Surah Al-Muddaththir, verses 1–7 with footnotes): Urdu


“بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾ قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾ وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾ وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿ۙ۴﴾ وَ الرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ۵﴾ وَ لَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرُ ۪﴿ۙ۶﴾ وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾
اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے1، اُٹھو اور خبر دار کرو2۔ اور اپنے ربّ کی بڑائی کا اعلان کرو3۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو4۔ اور گندگی سے دُور رہو5۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے6۔ اور اپنے ربّ کی خاطر صبر کرو7۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :1
1۔ اوپر دیباچے میں ہم ان آیات کے نزول کا جو پس منظر بیان کر کے آئے ہیں اس پر غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کو یایھاالرسول یا یایھا النبی کہہ کر مخطاب کرنے کے بجائے یایھا المدثر کہہ کر کیوں مخاطب کیا گیا ہے۔ چونکہ حضورؐ یکایک جبریل علیہ السلام کو آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے دیکھ کر ہیبت زدہ ہو گئے تھے اور اسی حالت میں گھر پہنچ کر آپ نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا تھا کہ مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ، اس لیے اللہ تعالی نے آپ کو ٍیایھاالمدثر کہہ کر خطاب فرمایا۔ اس لطیف طرز خطاب سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اے میرے پیارے بندے، تم اوڑھ لپیٹ کر لیٹ کہاں گئے ، تم پر تو ایک کارِ عظیم کا بار ڈالا گیا ہے جسے انجام دینے کے لیے تمہیں پورے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوناچاہیے۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :2
2۔ یہ اسی نوعیت کا حکم ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کو نبوت کے منصب پر مامور کرتے ہوئے دیا گیا تھا کہ انذر قومک من قبل ان یاتیھم عذاب الیم ’’اپنی قوم کے لوگوں کو ڈراؤ قبل اس کے کہ ان پر ا یک دردناک عذاب آ جائے‘‘۔ (نوح۔1) آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے ا وڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اٹھو اور تمہارے گردو پیش خدا کے بندے جو بندے خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ان کو چونکا دو۔ انہیں اس انجام سے ڈراؤ جس سے یقیناً وہ دوچار ہوں گے اگر اسی حالت میں مبتلا رہے۔ انہیں خبردار کر دو کہ وہ کسی اندھیر نگری میں نہیں رہتے ہیں جس میں وہ اپنی مرضی سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں اور ان کے کسی عمل کی کوئی باز پرس نہ ہو۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :3
