ چلی نہ جائے — یہ بے خبری کا کفرانِ نعمت ہے، شاید سب سے عام۔

 

علمائے کرام کا جامع خلاصہ

کفرانِ نعمت کی قسم

مثال

نمایاں کرنے والے عالم

نعمت کو اپنی ذات سے منسوب کرنا

قارون

قرطبی، مودودی

دوام کا گمان

دو باغوں والا

ابن کثیر، سید قطب

کافی ہونے کے باوجود شکایت

بنی اسرائیل

طبری، سید قطب

اجتماعی تکبر و ہوس

قومِ سبا

مودودی، طبری

نعمت کو مقصد کے خلاف استعمال

عمومی

امام غزالی

سابقہ محرومی کو بھولنا

تین آدمیوں کی حدیث

نووی، ابن حجر

روحانی تکبر

ابلیس

تمام کبار علماء

 

حصہ سوم: اللہ کا شکر ادا کرنے کے طریقے

 

 

اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا

 

”اے آلِ داود! شکر کے طور پر عمل کرو۔”

سورۃ سبا: ۱۳

 

شکر کی بنیادی زبان عمل ہے — صرف الفاظ نہیں۔ شکر ایک تہذیب ہے، محض ایک جذبہ نہیں۔

 

پہلا پہلو: دل کا شکر

۱۔ معرفتِ منعم — اللہ کو نعمت کا حقیقی دینے والا جاننا

وَمَا بِکُم مِّن نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ

سورۃ النحل: ۵۳

 

”تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔”

 

امام غزالی فرماتے ہیں: شکر کا پہلا رکن معرفتِ منعم ہے — حقیقی دینے والے کو جاننا۔ دل کو ہر نعمت کو اللہ کی طرف منسوب کرنے کی مشق مستقل کرنی چاہیے۔

۲۔ حضرت سلیمانؑ کی دعا — شکر کی سب سے جامع دعا

رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ

سورۃ النمل: ۱۹ — سورۃ الاحقاف: ۱۵

 

”اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر عطا کی، اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند ہو، اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔”

 

امام قرطبی اسے قرآن کی سب سے جامع شکر کی دعا کہتے ہیں — اس میں چار حرکتیں ہیں: شکر کی توفیق مانگنا، والدین تک شکر پھیلانا، عملِ صالح مانگنا، نیک بندوں میں شامل ہونے کی دعا۔

 

دوسرا پہلو: زبان کا شکر

۳۔ روزمرہ کے مسنون اذکار

موقع

عربی ذکر

مطلب

بیدار ہوتے وقت

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ اَحۡیَانَا بَعۡدَ مَا اَمَاتَنَا

اس اللہ کا شکر جس نے موت کے بعد زندگی دی

کھانے کے بعد

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ اَطۡعَمَنَا وَسَقَانَا

اس اللہ کا شکر جس نے کھلایا پلایا

خوشخبری پر

سجدۂ شکر

پیشانی زمین پر رکھنا بطورِ شکر

ہر نماز کے بعد

سبحان اللہ ×۳۳، الحمد للہ ×۳۳، اللہ اکبر ×۳۳

تسبیح، حمد اور تکبیر

کسی کی مصیبت دیکھ کر

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ عَافَانِیۡ مِمَّا ابۡتَلَاکَ بِہٖ

شکر کہ اللہ نے مجھے اس آزمائش سے بچایا

۴۔ تحدیثِ نعمت — نعمتوں کا ذکر کرنا

وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ

سورۃ الضحٰی: ۱۱

 

”اور اپنے رب کی نعمت کا ذکر کرو۔”

 

ابن کثیر وضاحت کرتے ہیں: اللہ کی نعمتوں کا تواضع کے ساتھ ذکر کرنا — نہ فخر سے — خود شکر کا عمل ہے۔

 

تیسرا پہلو: اعضاء کا شکر

آپ ﷺ رات کو اتنی دیر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے کہ پاؤں سوج جاتے۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا: کیا میں شکرگزار بندہ نہ بنوں؟ (بخاری و مسلم)

 

امام غزالی کی سب سے مشہور تعلیم: ہر عضو کا شکر یہ ہے کہ اسے اس کام میں لگایا جائے جس کے لیے وہ بنایا گیا:

◆ آنکھیں: اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ، حرام سے بچنا

◆ کان: ذکر و تلاوت سننا، غیبت کی محفلوں سے دور رہنا

◆ زبان: سچی بات، ذکر، علم کی تعلیم

◆ ہاتھ: صدقہ دینا، دوسروں کی خدمت

◆ پاؤں: مسجد کی طرف چلنا، حرام جگہوں سے دور رہنا

◆ عقل: اللہ کی نشانیوں میں تفکر

◆ صحت: بیماری سے پہلے عبادت کے لیے استعمال

◆ دولت: اللہ کی راہ میں خرچ کرنا

 

چوتھا پہلو: مال کے ذریعے شکر

وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ

 

سید قطب لکھتے ہیں: زکوٰۃ شکر کا سماجی اظہار ہے — اللہ کی امانت سمجھی گئی دولت اس کی مخلوق کو لوٹائی جاتی ہے۔ دولت جمع کرنا اعلیٰ ترین مادی کفرانِ نعمت ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

اَلۡیَدُ الۡعُلۡیَا خَیۡرٌ مِّنَ الۡیَدِ السُّفۡلٰی

”دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔” (بخاری)

 

پانچواں پہلو: رشتوں کے ذریعے شکر

اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَلِوَالِدَیۡکَ

سورۃ لقمان: ۳۱

 

”میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔”

 

اللہ نے اپنے شکر کو والدین کے شکر کے ساتھ ایک ہی حکم میں جوڑا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔ (ترمذی — صحیح)

 

حصہ چہارم: قرآن — آئینہ ہے یا عجائب گھر؟

 

 

آپ کا یہ مشاہدہ نہایت گہرا ہے: جب ہمیں کوئی غیر متوقع تحفہ ملے تو ہم بے چینی سے دینے والے کو تلاش کرتے ہیں — پوچھتے ہیں، معلوم کرتے ہیں، شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جو ہستی ہماری زندگی کے ہر لمحے کو ان گنت نعمتوں سے بھرتی ہے — ہماری سانسیں، دھڑکن، بینائی، خاندان، خوراک، امن — اسے اکثر ہم تلاش نہیں کرتے، نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ شکر ادا کرتے ہیں۔

 

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ

سورۃ یوسف: ۱۱۱

 

”یقیناً ان کے قصوں میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔”

 

عربی لفظ عِبرۃ — عبرت — اس اصل سے ہے جس کا معنی ہے پار کرنا۔ پل۔ قرآنی واقعات مردہ تاریخ کے عجائب گھر نہیں — یہ ماضی کے حوادث سے حال کے محاسبۂ نفس تک پہنچنے کے پل ہیں۔ امام غزالی نے لکھا: ”جو شخص قرآنی قصے پڑھے اور صرف پرانی قومیں دیکھے اس نے قرآن کو سمجھا ہی نہیں۔ جو پڑھے اور اپنے آپ کو دیکھے — وہ سمجھنا شروع ہوا ہے۔”

 

سورۃ النحل ۱۶:۱۱۲–۱۱۳ کا گہرا تجزیہ

اللہ نے ضَرَبَ مَثَلًا فرمایا — ‘مثال بیان کی’ — تاریخ بیان نہیں کی۔ لفظ مثل فوری طور پر بتاتا ہے کہ یہ آفاقی اطلاق کے لیے ہے — ہر دور کے ہر قاری کے لیے۔

 

