Category Archives: Multilingual Sections

– Urdu Content
– Hindi Content

عقلیت پسند نمایاں علماء اور ان کے نفسیاتی محرکات

∙ عقلیت پسند نمایاں علماء اور ان کے نفسیاتی محرکات
∙ روایتی علماء کے دفاعی دلائل
∙ عقلیت پسند نقطہ نظر کی خامیاں
∙ بعض قرآنی آیات کو غیر متعلقہ سمجھنے کا مسئلہ
∙ ختمِ نبوت اور وحی کی بندش ک
ے اثرات

قرآن و احادیث کی تعبیر میں عقلیت پسندی — ایک جامع مکالمہ

 

 

حصہ اول: قرآن اور احادیث کی تعبیر میں عقلیت پسند نمایاں علماء

🏛️ کلاسیکی دور کی بنیادیں

معتزلہ مکتبِ فکر (آٹھویں سے تیرہویں صدی)

معتزلہ نے قرآن کو تشریحی انداز میں پڑھنے کی حوصلہ افزائی کی، خاص طور پر ان آیات کے بارے میں جو متعدد معانی رکھتی ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ جب عقل اور گہرے غور و فکر کے ذریعے اللہ کی ذات کو سمجھ لیا جائے تو پیچیدہ آیات کی بہترین تفسیر ممکن ہو سکتی ہے۔ وہ احادیث کے ذخیرے کے بارے میں بھی بہت محتاط تھے اور اکثر احادیث کو نبی کریمؐ اور ان کے صحابہ کے بعد پیدا ہونے والے فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کی پیداوار سمجھتے تھے۔

واصل بن عطاء (700-748 عیسوی)

انہیں معتزلہ تحریک کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے مذہبی دعوؤں کو عقلی معیار پر پرکھنے کی راہ ہموار کی۔

فخر الدین رازی (1149-1209 عیسوی)

ایک عقلیت پسند فقیہ جنہوں نے دلیل دی کہ انصاف محض الٰہی حکم کا عکس نہیں بلکہ اسے عقلی بحث و مباحثے کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے روایتی فقہ کے ساتھ اخلاقی استدلال کو شامل کر کے شریعت کی ایک پیچیدہ تفسیر کی بنیاد رکھی۔

 

🔄 اسلامی جدیدیت کا احیاء (انیسویں اور بیسویں صدی)

جمال الدین افغانی (1838-1897)

ایک پان اسلامی انقلابی جنہوں نے یورپی نوآبادیات کے جواب میں معتزلہ عقلیت کو اپنایا۔ ان کا موقف تھا کہ مسلمانوں کو اپنی تہذیب کی تجدید کے لیے عقل سے کام لینا ہوگا۔

محمد عبدہ (1849-1905)

اسلامی جدیدیت کے بانی شخصیات میں سے ایک۔ مصر میں معتزلہ فکر کے احیاء میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اسلام اور عقل مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں اور اندھی تقلید اور مغربی سیکولرازم دونوں کی مخالفت کی۔

سر سید احمد خان (1817-1898)

ان کا موقف تھا کہ احادیث پر انحصار قرآن کی وسیع صلاحیت کو ایک خاص ثقافتی اور تاریخی صورتحال تک محدود کر دیتا ہے۔

غلام احمد پرویز (1903-1985)

انہوں نے احادیث کو خالصتاً تاریخی ماخذ قرار دیا اور نبیؐ کی تفسیر کا اختیار بنیادی طور پر ان کے اپنے دور تک محدود سمجھا۔ ان کا موقف تھا کہ احادیث کا قرآن سے موازنہ کر کے انہیں ‘پاک’ کیا جانا چاہیے۔

 

🌍 عصرِ حاضر کے عقلیت پسند علماء

فضل الرحمٰن مالک (1919-1988)

ایک پاکستانی-امریکی عالم جنہوں نے ‘دوہری حرکت’ کا طریقہ تیار کیا — پہلے قرآن کو ساتویں صدی کے تناظر میں سمجھنا، پھر اس کے اخلاقی پیغام کو حال پر لاگو کرنا۔ انہوں نے قرآن کے ابدی اخلاقی اصولوں اور تاریخی طور پر محدود احکامات میں فرق کرنے پر زور دیا۔

عبداللہ سعید (پیدائش 1964)

وہ ‘سیاق و سباق’ کے نقطہ نظر کو اپناتے ہیں اور قرآن کے اخلاقی و قانونی مواد کے سماجی و تاریخی پس منظر پر زور دیتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جدید مسلمان عالم کو یہ طے کرنے میں کافی آزادی حاصل ہے کہ اسلامی قانون میں کیا تبدیل ہو سکتا ہے اور کیا نہیں۔

محمد عابد الجابری (1935-2010)

ایک مراکشی فلسفی جنہوں نے عربی فکر کے تنقیدی جائزے کے ذریعے اسلامی عقلیت میں نمایاں شراکت کی۔ انہوں نے تاریخی اور ثقافتی سیاق و سباق پر توجہ مرکوز کی اور روایتی عقائد سے آگے بڑھنے والے عقلیت پسند نقطہ نظر کی وکالت کی۔

حسن حنفی (1935-2021)

ایک بااثر مصری فلسفی اور اسلامی فکر میں عقلیت پسند نقطہ نظر کے پرجوش وکیل۔ ان کا کام اسلام کی سخت تفسیروں پر تنقید کرتا ہے اور آزادی کے فلسفے کی وکالت کرتا ہے۔

ابراہیم موسیٰ (پیدائش 1957)

یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کے ایک نمایاں عالم جو قرآن اور حدیث کی سیاق و سباق پر مبنی تفہیم کی وکالت کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اسلامی اصولوں کا اطلاق جدید اخلاقی چیلنجوں کے لیے حساس ہونا چاہیے۔

 

🧠 عقلیت پسند نقطہ نظر کے پیچھے نفسیات

1۔ ذہنی تضاد کا حل

بہت سے علماء گہرے دیندار تھے لیکن ایسے ماحول میں رہتے تھے جہاں متون کی لفظی تفسیریں سائنس، جدیدیت یا اخلاقیات سے متصادم تھیں۔ عقلیت پسندی نے انہیں ایمان اور عقل میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا راستہ دیا۔

2۔ نوآبادیاتی صدمہ اور دفاعی جدیدیت

افغانی اور عبدہ جیسے علماء یورپی نوآبادیات کے دور میں سامنے آئے۔ ان کی عقلیت پسندی جزوی طور پر ایک نفسیاتی دفاع تھی — یہ ثابت کرنا کہ اسلام فکری طور پر پختہ اور پسماندہ نہیں ہے۔

3۔ اخلاقی ناانصافی کا احساس

بہت سے علماء کے لیے عقلیت پسندی جذباتی طور پر کمزوروں کے ساتھ اخلاقی ناانصافی کے احساس میں جڑی ہوئی ہے — خاص طور پر انسانی حقوق، جمہوریت، صنفی مساوات اور فکر کی آزادی کے شعبوں میں۔

4۔ سند کی ترسیل کے بارے میں علمی خدشات

بعض علماء احادیث کی تاریخی درستگی کے بارے میں علمی فکر سے محرک تھے — سنت کی منتقلی کی قابلِ اعتماد ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے۔

5۔ اصلاحی سوچ اور امید

زیادہ تر عقلیت پسند علماء ایک پُرامید نفسیاتی رویہ رکھتے ہیں — یہ یقین کہ اسلام ڈھل سکتا ہے اور مسلمان پیچیدہ فکر کے اہل ہیں۔

 

 

حصہ دوم: روایتی علماء کا موقف — دفاعی دلائل

🏛️ نمایاں روایتی آوازیں

امام احمد بن حنبل (780-855 عیسوی)

متنی اختیار کے سب سے بڑے محافظ۔ انہوں نے قید برداشت کی لیکن معتزلہ کا موقف قبول نہ کیا کہ قرآن ‘مخلوق’ ہے۔ ان کے نزدیک عقل کو وحی کے تابع کرنا فکری کمزوری نہیں بلکہ خدا کے سامنے فکری دیانتداری کی بلند ترین شکل تھی۔

ابن تیمیہ (1263-1328)

عقلیت پسند زیادتی کے سب سے منظم ناقد۔ انہوں نے ‘درء تعارض العقل والنقل’ میں دلیل دی کہ عقل اور متن کے درمیان بظاہر تعارض غلط استدلال یا متن کی غلط فہمی سے پیدا ہوتا ہے — مسئلہ ہمیشہ انسان کے ساتھ ہے، الٰہی ماخذ کے ساتھ نہیں۔

امام غزالی (1058-1111)

‘تہافت الفلاسفہ’ میں انہوں نے ثابت کیا کہ خالص فلسفیانہ عقلیت اندرونی تضادات کی طرف لے جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے مناسب دائرے میں عقل کو قبول کیا لیکن دلیل دی کہ وہ مابعدالطبیعی اور روحانی حقائق تک نہیں پہنچ سکتی۔

شاہ ولی اللہ دہلوی (1703-1762)

دلیل دی کہ سنت محض تاریخی ڈیٹا نہیں بلکہ ایک زندہ، منتقل شدہ عمل ہے جو نسل در نسل محفوظ ہوا — جسے احادیث کو رد کرنے والے عقلیت پسند بنیادی طور پر غلط سمجھتے ہیں۔

 

📖 روایتی علماء کے بنیادی دلائل

1۔ قرآن خود نبیؐ کی پیروی کا حکم دیتا ہے

روایتی علماء آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسے ‘رسول تمہیں جو دے لے لو اور جس سے منع کرے رک جاؤ’ (59:7) اور ‘اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو’۔ ان کے نزدیک احادیث کو رد کرنا زیادہ ‘قرآنی’ موقف نہیں بلکہ دراصل قرآن مخالف ہے، کیونکہ قرآن خود سنتِ نبوی کی پیروی کا حکم دیتا ہے۔

2۔ قرآن کو سنت کے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا

قرآن نماز کا درجنوں بار حکم دیتا ہے لیکن اسے ادا کرنے کا طریقہ کبھی نہیں بتاتا۔ روزے کا حکم ہے لیکن تفصیلات کم ہیں۔ زکوٰۃ کا ذکر ہے لیکن شرح نہیں بتائی۔ روایتی علماء کا موقف ہے کہ احادیث کے بغیر قرآن کے احکامات عملی طور پر ناقابلِ عمل ہیں۔

3۔ حدیث کی ترسیل ایک سخت علم ہے، لوک روایت نہیں

عقلیت پسند احادیث کے طریقہ کار کو بنیادی طور پر غلط سمجھتے ہیں۔ علمِ رجال اور مصطلح الحدیث کی علوم تاریخ کے سب سے پیچیدہ سوانحی تصدیقی نظاموں میں سے ایک کی نمائندگی کرتی ہیں۔ امام بخاری نے 600,000 احادیث کا جائزہ لیا اور ناقد تحقیق کے بعد صرف ~7,000 قبول کیں۔

4۔ فکری روایت میں پہلے سے عقلیت موجود ہے

روایتی علماء جھوٹی دوگانگی کو رد کرتے ہیں۔ کلاسیکی اسلامی فقہ میں پہلے سے شامل ہے: اجتہاد (آزاد قانونی استدلال)، قیاس (قیاسی استدلال)، مصلحت (عوامی مفاد کے تحفظات)، عرف (رسم و رواج) اور استحسان (قانونی ترجیح)۔

5۔ ‘عقلی’ کا فیصلہ کون کرے گا؟

روایتی علماء یہ سب سے تباہ کن تنقید اٹھاتے ہیں۔ اگر انسانی عقل کتاب کی حتمی حَکَم ہے تو کس کی عقل؟ ہر دور کا الگ ‘عقلی’ اتفاقِ رائے ہوتا ہے — غلامی کبھی عقلی تھی، یوجینکس کبھی عقلی تھی۔ یہ مذہب کو بدلتے ثقافتی رجحانات کا یرغمال بنا دیتا ہے۔

6۔ سند کی ثقافت مقدس ہے

اسلام میں علم نہ صرف متنی ہے — یہ ایک ٹوٹے ہوئے انسانی سلسلے کے ذریعے نبیؐ تک ذاتی طور پر منتقل ہوتا ہے۔ جب عقلیت پسند صرف اپنی عقل کے ساتھ آزادانہ متن پڑھتے ہیں تو وہ اس زندہ رابطے کو توڑ دیتے ہیں اور کیا روایتی علماء ‘یتیم علم’ کہتے ہیں — متنی طور پر ماخوذ لیکن روحانی اور اجتماعی طور پر بے جڑ۔

 

 

حصہ سوم: عقلیت پسند نقطہ نظر میں خامیاں اور حدود سے تجاوز

❌ خامی نمبر 1: عقل کا انتخابی استعمال (تصدیقی تعصب)