3۔ یہ ایک نبی کا اولین کام ہے جسے اس دنیا میں اسے انجام دینا ہوتا ہے۔ اس کا پہلا کام ہی یہ ہے کہ جاہل انسان یہاں جن جن کی بڑائی مان رہے ہیں ان سب کی نفی کر دے اور ہانکے پکارے دنیا بھر میں یہ اعلان کر دے کہ اس کائنات میں بڑائی ایک خدا کے سوا اور کسی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کلمہ اللہ اکبر کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اذان کی ابتدا ہی اللہ اکبر کے اعلان سے ہوتی ہے۔ نماز میں بھی مسلمان تکبیر کے الفاظ کہہ کر داخل ہوتا ہے اور بار بار اللہ اکبر کہہ کر اٹھتا اور بیٹھتا ہے۔ جانور کے گلے پر چھری بھی پھیرتا ہے تو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر پھیرتا ہے۔ نعرہ تکبیر آج ساری دنیا میں مسلمان کا سب سے زیادہ نمایاں امتیازی شعار ہے کیونکہ اس امت کے نبیؐ نے اپنا کا م ہی اللہ اکبر کی تکبیر سے شروع کیا تھا۔
اس مقام پر ایک اور لطیف نکتہ بھی ہے جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ جیسا کہ ان آیات کی شانِ نزول سے معلوم ہو چکا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب رسول اللہ ﷺ کو نبوت کا عظیم الشان فریضہ انجام دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا اور یہ بات ظاہر تھی کہ جس شہر اور معاشرے میں یہ مشن لے کر ا ٹھنے کا آپ کو حکم دیا جا رہا تھا وہ شرک کا گڑھ تھا۔ بات صرف اتنی ہی نہ تھی کہ وہاں کے لوگ عام عربوں کی طرح مشرک تھے، بلکہ اس سے بڑھ کر بات یہ تھی کہ مکہ معظمہ مشرکین عرب کا سب سے بڑا تیرتھ بنا ہوا تھا اور قریش کے لوگ اس کے مجاور تھے۔ ایسی جگہ کسی شخص کا تن تنہا اٹھنا اور شرک کے مقابلے میں توحید کا علم بلند کر دینا بڑے جان جوکھوں کا کام تھا۔ اسی لیے ’’اٹھو اور خبردار کرو‘‘ کے بعد فوراً ہی یہ فرمانا کہ ’’اپنے رب کی بڑائی کا علان کرو‘‘ اپنے ا ندر یہ مفہوم بھی رکھتا ہے کہ جو بڑی بڑی ہولناک طاقتیں اس کام میں تمہیں نظر آتی ہیں ان کی ذرا پروا نہ کرو اور صاف صاف کہہ دو کہ میرا رب ان سب سے زیادہ بڑا ہے جو میری اس دعوت کا راستہ روکنے کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ بڑی سے بڑی ہمیت افزائی ہے جو اللہ کا کام شروع کرنے والے کسی شخص کی کی جا سکتی ہے۔ اللہ کی کبریائی کا نقش جس آدمی کے دل پر گہرا جما ہوا ہو وہ اللہ کی خاطر اکیلا ساری دنیا سے لڑ جانے میں بھی ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے گا۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :4
4۔ یہ بڑے جامع الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔
ان کا ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے لباس کو نجاست سے پاک رکھو، کیونکہ جسم و لباس کی پاگیزگی اور روح کی پاکیزگی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک پاکیزہ روح گندے جسم اور ناپاک لباس میں نہیں رہ سکتی۔ رسول اللہ ﷺ جس معاشرے میں اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تھے وہ صرف عقائد اور اخلاق کی خرابیوں ہی میں مبتلا نہ تھا بلکہ طہارت و نظافت کے بھی ابتدائی تصورات تک سے خالی تھا، اور حضورؐ کا کام ان لوگوں کو ہر لحاظ سے پاکیزگی کا سبق سکھنا تھا۔ اس لیے آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اپنی ظاہری زندگی میں طہارت کا ایک اعلی معیار قائم فرمائیں۔ چنانچہ یہ اسی ہدایت کا ثمرہ ہے کہ حضورؐ نے نوع انسانی کو طہارت جسم و لباس کی وہ مفصل تعلیم دی ہے جو زمانہ جاہلیت کے اہل عرب تو درکنار، آج اس زمانے کی مہذب ترین قوموں کو بھی نصیب نہیں ہے، حتیٰ کہ دنیا کی بیشتر زبانوں میں ایسا کوئی لفظ تک نہیں پایا جاتا جو ’’طہارت‘‘ کا ہم معنی ہو۔ بخلاف اس کے اسلام کا حال یہ ہے کہ حدیث اور فقہ کی کتابوں میں اسلامی احکام کا آغاز ہی کتاب الطہارت سے ہوتا ہ ے جس میں پاکی اور ناپاکی کے فرق اور پاکیزگی کے طریقوں کو انتہائی تفصیلی جزئیات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