عربی اصطلاح

دی گئی نعمت

جدید مثال

آمِنَة

امن و سلامتی

مستحکم ادارے، امن و امان

مُطۡمَئِنَّة

اطمینان و سکون

سماجی ہم آہنگی، ذہنی بہبود

رِزۡق رَغَدًا

بھرپور رزق

اقتصادی خوشحالی، غذائی تحفظ

مِنۡ کُلِّ مَکَان

ہر طرف سے رزق

عالمی تجارت، متنوع وسائل

 

مودودی نوٹ کرتے ہیں: سزا بے ترتیب نہ تھی — وہ نعمت کا بالکل الٹ تھی۔ جس نعمت کا کفران کیا وہی سزا کی شکل بنی: امن کی جگہ خوف، وسعت کی جگہ بھوک۔

 

حصہ پنجم: تین سطحوں پر اطلاق

 

پہلی سطح: فرد

فَاَمَّا الۡاِنۡسَانُ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکۡرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ ۬ۚ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَکۡرَمَنِ ؕ وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ فَقَدَرَ عَلَیۡہِ رِزۡقَہٗ ۬ۚ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَہَانَنِ

سورۃ الفجر: ۱۵–۱۶

 

”انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اسے آزماتا ہے اور عزت و نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے: میرے رب نے مجھے عزت دی۔ اور جب آزماتا ہے اور رزق تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے: میرے رب نے مجھے ذلیل کیا۔”

 

اللہ پھر فرماتے ہیں: کَلَّا — نہیں! دونوں معاملوں میں تم غلط ہو۔ ابن کثیر: عام انسان کا روحانی پیمانہ خراب ہے — وہ نعمت کو الٰہی منظوری اور مصیبت کو الٰہی رد سمجھتا ہے۔ دونوں تفسیریں کفرانِ نعمت کی ایک شکل ہیں۔

 

پانچ چیزوں سے پہلے پانچ کا فائدہ اٹھاؤ — نبوی حدیث:

اِغۡتَنِمۡ خَمۡسًا قَبۡلَ خَمۡسٍ: شَبَابَکَ قَبۡلَ ہَرَمِکَ، وَصِحَّتَکَ قَبۡلَ سَقَمِکَ، وَغِنَاکَ قَبۡلَ فَقۡرِکَ، وَفَرَاغَکَ قَبۡلَ شُغۡلِکَ، وَحَیَاتَکَ قَبۡلَ مَوۡتِکَ

الحاکم — صحیح

 

جوانی سے پہلے بڑھاپا، صحت سے پہلے بیماری، دولت سے پہلے فقر، فرصت سے پہلے مصروفیت، زندگی سے پہلے موت

 

انفرادی غور و فکر کے سوالات:

◆ کیا میں بیماری سے پہلے اپنی صحت کا استعمال کر رہا ہوں؟

◆ کیا میں فقر سے پہلے اپنی دولت کا استعمال کر رہا ہوں؟

◆ کیا میں موت سے پہلے اپنے وقت کا استعمال کر رہا ہوں؟

◆ کیا میں اپنی نعمتوں کو اپنی قابلیت سے منسوب کرتا ہوں یا اللہ سے؟

◆ کیا میں اپنے اعضاء کو اس کام میں لگاتا ہوں جس کے لیے وہ بنائے گئے؟

دوسری سطح: معاشرہ و سماج

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا عَلٰی قَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ

سورۃ الانفال: ۵۳

 

”یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم پر اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔”

 

یہ آیت اجتماعی سطح پر اللہ کی سنت قائم کرتی ہے — طبیعی قوانین کی طرح مستقل۔ قومِ سبا: عروج پر پہنچ کر ناشکری سے برباد ہوئی۔ بنو اسرائیل: مصر سے آزادی کے بعد بھی نفسانی خواہشات کے غلام رہے۔ عباسی تہذیب: علم، طب، فلسفے کا مرکز بغداد — پھر ۱۲۵۸ء میں منگول یلغار سے تباہ۔ مسلم اندلس: ۸۰۰ سال کی حکمرانی — اندرونی انتشار اور ناشکری کے بعد چند دہائیوں میں ختم۔

تیسری سطح: اقوام و تہذیبیں

ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ

سورۃ الروم: ۴۱

 

”خشکی اور سمندر میں فساد پھیل گیا لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے — تاکہ انہیں ان کے کچھ کرتوتوں کا مزہ چکھائے — شاید وہ باز آ جائیں۔”

 

آپ ﷺ کی تنبیہ تہذیبی زوال کے بارے میں:

اِذَا تَبَایَعۡتُمۡ بِالۡعِیۡنَۃِ وَاَخَذۡتُمۡ اَذۡنَابَ الۡبَقَرِ وَرَضِیۡتُمۡ بِالزَّرۡعِ وَتَرَکۡتُمُ الۡجِہَادَ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ ذُلًّا لَّا یَنۡزِعُہٗ حَتّٰی تَرۡجِعُوۡا اِلٰی دِیۡنِکُمۡ

ابو داود — مستند

 

”جب تم سودی لین دین کرنے لگو، گائیوں کی دمیں پکڑ لو، کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ اور جہاد چھوڑ دو تو اللہ تم پر ذلت مسلط کر دے گا اور وہ اس وقت تک نہیں اٹھے گی جب تک تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹو۔”

 

حصہ ششم: صرف مسلمانوں کے لیے یا پوری انسانیت کے لیے؟

 

 

قرآن کا جواب واضح اور دو ٹوک ہے:

 

ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِیُنۡذَرُوۡا بِہٖ

سورۃ ابراہیم: ۵۲

 

”یہ تمام لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے تاکہ اس سے ڈرائے جائیں۔”

 

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ

سورۃ الانبیاء: ۱۰۷

 

”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”

 

سید قطب لکھتے ہیں: ”قرآن قبیلوں یا قوموں سے نہیں بلکہ انسانی فطرت سے خطاب کرتا ہے۔ بھوک، خوف، ناشکری، تکبر — یہ مسلمانوں کے مسائل نہیں۔ یہ انسانی مسائل ہیں۔ قرآن کی تشخیص آفاقی ہے چاہے اس کا نسخہ مخصوص ہو۔”

 

یہ پیغام کیسے پھیلایا جائے؟

مخاطبین

طریقۂ کار

مسلمان — جمعہ کا خطبہ

یہ آیات ایک مکمل خطبے کا فریم ورک ہیں: نعمتیں، ناشکری، تنبیہ، اصلاح۔ تین سطحیں (فرد، معاشرہ، قوم) منظم گفتگو کا ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں۔

مسلمان — حلقاتِ علم

ہر سطح پر غور و فکر کے سوالات استعمال کریں۔ پانچ چیزوں سے پہلے پانچ والی حدیث بہترین آغاز ہے۔

پوری انسانیت — اخلاقی فلسفہ

ہر تہذیب نے نعمت، ناشکری، انجام کا یہی سفر طے کیا ہے۔ اسے آفاقی تہذیبی حکمت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

پوری انسانیت — ماحولیاتی اخلاقیات

سورۃ الروم ۴۱:۳۰ خشکی و سمندر میں فساد کے بارے میں انسانی ہاتھوں کی وجہ سے — مذہبی و سیکولر دونوں حلقوں میں مشترک موضوع ہے۔

پوری انسانیت — سوشل میڈیا

بستی کی مثال بصری طور پر طاقتور ہے۔ وہ تضاد جو آپ نے بیان کیا — حیرت انگیز تحفے کے دینے والے کو ڈھونڈنا مگر مستقل نعمتوں کے دینے والے کو بھولنا — ایک آفاقی اور متاثر کن انسانی احساس ہے۔

 

اختتامی تأمل

 

 

وہ تضاد جس نے ہمیں جگایا

 

