فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰی ﴿ۙ۳۱﴾ وَ لٰکِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ۙ۳۲﴾ ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ یَتَمَطّٰی ﴿ؕ۳۳﴾ اَوۡلٰی لَکَ فَاَوۡلٰی ﴿ۙ۳۴﴾ ثُمَّ اَوۡلٰی لَکَ فَاَوۡلٰی ﴿ؕ۳۵﴾
مگر اُس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی، بلکہ جُھٹلا یا اور پلٹ گیا، پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا21۔ یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے۔ ہاں یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے22۔
Surah Al-Qiyamah 75:31-35 — English Translation with Mawdudi’s Commentary
Arabic Text & Translation
فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صلّٰی ﴿۳۱﴾
Yet he neither believed nor prayed,
وَ لٰکنۡ کَذَّبَ وَ تَولّٰی ﴿۳۲﴾
but instead denied and turned away,
ثُمَّ ذَہَبَ اِلی اَہۡلِہٖ یَتَمَطّٰی ﴿۳۳﴾
then walked off to his people with a swagger.²¹
اَوۡلٰی لکَ فَاَوۡلٰی ﴿۳۴﴾
Woe to you, and more woe!
ثُمَّ اَوۡلٰی لَکَ فَاَوۡلٰی ﴿۳۵﴾
Then again, woe to you and more woe!²²
Footnote 21
This means that the person who was unwilling to accept the Hereafter heard everything set forth in the preceding verses, yet even so he persisted in his denial, and after listening to those verses walked away to his household with an arrogant swagger. Mujahid, Qatadah, and Ibn Zayd say that this person was Abu Jahl. The very words of the verse also indicate that it refers to a specific individual who adopted this conduct after listening to the aforementioned verses of Surah Al-Qiyamah.
The words of this verse — “he neither believed nor prayed” — deserve particular attention. They make it unmistakably clear that the very first and indispensable demand of accepting the truthfulness of Allah, His Messenger, and His Book is that a person should pray. Compliance with the other commands of Divine Law comes at a later stage, but after one has verbally affirmed faith, it is not long before the time of prayer arrives — and at that very moment it becomes apparent whether what a person has acknowledged with his tongue is truly the conviction of his heart, or merely empty words he has let pass through his lips.
Footnote 22
The commentators have stated several meanings for Awlā laka: “Shame upon you,” “Destruction is your lot,” “Ruin, devastation, or misfortune is yours.” However, in our view, the most apt meaning in this context is that which Hafiz Ibn Kathir has stated in his Tafsir: “Since you have had the audacity to commit kufr against your Creator, then such conduct as you are pursuing befits a person like you.” This is the same kind of ironic, sarcastic speech as is found elsewhere in the Quran, where it is said that in Hell the criminal will be told: ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزيزُ الْكَرِيمُ — “Taste this! You are indeed the mighty and noble one!” (Ad-Dukhan: 49).
سُوْرَةُ الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :21
21۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا اس نے وہ سب کچھ سنا جو اوپر کی آیات میں بیان کیا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ اپنے انکار ہی پر اڑا رہا اور یہ آیات سننے کے بعد اکڑتا ہوا ا پنے گھر کی طرف چل دیا۔ مجاہد، فتادہ ا ور ابن زید کہتے ہیں کہ یہ شخص ابو جہل تھا۔ آیت کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایک شخص تھا جس نے سورہ قیامہ کی مذکورہ بالا آیات سننے کے بعد یہ طرز عمل اختیار کیا۔
اس آیت کے یہ الفاظ کہ ’’اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی‘‘ خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں۔ ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کی صداقت تسلیم کرنے کا ا ولین اور لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھے، شریعت الہی کے دوسرے احکام کی تعمیل کی نوبت تو بعد ہی میں آتی ہے، لیکن ایمان کے اقرار کے بعد کچھ زیادہ مدت نہیں گزرتی کہ نماز کا وقت آ جاتا ہے اور اسی وقت یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آدمی نے زبان سے جس چیز کو ماننے کا ا قرار کیا ہے وہ واقعی اس کے دل کی آواز ہے یا محض ایک ہوا ہے جو اس نے چند الفاظ کی شکل میں منہ سے نکال دی ہے۔
سُوْرَةُ الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :22
22۔ مفسرین نے اولی لک کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔ تف ہے تجھ پر۔ ہلاکت ہے تیرے لیے۔ خرابی ، یا تباہی ، یا کمبختی ہے تیرے لیے۔ لیکن ہمارے نزدیک موقع و محل کے لحاظ سے اس کا مناسب ترین مفہوم وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ ’’جب تو اپنے خالف سے کفر کرنے کی جرات کر چکا ہے تو پھر تجھ جیسے آدمی کو یہی چال زیب دیتی ہے جو تو چل رہا ہے ‘‘ یہ اسی طرح کا طنزیہ کلام ہے جیسے قرآن مجید میں ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں عذاب دیتے ہوئے مجرم انسان سے کہا جائے گا کہ ذوق انک انت العزیز الکریم ’’لے چکھ اس کا م زا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو ‘‘۔ (الدخان ۔ 49)۔