دوسرا مفہوم ان الفاظ کا یہ ہے کہ اپنا لباس صاف ستھرا رکھو۔ راہبانہ تصورات نے دنیا میں مذہبیت کا معیار یہ قرار دے رکھا تھا کہ آدمی جتنا زیاہ میلا کچیلا ہو اتنا ہی زیادہ مقدس ہوتا ہے۔ اگرکوئی ذ را اجلے کپڑے ہی پہن لیتا تو سمجھا جاتا تھا کہ وہ دنیا دارانسان ہے۔ حالانکہ انسانی فطرت میل کچیل سے نفرت کرتی ہے اور شائستگی کی معمولی حس بھی جس شخص کے اندر موجود ہو وہ صاف ستھرے انسان ہی سے مانوس ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے والے کے لیے یہ بات ضروری قرار دی گئی کہ اس کی ظاہری حالت بھی ایسی پاکیزہ اور نفیس ہونی چاہیے کہ لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کی شخصیت میں کوئی ایسی کثافت نہ پائی جاسے جو طبائع کو اس سے متنفر کرنے والی ہو۔
تیسرا مفہوم اس ارشاد کا یہ ہے کہ اپنے لباس کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھو۔ تمہارا لباس ستھرا اور پاکیزہ تو ضرور ہو، مگر اس میں فخر و غرور ، ریاء اور نمائش ، ٹھاٹھ اور شان و شوکت کا شائبہ تک نہ ہونا چاہیے۔ لباس وہ اولین چیز ہے جو آدمی کی شخصیت کا تعارف لوگوں سے کراتی ہے۔ جس قسم کا لباس کوئی شخص پہنتا ہے اس کو دیکھ کر لوگ پہلی نگاہ ہی میں یہ اندازہ کر لیتے ہیں کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔ ریئسوں اور نوابوں کے لباس، بد قوارہ اور آوار منش لوگوں کے لباس، سب اپنے پہننے والوں کے مزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اللہ کی طرف بلانے والے کا مزاج ایسے سب لوگوں سے فطرۃً مختلف ہوتا ہے، اس لیے اس کا لباس بھی ان سب سے لازماً مختلف ہونا چاہیے۔ اس کو ایسا لباس پہننا چاہیے جسے دیکھ کر ہر شخص یہ محسوس کر لے کہ وہ ایک شریف اور شائستہ انسان ہے جو نفس کی کسی برائی میں مبتلا نہیں ہے۔
چوتھا مفہوم اس کا یہ ہ ے کہ اپنا دامن پاک رکھو۔ ارد و زبان کی طرح عربی زبان میں بھی پاک دامنی کے ہم معنی الفاظ اخلاقی برائیوں سے پاک ہونے اور عمدہ اخلاق سے آراستہ ہونے کے لیے استعمال ہونے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ابن عباس ، ابراہیم نخعی، شعبی، عطاء مجاہد، قتادہ سعید بن جبیر، حسن بصری اور دوسرے اکابر مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اپنے اخلاق پاکیزہ رکھو اور ہر قسم کی برائیوں سے بچو۔ عربی محاورے میں کہتے ہیں کہ فلان طاہر الثیاب و فلان طاہر اذیل، ’’فلاں شخص کے کپڑے پاک ہیں یا اس کا دامن پاک ہے‘‘۔ اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق اچھے ہیں۔ اس کے برعکس کہتے ہیں فلان دنس الثیاب، ’’اس شخص کے کپڑے گندے ہیں‘‘ اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک بد معاملہ آدمی ہے، اس کے قول قرار کا کوئی اعتبار نہیں۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :5
5۔ گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے خواہ وہ عقائد اور خیالات کی ہو، یا اخلا ق و اعمال کی، یا جسم و لباس اور رہن سہن کی، مطلب یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش سارے معاشرے میں طرح طرح کی جو گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان سب سے ا پنا دامن بچا کر رکھو۔ کوئی شخص کبھی تم پر یہ حرف نہ رکھ سکے کہ جن برائیوں سے تم لوگوں کو روک رہے ہو ان میں سے کسی کا بھی کوئی شائبہ تمہاری اپنی زندگی میں پایا جاتا ہے۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :6