جب ہمیں کوئی حیران کن تحفہ ملے تو ہم بے چینی سے دینے والے کو ڈھونڈتے ہیں۔ پوچھتے ہیں، تلاش کرتے ہیں، شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ ہستی جو ہماری زندگی کے ہر لمحے کو ان گنت نعمتوں سے بھرتی ہے — ابھی یہ سانس، ابھی یہ دھڑکن، یہ آنکھیں جو یہ سطریں پڑھ رہی ہیں، وہ خاندان جو محبت کرتا ہے، وہ خوراک جو پالتی ہے، وہ امن جو گھیرے ہوئے ہے — اسے ہم میں سے اکثر نہ تلاش کرتے ہیں، نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ شکر ادا کرتے ہیں۔

 

یہ الزام نہیں۔ یہ دعوت ہے۔ قرآن مذمت کی کتاب نہیں — یہ واپسی کی کتاب ہے۔ ناشکری کی ہر آیت کے ارد گرد رحمت کی آیات ہیں۔ سزا کی ہر مثال میں اصلاح کا بیج ہے۔ جب تک سانس ہے دروازہ بند نہیں ہوتا۔

 

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ

سورۃ ابراہیم: ۷

 

”اگر تم شکر کرو گے تو میں یقیناً تمہیں مزید دوں گا — اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔”

 

فعل لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ میں دو تاکیدی نون ہیں — عربی کا سب سے قوی یقین دہانی کا انداز۔ یہ قرآن کی سب سے پختہ ضمانت ہے: شکرگزاری ضرب لگاتی ہے۔ یہ کشش ثقل جتنا یقینی الٰہی قانون ہے۔

 

ابن قیم کے شکر کے پانچ ارکان

 

مدارج السالکین میں ابن قیم نے لکھا: شکر پانچ بنیادوں پر قائم ہے:

 

1. خُضُوع — منعم کے سامنے عاجزی و انکسار

2. مَحَبَّت — اللہ کی محبت، صرف خوف نہیں

3. اِعتِراف — نعمت کا کھلا اعتراف

4. ثَنَاء — زبان و دل سے اللہ کی تعریف

5. عدمِ استعمالِ برائے معصیت — نعمت کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ کرنا

 

وہ خلاصہ کرتے ہیں: ”جو ان پانچوں سے خالی ہو اس کا کوئی شکر نہیں — چاہے اس کی زبان الحمد للہ سے کبھی نہ رکے۔”

 

وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ

”اور میرے بندوں میں سے بہت کم شکرگزار ہیں۔” — سورۃ سبا: ۱۳

 

اللہ کرے کہ ہم اس نادر اور خوش نصیب گروہ میں شامل ہو جائیں۔

 

اٰمِیۡنَ یَا رَبَّ الۡعَالَمِیۡنَ

اشتراکِ علم میں عدمِ توازن: دینی علم بمقابلہ دنیاوی معاملات

اشتراکِ علم میں عدمِ توازن: دینی علم بمقابلہ دنیاوی معاملات
یہ ایک نہایت گہرا مشاہدہ ہے، اور یہ ایک انتہائی اہم حقیقت کو چھوتا ہے — انسانی اعتماد میں دنیاوی علم اور دینی علم کے درمیان ایک عجیب عدمِ توازن۔ آئیے اسے سوچ بچار کے ساتھ کھولتے ہیں۔

اشتراک میں عدمِ توازن
جب کوئی ڈاکٹر یہ دریافت کرتا ہے کہ سگریٹ نوشی سے کینسر ہوتا ہے، تو وہ سب کو بتاتا ہے — اپنے مریضوں کو، اپنے گھر والوں کو، سڑک پر ملنے والے اجنبیوں کو بھی۔ جب کوئی ماہرِ غذائیت یہ جانتی ہے کہ چینی نقصاندہ ہے، تو وہ اس پر پوسٹ لکھتی ہے، کتابیں تحریر کرتی ہے، انٹرویو دیتی ہے۔ جب کوئی ماہرِ معاشیات آنے والے مالی بحران کو بھانپ لیتا ہے، تو وہ بلند آواز سے سرمایہ کاروں کو خبردار کرتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا: “تم کون ہوتے ہو مجھے بتانے والے؟” کوئی نہیں جھجھکتا۔
لیکن جب وہی ڈاکٹر، وہی ماہرِ غذائیت، وہی ماہرِ معاشیات یہ جانتا ہے کہ سود (ربا) معیشتوں کو تباہ کرتا ہے، نماز کا ترک روح کو نقصان پہنچاتا ہے، توبہ نفسیاتی زخموں کو بھرتی ہے — تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ وہ آہستہ بولتا ہے۔ جھجھکتا ہے۔ کہتا ہے: “یہ ذاتی معاملہ ہے۔”
یہ عدمِ توازن کیوں؟ آپ نے فطری طور پر کئی وجوہات کو محسوس کیا ہے۔ آئیے سب کو کھولتے ہیں:

یقین کا بحران
پہلی وجہ ہے کمزور ذاتی یقین۔ ایک سائنسدان اپنے نتائج اعتماد سے بیان کرتا ہے کیونکہ اس نے انہیں آزمایا ہے، مشاہدہ کیا ہے، بار بار جانچا ہے۔ اسے ڈیٹا پر یقین ہوتا ہے۔
لیکن بہت سے مومنین — حتیٰ کہ عمل کرنے والے بھی — اپنے ایمان کو جزوی طور پر ایک وراثتی مفروضے کے طور پر لیے پھرتے ہیں، نہ کہ جیے گئے اور جانچے گئے یقین کے طور پر۔ انہوں نے قرآن کے ساتھ اتنی گہرائی سے نہیں بیٹھے کہ اس آیت کا بوجھ محسوس کریں:
“اور جو میری یاد سے منہ پھیرے گا، اس کی زندگی تنگ اور گھٹی ہوئی ہوگی۔” (طٰہٰ: ۱۲۴)
جب تک آپ نے کسی آیت کی سچائی کا ذائقہ نہیں چکھا، آپ اسے معذرت خواہانہ انداز میں — اگر بالکل بیان کریں بھی — پیش کرتے ہیں۔ لیکن جب آپ نے چکھ لیا — جب آپ نے نماز کی برکت، استغفار کا سکون، حلال زندگی کی وضاحت کا تجربہ کر لیا — تو آپ ایک گواہ کے خاموش اقتدار کے ساتھ بولتے ہیں۔

رد ہونے کا خوف بمقابلہ حکمِ الٰہی کا خوف
سائنسی فوائد بیان کرتے وقت بدترین صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی اختلاف کرے۔ لیکن دین کی بات کرتے وقت لوگ ڈرتے ہیں:
∙ انتہاپسند یا پسماندہ کہلانے سے
∙ اپنی اقدار دوسروں پر مسلط کرنے کے الزام سے
∙ سماجی بائیکاٹ سے
∙ خود نمائی کے تاثر سے
یہ خوف بڑی حد تک جدید سیکولر ثقافت کی پیداوار ہے، جس نے ایمان کو کامیابی سے ذاتی معاملہ بنا دیا ہے — اسے بند کمرے کی چیز بنا دیا ہے۔ سائنس عوامی سچ ہے۔ مذہب ذاتی ترجیح ہے۔ جب آپ اس ثقافتی ڈھانچے کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں، تو آپ خود بخود اپنی آواز دبا لیتے ہیں۔
لیکن یہ ایک باطل ڈھانچہ ہے۔ قرآن خود ایمان کو عوامی بھلائی کے طور پر پیش کرتا ہے — نعمت کا اشتراک، نصیحتِ خیر کا دینا، امر بالمعروف کا عملی اظہار۔