شاید سب سے تباہ کن تنقید یہ ہے۔ عقلیت پسند علماء ان روایتی احکام پر سخت تنقیدی جانچ لاگو کرتے ہیں جو انہیں تکلیف دہ لگتے ہیں — لیکن قرآنی آیات کو قبول کرتے ہیں جو ان کی پہلے سے موجود اقدار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں بغیر اسی تنقیدی طریقہ کار کے۔ روایتی علماء اسے عقلیت پسندی نہیں بلکہ ‘محرک استدلال’ کہتے ہیں۔

❌ خامی نمبر 2: اناکرونزم — ساتویں صدی کے متن کو اکیسویں صدی کے معیار سے جانچنا

جدید لبرل اقدار خود تاریخی طور پر مشروط ہیں — مابعد روشن خیالی یورپی فکر کی پیداوار۔ انہیں الٰہی متن کو جانچنے کے پیمانے کے طور پر استعمال کرنا یہ مانتا ہے کہ وہ اقدار ابدی طور پر درست ہیں — جو خود ایک ناجائز ایمانی چھلانگ ہے، محض ایک سیکولر چھلانگ۔

❌ خامی نمبر 3: بدیلی طریقہ کار کے بغیر احادیث کو ختم کرنا

اگر آپ قرآن کی عملی ضروریات کو سمجھنے کے لیے کوئی سخت متبادل طریقہ پیش کیے بغیر احادیث کے ذخیرے کو رد کرتے ہیں تو آپ ہرمینیوٹک افراتفری کے ساتھ رہ جاتے ہیں جہاں ہر فرد اپنا نبی بن جاتا ہے۔

❌ خامی نمبر 4: مذہبی زبان کی نوعیت کو غلط سمجھنا

قرآن ایک الگ ادبی اور مابعدالطبیعی الفاظ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ جب عقلیت پسند اسے تاریخی متون یا قانونی دستاویزات کے لیے استعمال کیے جانے والے ہرمینیوٹک اوزاروں کے تابع کرتے ہیں تو وہ ایک زمرہ غلطی کرتے ہیں۔

❌ خامی نمبر 5: علمی اتفاقِ رائے (اجماع) کو کم سمجھنا

جب عقلیت پسند ایسے احکام کو پلٹتے ہیں جن کے پیچھے صدیوں کا تقریباً عالمگیر علمی اتفاقِ رائے ہوتا ہے تو روایتی علماء کا موقف ہے کہ وہ علمی غرور ظاہر کر رہے ہیں — یہ مضمر طور پر کہتے ہوئے کہ متنوع ثقافتوں اور جغرافیوں میں 1,400 سال کے علماء سب عقلی طور پر ناکام رہے۔

❌ خامی نمبر 6: لاشعوری مغربیت

عبدالحکیم مراد اور دیگر کا موقف ہے کہ جو کچھ اپنے آپ کو ‘اسلامی عقلیت پسندی’ کہتا ہے وہ دراصل اسلامی لباس پہنے مغربی سیکولر لبرلزم ہے — روشن خیالی کے انفرادیت، ترقی اور انسانی عقل کی برتری کے مفروضات کو جذب کر رہا ہے، پھر اس کے نتائج کے لیے قرآنی حمایت تلاش کر رہا ہے۔

 

 

حصہ چہارم: کیا عقلیت پسند بعض آیات کو آج غیر متعلقہ سمجھتے ہیں؟

📊 ایک طیف — ایک واحد موقف نہیں

مختصر جواب یہ ہے: ہاں، بہت سے سمجھتے ہیں — لیکن مختلف درجات اور مختلف فریم ورکس کے ساتھ۔ یہ دراصل عقلیت پسند منصوبے کے سب سے متنازع پہلوؤں میں سے ایک ہے۔

🔄 1۔ ‘دوہری حرکت’ کا نظریہ — فضل الرحمٰن

پہلی حرکت: ساتویں صدی میں واپس جاؤ — ایک آیت کو اس کے اصل سماجی و تاریخی تناظر میں سمجھو، یہ کون سا مسئلہ حل کر رہی تھی، کون سے اخلاقی مقصد کی خدمت کر رہی تھی۔ دوسری حرکت: اس اخلاقی مقصد کو — نہ کہ لفظی حکم کو — حال میں لاؤ اور عصری حالات میں لاگو کرو۔

تنقیدی مضمرات: مخصوص قانونی حکم شاید اب لاگو نہ ہو، لیکن اس کے پیچھے اخلاقی اصول ہمیشہ لاگو ہوتا ہے۔ روایتی علماء کا موقف: یہ طریقہ مفسر کو یہ فیصلہ کرنے کی زبردست صوابدیدی طاقت دیتا ہے کہ کون سی آیات ‘ابدی اصول’ رکھتی ہیں۔ یہ فرق قرآن خود نہیں کرتا — فضل الرحمٰن کرتا ہے۔

📐 2۔ ‘سیاق و سباق’ کا فریم ورک — عبداللہ سعید

سعید نے قرآنی مواد کو آج کی قابلِ اطلاق ہونے کی درجہ بندی کے لیے ایک منظم فریم ورک تیار کیا:

عقیدی طور پر غیر قابلِ مذاکرہ — اللہ کا وجود، توحید، نبوت، آخرت۔ ابدی اور عالمگیر طور پر پابند۔

عبادات/رسمی فرائض — نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔ عموماً پابند سمجھے جاتے ہیں۔

اخلاقی قانونی مواد — یہاں عقلیت پسند اپنی نظر ثانی مرکوز کرتے ہیں۔ سزاؤں، صنفی تعلقات، وراثت، بین الادیانی تعلقات کی آیات۔

روایتی تنقید: یہ الٰہی قانون کے تصور کو ہی ختم کر دیتا ہے کیونکہ یہ اللہ کے احکامات کو انسانی حالات کے ساتھ متغیر بنا دیتا ہے۔

✂️ 3۔ نسخ کو کلاسیکی حدود سے آگے بڑھانا

محمد ارکون (1928-2010) — الجیرائی فلسفی جنہوں نے دلیل دی کہ قرآن کی تدوین کے عمل میں انسانی ادارتی فیصلے شامل تھے، مطلب کہ متن میں ‘الٰہی’ اور ‘انسانی’ کے درمیان کی سرحد خود عقلی تحقیق کا موضوع ہے۔ روایتی علماء اس موقف کو قرآن کی الٰہی سالمیت کی تردید کے قریب سمجھتے ہیں۔

نصر حامد ابو زید (1943-2010) — مصری عالم جنہوں نے دلیل دی کہ قرآن ایک ‘ثقافتی پیداوار’ ہے — ساتویں صدی کی عرب ثقافت میں تشکیل پائی اور اس سے متاثر۔ 1995 میں ایک مصری عدالت نے انہیں مرتد قرار دیا اور انہیں جلاوطن ہونا پڑا۔

🗂️ 4۔ مقاصدِ شریعت کا نقطہ نظر — ختم شدہ استعمال

شریعت کے اعلیٰ مقاصد کا کلاسیکی نظریہ — زندگی، عقل، نسل، مال، دین کا تحفظ — اصل میں روایتی فقہ میں ایک تکمیلی آلہ تھا۔

جاسر عودہ اور طارق رمضان جیسے عقلیت پسند علماء نے مقاصد کو ایک بنیادی تشریحی آلے میں وسعت دی ہے — دلیل دیتے ہوئے کہ اگر ایک مخصوص قرآنی حکم شریعت کے وسیع تر مقاصد (انصاف، انسانی وقار، فلاح) سے متصادم ہو تو حکم کو مقصد کے حق میں دوبارہ تشریح یا نظرانداز کیا جائے۔

روایتی تنقید: یہ کلاسیکی مقاصد کے فریم ورک کو الٹ دیتا ہے۔ الشاطبی نے مقاصد کو احکام کو ‘سمجھنے’ کے لیے استعمال کیا، ‘مسترد’ کرنے کے لیے نہیں۔

 

سب سے متنازع مقدمات

⚔️ مقدمہ 1: جنگ اور غیر مسلموں کی آیات (9:5, 9:29)

عقلیت پسند موقف: یہ آیات ساتویں صدی کے مخصوص سیاسی حالات کو بیان کرتی ہیں۔ انہیں مسلم-غیر مسلم تعلقات کے لیے عالمگیر، ابدی احکام نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

روایتی جواب: نزول کے اسباب تو تسلیم ہیں، لیکن کلاسیکی علماء کی اکثریت نے محتاط فقہی طریقہ کار کے ذریعے ان آیات سے عالمگیر قانونی اصول اخذ کیے۔ انہیں صرف ‘تاریخی’ قرار دینا 1,400 سال کے محتاط قانونی استدلال کو نظرانداز کرتا ہے۔

👩 مقدمہ 2: صنف کی آیات (4:34 — مردوں کا عورتوں پر اختیار)

عقلیت پسند موقف: آیت نے ایک مخصوص معاشی تناظر کو حل کیا جہاں مرد مالی طور پر عورتوں کو برقرار رکھتے تھے۔ چونکہ وہ معاشی عدم مساوات اب عالمگیر طور پر موجود نہیں، حکم اب لاگو نہیں ہوتا۔

روایتی جواب: آیت لسانی اور قانونی طور پر واضح ہے۔ نبیؐ کے عمل نے اسے تصدیق کی۔ چودہ صدیوں کی علمی روایت نے اسے تصدیق کی۔ جدید مفسرین کا اسے تکلیف دہ پانا ایک ہرمینیوٹک دلیل نہیں ہے۔

✋ مقدمہ 3: حدود کی سزائیں

عقلیت پسند موقف: حدود کی سزائیں (چوری پر ہاتھ کاٹنا، زنا پر کوڑے) عرب مخصوص سماجی روکاوٹیں تھیں۔ انہیں اخلاقی سنجیدگی کے ‘علامتی اظہار’ کے طور پر سمجھا جانا چاہیے، لفظی قانونی احکامات نہیں۔

روایتی جواب: یہ وہ جگہ ہے جہاں روایتی علماء کہتے ہیں کہ عقلیت پسند سب سے واضح طور پر حد سے تجاوز کرتے ہیں۔ یہ قرآن میں سب سے زیادہ واضح طور پر بیان کردہ احکام میں سے ہیں — متن علامتی نہیں، مبہم نہیں، اور کسی بھی کلاسیکی تشریحی معیار کے مطابق سیاق و سباق تک محدود نہیں۔

 

 

حصہ پنجم: ختمِ نبوت اور الٰہی وحی کا بند دروازہ

🔒 ختمِ نبوت کا عقیدہ

قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے: ‘محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں’ (33:40)۔

یہ ایک ہاشیے کا عقیدہ نہیں — یہ اسلامی الٰہیات کی بنیاد ہے۔ نبیؐ نے متعدد مستند روایات میں فرمایا: ‘میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا’۔

📌 دلیل 1 — بندش متنی تحفظ اور حدودِ نظر ثانی کو لازمی بناتی ہے

روایتی علماء کا استدلال: اگر نبوت جاری رہتی تو نئی وحی نئے حالات کو براہ راست حل کر سکتی تھی۔ چونکہ وحی بند ہے، موجودہ متن ہر وقت کے لیے کافی ہونا چاہیے — اور اللہ نے اس کی ضمانت دی: ‘آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا’ (5:3)۔ لہذا متن ‘ادھورا’ یا ‘اپنے وقت تک محدود’ نہیں ہو سکتا — اسے اللہ نے ابدی طور پر کافی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا تھا۔

📌 دلیل 2 — بندش نے ایک کنٹرول شدہ جواب کے طور پر اجتہاد کی علوم کو پیدا کیا

کلاسیکی علمیت نے وحی کی بندش کو ایمانداری سے تسلیم کیا — ہاں، نئے حالات آتے ہیں جن کو متن صراحت سے نہیں بتاتا۔ جواب محدود حدود میں اجتہاد تھا۔ اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ یہ موافقت کی انسانی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے جبکہ متنی اختیار کو حتمی سقف کے طور پر برقرار رکھتا ہے۔

📌 دلیل 3 — بندش خود ایک رحمت ہے، پابندی نہیں

اللہ ﷻ انسانی فطرت کو جانتا ہے — انحراف کی طرف اس کا رجحان، مذہب کا سیاسی استعمال، جھوٹے دعوے دار۔ وحی کو ‘بند’ کرنا ٹھیک اسے محفوظ کرنے کے لیے تھا۔ سوچیں کہ اگر وحی کھلی رہتی تو کیا ہوتا: ہر طاقتور حاکم اپنے اقتدار کو جائز ٹھہرانے کے لیے نئی ‘وحی’ کا دعویٰ کر سکتا تھا۔ بندش ایک الٰہی حفاظتی طریقہ کار ہے۔