6۔ اصل الفاظ ہیں ولا تمنن تستکثر۔ ان کے مفہوم میں اتنی وسعت ہے کہ کسی ایک فقرے میں ان کا ترجمہ کر کے پورا مطلب ادا نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا ایک مفہوم یہ ہےکہ جس پر بھی احسان کرو بے غرضانہ کرو۔ تمہاری عطا اور بخشش اور سخاوت اور حسن سلوک محض اللہ کے لیے ہو، اس میں کوئی شائبہ اس خواہش کا نہ ہو کہ ا حسان کے بدلے میں تمہیں کسی قسم کی دنیوی فوائد حاصل ہوں۔ بالفاظ دیگر اللہ کے لیے احسان کرو، فائدہ حاصل کرنے کے لیے کوئی احسان نہ کرو۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نبوت کا جو کام تم کر رہے ہو یہ اگرچہ اپنی جگہ ایک بہت بڑا احسان ہے کہ تمہاری بدولت خلق خدا کو ہدایت نصیب ہو رہی ہے، مگر اس کا کوئی احسان لوگوں پر نہ جتاؤ اور اس کا کوئی فائدہ اپنی ذات کے لیے حاصل نہ کرو۔
تیسرا مفہوم یہ ہے کہ تم اگرچہ ایک بہت بڑی خدمت انجام دے رہے ہو، مگر اپنی نگاہ میں ا پنے عمل کو کبھی بڑا عمل نہ سمجھو اور کبھی یہ خیال تمہارے دل میں نہ آئے کہ نبوت کا یہ فریضہ انجام دے کر ، اور اس کام میں جان لڑا کر تم اپنے رب پر کوئی احسان کر رہے ہو۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :7
7۔ یعنی یہ کام جو تمہارے سپرد کیا جا رہا ہے، بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں سخت مصائب اور مشکلات اور تکلیفوں سے تمہیں سابقہ پیش آئے گا۔ تمہاری اپنی قوم تمہاری دشمن ہو جائے گی۔ سارا عرب تمہارے خلاف صف آرا ہو جائے گا۔ مگر جو کچھ بھی اس راہ میں پیش آئے اپنے رب کی خاطر اس پر صبر کرنا اور اپنے فرض کو پوری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دینا۔ اس سے باز رکھنے کے لیے خوف طمع ، لالچ، دوستی ، دشمنی، محبت ہر چیز تمہارے راستے میں حائل ہو گی۔ ان سب کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہنا۔
یہ تھیں وہ اولین ہدایات جو اللہ تعالی نے اپنے رسول کو اس وقت دی تھیں جب اس نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ اٹھ کر نبوت کے کام کا آغاز فرما دیں۔ کوئی شخص اگر ان چھوٹے چھوٹے فقروں پر اور ان کے معانی پر غور کرے تو اس کا دل گواہی دے گا کہ ایک نبی کو نبوت کا کام شروع کرتے وقت اس سے بہتر کوئی ہدایات نہیں دی جا سکتی تھیں۔ ان میں یہ بھی بتا دیاگ یا کہ آپ کو کام کیا کرنا ہے، اور یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ اس کام کے لیے آپ کی زندگی اور آپ کے اخلاف اور معاملات کیسے ہونے چاہیں ، اور یہ تعلیم بھی دی دی گئی کہ یہ کام آپ کس نیت ، کس ذہنیت اور کس طرزِ فکر کے ساتھ انجام دیں، اور اس بات سے بھی خبردار کر دیا گیا کہ اس کام میں آپ کو کن حالات سے سابقہ پیش آنا ہے اور ان کا مقابلہ آپ کو کس طرح کرنا ہو گا۔ آج جو لوگ تعصب میں اندھے ہو کر یہ کہتے کہ معاذ اللہ صرع کے دوروں میں یہ کلام رسول اللہ ﷺ کی زبان پر جاری ہو جایا کرتا تھا وہ ذرا آنکھیں کھول کر ان فقروں کو دیکھیں اور خود سوچیں کہ یہ صرع کے کسی دورے میں نکلے ہوئے الفاظ ہیں یا ایک خدا کی ہدایات ہیں جو رسالت کے کام پر مامور کرتے ہوئے وہ اپنے بندے کو دے رہا ہے؟
Post navigation

Leave a comment