ناقص فہم — “کیوں” نہ جاننا
آپ نے بڑی دانائی سے اس نکتے کو چھوا۔ ہم اکثر اسلام کا “کیا” تو جانتے ہیں مگر “کیوں” نہیں جانتے۔
ہم جانتے ہیں: “شراب نہ پیو۔”
ہم ہمیشہ یہ نہیں کہہ پاتے: “اس لیے کہ یہ عقل کو — اس صلاحیت کو جو انسان کو جانوروں سے ممتاز کرتی ہے اور جس کی بنا پر ہم اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں — تباہ کر دیتی ہے۔”
ہم جانتے ہیں: “دن میں پانچ نمازیں پڑھو۔”
ہم ہمیشہ یہ نہیں کہہ پاتے: “اس لیے کہ یہ دن میں پانچ مرتبہ حقیقت سے ملاقات کا لمحہ ہے — یاد دہانی کہ تم کون ہو، کس کے ہو، اور کہاں جا رہے ہو — وہ روحانی فراموشی روکنے کے لیے جو اخلاقی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔”
قرآن فوائد کو بیان کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ وہ مسلسل وضاحت کرتا ہے:
“بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔” (العنکبوت: ۴۵)
“اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو۔” (الطلاق: ۲-۳)
“سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔” (الرعد: ۲۸)
قرآن فوائد کے بیانات سے بھرا پڑا ہے۔ ہم بس انہیں اتنی توجہ سے نہیں پڑھتے کہ آگے پہنچا سکیں۔

خانہ بندی کا مسئلہ
جدید تعلیم ہمیں خانوں میں سوچنا سکھاتی ہے۔ سائنس قابلِ تصدیق ہے۔ مذہب عقیدہ ہے۔ اس سے مخلص مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی دو درجاتی علمیت پیدا ہو جاتی ہے — جہاں قرآنی علم کسی نہ کسی طرح تجرباتی علم سے کم حقیقی محسوس ہوتا ہے۔
لیکن غور کریں: ناشکری (کفرانِ نعمت)، سماجی ناانصافی اور اخلاقی زوال کے نتائج سے متعلق قرآن کی تصویر کشی ہر گری ہوئی تہذیب میں تاریخی طور پر ثابت ہو چکی ہے — عاد سے ثمود تک، فرعون کے مصر سے رومی سلطنت تک۔ یہ نمونہ تجرباتی طور پر ہر جگہ یکساں ہے۔
جو مومن اس کا مطالعہ کرتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ قرآنی علم کم قابلِ تصدیق نہیں — بلکہ یہ ایسے پیمانے اور گہرائی پر ثابت ہے جسے کوئی لیبارٹری نہیں چھو سکتی۔

نبی کریم ﷺ کا اسوہ
نبی کریم ﷺ فائدے کے اشتراک میں سب سے فطری، پُراعتماد اور شفیق تھے۔ آپ ﷺ نے بغیر تکبر کے نصیحت فرمائی۔ آپ ﷺ نے “کیوں” بیان کیا۔ آپ ﷺ نے ہدایت کو انسانی فطرت (فطرت) سے جوڑا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“دین نصیحت ہے۔” (مسلم)
آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: “دین ذاتی معاملہ ہے۔” نصیحت — خلوصِ دل سے دی جانے والی خیرخواہانہ رہنمائی — اسلام کا سماجی ڈی این اے ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی کو آگے بڑھایا۔ وہ صرف علاقے فتح کرنے نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کو بانٹنے کے لیے براعظموں کی خاک چھانتے تھے جس کے بارے میں وہ مکمل یقین رکھتے تھے کہ یہ ہر انسان کو فائدہ دے گی۔

آگے کا راستہ
حل یہ نہیں کہ واعظانہ یا جبری انداز اپنایا جائے۔ بلکہ یہ ہے کہ:
۱۔ ذاتی یقین کو گہرا کریں — قرآن کو تفسیر کے ساتھ پڑھیں جب تک آپ جانے ہوئے کی سچائی کو محسوس نہ کریں۔
۲۔ احکام کی حکمت سیکھیں — تاکہ آپ محض حکم نہیں بلکہ فائدہ بانٹ سکیں۔
۳۔ نصیحت کے تصور کو دوبارہ زندہ کریں — دوسروں کی بھلائی کی حقیقی فکر، جسے آپ اسی طرح فطری انداز میں ظاہر کریں جیسے کسی دوست کو خطرناک راستے سے آگاہ کرتے ہیں۔
۴۔ ایمان کی جھوٹی نجکاری کو رد کریں — بھلائی بھلائی ہے، چاہے لیبارٹری سے آئے یا وحی سے۔
۵۔ چھوٹے اور ذاتی سے آغاز کریں — وہ بانٹیں جو آپ نے جیا اور چکھا ہے، نہ صرف وہ جو حفظ کیا ہے۔

جیسا کہ اللہ ﷻ فرماتا ہے:
“اور اس شخص سے بات میں کون بہتر ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے: میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔” (حٰم السجدہ: ۳۳)
بانٹنے کا اعتماد تکبر سے نہیں — بلکہ حق کی گہری سمجھ اور تجربے سے آتا ہے۔ اللہ ﷻ ہمیں وہ گہرائی عطا فرمائے۔ آمین

Why wars happen? Quranic perspective


Quran 2:251 — Surah Al-Baqarah (The Cow)

Arabic Text

فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ


Translations

Sahih International:
“So they defeated them by permission of Allah, and David killed Goliath, and Allah gave him the kingship and prophethood and taught him from that which He willed. And if it were not for Allah checking [some] people by means of others, the earth would have been corrupted, but Allah is full of bounty to the worlds.”

Abdullah Yusuf Ali:
“By Allah’s will they routed them; and David slew Goliath; and Allah gave him power and wisdom and taught him whatever (else) He willed. And did not Allah Check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief: But Allah is full of bounty to all the worlds.”

Abul Ala Maududi (Tafheem ul-Quran):
“Consequently, by Allah’s grace, they routed the unbelievers, and David killed Goliath; and Allah gave him kingship and wisdom and taught him whatever other things He willed.”

Muhsin Khan:
“So they routed them by Allah’s leave and Dawud (David) killed Jalut (Goliath), and Allah gave him (Dawud) the kingdom and Al-Hikmah (prophethood), and taught him of that which He willed. And if Allah did not check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief. But Allah is full of bounty to the ’Alamin (mankind, Jinn and all that exists).”


Commentary by Islamic Scholars

Ibn Kathir (classical scholar, 14th century):
Ibn Kathir explains that this verse confirms the stories of the Israelites narrated in the Quran match the truth preserved in earlier scriptures. He notes that the verse refers to the defeat of Goliath’s army, the killing of Goliath by David, and that Allah then granted David both kingship (after the deaths of Talut/Saul and Samuel) and prophethood (Al-Hikmah). The second part of the verse — about Allah using some people to check others — is understood by Ibn Kathir as a divine principle: God prevents the total corruption of the earth by allowing righteous forces to push back against oppression.

Abul Ala Maududi (20th century, Tafheem ul-Quran):
Maududi’s commentary notes that David was then in the early years of his youth and had joined the army of Saul just when the mighty champion of the Philistine army challenged the Israelites to combat, and none of the Israelites had the courage to take up the challenge. He highlights David’s story as proof that divine victory does not depend on numbers or material strength, but on faith, patience, and God’s will. The broader lesson is that God’s system of using one group to check another is a mercy to humanity — without it, evil would spread unchecked across the earth.

Key Themes & Lessons from 2:251:

  1. Victory comes from Allah alone — the believers defeated a superior force purely by divine permission, not their own strength.
  2. David (Dawud) as a model — a young, faithful individual rose to become both king and prophet because of his trust in God.
  3. The divine balance principle — the phrase “Allah checking some people by means of others” is one of the Quran’s profound statements about how God maintains order in human society, preventing any one evil from fully dominating the world.
  4. Allah’s bounty to all creation — the verse closes with a reminder that this divine system of checks and balances is itself a mercy and favor from God.