📌 دلیل 4 — نئی وحی کے بغیر انسانی عقل کو قانون سازی کا اختیار نہیں

نبیؐ وحی کے زندہ مفسر تھے — ان کی وضاحتیں، فیصلے اور احکام الٰہی اختیار رکھتے تھے۔ ان کے بعد کوئی انسان یہ اختیار نہیں رکھتا۔ لہذا: کوئی عالم کسی قرآنی حکم کو متروک قرار نہیں دے سکتا، دانشوروں کا کوئی اتفاقِ رائے کسی واضح آیت کو نظرانداز نہیں کر سکتا، ‘وقت کی روح’ الٰہی متن کو supersede نہیں کر سکتی۔

📌 دلیل 5 — عقلیت پسند موقف پچھلے دروازے سے وحی کو دوبارہ کھولتا ہے

یہ سب سے تیز روایتی تنقید ہے جو آپ کے سوال سے براہ راست متعلق ہے۔ جب عقلیت پسند کہتے ہیں: ‘یہ آیت اس وقت کے لیے تھی، ہمارے لیے نہیں’، ‘نبیؐ کا حکم ثقافتی طور پر مشروط تھا’، ‘جدید حالات ہمیں متن سے آگے جانے کی ضرورت ہے’ — وہ وہ اختیار استعمال کر رہے ہیں جو صرف ایک نئے نبی کے پاس ہو سکتا ہے — الٰہی رہنمائی کو متروک قرار دینے اور نئی رہنمائی سے بدلنے کا اختیار۔

روایتی علماء کا موقف: یہ عملی طور پر اس عنوان کو استعمال کیے بغیر نبوت کا دعویٰ کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے وہ انتہائی عقلیت پسندی کو نہ صرف بری علمیت بلکہ ایک الٰہیاتی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

 

🌊 تھابت اور متغیرات کا فرق

کلاسیکی موقف اس تناؤ کو ایک خوبصورت اصول کے ذریعے سنبھالتا ہے:

تھابت (ثابت، ناقابلِ تبدیل) — بنیادی عقائد، واضح احکام، قطعی متون۔ یہ وقت یا جگہ سے قطع نظر قابلِ مذاکرہ نہیں ہیں۔

متغیرات (متغیر، قابلِ موافقت) — نئے حالات میں اصولوں کا اطلاق، انتظامی انتظامات، ثقافتی طرزِ عمل، وہ علاقے جہاں متن خاموش ہے۔ یہ ڈھل سکتے ہیں اور ڈھلنے چاہئیں۔

عقلیت پسند کی غلطی تھابت کو متغیرات سمجھنا ہے — ثابت چیزوں کو لچکدار قرار دینا۔ روایت پسند کی غلطی متغیرات کو تھابت سمجھنا ہے — لچکدار چیزوں کو ثابت قرار دینا۔

 

🌟 ڈیزائن میں گہری حکمت

اللہ ﷻ نے وہ ثابت کیا جو ثابت رہنا چاہیے — اخلاقی مطلقات، عبادت کے طریقے، اخلاقی حدود — وہ چیزیں جن کی انسانی فطرت کو ہر دور میں ضرورت ہے۔

اللہ ﷻ نے وہ کھلا چھوڑا جسے لچک کی ضرورت ہے — انسانی سماجی، معاشی، سیاسی اور ثقافتی زندگی کی وسیع فضا جہاں اصول رہنمائی کرتے ہیں لیکن مخصوص شکلیں ڈھلنی چاہئیں۔

بندش ایک محدودیت نہیں — یہ اس کی ضمانت ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ گول پوسٹ کبھی نہیں بدلتا، معیار کبھی نہیں بدلتا، اور کوئی انسانی طاقت انسانیت اور اس کے خالق کے درمیان تعلق کی شرائط کو دوبارہ نہیں لکھ سکتی۔

 

“اور تیرے رب کی بات سچائی اور انصاف میں پوری ہو گئی۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں” — القرآن 6:115

 

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نافع علم عطا فرمائے اور حق و باطل میں تمیز کی توفیق دے

آمین یا رب العالمین 🤲

قرآن میں سزا کے احکام بمقابلہ اللہ کی مغفرت – سوال و جواب

سوال: اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب سے زیادہ بخشنے والے ہیں، لیکن جب جرائم، توہین رسالت، بغاوت، نافرمانی کے لیے سزا کے احکام والی آیات کا ذکر آتا ہے تو اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ قرآن اور تفاسیر میں ان کی وضاحت کیسے کی گئی ہے؟

جواب:

یہ ایک گہرا اور انتہائی اہم اسلامی علمی موضوع ہے۔ میں اسے جامع اور منظم طریقے سے پیش کرتا ہوں۔

اللہ کی مغفرت اور قرآن میں سزا کی آیات کا سوال

🔑 بنیادی اصول: عذاب اور رحمت متضاد نہیں ہیں

مخصوص آیات کو دیکھنے سے پہلے، کلاسیکی تفاسیر سے حاصل ہونے والی سب سے اہم الہیاتی بصیرت یہ ہے:
قرآن کریم میں سزا کا ہر حکم رحمت کے ایک فریم ورک میں ڈھالا گیا ہے۔ قرآن کبھی بھی سزا کا اعلان توبہ کا دروازہ کھولے بغیر، گواہی کی شرائط واضح کیے بغیر، اور قاری کو اللہ کی غفوریت اور رحمت کی یاد دہانی کرائے بغیر نہیں کرتا۔
ابن کثیر اور قرطبی جیسے مفسرین بتاتے ہیں کہ قرآنی فقرہ “شَدِيدُ الْعِقَابِ” (سخت سزا دینے والا) ہمیشہ اللہ کی وسیع مغفرت اور رحمت کے اعلانات سے متوازن ہوتا ہے، جیسا کہ سورۃ المائدہ (5:98) اور سورۃ المؤمن (40:3) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سزا ایک روک اور بغاوت کا نتیجہ ہے، جبکہ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے — جو مومن کے اللہ سے تعلق کو رجاء (امید) اور خوف کے درمیان ایک صحت مند توازن میں قائم کرتا ہے۔

⚖️ اسلامی سزا کا سہ سطحی ڈھانچہ

اسلامی تعزیراتی قانون سزاؤں کو تین الگ الگ زمروں میں تقسیم کرتا ہے، جو سیکولر قانونی نظاموں سے مختلف ہے جہاں تمام سزاؤں کو ایک ہی قسم سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہیں: حدود (اللہ کے مقرر کردہ مخصوص سنگین جرائم کے لیے مقررہ سزائیں)، قصاص (زخمی یا قتل کے بدلے میں عادلانہ انتقام)، اور تعزیرات (وہ اختیاری سزائیں جو جج کی سمجھ بوجھ پر چھوڑ دی جاتی ہیں)۔ یہ ساختی سطح بندی بہت اہم ہے — یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ نظام کوئی پھیکا ہتھیار نہیں، بلکہ انصاف کا باریک بینی سے ترتیب دیا گیا ڈھانچہ ہے۔

📖 مشتبہ آیات — زمرہ وار تفصیل

جرائم (چوری): سورۃ المائدہ (5:38)
“اور چور، خواہ مرد ہو یا عورت، ان کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کے کیے کی سزا ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ہے، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔”
الزام: چوری پر ہاتھ کاٹنا وحشیانہ اور غیر متناسب سزا ہے۔
قرآنی تردید — اگلی ہی آیت (5:39):
“پھر جو شخص اپنے ظلم کے بعد توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو بیشک اللہ اس پر مہربانی سے توجہ فرمائے گا۔ بے شک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔”
سزا والی آیت اور معافی والی آیت لازم و ملزوم ہیں — یہ متواتر ہیں۔ اللہ تعالیٰ سزا کا اعلان کرتے ہی فوراً واپسی کا راستہ بھی بتا دیتے ہیں۔
تفاسیر کی وضاحت — وہ شرائط جو اس سزا کے نفاذ کو انتہائی نایاب بناتی ہیں:
چوری کی سزا بلا امتیاز نہیں لگائی جاتی۔ چوری کی گئی چیز کی مالیت ایک مخصوص کم از کم حد (سوا دینار یا اس سے زیادہ) سے تجاوز کرے، اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ معمولی چوری پر یہ سزا نہ ہو۔ اسلامی تاریخ میں ہاتھ کاٹنے کے واقعات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ثبوت کی شرط بہت بلند ہے۔ نبی کریم ﷺ کے دور میں انتہائی سزائیں صرف انتہائی محدود، مکمل تصدیق شدہ حالات میں ہی نافذ کی گئیں۔
“حدود کو شبہات سے ٹالنا” (ادرءوا الحدود بالشبهات) کا اصول اسلامی فوجداری نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اصول، جو احادیث نبوی سے ماخوذ ہے اور فقہاء نے اس کی تفصیل بیان کی ہے، حکم دیتا ہے کہ شک و شبہ کی صورت میں مقررہ سزائیں نافذ نہ کی جائیں۔ یہ اس نظام کے فطری رجحان کو اجاگر کرتا ہے کہ جب تک جرم کا یقین مکمل نہ ہو جائے، سزا سے بچا جائے۔
سزا کی حکمت: مقررہ سزاؤں کی حکمت یہ ہے کہ یہ روک تھام، تحفظ اور گناہوں سے پاکی کا ذریعہ ہیں۔ یہ اللہ کے حقوق اور مسلمانوں کی بہتری کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ یہ سزائیں دنیا اور آخرت میں انسانیت کی بہترین مفاد میں ہیں — ان کا مقصد ظلم نہیں، بلکہ معاشرے کو جرائم کے خطرات سے بچانا ہے۔

بغاوت اور مسلح فساد: سورۃ المائدہ (5:33)
“بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا ان کے مخالف سمتوں سے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے جائیں یا جلاوطن کر دیے جائیں۔”
الزام: یہ آیت مبینہ طور پر مبہم جرائم کے لیے انتہائی سزائیں تجویز کرتی ہے۔
تفاسیر کی وضاحت — “اللہ سے لڑنے” کا اصل مطلب:
یہ سزا ان ڈاکوؤں اور مسلح باغیوں کے لیے ہے جو گروہی طاقت سے حملہ کرکے عوامی امن کو تباہ کرتے ہیں اور ملک کے قانون کو کھلم کھلا توڑتے ہیں۔ لفظ “محاربہ” خاص طور پر زبردستی استعمال کرکے انتشار پھیلانے اور عوامی امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے — یہ جدید اصطلاح میں ڈاکہ زنی، مسلح بغاوت اور منظم دہشت گردی ہے، نہ کہ انفرادی نافرمانی یا ذاتی گناہ۔
رحمت کی شق — اسی باب میں آیت (5:34):
“ہاں جو لوگ توبہ کر لیں اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔”
ابن کثیر ایک تاریخی واقعہ نقل کرتے ہیں: علی الاسدی نامی ایک ڈاکو نے محاربہ کیا، راستے بند کیے، خون بہایا اور مال لوٹا۔ اس نے ایک شخص کو یہ آیت پڑھتے سنا: “اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو” (الزمر 53)۔ اس نے اپنی تلوار رکھ دی، توبہ کرتے ہوئے مدینہ آیا، فجر کی نماز پڑھی، اور پکڑے جانے سے پہلے اپنی توبہ کا اعلان کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کی معافی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: “اس نے سچ کہا”۔ علی کو مکمل طور پر بری کر دیا گیا اور بعد میں اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔

توہین رسالت — سب سے زیادہ متنازع سوال

قرآن اصل میں کیا کہتا ہے:
قرآن کریم میں کوئی ایک آیت بھی نہیں ہے جو صرف توہین رسالت کے لیے کوئی دنیاوی سزا تجویز کرتی ہو۔ قرآن میں “قانون توہین رسالت” ہونے کے الزامات زیادہ تر فقہی اور تاریخی تشکیل ہیں، نہ کہ براہ راست قرآنی حکم۔
نبی کریم ﷺ کے دور میں جن لوگوں کو “توہین رسالت” کے الزام میں سزائے موت دی گئی، وہ بیک وقت متعدد مرکب جرائم کے مرتکب تھے — واضح نشانیاں آنے کے بعد رسول کا انکار، امن معاہدوں کی خلاف ورزی، نبی ﷺ کو قتل کرنے کی فوجی سازش، اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال پھیلانا۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ان افراد کو صرف توہین رسالت کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا۔ یہ الہی حکم جو رسول کے انکار سے متعلق ہے، واضح طور پر ایک رسول کے اپنی قوم میں موجود ہونے کے ساتھ خاص ہے اور اس کا قیامت تک نافذ رہنے والی شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔
توہین کے بارے میں قرآن کا اپنا حکم:
قرآن خود حکم دیتا ہے: “اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور ان سے بہترین طریقے سے بحث کرو” (النحل 16:125)۔ قرآن بار بار دکھاتا ہے کہ اللہ کے تمام پیغمبروں، بشمول نبی کریم ﷺ کو، ان کی قوموں نے گالیاں دیں — پھر بھی اللہ نے کبھی نبی ﷺ یا صحابہ کو حکم نہیں دیا کہ وہ غصے یا طاقت سے جواب دیں۔
اہم بات یہ ہے کہ قرآن بیان کرتا ہے کہ سزائے موت صرف دو قسم کے جرائم میں لاگو ہوتی ہے: قتل کے بدلے میں سزا، اور زمین میں فساد پھیلانے کی سزا۔ اگر افراد یا گروہ اپنی صوابدید پر بغیر کسی خود مختار ریاست کے سزا نافذ کرنے کی کوشش کریں تو وہ خود “فساد فی الارض” کے مرتکب قرار پا سکتے ہیں۔

زنا: سورۃ النور (24:2)
“زانیہ عورت اور زانی مرد، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔”
ثبوت کی غیرمعمولی سخت شرط:
حدود کا نفاذ غیر متزلزل ثبوت اور متعدد تحفظات کا تقاضا کرتا ہے۔ زنا کے جرم میں سزا صرف اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب چار معتبر عینی شاہد خود عملِ زنا کی گواہی دیں۔ معمولی سا شک یا توبہ کا امکان پورے عمل کو روک سکتا ہے۔ بہت سے تاریخی واقعات میں اسلامی ججوں نے حدود کے نفاذ سے بچنے کے قانونی طریقے ترجیح دیے، جو رحمت، انصاف اور سماجی تحفظ پر زور دیتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک عمدہ حدیث — ماعز رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور چار مرتبہ زنا کا اقرار کیا۔ نبی ﷺ نے بار بار اس سے فرمایا: “تجھ پر افسوس، واپس جا، اللہ سے مغفرت مانگ اور اس کے سامنے توبہ کر۔” چوتھی مرتبہ اصرار کے بعد مقدمہ چلا۔ سزا کے بعد نبی ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا: “اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک پوری قوم میں تقسیم کر دی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے۔”
یہ حدیث ایک گہری حقیقت بتاتی ہے: نبی ﷺ کی پہلی، دوسری اور تیسری جبلت اس آدمی کو توبہ کرنے کے لیے واپس بھیجنے کی تھی — سزا دینے کی نہیں۔ نظام کا رجحان رحمت کی طرف ہے۔

حکم الٰہی کی نافرمانی اور بغاوت

سورۃ البقرہ (2:178–179) — قصاص
“اے ایمان والو! تم پر مقتولوں میں قصاص فرض کیا گیا ہے… پھر جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو مناسب طریقے سے خوں بہے کا اتباع کیا جائے۔”
آیت میں بنی ہوئی رحمت:
قصاص کے معاملات میں مقتول کے وارثین کو صریح حق ہے کہ وہ معاف کر دیں یا دیت (خون بہا) قبول کریں۔ یہ ہمدردی کی گنجائش پیدا کرتا ہے اور جھگڑے کو بڑھانے کے بجائے تعلقات بحال کرتا ہے۔ قرآن نے قصاص کی آیت کے فوراً بعد فرمایا: “یہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے” — اللہ خود قصاص کے پورے نظام کو، جس میں معافی کا اختیار بھی شامل ہے، اپنی رحمت کے طور پر بیان کرتا ہے۔

🏗️ عظیم الہیاتی ڈھانچہ: سزا خود کیوں رحمت ہے؟

تفاسیر کی روایت اللہ کی مغفرت اور سزا کی آیات کے درمیان کشیدگی کو چار بنیادی اصولوں کے ذریعے حل کرتی ہے:

اصول 1 — سزا جراحی ہے، عمومی نہیں۔
الہی سزا قرآن کے مستقل نمونے کے مطابق ہوتی ہے: دنیاوی سزا ظالموں کا فیصلہ کن خاتمہ اور آئندہ نسلوں کے لیے سبق ہوتی ہے۔ قرطبی مزید کہتے ہیں کہ سزا صرف اس وقت ہوتی ہے جب مہلت دینے کے بعد مسلسل اور جان بوجھ کر سرکشی کی جائے — اللہ کی ناراضگی صرف اس وقت آتی ہے جب بار بار تنبیہ کے باوجود کوئی سبق نہ لیا جائے۔

اصول 2 — توبہ کا دروازہ تقریباً ہر چیز پر مقدم ہے۔
پکڑے جانے یا مقدمے سے پہلے توبہ کر لینا اکثر سزا کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔ متاثرہ شخص کی معافی کو بہت زیادہ اجر ملتا ہے اور قانونی طور پر اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ سزا کے بجائے حفاظتی پالیسیوں اور اخلاقی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے۔ وسیع تر مقصد ہمیشہ اصلاح اور اجتماعی ہم آہنگی کا تحفظ ہوتا ہے، نہ کہ محض انتقام۔

اصول 3 — استدراج: صبر الٰہی کی باریک ترین صورت۔
قرآنی تصور “استدراج” (رفتہ رفتہ پکڑنا) ایک گہرا پہلو ظاہر کرتا ہے: اللہ تعالیٰ اصرار کرنے والے گنہگاروں کو دنیاوی نعمتیں عطا کر سکتا ہے، یہ ان کے حق میں پسندیدگی نہیں، بلکہ اس کی مہلت کا تسلسل ہوتا ہے — تاکہ کسی بھی حساب سے پہلے واپسی کا ہر موقع دیا جائے۔ یہ تصور، جسے قرطبی نے بیان کیا، ظاہر کرتا ہے کہ گناہوں کے سامنے اللہ کی خاموشی بھی ایک طویل رحمت ہوتی ہے۔

اصول 4 — سزا پاک کر دیتی ہے، ہمیشہ کے لیے سزا نہیں دیتی۔
دنیاوی حد کی سزا، ایک بار نافذ ہونے کے بعد، اس جرم کا حساب دنیا میں ختم کر دیتی ہے — لیکن یہ خود بخود آخرت کا حساب نہیں مٹاتی، جب تک کہ سچی توبہ نہ ہو۔ اس کے برعکس، سچی توبہ آخرت کا حساب مٹا دیتی ہے چاہے دنیاوی سزا پھر بھی نافذ ہو۔ یہ دوہرا نظام ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کا انصاف اور اس کی رحمت الگ الگ راستوں پر چلتے ہیں — کوئی دوسرے کو منسوخ نہیں کرتا۔

🌿 اللہ کی مغفرت کے بارے میں قرآن کا حتمی بیان

“کہہ دو: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ بے شک وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔” (الزمر 39:53)

“اور آپ کا رب بخشنے والا، رحمت والا ہے۔ اگر وہ انہیں ان کے کیے پر پکڑ لے تو وہ ان کے لیے عذاب جلدی کر دیتا، لیکن ان کے لیے ایک وعدے کی میعاد ہے جس سے وہ بچ نہیں سکیں گے۔” (الکہف 18:58)

یہ آیات قرآن کا اپنا مستقل، غیر مشروط رد ہیں کسی بھی ایسی قرأت کے لیے جو سزا کی آیات سے اللہ کو سخت یا نابخشندہ ظاہر کرتی ہو۔ قرآن کی ہر سزا والی آیت ان وسیع تر اعلانات کے تابع ہے — یہی پورے نظام کا لہجہ اور فریم ورک متعین کرتی ہیں۔

قرآنی نظام عدل کا خلاصہ اس طرح کیا جا سکتا ہے: لامحدود صبر → بار بار تنبیہ → رحمت کی پیشکش → اگر مسترد کی اور دوسروں کو نقصان پہنچایا → ناپے ہوئے احتساب → اور پھر بھی، آخری لمحے سے پہلے توبہ قبول۔

قرآن کا تعارف: سوال و جواب کی شکل میں


ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کریں، کاپیاں بنائیں اور شیئر کریں۔ تفہیم القرآن تفسیر کا اردو اور انگریزی میں گہرائی سے مطالعہ کریں۔ لنکس چیک کریں۔
https://voiceofquran5.com/2025/12/13/holy-quran-ahadees-introduction-translation-tafseer-explanation/


سیکشن 1: قرآن کیا ہے؟

س1۔ قرآن کیا ہے اور اسے کس نے نازل کیا؟
قرآن اسلام کی مرکزی مذہبی کتاب ہے، جسے اللہ تعالیٰ کا حقیقی کلام سمجھا جاتا ہے جو 23 سالوں (610–632 عیسوی) کے دوران فرشتہ جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔

س2۔ قرآن کی ساخت کیسی ہے؟
یہ 114 سورتوں پر مشتمل ہے جن میں تقریباً 6,236 آیات ہیں، جو تاریخی ترتیب سے نہیں بلکہ الٰہی حکم کے مطابق مرتب کی گئی ہیں۔

س3۔ قرآن کن موضوعات پر روشنی ڈالتا ہے؟
یہ توحید، انبیاء کے قصص، اخلاقی اصول، عبادت، خاندان اور معیشت سے متعلق احکام، اور کائنات، آخرت اور انسانی مقصد پر غور و فکر کا احاطہ کرتا ہے۔

س4۔ قرآن کے “اعجاز” (i’jaz) سے کیا مراد ہے؟
اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن اپنی فصاحت، آہنگ اور گہرائی میں بے مثل ہے — اور اس جیسی کوئی چیز پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا ہے (قرآن 2:23)۔

س5۔ قرآن کو کیسے محفوظ رکھا گیا؟
اسے نبی ﷺ کی حیات میں حفظ کیا گیا اور لکھا گیا، آپ ﷺ کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیا گیا، اور آج بھی لاکھوں لوگ اسے لفظ بہ لفظ حفظ کرتے ہیں — یہ ہمیشہ سے غیر تبدیل شدہ رہا ہے۔


سیکشن 2: قرآن کیا نہیں ہے؟

س6۔ کیا قرآن حضرت محمد ﷺ نے خود لکھا؟
نہیں۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن الٰہی وحی ہے، نہ کہ حضرت محمد ﷺ یا کسی اور انسان کی تصنیف۔

س7۔ کیا قرآن ایک تاریخی کتاب ہے؟
نہیں۔ اگرچہ اس میں تاریخی واقعات موجود ہیں، لیکن انہیں عبرت و نصیحت کے لیے موضوعاتی انداز میں پیش کیا گیا ہے — نہ کہ ایک سیدھی یا مکمل تاریخی ترتیب کے طور پر۔

س8۔ کیا قرآن صرف عربوں یا ساتویں صدی کے لوگوں کے لیے ہے؟
نہیں۔ قرآن آفاقی ہے اور ہر زمانے اور ہر جگہ کی پوری انسانیت سے خطاب کرتا ہے۔

س9۔ کیا قرآن کے مختلف نسخے یا ایڈیشن موجود ہیں؟
نہیں۔ بعض دیگر مقدس کتب کے برعکس، قرآن کے کوئی متبادل نسخے یا ایڈیشن نہیں ہیں۔ تراجم کو صرف تشریح سمجھا جاتا ہے — اصل عربی متن ہی مستند ہے۔

س10۔ کیا قرآن محض قوانین اور احکام کی کتاب ہے؟
نہیں۔ یہ احکام کے ساتھ روحانی حکمت، تمثیلات، اور غور و فکر کی دعوت کا بھی احاطہ کرتا ہے — یہ کوئی سیاق و سباق سے عاری سخت قانونی ضابطہ نہیں ہے۔


سیکشن 3: اہم سورتیں

س11۔ نماز کی ہر رکعت میں کون سی سورت پڑھی جاتی ہے؟
سورۃ الفاتحہ (افتتاح)، جو 7 آیات پر مشتمل ایک دعا ہے جس میں اللہ کی حمد اور ہدایت کی طلب ہے۔

س12۔ قرآن کی سب سے لمبی سورت کون سی ہے اور اس میں کیا ہے؟
سورۃ البقرہ (286 آیات)، جس میں عقیدہ، احکام، اخلاقیات، خاندانی معاملات، سماجی انصاف، اور انبیاء کے قصص شامل ہیں۔

س13۔ آیت الکرسی کیا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟
یہ سورۃ البقرہ کی آیت 2:255 ہے، جو اللہ کی ابدی قدرت اور حاکمیت کا اعلان کرتی ہے۔ اسے روحانی تحفظ کے لیے کثرت سے پڑھا جاتا ہے۔

س14۔ سورۃ یٰسین کو “قرآن کا دل” کیوں کہا جاتا ہے؟
کیونکہ یہ قیامت، الٰہی حاکمیت، اور یوم حساب کو نہایت واضح تصویر کشی کے ساتھ بیان کرتی ہے، اور پڑھنے والوں کے دل کو سکون اور روحانی غور و فکر عطا کرتی ہے۔