Urdu translation

یہاں مکمل ترجمہ اردو میں پیش خدمت ہے:


قرآن ۲:۲۵۱ — سورۃ البقرہ (گائے)

عربی متن

فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ


تراجم

صحیح انٹرنیشنل:
“پس انہوں نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دی، اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور اللہ نے انہیں بادشاہت اور نبوت عطا فرمائی اور جو چاہا انہیں سکھایا۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکتا، تو زمین میں فساد پھیل جاتا، لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔”

عبداللہ یوسف علی:
“اللہ کی مشیت سے انہوں نے انہیں شکست دی؛ اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا؛ اور اللہ نے انہیں قوت اور حکمت عطا فرمائی اور جو اور چاہا سکھایا۔ اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے نہ روکتا، تو زمین یقیناً فساد سے بھر جاتی، لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔”

ابوالاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن):
“چنانچہ اللہ کے فضل سے انہوں نے کافروں کو شکست دی، اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا؛ اور اللہ نے انہیں بادشاہت اور حکمت عطا فرمائی اور جو اور چاہا سکھایا۔”

محسن خان:
“پس انہوں نے اللہ کے اذن سے انہیں شکست دی اور داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا، اور اللہ نے انہیں بادشاہت اور الحکمہ (نبوت) عطا فرمائی، اور جو چاہا انہیں سکھایا۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکتا، تو زمین واقعی فساد سے بھر جاتی۔ لیکن اللہ تمام عالمین (انسانوں، جنوں اور ہر چیز) پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔”


اسلامی علماء کی تفسیر

ابن کثیر (کلاسیکی عالم، ۱۴ویں صدی):
ابن کثیر وضاحت کرتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ قرآن میں بنی اسرائیل کے جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ پہلی کتابوں میں محفوظ حقیقت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ وہ نوٹ کرتے ہیں کہ یہ آیت جالوت کے لشکر کی شکست، داؤد کے ہاتھوں جالوت کے قتل، اور پھر اللہ کی جانب سے داؤد کو بادشاہت اور نبوت (الحکمہ) عطا کیے جانے کا ذکر کرتی ہے۔ آیت کا دوسرا حصہ — جس میں اللہ کے بعض لوگوں کو دوسروں کے ذریعے روکنے کا ذکر ہے — ابن کثیر کے نزدیک ایک الٰہی اصول ہے: اللہ راستبازوں کو ظلم کے خلاف اٹھنے دے کر زمین کی مکمل تباہی کو روکتا ہے۔

ابوالاعلیٰ مودودی (۲۰ویں صدی، تفہیم القرآن):
مودودی کی تفسیر میں یہ نکتہ اہم ہے کہ داؤد علیہ السلام اس وقت اپنی جوانی کے ابتدائی برسوں میں تھے اور طالوت کے لشکر میں شامل ہوئے تھے، ٹھیک اس وقت جب فلسطینی لشکر کے طاقتور سردار نے بنی اسرائیل کو جنگ کا چیلنج دیا اور بنی اسرائیل میں سے کسی کو یہ چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ وہ داؤد کی کہانی کو اس بات کے ثبوت کے طور پر اجاگر کرتے ہیں کہ الٰہی فتح تعداد یا مادی طاقت پر نہیں بلکہ ایمان، صبر اور اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔ وسیع تر سبق یہ ہے کہ ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے روکنے کا اللہ کا نظام انسانیت کے لیے رحمت ہے — اس کے بغیر برائی بے روک ٹوک پوری دنیا میں پھیل جاتی۔


اہم موضوعات اور اسباق

۱. فتح صرف اللہ کی طرف سے آتی ہے — مومنین نے ایک طاقتور لشکر کو صرف اللہ کے اذن سے شکست دی، اپنی قوت سے نہیں۔

۲. داؤد علیہ السلام بطور نمونہ — ایک نوجوان، ایمان دار انسان اللہ پر بھروسے کی بدولت بادشاہ اور نبی دونوں بن گئے۔

۳. الٰہی توازن کا اصول — “اللہ کا بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے روکنا” قرآن کے ان گہرے ترین بیانات میں سے ایک ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ اللہ انسانی معاشرے میں نظم کیسے برقرار رکھتا ہے اور کسی ایک برائی کو دنیا پر مکمل غلبہ پانے سے روکتا ہے۔

۴. اللہ کا تمام مخلوق پر فضل — آیت اس یاددہانی پر ختم ہوتی ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کا یہ الٰہی نظام خود اللہ کی رحمت اور فضل ہے۔


امید ہے یہ ترجمہ آپ کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے! 🤲​​​​​​​​​​​​​​​​

Xxxxxxxxxx


Quran 22:40 — Surah Al-Hajj

Arabic Text

ٱلَّذِينَ أُخْرِجُوا۟ مِن دِيَـٰرِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّآ أَن يَقُولُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَٰمِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَٰتٌ وَمَسَـٰجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا ٱسْمُ ٱللَّهُ كَثِيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِيزٌ


Translations

Sahih International:
“Those who have been expelled from their homes without right — only because they say, ‘Our Lord is Allah.’ And were it not that Allah checks the people, some by means of others, there would have been demolished monasteries, churches, synagogues, and mosques in which the name of Allah is much mentioned. And Allah will surely support those who support Him. Indeed, Allah is Powerful and Exalted in Might.”

Abul Ala Maududi (Tafheem ul-Quran):
“Those who were unjustly expelled from their homes for no other reason than their saying: ‘Allah is Our Lord.’ If Allah were not to repel some through others, monasteries and churches and synagogues and mosques wherein the name of Allah is much mentioned, would certainly have been pulled down. Allah will most certainly help those who will help Him. Verily Allah is Immensely Strong, Overwhelmingly Mighty.”

Muhsin Khan:
“Those who have been expelled from their homes unjustly only because they said: ‘Our Lord is Allah.’ — For had it not been that Allah checks one set of people by means of another, monasteries, churches, synagogues, and mosques, wherein the Name of Allah is mentioned much would surely have been pulled down. Verily, Allah will help those who help His (Cause). Truly, Allah is All-Strong, All-Mighty.”

Pickthall:
“Those who have been driven from their homes unjustly only because they said: Our Lord is Allah — For had it not been for Allah’s repelling some men by means of others, cloisters and churches and oratories and mosques, wherein the name of Allah is oft mentioned, would assuredly have been pulled down. Verily Allah helpeth one who helpeth Him. Lo! Allah is Strong, Almighty.”


Commentary & Explanation by Islamic Scholars

1. Ibn Kathir (classical scholar, 14th century)

Ibn Kathir notes that Ibn Abbas said this verse was revealed about the Prophet Muhammad ﷺ and his Companions when they were expelled from Makkah. He and many other scholars of the Salaf — including Mujahid, Ad-Dahhak, Urwah ibn Az-Zubayr, and Qatadah — identified this as the first verse of the Quran in which permission for Jihad was given.

On the mention of the four places of worship, Ibn Jarir al-Tabari held that the monasteries of the monks, the churches of the Christians, the synagogues of the Jews, and the mosques of the Muslims — all places wherein the Name of Allah is mentioned much — would have been destroyed had God not instituted this divine principle of checking some people by means of others. Some scholars noted this is a sequence arranged from smallest to greatest, with mosques being the most frequented by worshippers with the correct intention.

On the promise of divine victory, Ibn Kathir connects the closing statement — “Allah will help those who help His cause” — to the broader Quranic principle that those who support Allah’s religion can rely on Allah’s support in return, and that this is a firm divine promise.


2. Sayyid Abul Ala Maududi (20th century, Tafheem ul-Quran)

Maududi explains that this passage is where the Quran for the first time prepares Muslims for Jihad. He notes that verses 22:38–41 form a coherent unit, where the ideological conflict between believers and disbelievers described earlier naturally leads to the question of armed conflict. The immediate occasion was the Muslims’ expulsion from Makkah and their being barred from performing Hajj.