س15۔ سورۃ الاخلاص کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
صرف 4 آیات میں یہ اللہ کی مطلق وحدانیت (توحید) کا اعلان کرتی ہے — کہ وہ ازلی، بے نیاز ہے، اور نہ اس کا کوئی مثل ہے، نہ اولاد۔

س16۔ سورۃ الرحمٰن میں کون سا سوال بار بار آتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟
“پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟” یہ 31 مرتبہ آتا ہے تاکہ اللہ کی بے شمار نعمتوں پر شکر گزاری پیدا ہو۔

س17۔ سورۃ الملک کے روحانی فوائد کیا ہیں؟
کہا جاتا ہے کہ اسے رات کو پڑھنے سے قبر کے عذاب سے حفاظت ہوتی ہے، اور یہ اللہ کی خلق پر اقتدار کے غور و فکر سے خشیت اور بیداری پیدا کرتی ہے۔

س18۔ سورۃ التوبہ کا مرکزی موضوع کیا ہے؟
توبہ، مغفرت، اور ایمان پر استقامت — یہ سورت سچے توبہ کرنے والوں کے لیے الٰہی رحمت کی امید دیتی ہے، چاہے ان کے گناہ کیسے بھی ہوں۔


سیکشن 4: انبیاء کے قصص

س19۔ قرآن میں کتنے انبیاء کا نام ذکر کیا گیا ہے؟
قرآن میں پچیس انبیاء کا نام آیا ہے۔

س20۔ قرآن میں انبیاء کے قصص کا عام نمونہ کیا ہے؟
ایک نبی کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے، انکار کا سامنا کرتا ہے، اللہ کا پیغام پہنچاتا ہے، اور نتیجہ یا تو مومنوں کی نجات ہوتا ہے یا ہٹ دھرم منکرین کے لیے عذاب۔

س21۔ حضرت آدم علیہ السلام کے قصے سے کیا سبق ملتا ہے؟
یہ انسانی کمزوری، شیطان کے بہکاوے کے خطرے، اور توبہ کرکے اللہ سے مغفرت مانگنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

س22۔ حضرت نوح علیہ السلام کی سب سے بڑی آزمائش کیا تھی؟
انہوں نے صدیوں تک اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی لیکن ان کا مذاق اڑایا گیا۔ اللہ نے انہیں کشتی بنانے کا حکم دیا؛ طوفان نے منکروں کو ہلاک کر دیا جبکہ حضرت نوح علیہ السلام اور مومنین نجات پا گئے۔

س23۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایمان کے کون سے اہم کارنامے سرانجام دیے؟
انہوں نے بت پرستی کو رد کیا، آگ کی آزمائش سے گزرے، اللہ کی خاطر ہجرت کی، اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا امتحان دیا، اور خانہ کعبہ کو تعمیر کیا۔

س24۔ سورۃ یوسف کا مرکزی سبق کیا ہے؟
مشکلات میں صبر، اللہ پر پختہ بھروسہ، اور عفو و درگزر کی فضیلت — جو اس وقت ظاہر ہوئی جب یوسف علیہ السلام نے اپنے ان بھائیوں کو معاف کر دیا جنہوں نے انہیں دھوکہ دیا تھا۔

س25۔ قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کس طرح پیش کرتا ہے؟
ایک نبی کے طور پر جو حضرت مریم علیہا السلام کے ہاں معجزانہ طور پر پیدا ہوئے، جنہوں نے اللہ کے اذن سے معجزات دکھائے، توحید کی تبلیغ کی، اور آسمان پر اٹھا لیے گئے — انہیں صلیب پر نہیں چڑھایا گیا۔

س26۔ قرآن کے مطابق حضرت محمد ﷺ دوسرے انبیاء سے کس لحاظ سے ممتاز ہیں؟
آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں (قرآن 33:40)، “تمام جہانوں کے لیے رحمت” بنا کر بھیجے گئے (21:107)، اور آخری آفاقی الٰہی پیغام پہنچانے والے ہیں۔


سیکشن 5: اعجاز قرآنی کا چیلنج

س27۔ قرآنی چیلنج (تحدی) کیا ہے؟
اللہ نے تمام انسانوں اور جنوں کو چیلنج دیا کہ وہ قرآن جیسی کوئی چیز پیش کریں — پہلے پورے قرآن جیسی، پھر دس سورتوں جیسی، پھر ایک سورت جیسی — بطور ثبوت کہ یہ الٰہی کلام ہے۔

س28۔ کون سی آیت میں پہلی بار ایک سورت جیسی چیز پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا؟
سورۃ البقرہ (2:23): “تو اس جیسی ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے گواہوں کو بھی بلا لو، اگر تم سچے ہو۔”

س29۔ سورۃ الاسراء (17:88) قرآن کے اعجاز کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
اگر تمام انسان اور جن مل کر بھی قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو وہ ایسا نہیں کر سکتے، چاہے وہ ایک دوسرے کی کتنی ہی مدد کریں۔

س30۔ عرب شعراء اور خطباء نے قرآن کے چیلنج کا کیا جواب دیا؟
باوجود اس کے کہ وہ فصاحت و بلاغت کے ماہر تھے (جیسا کہ المعلقات شاعری میں دیکھا گیا)، وہ کچھ بھی اس کے مماثل پیش نہ کر سکے۔ بہت سے لوگ اس لیے ایمان لے آئے کیونکہ انہوں نے اس کی بے مثل خوبصورتی اور اسلوب کو پہچان لیا۔

س31۔ ابن کثیر کے مطابق قرآن کی فصاحت عربی شاعری کے مقابلے میں معجزانہ کیوں ہے؟
قرآن مبالغہ آرائی یا باطل کے بغیر مکمل طور پر فصیح ہے۔ عربی شاعری کے برعکس جو جھوٹ اور بے معنی بیانات سے بھری ہوتی ہے، قرآن کے قصے تکرار کے ساتھ اور بھی خوبصورت ہو جاتے ہیں، اور اس کی تنبیہات اور وعدے دلوں کو گہرائی سے متاثر کرتے ہیں۔


سیکشن 6: قرآنی اور حدیثی تعلیمات کے اثرات

س32۔ قرآنی تعلیمات ذاتی ترقی پر کیا اثر ڈالتی ہیں؟
یہ صداقت اور صبر جیسی اخلاقی اقدار، نماز اور روزے کے ذریعے روحانی غذا، اور تاحیات سیکھنے کی ثقافت کو فروغ دیتی ہیں — جس سے بہتر فیصلہ سازی اور قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔

س33۔ اسلام خاندان کے کردار کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
خاندان معاشرے کی بنیاد ہے۔ نکاح کو سکون کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے (30:21)، باہمی احترام، بچوں کی اخلاقی تربیت، اور یتیموں اور بزرگوں جیسے کمزور افراد کی دیکھ بھال پر زور دیا گیا ہے۔

س34۔ اسلامی تعلیمات معاشی ناہمواری سے کیسے نمٹتی ہیں؟
زکوٰۃ (لازمی صدقہ) اور صدقہ (نفلی عطیہ) کے ذریعے دولت کی تقسیم ہوتی ہے تاکہ ناہمواری کم ہو۔ قرآن نے معاشی استحصال کو روکنے کے لیے سود (ربا) کو بھی حرام قرار دیا ہے (2:275)۔

س35۔ قرآن سیاسی حکمرانی کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
یہ عادلانہ قیادت اور شورٰی (42:38) کی وکالت کرتا ہے۔ حکمرانوں کو اپنی رعایا کے ذمہ دار “چرواہے” کہا گیا ہے، اور ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ایک عظیم عمل قرار دیا گیا ہے (حدیث، ابو داؤد)۔

س36۔ اسلام ماحولیاتی ذمہ داری کو کیسے فروغ دیتا ہے؟
انسانوں کو زمین کا خلیفہ (نائب) مقرر کیا گیا ہے (2:30)۔ قرآن فضول خرچی سے منع کرتا ہے (6:141)، اور احادیث میں درخت لگانے کی ترغیب دی گئی ہے چاہے قیامت قریب ہی کیوں نہ ہو — جو پائیداری اور تحفظ ماحول کو فروغ دیتا ہے۔

س37۔ زندگی کے تمام شعبوں میں قرآنی اور حدیثی تعلیمات کا مجموعی مقصد کیا ہے؟
ایمان کو عمل کے ساتھ جوڑنا، انصاف، رحمت اور توازن کا حصول — آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی کو مدنظر رکھتے ہوئے — تاکہ ذاتی اور سماجی سطح پر ہمہ جہت ترقی حاصل ہو۔


یہ سوال و جواب قرآن کا مکمل تعارف پیش کرتا ہے جو کلاس روم میں گفتگو، ذاتی مطالعے، یا عوامی تعلیمی نشستوں کے لیے موزوں ہے۔​​​​​​​​​​​​​​​​

قرآنِ کریم اور غیر مسلموں کے ساتھ بظاہر امتیازی برتاؤ کا سوال اور قرآنی جواب

تفاسیر کی روشنی میں ایک علمی جائزہ

قرآنِ کریم اور غیر مسلموں کے ساتھ

بظاہر امتیازی برتاؤ کا سوال اور قرآنی جواب

تفاسیر کی روشنی میں ایک علمی جائزہ

 

اسلامی فکر میں یہ سوال ہمیشہ سے زیرِ بحث رہا ہے کہ قرآنِ کریم میں ایمان والوں اور کافروں کے درمیان جو فرق بیان کیا گیا ہے، کیا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتِ عامہ کے منافی نہیں؟ حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی صفات میں سب سے نمایاں ”الرَّحْمٰن” اور ”الرَّحِیْم” ہیں جو تمام مخلوقات پر احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ ذیل میں اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا جاتا ہے۔

 

۱۔ بنیادی علمی کلید: رحمانیت اور رحیمیت میں فرق

اس پوری بحث کی اصل چابی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دو مستقل پہلو ہیں — اور انھیں خلط ملط کرنے سے ہی یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے:

اَلرَّحْمٰنُ — وہ رحمتِ عامہ جو پوری کائنات کو محیط ہے، مومن ہو یا کافر، ہر مخلوق اس سے حصہ پاتی ہے۔ اَلرَّحِیْمُ — وہ رحمتِ خاصہ جو اہلِ ایمان کو آخرت میں عطا ہوگی اور جو ایمان و عمل کے صلے میں ملتی ہے۔

 

یہ فرق امتیاز نہیں بلکہ ”عطائے عمومی” اور ”جزائے خاص” کا فرق ہے۔ سورج کی روشنی سب پر یکساں پڑتی ہے، لیکن جو اس کی طرف رخ کرے، اس کی حرارت پوری طرح محسوس کرتا ہے۔

سنن ترمذی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ نے رحمت کو سو حصوں میں تقسیم فرمایا، نناوے حصے اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ زمین پر اتارا — اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوقات میں محبت اور شفقت پائی جاتی ہے۔

وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ

(الاعراف: ۱۵۶) ”اور میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔”

 

۲۔ وہ آیاتِ کریمہ جن پر اعتراض کیا جاتا ہے

(الف) سورۃ البقرہ ۲:۶-۷ — ”وہ ایمان نہیں لائیں گے”

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۞ خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ

ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، انھیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، یکساں ہے — وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ہے۔

اعتراض:

کیا اللہ نے ان لوگوں پر پہلے سے کفر کا فیصلہ لکھ کر پھر انھیں اس کی سزا دی؟ یہ تو ظلم معلوم ہوتا ہے۔

قرآنی جواب اور تفسیر:

قرآن خود اس کی وضاحت کرتا ہے:

كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ

(المطففین: ۱۴) ”بلکہ ان کے دلوں پر وہ (زنگ) چڑھ گیا جو وہ کماتے رہے۔”

مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں فرماتے ہیں: یہ آیت مکہ کے ان مخصوص سرداروں کے بارے میں ہے جنھوں نے ہر نشانی دیکھنے کے بعد شعوری طور پر انکار کیا۔ یہ کوئی ابدی الٰہی حکم نہیں بلکہ ایک مخصوص گروہ کی حالت کا بیان ہے جو ان کے اپنے ارادوں کا نتیجہ ہے۔ مہر ان کے اپنے بار بار کے انکار کا منطقی انجام ہے، نہ کہ ابتدائی ظلم۔

 

(ب) سورۃ المائدہ ۵:۵۱ — ”یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ”

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ

ترجمہ: اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا ولی نہ بناؤ۔

اعتراض:

کیا قرآن تمام غیر مسلموں سے ہر قسم کے تعلقات منع کرتا ہے؟ کیا یہ فرقہ وارانہ نفرت کی تعلیم نہیں؟

قرآنی جواب — لفظ ”اولیاء” کی تحقیق:

عربی لفظ ”وَلِیّ / اَوْلِیَاء” کا مطلب محض ”دوست” نہیں، بلکہ یہ سیاسی سرپرست، فوجی اتحادی، یا وہ شخص جس کے حوالے اپنے تمام معاملات کردیے جائیں — کے معنوں میں ہے۔ یہ آیت دشمن قوتوں کو سیاسی سرپرست بنانے سے منع کرتی ہے، عام دوستی اور ہمسائیگی سے نہیں۔

معارف القرآن میں اس کی تین درجے بندی یوں ہے:

• مُوَالاۃ (گہری وفاداری و سیاسی اطاعت) — دشمنانِ اسلام کے ساتھ حرام

• مُدَارَاۃ (شائستہ اور ادب آمیز میل جول) — تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز

• عَدل و اِنصاف (انصاف کا برتاؤ) — قرآن کا صریح حکم (الممتحنہ: ۸)

لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ… أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ

(الممتحنہ: ۸) ”اللہ تمھیں ان لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی۔”

 

(ج) سورۃ التوبہ ۹:۵ — ”آیتِ سیف”

فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ

ترجمہ: پس مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔

اعتراض:

کیا یہ تمام غیر مسلموں کے خلاف دائمی جنگ کا حکم نہیں؟

قرآنی جواب — سیاق و سباق:

مولانا مودودیؒ اس آیت کے پس منظر پر بالتفصیل روشنی ڈالتے ہیں:

یہ آیت ہجرت کے نویں سال کے مخصوص حالات سے متعلق ہے۔ مکہ فتح ہوچکا تھا اور عرب کے کئی مشرک قبیلوں نے صلح نامے توڑ دیے تھے۔ یہ ان عہد شکن قبیلوں کے خلاف فوجی حکم تھا — عمومی غیر مسلموں کے بارے میں کوئی دائمی دینی حکم نہیں۔

اسی سورت کے آگے ارشاد ہے:

وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ

(التوبہ: ۶) ”اور اگر کوئی مشرک پناہ مانگے تو اسے پناہ دو یہاں تک کہ وہ کلامِ الٰہی سنے، پھر اسے اس کی پناہ گاہ پہنچا دو۔” — یہ انسانی وقار کا کھلا اعتراف ہے۔

 

(د) سورۃ آل عمران ۳:۲۸ — ”کافروں کو دوست نہ بناؤ”

مولانا مودودیؒ اس آیت کی توضیح میں تقیہ (بحالتِ مجبوری) کی اجازت کا ذکر کرتے ہیں:

جو مومن کمزور اور بے بس ہو اور اسے ظلم یا قتل کا خوف ہو، اسے اپنا ایمان چھپانے اور ظاہراً دشمنوں سے دوستانہ رویہ رکھنے کی اجازت ہے۔ یہ استثنا ثابت کرتا ہے کہ آیت نظریاتی وفاداری اور سیاسی تسلیم کے بارے میں ہے — عام انسانی شفقت اور مہربانی کے بارے میں نہیں۔

 

۳۔ قرآن کا اپنا جواب — سورۃ الزمر ۳۹:۵۳

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

ترجمہ: کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہ معاف فرمادیتا ہے۔ وہ غفور و رحیم ہے۔

مولانا مودودیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”یہاں خطاب ”عِبَادِی” (میرے بندوں) سے ہے اور کوئی مضبوط دلیل نہیں کہ اسے صرف مسلمانوں تک محدود سمجھا جائے۔ یہ آیت اہلِ جاہلیت کو بھی خطاب کرتی تھی جو اپنے گناہوں کی کثرت سے مایوس ہوچکے تھے۔ پیغام یہ ہے: جو بھی اپنے رب کی طرف پلٹ جائے، اس کا ہر گناہ معاف ہے۔”

 

۴۔ تفاسیر کا خلاصہ — تین بنیادی اصول

اصولِ اول: جنگ کا سیاق بمقابلہ امن کا سیاق

تمام ”سخت” آیات تقریباً بلا استثنا ان لوگوں سے متعلق ہیں جو فعلاً جنگ میں تھے، عہد توڑ چکے تھے، یا مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے تھے۔ یہ فوجی اور سیاسی احکام ہیں — غیر مسلموں کی انسانی حیثیت کے بارے میں الٰہی موقف نہیں۔

اصولِ دوم: رحمانیت بمقابلہ رحیمیت

اَلرَّحْمٰن — ہر جاندار کو رزق، صحت، اور وجود دینے والی عالمگیر رحمت اَلرَّحِیم — ایمان و عمل کے بدلے آخرت میں ملنے والی خصوصی رحمت یہ تفریق استحقاق کی بات نہیں — یہ ردِّعمل کی بات ہے: رحمت سب کو گھیرے ہوئے ہے، لیکن اسے جو پوری طرح سمیٹنا چاہے وہ ایمان کا راستہ اختیار کرے۔

اصولِ سوم: نبی کریم ﷺ — رحمۃٌ للعالمین

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

(الانبیاء: ۱۰۷) ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔”

”عالمین” میں صرف مسلمان نہیں — تمام انسان، بلکہ تمام مخلوقات شامل ہیں۔ خود رسالتِ مآب ﷺ کا وجود تمام بنی نوع انسان پر اللہ کی رحمت کا ظہور ہے۔

 

۵۔ خلاصۂ بحث

قرآنِ کریم ایمان والوں اور کافروں میں فرق ضرور کرتا ہے — لیکن یہ فرق آخرت اور تعلق کی نوعیت کے باب میں ہے، انسانی وقار اور دنیاوی الٰہی رحمت کے باب میں نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اپنے اوپر لازم ٹھہرائی ہے (الانعام: ۱۲)، ہر مخلوق کو رزق دیتا ہے، ہر دل میں محبت رکھتا ہے۔ مخصوص آیات میں جو سختی نظر آتی ہے وہ جنگ، عہد شکنی، اور سیاسی غداری کی مخصوص تاریخی صورتِ حال کا جواب ہے — غیر مسلموں کے بارے میں عمومی الٰہی موقف نہیں۔

سورۃ الفاتحہ کی ساخت خود اس پوری بحث کا جواب ہے: اللہ سب سے پہلے ”رَبُّ الْعَالَمِیْن” (تمام جہانوں کا رب) ہے — یعنی آفاقی ربوبیت پہلے آتی ہے۔ پھر ”رَحْمٰن” اور ”رَّحِیم” کے طور پر ذکر ہوتا ہے، اور پھر ”مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن” (جزا کے دن کا مالک) — یعنی آفاقی پرورش پہلے ہے، مخصوص جزا بعد میں۔

 

وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

اور اللہ ہی درستی کو سب سے بہتر جانتا ہے

قرآنی آیات پر صنفی امتیاز کے الزامات اور ان کا قرآن و تفاسیر سے جواب

Allegations of Gender Discrimination in the Quran — Rebuttal from Quran & Tafaseer

تعارف

یہ دستاویز ان قرآنی آیات کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے جن پر مغربی یا سیکولر ناقدین کی جانب سے صنفی امتیاز کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ہر آیت کے ساتھ عربی متن، اردو ترجمہ، الزام اور پھر قرآن و تفاسیر — بالخصوص مولانا مودودیؒ کی تفہیم القرآن، ابن کثیرؒ اور دیگر علماء — کی روشنی میں مدلل جواب پیش کیا گیا ہے۔

اسلامی علمی روایت کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ یہ آیات دو متکمل جنسوں کے درمیان فنکشنل اور قانونی تفریق بیان کرتی ہیں — نہ کہ کسی کی روحانی، عقلی یا انسانی برتری یا کمتری کا اعلان۔

 

۱. سورۃ النساء ۴:۳۴ — قوّامیّت

عربی آیت:

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ

اردو ترجمہ:

“مرد عورتوں پر قوّام ہیں، اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور اس لیے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبردار ہیں، غیب میں اس چیز کی حفاظت کرنے والی ہیں جس کی حفاظت اللہ نے چاہی۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا خوف ہو انہیں سمجھاؤ، پھر انہیں خوابگاہوں میں تنہا چھوڑ دو، پھر انہیں مارو۔”

الزام:

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آیت مردوں کی مستقل برتری اور عورتوں کی تابعداری قائم کرتی ہے، خصوصاً لفظ اضربوھن (مارنا) انتہائی متنازعہ ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — لفظ ‘قوّام’ کا اصل مطلب

مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں وضاحت فرماتے ہیں: قوّام یا قیّم وہ شخص ہوتا ہے جو کسی فرد یا ادارے کے معاملات کی نگرانی، حفاظت اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ہو۔ یہ کسی کی ذاتی برتری کا اعلان نہیں بلکہ مالی ذمہ داری اور سرپرستی کا کردار ہے۔

ب — ‘فضل’ سے مراد فنکشنل فرق

لفظ فضّل سے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ کسی کو دوسرے پر فطری یا روحانی شرف حاصل ہے۔ یہ صرف تکمیلی کرداروں کے درمیان فرق کی بات ہے — نہ کہ انسانی وقار میں تفاوت۔

ج — ‘اضربوھن’ — لغوی اور سیاقی باریکی

عربی میں ‘ضَرَبَ’ کے بیس سے زائد معنی ہیں: سفر کرنا، مثال بیان کرنا، الگ کرنا وغیرہ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ — سب سے بڑے مفسّر صحابی — نے فرمایا: اگر مارنا ہو تو ‘غیر مُبرِّح’ ہو، یعنی ایسا جو نشان نہ چھوڑے۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنی پوری زندگی کبھی کسی عورت کو نہیں مارا۔

د — قرآن کا مساواتی موقف — الاحزاب ۳۳:۳۵

إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ…

یہ آیت مسلمان مرد و عورت دونوں کو تیرہ اوصاف میں برابر قرار دے کر دونوں کے لیے یکساں اجر کا وعدہ کرتی ہے۔

 

۲. سورۃ البقرہ ۲:۲۸۲ — دو عورتوں کی گواہی

عربی آیت:

وَٱسْتَشْهِدُوا۟ شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ

اردو ترجمہ:

“اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بناؤ؛ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرو — تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے۔”

الزام:

ناقدین کہتے ہیں کہ عورت کی گواہی مرد کی نصف ہے، جو اس کی کمتر عقل یا قابلیت کی دلیل ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — ‘اِشہاد’ اور ‘شہادت’ میں فرق

محمد عمارہ جیسے معاصر علماء نے یہ اہم فرق واضح کیا ہے: ‘شہادت’ عدالتی گواہی ہے اور ‘اِشہاد’ کاروباری دستاویز سازی میں گواہ بنانا۔ یہ آیت صرف مالی معاملات کی دستاویز سازی سے متعلق ہے — تمام عدالتی معاملات پر عمومی حکم نہیں۔

ب — ‘تَضِلَّ’ کا سیاق

لفظ ‘أن تَضِلَّ’ (بھول جائے) ایک خاص سیاق میں ہے — ساتویں صدی میں عورتیں تجارتی معاملات سے بڑی حد تک دور رکھی جاتی تھیں، اس لیے یہ نادانی نہیں بلکہ ناتجربہ کاری کا معاملہ تھا۔ دوسری عورت یادداشت کی مدد کے لیے ہے، آزادانہ گواہی کے لیے نہیں۔

ج — ایک تاریخی انقلاب

دور جاہلیت میں عورت کو گواہی کا کوئی قانونی حق ہی حاصل نہ تھا۔ قرآن نے عورت کو پہلی بار باقاعدہ قانونی گواہ کا درجہ دیا — یہ تاریخ میں ایک انقلابی قدم تھا۔

د — قرآن نے تنہا عورت کی گواہی بھی قبول کی

سورۃ النور ۲۴:۶ تا ۹ (لعان) میں ایک عورت کی تنہا قسم اس کے خاوند کی قسم کے برابر قانونی وزن رکھتی ہے۔ ثابت ہوا کہ جنس بذات خود کبھی مطلق معیار نہیں رہی۔

 

۳. سورۃ النساء ۴:۱۱ — وراثت

عربی آیت:

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصْفُ

اردو ترجمہ:

“اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں حکم دیتا ہے: لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اگر سب لڑکیاں ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی ملے گا؛ اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اسے نصف ملے گا۔”

الزام:

عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف وراثت ملتی ہے — اسے معاشی ناانصافی قرار دیا جاتا ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — مالی ذمہ داریوں کا توازن

مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں وضاحت فرماتے ہیں: اسلامی قانون میں مرد پر مالی ذمہ داریاں کہیں زیادہ ہیں — مہر، بیوی کا مکمل نفقہ، بچوں کا خرچ — جبکہ عورت پر یہ ذمہ داریاں بالکل نہیں۔ عورت کی وراثت مکمل طور پر اس کی ذاتی ملکیت ہے، اسے کسی پر خرچ کرنا لازم نہیں۔ اس لیے انصاف کا تقاضا یہی تناسب ہے۔