Maududi points out that the mention of their expulsion from their homes in this verse is itself clear proof that this portion of Surah Al-Hajj was revealed in Madinah. He illustrates the severity of the persecution with historical examples: Hadrat Suhaib Rumi was stripped of all his wealth when he migrated to Madinah and arrived with nothing but the clothes on his back, despite having earned everything lawfully. Similarly, when Hadrat Abu Salmah tried to migrate with his wife and child, his in-laws forcibly separated the wife from him, and his own relatives tore away the child — leaving the poor woman to spend an entire year in grief before she could reunite with her child and make the dangerous journey to Madinah alone.

Maududi further stresses that the believers were being told to fight not for revenge, but for the sake of reform and righteousness — to establish justice, not to settle scores with their persecutors.


3. Ibn Jarir al-Tabari (classical scholar, 10th century)

Ad-Dahhak, as reported in the classical tradition, held that the Name of Allah is mentioned in all four types of houses of worship listed in the verse — monasteries, churches, synagogues, and mosques. This is significant because it frames the divine principle of checking oppression as something that protects religious life across all faith traditions, not just Islam.


Key Themes & Lessons

1. The injustice of religious persecution. The sole “crime” of the expelled believers was declaring “Our Lord is Allah.” This verse firmly establishes that persecution based purely on faith is among the greatest injustices.

2. The first Quranic permission for defensive combat. Classical scholars unanimously identify 22:39–40 as the first Quranic verses permitting Muslims to fight back — and the reason given is not conquest, but defense against oppression.

3. Protection of all houses of worship. Remarkably, the verse lists monasteries, churches, synagogues, and mosques together as places that God’s principle of balance protects. This is understood as Islam’s recognition of the sanctity of all spaces devoted to the worship of God.

4. The divine law of balance. Just as in 2:251, this verse reaffirms the principle that God uses one group to check the excesses of another — a mercy that prevents total corruption and the destruction of spiritual life on earth.

5. A guaranteed divine promise. The verse closes with a powerful assurance: Allah will most certainly help those who help Him — grounded in His attributes of being All-Strong and All-Mighty.

قرآن ۲۲:۴۰ — سورۃ الحج

— ایک جامع تحقیقی پیشکش


قرآن ۲۲:۴۰ — سورۃ الحج

عربی متن

ٱلَّذِينَ أُخْرِجُوا۟ مِن دِيَـٰرِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّآ أَن يَقُولُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَٰمِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَٰتٌ وَمَسَـٰجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا ٱسْمُ ٱللَّهُ كَثِيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِيزٌ


تراجم

صحیح انٹرنیشنل:
“وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا — صرف اس لیے کہ وہ کہتے تھے: ‘ہمارا رب اللہ ہے۔’ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکتا، تو خانقاہیں، گرجا گھر، کنیسے اور مساجد — جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے — ضرور منہدم کر دی جاتیں۔ اور اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ بے شک اللہ بڑی قوت والا، بڑے غلبے والا ہے۔”

ابوالاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن):
“وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکالا گیا، صرف اس لیے کہ وہ کہتے تھے: ‘اللہ ہمارا رب ہے۔’ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا، تو خانقاہیں، گرجا گھر، کنیسے اور مساجد — جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے — سب ڈھا دی جاتیں۔ اللہ ضرور بالضرور ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ بے شک اللہ بڑا طاقتور اور بڑا زبردست ہے۔”

محسن خان:
“وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، صرف اس لیے کہ انہوں نے کہا: ‘ہمارا رب اللہ ہے۔’ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکتا، تو خانقاہیں، گرجا گھر، کنیسے اور مساجد — جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے — یقیناً ڈھا دی جاتیں۔ بے شک اللہ ان کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کریں۔ اللہ یقیناً بڑا قوی اور بڑا زبردست ہے۔”

پکتھال:
“وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکالا گیا، صرف اس لیے کہ انہوں نے کہا: ‘ہمارا رب اللہ ہے۔’ اگر اللہ کچھ لوگوں کو دوسروں کے ذریعے نہ ہٹاتا، تو خانقاہیں، گرجا گھر، عبادت گاہیں اور مساجد — جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے — ضرور منہدم کر دی جاتیں۔ بے شک اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ یقیناً قوی اور غالب ہے۔”


اسلامی علماء کی تفسیر اور تشریح

۱. ابن کثیر (کلاسیکی عالم، ۱۴ویں صدی)

ابن کثیر نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کے بارے میں نازل ہوئی جب انہیں مکہ سے نکالا گیا۔ سلف صالحین کے کئی علماء — جن میں مجاہد، ضحاک، عروہ بن زبیر اور قتادہ شامل ہیں — نے اس آیت کو قرآن کریم کی وہ پہلی آیت قرار دیا جس میں جہاد کی اجازت دی گئی۔

عبادت گاہوں کے ذکر کے بارے میں، ابن جریر طبری کا موقف تھا کہ راہبوں کی خانقاہیں، عیسائیوں کے گرجا گھر، یہودیوں کے کنیسے اور مسلمانوں کی مساجد — یہ سب وہ مقامات ہیں جہاں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے — ان سب کو منہدم کر دیا جاتا اگر اللہ نے اس الٰہی اصول کو قائم نہ کیا ہوتا کہ وہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے روکتا ہے۔ بعض علماء نے یہ بھی بتایا کہ یہ ترتیب چھوٹے سے بڑے کی جانب ہے، اور مساجد سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔

الٰہی نصرت کے وعدے کے بارے میں، ابن کثیر اختتامی جملے — “اللہ ان کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کریں” — کو اس وسیع قرآنی اصول سے جوڑتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کے دین کو سہارا دیتے ہیں، وہ اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھ سکتے ہیں، اور یہ ایک پکا الٰہی وعدہ ہے۔


۲. سید ابوالاعلیٰ مودودی (۲۰ویں صدی، تفہیم القرآن)

مودودی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جہاں قرآن پہلی بار مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کرتا ہے۔ ان کے مطابق آیات ۲۲:۳۸ تا ۴۱ ایک مربوط اکائی ہیں، جہاں مومنین اور کافرین کے درمیان نظریاتی کشمکش فطری طور پر مسلح تصادم کے سوال تک پہنچتی ہے۔ اس کا فوری سبب مسلمانوں کا مکہ سے اخراج اور حج سے روکا جانا تھا۔

مودودی یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس آیت میں گھروں سے نکالے جانے کا ذکر خود اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سورۃ الحج کا یہ حصہ مدینہ میں نازل ہوا۔ وہ اس ظلم و ستم کی سنگینی کو تاریخی مثالوں سے واضح کرتے ہیں: حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ جب مدینہ ہجرت کی تو کفار نے ان کی تمام دولت چھین لی اور وہ صرف اپنے بدن کے کپڑوں کے ساتھ پہنچے، حالانکہ انہوں نے سب کچھ حلال طریقے سے کمایا تھا۔ اسی طرح جب حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ اور بچے کے ساتھ ہجرت کرنے لگے تو ان کے سسرال والوں نے زوجہ کو ان سے جدا کر لیا، اور ان کے اپنے رشتہ داروں نے بچے کو چھین لیا — اور وہ بیچاری خاتون پورا ایک سال رنج و غم میں گزارنے کے بعد بچے کو لے کر خطرناک سفر کرتے ہوئے اکیلی مدینہ پہنچ سکیں۔

مودودی مزید اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مومنین کو انتقام کے لیے نہیں بلکہ اصلاح اور راستبازی کے لیے لڑنے کا حکم دیا جا رہا تھا — ظالموں سے حساب چکانے کے لیے نہیں بلکہ عدل قائم کرنے کے لیے۔