ب — تاریخی انقلاب — ابن کثیر

ابن کثیرؒ نے نوٹ کیا ہے کہ دور جاہلیت میں عورت کو وراثت سے سرے سے محروم رکھا جاتا تھا۔ قرآن نے دنیا کی قانونی تاریخ میں پہلی بار عورت کے لیے ایک متعین، ناقابل تبدیل حصہ لازم قرار دیا۔

ج — قرآن نے عورت کو مرکز بنایا

قرآن نے یہ نہیں کہا: ‘دو عورتوں کا حصہ ایک مرد کے برابر ہے’ — بلکہ کہا: ‘مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے’۔ اس طرز بیان سے عورت کے حصے کو بنیاد بنایا گیا، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

د — بعض صورتوں میں عورت کا حصہ زیادہ یا برابر

اگر عورت اکیلی وارث ہو تو نصف ترکہ اسے ملتا ہے۔ ‘کلالہ’ کی صورت میں بھائی اور بہن برابر کے وارث ہیں (۴:۱۷۶)۔ ماں کو مستقل حصہ ملتا ہے جو باپ سے کم نہیں۔ ۲:۱ کا تناسب ہر صورت پر لاگو نہیں — یہ حالات کے مطابق بدلتا ہے۔

ہ — خالص مالی حیثیت اکثر عورت کے حق میں

ابن القیمؒ اور جمال بدوی جیسے علماء نے حساب لگایا ہے کہ جب مہر، نفقے سے مکمل آزادی اور ذاتی آمدن کو ملایا جائے تو مسلمان عورت اکثر اپنے مرد رشتہ داروں سے زیادہ قابل تصرف دولت رکھتی ہے۔

 

۴. سورۃ البقرہ ۲:۲۲۸ — مردوں کو ایک درجہ

عربی آیت:

وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اردو ترجمہ:

“اور عورتوں کے حقوق بھی ویسے ہی ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں، معروف طریقے سے — البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔”

الزام:

یہ آیت مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ برتر قرار دیتی ہے — اسے ہمہ گیر مردانہ برتری سمجھا جاتا ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — ‘درجہ’ کا مخصوص سیاق

یہ آیت طلاق کے احکام کے ضمن میں نازل ہوئی۔ تمام کلاسیکی مفسرین — طبریؒ، زمخشریؒ، رازیؒ، ابن کثیرؒ — کا اتفاق ہے کہ یہ ‘درجہ’ مرد کے یک طرفہ طلاق کے اختیار (طلاق) سے متعلق ہے — جو ساتھ میں عدت کے دوران نفقہ اور مؤخر مہر ادا کرنے کی ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ یعنی یہ ذمہ داری اور قانونی جوابدہی کا درجہ ہے، نہ کہ مابعدالطبیعاتی یا روحانی برتری۔

ب — آیت کا آغاز مساوات سے

آیت کا پہلا حصہ — ‘وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ’ — یعنی عورتوں کے حقوق بھی اسی طرح ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں — ساتویں صدی کی کسی بھی مذہبی دستاویز میں حقوقِ زوجین کا سب سے جامع اور متوازن اعلان ہے۔

 

۵. قرآنی جواب — مکمل روحانی مساوات کی آیات

ان تمام آیات کو پڑھتے وقت ذہن میں یہ رکھنا ضروری ہے کہ قرآن نے متعدد مقامات پر مرد و عورت کی روحانی، اخلاقی اور الٰہی حیثیت میں کامل مساوات کا اعلان کیا ہے:

 

الحجرات ۴۹:۱۳

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَٰكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَٰكُمْ شُعُوبًا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ

“اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔”

— یہاں مرد یا عورت کا کوئی استثناء نہیں، صرف تقوٰی کا معیار ہے۔

 

آل عمران ۳:۱۹۵

فَٱسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّى لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍ

“پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، خواہ مرد ہو یا عورت — تم ایک دوسرے سے ہو۔”

 

النحل ۱۶:۹۷

مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةً طَيِّبَةً

“جو کوئی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ہم اسے یقیناً پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔”

 

النساء ۴:۱۲۴

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ

“اور جو کوئی نیک اعمال کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔”

 

خلاصہ و نتیجہ

اسلامی علمی روایت — ابن کثیرؒ اور طبریؒ سے لے کر مولانا مودودیؒ اور معاصر علماء تک — مسلسل یہی موقف پیش کرتی ہے کہ مذکورہ بالا آیات دو تکمیلی جنسوں کے درمیان فنکشنل اور قانونی تفریق بیان کرتی ہیں، نہ کہ کسی کی ذاتی، روحانی یا انسانی کمتری کا اعلان کرتی ہیں۔

قرآن کریم کی وہ آیات جو مرد و عورت کی مساوی روحانی حیثیت، یکساں الٰہی جوابدہی اور نیک اعمال پر یکساں اجر کا وعدہ کرتی ہیں، ان تمام دیگر آیات کی تفسیر کا وہ مرکزی فریم ورک فراہم کرتی ہیں جس کی روشنی میں تمام جزوی احکام کو سمجھنا ضروری ہے۔

 

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ

اور اللہ سب سے بہتر جاننے والا ہے

کُفْرَانِ نِعْمَت — Rejection of Blessings: Scholarly Examples (Urdu & English)

کُفْرَانِ نِعْمَت — نعمتوں کا انکار: علمائے کرام کی مثالیں
کُفْرَانِ نِعْمَت کیا ہے؟
لفظ ک-ف-ر کا لغوی معنی ہے ڈھانپنا یا دبانا۔ جس طرح کسان بیج کو مٹی میں دباتا ہے (کافرُ الزَّرع)، اسی طرح کُفرانِ نعمت کرنے والا نعمت کو دبا دیتا ہے — ناشکری، غلط استعمال، انکار، یا تکبر کے ذریعے۔ یہ ایک تسلسل پر ہے:
محض بھول جانے سے ← فعال انکار تک ← نعمت کو اللہ کے علاوہ کسی اور سے منسوب کرنے تک

پہلی قسم: انفرادی مثالیں
ابلیس — ازلی ناشکرا
تقریباً ہر بڑے عالم — طبری، ابن کثیر، مودودی، سید قطب — نے ابلیس کو کُفرانِ نعمت کی نمائندہ مثال قرار دیا ہے:
∙ اسے ہزاروں سال کی عبادت، اللہ سے قربت، اور فرشتوں میں بلند مقام عطا ہوا
∙ لیکن جب ایک حکم نے اس کا شکر آزمایا تو اس کا تکبر ظاہر ہو گیا
∙ اس نے اللہ کے وجود کا انکار نہیں کیا — اس نے نعمت کی قدر کا انکار کیا، اس سیاق کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے جس میں نعمت دی گئی تھی
∙ قطب نے ظلال میں لکھا: اس کا کُفر انکار سے نہیں بلکہ خود ستائی سے شروع ہوا — اس نے نعمت کو دیکھا اور اس میں خود کو دیکھا، دینے والے کو نہیں

قارون — دولت کی نعمت
(سورۃ القصص ۲۸:۷۶–۸۲)
∙ اسے غیر معمولی دولت عطا ہوئی — اس کے خزانوں کی چابیاں اٹھانے کے لیے بھی طاقتور مردوں کی جماعت درکار ہوتی
∙ اس کا کُفرانِ نعمت اس جملے میں تھا: “اِنَّمَا اُوْتِيْتُهُ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِيْ” — “یہ مجھے میرے علم کی بنا پر دیا گیا”
∙ امام قرطبی اسے ناشکری کی سب سے خطرناک صورت قرار دیتے ہیں: نعمت کو خود سے منسوب کرنا — مہارت، ذہانت، محنت — اور اللہ کو مساوات سے مکمل خارج کر دینا
∙ مودودی نوٹ کرتے ہیں کہ قارون ان تمام تہذیبوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی شبیہ کو اہلیت اور صلاحیت پر بناتی ہیں اور بھول جاتی ہیں کہ کمانے کی استعداد بھی ایک عطیہ تھی
∙ زمین نے اسے نگل لیا — اس کے قدموں تلے زمین کی نعمت واپس لے لی گئی

دو باغوں والا
(سورۃ الکہف ۱۸:۳۲–۴۴)
∙ اسے دو شاندار باغ، اہل و عیال، بھرپور پیداوار، اور بہتی نہریں عطا ہوئی تھیں
∙ اس کا کُفر زیادہ باریک تھا: “مَا اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهِ اَبَدًا” — “میں نہیں سمجھتا کہ یہ کبھی فنا ہو گی”
∙ ابن کثیر اسے دوام کے گمان کے ذریعے کُفرانِ نعمت کہتے ہیں — اس نے نعمت کو قرضِ الٰہی نہیں، ایک ثابت حق سمجھا
∙ اس نے یہ بھی کہا: “میں نہیں سمجھتا قیامت آئے گی” — یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیاوی نعمتوں کی ناشکری کس طرح احتساب کے انکار تک پہنچا دیتی ہے
∙ سید قطب یہ سبق دیتے ہیں: جس لمحے انسان نعمت کی مشروطیت دیکھنا بند کر دے — کہ یہ چھن بھی سکتی ہے — ناشکری وہاں پہلے ہی داخل ہو چکی ہوتی ہے

تین آدمی: کوڑھی، گنجا، اور اندھا
(صحیح بخاری و مسلم — تقریباً تمام علماء نے نعمت کی آیات کی تفسیر میں اس حدیث کا حوالہ دیا)
∙ تینوں کو اللہ کی رحمت سے دولت، صحت، اور حسن لوٹایا گیا
∙ ان میں سے دو نے انکار کیا کہ وہ کبھی فقیر یا بیمار تھے اور مدد کرنے سے انکار کر دیا
∙ امام نووی اور ابن حجر دونوں نے اس حدیث کو یادداشت مٹانے کے ذریعے کُفرانِ نعمت کی مثال کے طور پر استعمال کیا ہے — پچھلی حالت کو بھول جانا خود نعمت کو دبانے کی ایک صورت ہے
∙ جس نے اپنی پچھلی حالت یاد رکھی اور اعتراف کیا، اس کی نعمتیں برقرار رہیں؛ جن دو نے انکار کیا، انہوں نے سب کھو دیا

دوسری قسم: اجتماعی اور تہذیبی مثالیں
اہلِ سبا
(سورۃ سبا ۳۴:۱۵–۱۹)
یہ اجتماعی کُفرانِ نعمت کا قرآن کا شاید سب سے تفصیلی کیس اسٹڈی ہے:
∙ انہیں ملا: زرخیز زمین، دائیں اور بائیں دو شاندار باغ، ایک تہذیبی نعمت — “جَنَّتَيْنِ عَنْ يَمِيْنٍ وَشِمَالٍ”
∙ اللہ نے فرمایا: “كُلُوْا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوْا لَهُ” — کھاؤ اور شکرگزار ہو
∙ ان کا جواب: وہ پھر گئے (فَاَعْرَضُوْا)
∙ طبری ان کی ناشکری کو مراحل میں بیان کرتے ہیں:
∙ انہوں نے شکایت کی کہ باغ بہت قریب ہیں — وہ اہمیت محسوس کرنے کے لیے دور سفر کرنا چاہتے تھے
∙ انہوں نے کفایت اور شکر کی جگہ عیش و آرام اور دوری تلاش کی
∙ انہوں نے اللہ سے لمبے سفر مانگے — یہ ناشکری تھی جو عزائم کے لبادے میں ملبوس تھی
∙ سزا: عظیم بند (سد مارب) ٹوٹ گیا، باغوں کی جگہ کڑوے پھل اور کانٹے دار درخت آ گئے
∙ مودودی ایک تہذیبی سبق دیتے ہیں: سبا اس معاشرے کا نمونہ ہے جس نے عروج کی نعمت پائی اور پھر تکبر و ناشکری سے خود کو تباہ کر لیا — وہ اس نمونے کو جدید قوموں میں بھی دہراتے ہوئے دیکھتے ہیں

صحرا میں بنی اسرائیل
(سورۃ البقرہ ۲:۵۷–۶۱، سورۃ المائدہ ۵:۲۰–۲۶)
∙ انہیں عطا ہوا: آسمان سے من و سلویٰ، بادلوں کا سایہ، چٹان سے پانی، فرعون سے نجات
∙ ان کا کُفرانِ نعمت:
∙ “لَنْ نَصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَاحِدٍ” — “ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کر سکتے”
∙ انہوں نے پیاز، لہسن، مسور مانگی — الٰہی عنایت کے من پر غلامی کی خوراک کو ترجیح دی
∙ قرطبی اسے تقابل اور شکایت کے ذریعے کُفرانِ نعمت کہتے ہیں — نعمت حقیقی ہے مگر دل اس پر اٹکتا ہے جو نہیں ہے
∙ سید قطب اسے آزاد لیکن روحانی طور پر آزاد نہ ہونے والوں کی نفسیات قرار دیتے ہیں — جسم مصر سے نکل آیا لیکن روح نفس کی غلامی میں رہی