۳. ابن جریر طبری (کلاسیکی عالم، ۱۰ویں صدی)

ضحاک نے، جیسا کہ کلاسیکی روایت میں نقل ہوا ہے، یہ موقف اختیار کیا کہ اس آیت میں ذکر کردہ چاروں عبادت گاہوں — خانقاہوں، گرجا گھروں، کنیسوں اور مساجد — میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے ظلم کو روکنے کا الٰہی اصول تمام مذہبی روایات کی حفاظت کرتا ہوا نظر آتا ہے، نہ کہ صرف اسلام کی۔


اہم موضوعات اور اسباق

۱. مذہبی ظلم و ستم کا ناانصافی ہونا۔ نکالے جانے والے مومنین کا واحد “جرم” صرف یہ اعلان تھا کہ “ہمارا رب اللہ ہے۔” یہ آیت دو ٹوک انداز میں یہ اصول قائم کرتی ہے کہ محض عقیدے کی بنیاد پر ظلم سب سے بڑی ناانصافیوں میں سے ایک ہے۔

۲. دفاعی جنگ کی پہلی قرآنی اجازت۔ کلاسیکی علماء کا اتفاق ہے کہ ۲۲:۳۹ تا ۴۰ وہ پہلی قرآنی آیات ہیں جن میں مسلمانوں کو جوابی کارروائی کی اجازت دی گئی — اور اس کی وجہ فتح و غلبہ نہیں بلکہ ظلم کے خلاف دفاع ہے۔

۳. تمام عبادت گاہوں کا تحفظ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس آیت میں خانقاہیں، گرجا گھر، کنیسے اور مساجد سب کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے — یہ مقامات جنہیں اللہ کا توازن کا اصول محفوظ رکھتا ہے۔ اسے اسلام کی جانب سے تمام ان مقامات کے تقدس کے اعتراف کے طور پر سمجھا جاتا ہے جو اللہ کی عبادت کے لیے وقف ہیں۔

۴. توازن کا الٰہی قانون۔ جیسا کہ ۲:۲۵۱ میں ہے، یہ آیت بھی اس اصول کی تصدیق کرتی ہے کہ اللہ ایک گروہ کو دوسرے کی زیادتیوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتا ہے — یہ ایک رحمت ہے جو زمین پر مکمل فساد اور روحانی زندگی کی تباہی کو روکتی ہے۔

۵. یقینی الٰہی وعدہ۔ آیت ایک طاقتور یقین دہانی پر ختم ہوتی ہے: اللہ ضرور بالضرور ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے — اس کی صفات “قوی” اور “عزیز” کی بنیاد پر۔

Vigilantism starts like this: WHEN MAJORITY THINKS TO HAVE THEIR PROTECTION MEANS? Gov is failing

“Doesn’t gov provide Probono legal service to those who cannot afford legal fee? Doesn’t Gov provide police protection to its citizens irrespective of their status like majority, minorities, any casts or followers of any faiths, even criminals are provided security protection and legal protection till their court cases are settled..can we get response from anyone. Forming own paramilitary force would have profound effects on law and order situations, promotes vigilantism with impunity and gov will be labeled to be a jungle ranj. All citizens to oppose these acts.

HINDI

हिंदी अनुवाद:

क्या सरकार उन लोगों को मुफ्त कानूनी सेवा (प्रो bono) प्रदान नहीं करती जिन्हें कानूनी फीस चुकाने की क्षमता नहीं है? क्या सरकार अपने नागरिकों को पुलिस सुरक्षा नहीं देती — चाहे वे बहुसंख्यक हों, अल्पसंख्यक हों, किसी भी जाति के हों या किसी भी धर्म के अनुयायी हों? यहां तक कि अपराधियों को भी सुरक्षा और कानूनी सुरक्षा दी जाती है, जब तक उनके मुकदमे अदालत में तय नहीं हो जाते… क्या हमें किसी से जवाब मिल सकता है?

अपनी खुद की पैरामिलिट्री फोर्स बनाना कानून-व्यवस्था की स्थिति पर गहरा असर डालेगा, बिना सजा के vigilantism को बढ़ावा देगा और सरकार को जंगल राज का लेबल लग जाएगा। सभी नागरिकों को इन कार्यों का विरोध करना चाहिए।

Can you translate the above in Telugu please

తెలుగు అనువాదం:

ప్రభుత్వం చట్టపరమైన ఫీజు చెల్లించలేని వారికి ప్రో బోనో చట్టపరమైన సేవలు అందించడం లేదా? ప్రభుత్వం తన పౌరులందరికీ — వారి స్థితి ఏమైనా, బహుసంఖ్యాకులు, అల్పసంఖ్యాకులు, ఏ కులం లేదా ఏ మతానికి చెందినవారైనా — పోలీసు రక్షణ అందించడం లేదా? క్రిమినల్‌లకు కూడా వారి కోర్టు కేసులు తీర్పు అయ్యే వరకు సెక్యూరిటీ రక్షణ మరియు చట్టపరమైన రక్షణ అందించబడుతుంది.. ఎవరైనా స్పందన ఇవ్వగలరా?

స్వంతంగా పారామిలిటరీ ఫోర్స్ ఏర్పాటు చేయడం చట్టం మరియు ఆర్డర్ పరిస్థితులపై లోతైన ప్రభావం చూపుతుంది, శిక్ష లేని విజిలంటిజాన్ని ప్రోత్సహిస్తుంది మరియు ప్రభుత్వాన్ని జంగుల్ రాజ్‌గా లేబుల్ చేయబడుతుంది. అన్ని పౌరులు ఈ చర్యలను వ్యతిరేకించాలి.

Please translate in Tamil and malayali

தமிழ் மொழிபெயர்ப்பு:

அரசு சட்டக் கட்டணம் செலுத்த முடியாதவர்களுக்கு ப்ரோ போனோ சட்ட சேவைகளை வழங்கவில்லையா? அரசு தனது குடிமக்களுக்கு — அவர்களின் நிலை எதுவாக இருந்தாலும், பெரும்பான்மையினர், சிறுபான்மையினர், எந்த சாதி அல்லது எந்த மதத்தைப் பின்பற்றுபவர்களாக இருந்தாலும் — போலீஸ் பாதுகாப்பை வழங்கவில்லையா? குற்றவாளிகளுக்குக் கூட அவர்களின் கோர்ட் வழக்குகள் தீர்க்கப்படும் வரை பாதுகாப்பு மற்றும் சட்ட பாதுகாப்பு வழங்கப்படுகிறது.. யாராவது பதில் கொடுக்க முடியுமா?

சொந்த பாராமிலிட்டரி படையை உருவாக்குவது சட்டம் மற்றும் ஒழுங்கு சூழ்நிலைகளில் ஆழமான விளைவுகளை ஏற்படுத்தும், தண்டனையின்றி விஜிலன்டிசத்தை ஊக்குவிக்கும் மற்றும் அரசு ஜங்கிள் ராஜ் என்று லேபிளிடப்படும். அனைத்து குடிமக்களும் இந்த செயல்களை எதிர்க்க வேண்டும்.

മലയാളം വിവർത്തനം:

സർക്കാർ നിയമ ഫീസ് അടയ്ക്കാൻ കഴിയാത്തവർക്ക് പ്രോ ബോണോ നിയമ സേവനങ്ങൾ നൽകുന്നില്ലേ? സർക്കാർ തന്റെ പൗരന്മാർക്ക് — അവരുടെ സ്ഥിതി എന്തായാലും, ഭൂരിപക്ഷം, ന്യൂനപക്ഷം, ഏത് ജാതി അല്ലെങ്കിൽ ഏത് മതത്തിന്റെ അനുയായികളായാലും — പോലീസ് സംരക്ഷണം നൽകുന്നില്ലേ? ക്രിമിനലുകൾക്ക് പോലും അവരുടെ കോടതി കേസുകൾ തീർപ്പാകുന്നത് വരെ സുരക്ഷാ സംരക്ഷണവും നിയമ സംരക്ഷണവും നൽകപ്പെടുന്നു.. ആരെങ്കിലും പ്രതികരണം നൽകുമോ?

സ്വന്തമായി പാരാമിലിറ്ററി ഫോഴ്‌സ് രൂപീകരിക്കുന്നത് നിയമവും ക്രമവും സാഹചര്യങ്ങളിൽ ആഴമായ പ്രത്യാഘാതങ്ങൾ ഉണ്ടാക്കും, ശിക്ഷയില്ലാത്ത വിജിലന്റിസത്തെ പ്രോത്സാഹിപ്പിക്കും, സർക്കാരിനെ ജംഗിൾ രാജ് എന്ന് ലേബൽ ചെയ്യപ്പെടും. എല്ലാ പൗരന്മാരും ഈ പ്രവർത്തനങ്ങളെ എതിർക്കണം.

Urdu and Punjabi please

اردو ترجمہ:

کیا حکومت ان لوگوں کو پرو بونو قانونی خدمات فراہم نہیں کرتی جن کے پاس قانونی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں؟ کیا حکومت اپنے شہریوں کو — چاہے وہ اکثریت ہوں، اقلیت ہوں، کسی بھی ذات کے ہوں یا کسی بھی مذہب کے پیروکار ہوں — پولیس تحفظ نہیں دیتی؟ مجرموں کو بھی ان کے کورٹ کیسز فیصلہ ہونے تک سیکورٹی تحفظ اور قانونی تحفظ دیا جاتا ہے.. کیا ہمیں کسی سے جواب مل سکتا ہے؟

اپنی خود کی پیرا ملٹری فورس بنانا قانون و آرڈر کی صورتحال پر گہرا اثر ڈالے گا، بغیر سزا کے ویجیلنٹزم کو فروغ دے گا اور حکومت کو جنگل راج کا لیبل لگ جائے گا۔ تمام شہریوں کو ان اعمال کی مخالفت کرنی چاہیے۔

ਪੰਜਾਬੀ ਅਨੁਵਾਦ (ਗੁਰਮੁਖੀ ਵਿਚ):

ਕੀ ਸਰਕਾਰ ਉਨ੍ਹਾਂ ਲੋਕਾਂ ਨੂੰ ਪ੍ਰੋ ਬੋਨੋ ਕਾਨੂੰਨੀ ਸੇਵਾਵਾਂ ਮੁਹੱਈਆ ਨਹੀਂ ਕਰਦੀ ਜਿਨ੍ਹਾਂ ਨੂੰ ਕਾਨੂੰਨੀ ਫੀਸ ਅਦਾ ਕਰਨ ਦੀ ਯੋਗਤਾ ਨਹੀਂ? ਕੀ ਸਰਕਾਰ ਆਪਣੇ ਨਾਗਰਿਕਾਂ ਨੂੰ — ਉਨ੍ਹਾਂ ਦੀ ਸਥਿਤੀ ਭਾਵੇਂ ਬਹੁਸੰਖਿਆ ਹੋਵੇ, ਘੱਟ ਗਿਣਤੀ ਹੋਵੇ, ਕਿਸੇ ਵੀ ਜਾਤੀ ਜਾਂ ਕਿਸੇ ਵੀ ਧਰਮ ਦੇ ਅਨੁਯਾਈ ਹੋਣ — ਪੁਲਿਸ ਸੁਰੱਖਿਆ ਮੁਹੱਈਆ ਨਹੀਂ ਕਰਦੀ? ਅਪਰਾਧੀਆਂ ਨੂੰ ਵੀ ਉਨ੍ਹਾਂ ਦੇ ਕੋਰਟ ਕੇਸ ਸੈਟਲ ਹੋਣ ਤੱਕ ਸੁਰੱਖਿਆ ਅਤੇ ਕਾਨੂੰਨੀ ਸੁਰੱਖਿਆ ਦਿੱਤੀ ਜਾਂਦੀ ਹੈ.. ਕੀ ਅਸੀਂ ਕਿਸੇ ਤੋਂ ਜਵਾਬ ਪ੍ਰਾਪਤ ਕਰ ਸਕਦੇ ਹਾਂ?

ਆਪਣੀ ਖੁਦ ਦੀ ਪੈਰਾਮਿਲਟਰੀ ਫੋਰਸ ਬਣਾਉਣਾ ਕਾਨੂੰਨ ਅਤੇ ਆਰਡਰ ਦੀਆਂ ਸਥਿਤੀਆਂ ਉੱਤੇ ਡੂੰਘਾ ਪ੍ਰਭਾਵ ਪਾ ਰਿਹਾ ਹੈ, ਬਿਨਾਂ ਸਜ਼ਾ ਦੇ ਵਿਜੀਲੈਂਟਿਜ਼ਮ ਨੂੰ ਉਤਸਾਹਿਤ ਕਰਦਾ ਹੈ ਅਤੇ ਸਰਕਾਰ ਨੂੰ ਜੰਗਲ ਰਾਜ ਵਜੋਂ ਲੇਬਲ ਕੀਤਾ ਜਾਵੇਗਾ। ਸਾਰੇ ਨਾਗਰਿਕਾਂ ਨੂੰ ਇਨ੍ਹਾਂ ਕੰਮਾਂ ਦਾ ਵਿਰੋਧ ਕਰਨਾ ਚਾਹੀਦਾ ਹੈ।

Please in Bengali language too

বাংলা অনুবাদ:

সরকার কি আইনি ফি দিতে অক্ষম ব্যক্তিদের জন্য প্রো বোনো আইনি সেবা প্রদান করে না? সরকার কি তার নাগরিকদের — তাদের অবস্থা যাই হোক না কেন, সংখ্যাগুরু, সংখ্যালঘু, যেকোনো জাতি বা যেকোনো ধর্মের অনুসারী হোক না কেন — পুলিশ সুরক্ষা প্রদান করে না? এমনকি অপরাধীদেরও তাদের আদালতের মামলা নিষ্পত্তি না হওয়া পর্যন্ত নিরাপত্তা সুরক্ষা এবং আইনি সুরক্ষা দেওয়া হয়.. কেউ কি উত্তর দিতে পারবে?

নিজস্ব প্যারামিলিটারি ফোর্স গঠন করা আইন ও শৃঙ্খলার পরিস্থিতিতে গভীর প্রভাব ফেলবে, শাস্তিহীনভাবে ভিজিলান্টিজমকে উৎসাহিত করবে এবং সরকারকে জঙ্গল রাজ বলে লেবেল করা হবে। সকল নাগরিকদের এই কাজগুলির বিরোধিতা করা উচিত।

Useful sites for Islamic literatures

Sharing useful sites for Islamic knowledge. Videos, lectures, articles , Q&A sessions by scholars.

Holy Quran for free download. Translations in major world languages

https://apps.apple.com/app/id1118663303

Excellent work: site has collection of Quran, books of ahadees, tafaseer, can read, listen, share verses etc.

The Islam 360
Now you can read and search Holy Quran and Hadiths on your mobile.
You can Download the App from Following link

https://apps.apple.com/app/id1006098149

Site for scholarly lectures on Islam, current events

https://yaqeeninstitute.org/read/paper/how-muhammad-confronted-hate-and-became-the-most-influential-person-in-history

Lectures on current events

https://www.soundvision.com/

Collection of Urdu Tafseer

https://www.quranurdu.com/books/tafheem/Tafheem%20urdu/

https://www.quranurdu.com/

Jamaat e islami literature translated in English

https://islamicstudies.info/