خوشحالی کے باوجود تباہ ہونے والی بستی
(سورۃ النحل ۱۶:۱۱۲ — بستی کی مثال)
∙ “وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُطْمَئِنَّةً”
∙ ایک بستی کو دیا گیا: امن، اطمینان، ہر طرف سے رزق
∙ ان کا رویہ: “فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ” — انہوں نے اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا
∙ اللہ نے انہیں بھوک اور خوف کا مزہ چکھایا — بالکل انہی دو نعمتوں کی ضد جن کا انہوں نے انکار کیا تھا
∙ چاروں بڑے علماء — طبری، ابن کثیر، قرطبی، مودودی — اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت اللہ کی سنت قائم کرتی ہے: ٹھکرائی گئی نعمت الٹی ہو جاتی ہے
∙ مودودی نوٹ کرتے ہیں کہ یہ آیت سورۃ النحل میں نعمتوں کی طویل گنتی (مویشی، بارش، کشتیاں، ستارے، سمندر) کے فوراً بعد آئی ہے — جو ناشکری کو اور بھی نمایاں کرتی ہے

تیسری قسم: روحانی اور باریک صورتیں
نعمتوں کو ان کے مقصد کے خلاف استعمال کرنا
امام غزالی نے اِحیاء علوم الدین میں سب سے باریک درجہ بندی دی ہے:
∙ زبان — جو ذکر کے لیے دی گئی — غیبت میں استعمال ہو = گفتار کا کُفرانِ نعمت
∙ آنکھیں — جو اللہ کی نشانیاں دیکھنے کے لیے دی گئیں — حرام میں استعمال ہوں = بصارت کا کُفرانِ نعمت
∙ عقل — جو حق پہچاننے کے لیے دی گئی — باطل کے لیے دلائل بنانے میں استعمال ہو = فکر کا کُفرانِ نعمت
∙ وہ لکھتے ہیں: ہر عضو ایک امانت ہے؛ اسے اس کے الٰہی مقصد کے خلاف استعمال کرنا نعمت کو دبانا ہے

وقت کی نعمت
نبی ﷺ نے فرمایا:
“نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِيْهِمَا كَثِيْرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ”
“دو نعمتیں ہیں جن میں بہت سے لوگ دھوکا کھاتے ہیں: صحت اور فراغت”
∙ ابن حجر عسقلانی مَغبون (دھوکا کھانے والے) کی یہ وضاحت کرتے ہیں: وہ شخص جو نعمت رکھتا ہو لیکن اس کی قدر نہ پہچانے جب تک وہ چھن نہ جائے
∙ یہ ناآگاہی کے ذریعے کُفرانِ نعمت ہے — شاید ہر دور میں سب سے عام صورت

علماء کی متفق درجہ بندی کُفرانِ نعمت کی صورت مثال اجاگر کرنے والے علماء نعمت کو خود سے منسوب کرنا قارون قرطبی، مودودی دوام کا گمان کرنا دو باغوں والا ابن کثیر، قطب کفایت کے باوجود شکایت بنی اسرائیل طبری، قطب اجتماعی تکبر و عزائم اہلِ سبا مودودی، طبری نعمت کو اس کے مقصد کے خلاف استعمال عمومی غزالی پچھلی محرومی بھول جانا تین آدمیوں کی حدیث نووی، ابن حجر روحانی تکبر ابلیس تمام بڑے علماء قدر سے ناآگاہی صحت و فراغت کی حدیث ابن حجر عسقلانی

اسے سب سے جوڑنے والا قرآنی اصول
سورۃ ابراہیم ۱۴:۷
“لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ”
“اگر تم شکر کرو گے تو میں یقیناً تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو — تو میرا عذاب واقعی سخت ہے”
ہر عالم اسے نعمت کی مرکزی مساوات سمجھتا ہے — شکر بڑھاتا ہے، ناشکری الٹ دیتی ہے۔ سزا ہمیشہ فوری نہیں ہوتی — کبھی کبھی اللہ اِستدراج (تدریجی مہلت) دیتا ہے — لیکن اللہ کی سنت ثابت اور ناگزیر ہے۔​​​​​​​​​​​​​​​​

کُفْرَانِ نِعْمَت — Rejection of Blessings:

Scholarly Examples
This is one of the most profound and recurring themes in Quranic moral theology. Scholars across traditions have given rich, layered examples of kufr al-niʿmah — and they operate at multiple levels: individual, communal, civilizational, and spiritual.

What is Kufr al-Niʿmah?
The root ك-ف-ر literally means to cover or to bury. Just as a farmer covers seed under soil (kāfir al-zarʿ), the one who commits kufr al-niʿmah buries and conceals the blessing — through ingratitude, misuse, denial, or arrogance. It sits on a spectrum:
From mere forgetfulness → to active denial → to attributing the blessing to other than Allah

Category One: Individual Examples

  1. Iblīs — The Primordial Ingrate
    Almost every major scholar — al-Ṭabarī, Ibn Kathīr, Mawdūdī, Sayyid Quṭb — points to Iblīs as the archetypal example of kufr al-niʿmah:
    ∙ He was given eons of worship, nearness to Allah, and elevated rank among the angels
    ∙ Yet when one command tested his gratitude, his arrogance surfaced
    ∙ He did not deny Allah’s existence — he denied the worth of the blessing by refusing to honor the context in which it was given
    ∙ Quṭb writes in Ẓilāl: his kufr began not with denial but with self-congratulation — he looked at the niʿmah and saw himself, not the Giver
  2. Qārūn (Korah) — The Niʿmah of Wealth
    (Surah Al-Qaṣaṣ 28:76–82)
    ∙ Given extraordinary wealth — his treasure keys alone required a group of strong men to carry
    ∙ His kufr al-niʿmah was the statement: “Innamā ūtītuhu ʿalā ʿilmin ʿindī” — “I was given this because of knowledge I possess”
    ∙ Al-Qurṭubī explains this as the most dangerous form of ingratitude: attributing the blessing to oneself — skill, intelligence, hard work — thereby erasing Allah from the equation entirely
    ∙ Mawdūdī notes that Qārūn represents entire civilizations that build their self-image on merit and capability, forgetting that the very capacity to earn was itself a gift
    ∙ The earth swallowed him — the blessing of ground beneath his feet was withdrawn
  3. The Owner of Two Gardens
    (Surah Al-Kahf 18:32–44)
    ∙ Given two magnificent gardens, a family, abundant produce, flowing rivers
    ∙ His kufr was subtler: “Mā aẓunnu an tabīda hādhihi abadā” — “I do not think this will ever perish”
    ∙ Ibn Kathīr identifies this as kufr al-niʿmah through permanence assumption — he treated the blessing as a fixed right rather than a divine loan
    ∙ He also said: “I do not think the Hour will come” — showing how ingratitude for worldly blessings slides into denial of accountability
    ∙ Sayyid Quṭb draws the lesson: the moment a person stops seeing the contingency of a blessing — that it could be taken — ingratitude has already set in
  4. The Three Men: The Leper, the Bald Man, and the Blind Man
    (Ṣaḥīḥ Bukhārī & Muslim — cited by nearly all scholars in tafsīr of niʿmah verses)
    ∙ All three were restored by Allah’s mercy — wealth, health, appearance
    ∙ Two of them denied that they had ever been poor or ill and refused to help
    ∙ Al-Nawawī and Ibn Ḥajar both use this ḥadīth to illustrate kufr al-niʿmah through memory erasure — forgetting one’s prior state is itself a form of burying the blessing
    ∙ The one who remembered and acknowledged his past state retained his blessings; the two who denied lost everything

Category Two: Communal & Civilizational Examples

  1. The People of Sabaʾ (Sheba)
    (Surah Sabaʾ 34:15–19)
    This is arguably the most detailed Quranic case study of collective kufr al-niʿmah:
    ∙ Given: fertile land, two magnificent gardens left and right, a civilizational blessing — “Jannatayn ʿan yamīnin wa shimāl”
    ∙ Allah declared: “Kulū min rizqi rabbikum wa’shkurū lah” — eat and be grateful
    ∙ Their response: they turned away (fa aʿraḍū)
    ∙ Al-Ṭabarī lists their ingratitude in stages:
    ∙ They complained the gardens were too close — they wanted to travel further to feel important
    ∙ They sought luxury and distance rather than sufficiency and gratitude
    ∙ They asked Allah to lengthen their journeys — ingratitude dressed as ambition
    ∙ The punishment: the great dam (Sadd Maʾrib) was broken, the gardens replaced with bitter fruit and thorny trees
    ∙ Mawdūdī draws a civilizational lesson: Sabaʾ is the model of a society that achieved peak blessing and then self-destructed through arrogance and ingratitude — he sees this pattern repeating in modern nations
  2. Banū Isrāʾīl in the Wilderness
    (Surah Al-Baqarah 2:57–61, Surah Al-Māʾidah 5:20–26)
    ∙ Given: manna and quails from heaven, shade of clouds, water from struck rock, freedom from Pharaoh
    ∙ Their kufr al-niʿmah:
    ∙ “Lan naṣbira ʿalā ṭaʿāmin wāḥid” — “We cannot endure just one kind of food”
    ∙ They demanded onions, garlic, lentils — preferring the food of slavery over the manna of divine care
    ∙ Al-Qurṭubī calls this kufr al-niʿmah through comparison and complaint — the blessing is real but the heart fixates on what is absent
    ∙ Sayyid Quṭb sees this as the psychology of the liberated but spiritually unemancipated — the body left Egypt but the soul remained enslaved to appetite
  3. The Town Destroyed Despite Prosperity
    (Surah Al-Naḥl 16:112 — the Parable of the Town)
    ∙ “Wa ḍaraba’llāhu mathalan qaryatan kānat āminatan muṭmaʾinnatan”
    ∙ A township given: security, tranquility, provision from every direction
    ∙ Their response: “Fa kafarat bi anʿumi’llāh” — they disbelieved in Allah’s blessings
    ∙ Allah made them taste hunger and fear — the precise opposites of the two blessings they rejected
    ∙ All four major scholars — Ṭabarī, Ibn Kathīr, Qurṭubī, Mawdūdī — agree this verse establishes the Sunnah of Allah: blessing rejected becomes blessing reversed
    ∙ Mawdūdī notes this verse falls right after Surah Al-Naḥl’s long enumeration of blessings (cattle, rain, ships, stars, the sea) — making the ingratitude all the more stark

Category Three: Spiritual & Subtle Forms

  1. Using Blessings Against Their Purpose
    Al-Ghazālī in Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn gives the most nuanced taxonomy:
    ∙ The tongue given for dhikr — used for backbiting = kufr al-niʿmah of speech
    ∙ The eyes given to see signs of Allah — used for ḥarām = kufr al-niʿmah of sight
    ∙ The intellect given to recognize truth — used to construct arguments for falsehood = kufr al-niʿmah of reason
    ∙ He writes: every faculty is a trust (amānah); using it against its divine purpose is burying the blessing
  2. The Niʿmah of Time
    The Prophet ﷺ said: “Niʿmatāni maghbūnun fīhimā kathīrun min al-nās: al-ṣiḥḥah wa’l-farāgh” — “Two blessings many people are cheated of: health and free time.”
    ∙ Ibn Ḥajar al-ʿAsqalānī explains magbūn (cheated/defrauded) as someone who possesses a blessing but does not realize its value until it is gone
    ∙ This is kufr al-niʿmah of unawareness — perhaps the most common form in every age

The Scholars’ Unified TaxonomyForm of Kufr al-NiʿmahExampleScholar Highlighting It Attributing blessing to self Qārūn Al-Qurṭubī, Mawdūdī Assuming permanence Owner of Two Gardens Ibn Kathīr, Quṭb Complaining despite sufficiency Banū Isrāʾīl Al-Ṭabarī, Quṭb Collective arrogance & ambition People of Sabaʾ Mawdūdī, Al-Ṭabarī Using blessing against its purpose General Al-Ghazālī Forgetting prior deprivation Three Men ḥadīth Al-Nawawī, Ibn Ḥajar Spiritual arrogance Iblīs All major scholars Unawareness of value Health & Time ḥadīth Ibn Ḥajar al-ʿAsqalānī

The Quranic Principle Tying It All Together
Surah Ibrāhīm 14:7 —
“La’in shakartum la’azīdannakum wa la’in kafartum inna ʿadhābī la shadīd”
“If you are grateful, I will surely increase you; but if you are ungrateful — My punishment is indeed severe.”
Every scholar treats this as the master equation of niʿmah — gratitude multiplies, ingratitude inverts. The punishment is not always immediate — sometimes Allah gives istidraj (gradual respite) — but the Sunnah of Allah is consistent and inescapable.