Chapter 13: Ar-Ra’d

Introduction of the chapter in English &urdu, Arabic verses, English &urdu translation of the verses, links for Urdu footnotes of explanations

Name:

The word “Ar-Ra’d” (the Thunder) from the phrase in verse 13, “And the thunder glorifies Him with His praise, and so do the angels out of fear of Him,” has been designated as the name of this surah. This name does not mean that the surah discusses the phenomenon of thunder; rather, it merely serves as a marker indicating that this is the surah in which the word “Ar-Ra’d” occurs, or in which thunder is mentioned.

Period of Revelation:

The contents of Rukū 4 and Rukū 6 testify that this surah belongs to the same period as Surahs Yunus, Hud, and Al-A’raf — that is, the final phase of the Meccan period. The manner of expression makes it clear that a long time had already passed since the Prophet (peace be upon him) began inviting people to Islam; the opponents had been employing all sorts of schemes to defeat and frustrate his mission; the believers were repeatedly wishing that some miracle would be shown to bring these people onto the right path; and Allah was explaining to the Muslims that this is not the method He follows for guiding people to faith, and that if the enemies of the truth were being given more rope, this was nothing to be alarmed about. Furthermore, verse 31 shows that the disbelievers’ obstinacy had by then been demonstrated so many times over that it seemed entirely fitting to say that even if the dead were to rise from their graves, these people still would not believe, but would instead find some way to explain away even that event. All these indications suggest that this surah was revealed in the final period of the Meccan era.

Central Theme:

The purpose of the surah is presented right in its opening verse — namely, that what Muhammad (peace be upon him) is presenting is indeed the truth, but it is people’s own error that they fail to accept it. The entire discourse revolves around this central theme. Throughout, the truth of Tawhid (the Oneness of God), the Hereafter, and Prophethood is established repeatedly through various arguments; the moral and spiritual benefits of believing in them are explained; the harms of rejecting them are pointed out; and it is impressed upon the reader that disbelief is nothing but sheer folly and ignorance. Moreover, since the purpose of this entire discourse is not merely to satisfy the intellect but also to draw hearts toward faith, bare logical argumentation alone has not been relied upon. Instead, after presenting each argument and each piece of evidence, the discourse pauses to employ various methods of warning, admonition, encouragement, and compassionate exhortation, so that heedless people might abandon their misguided obstinacy.

Throughout the discourse, the objections of the opponents are answered at various points without being explicitly stated, and the doubts that existed in people’s hearts regarding Muhammad’s (peace be upon him) message — or that were being planted there by his opponents — are addressed and removed. Alongside this, comfort is also given to the believers, who, after years of prolonged and arduous struggle, were growing weary and anxiously awaiting divine help.

سُوْرَةُ الرَّعْد


نام :
آیت نمبر ۱۳ کے فقرے وَیَسْبِحُ الرَّ عْدُ بَحَمْدِ ہٖ اَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ کے لفظ الرد کو اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ اس نام کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سورۃ میں بادل کی گرج کے مسئلے سے بحث کی گئی ہے، بلکہ یہ صرف علامت کے طور پر یہ ظاہر کرتا ہےکہ یہ وہ سورۃ ہے جس میں لفظ الرعد آیا ہے ، یا جس میں رعد کا ذکر آیاہے۔ 
زمانۂ نزُول :
رکوع ۴ اور رکوع۶ کے مضامین شہادت دیتے ہیں کہ یہ سورۃ بھی اسی دور کی ہے جس میں سورہ یونس، ہود، اوراَعراف نازل ہوئی ہیں، یعنی زمانۂ قیام مکہ کا آخری دور۔ اندازِ بیان سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ایک مدت دراز گز ر چکی ہے، مخالفین زِک دینے اور آپ کے مشن کو ناکام کر نے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلتے رہے ہیں، مومنین بار بار تمنائیں کر رہے ہیں کہ کاش کو ئی معجزہ دکھا کر ہی ان لوگوں کو راہِ راست پر لایا جائے، اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھا رہا ہے کہ ایمان کی راہ دکھانے کا یہ طریقہ ہمارے ہاں رائج نہیں ہے اور اگر شمنانِ حق کی رسی دراز کی جا رہی ہے تو یہ ایسی بات نہیں ہے کہ جس سے تم گھبرا اُٹھو۔ پھر آیت ۳۱ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کفار کی ہٹ دھرمی کا ایسا مظاہرہ ہو چکا ہے جس کے بعد یہ کہنا بالکل بجا معلوم ہوتا ہے کہ اگر قبروں سے مردے بھی اُٹھ کر آجائیں تو یہ لوگ نہ مانیں گے بلکہ اس واقعے کی بھی کوئی نہ کوئی تاویل کر ڈالیں گے ۔ ان سب باتوًں سے یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ سورہ مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہو گی۔ 
مرکزی مضمون :
”سورۃ کا مدعا پہلے ہی آیت میں پیش کر دیا گیا ہے، یعنی یہ کہ جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے ہیں وہی حق ہے، مگر یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ اسے نہیں مانتے۔ ساری تقریر اسی مرکزی مضمون کے گرد گھومتی ہے۔ اس سلسلے میں بار بار مختلف طریقوں سے توحید ، معاد اور رسالت کی حقانیت ثابت کی گئی ہے ، ان پر ایمان لانے کے اخلاقی و روحانی قوائد سمجھائے گئے ہیں، ان کو نہ ماننے کے نقصانات بتائے گئے ہیں، اور یہ ذہن نشین کیا گیا ہے کہ کفر سراسر ایک حماقت اور جہالت ہے۔ پھر چونکہ اس سارے بیان کا مقصد محض دماغوں کو مطمئن کرنا ہی نہیں ، دلوں کو ایمان کی طرف کھینچنا بھی ہے، اس لیے نرے منطقی استدلال سے کام نہیں لیا گیا ہے بلکہ ایک ایک دلیل اور ایک ایک شہادت کو پیش کرنے کے بعد ٹھہر کر طرح طرح سے تخویف ، ، ترہیب،ترغیب ، اور مشفقانہ تلقین کی گئی ہے تاکہ نادان لوگوں اپنی گمراہانہ ہٹ دھرمی سے باز آجائیں۔
دورانِ تقریر میں جگہ جگہ مخالفین کے اعتراضات کا ذکر کئے بغیر ان کے جوابات دیے گئے ہیں، اور ان شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے تھے یا مخالفین کی طرف سے ڈالے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ اہلِ ایمان کو بھی جو کئی برس کی طویل اور سخت جدوجہد کی وجہ سے تھکے جا رہے تھے اور بے چینی کے ساتھ غیبی امداد کے منتظر تھے ، تسلی دی گئی ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓـمّٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ ؕ وَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱﴾ اَللّٰہُ الَّذِیۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَہَا ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّکُمۡ تُوۡقِنُوۡنَ ﴿۲﴾ وَ ہُوَ الَّذِیۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡہٰرًا ؕ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیۡہَا زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾ وَ فِی الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ زَرۡعٌ وَّ نَخِیۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّ غَیۡرُ صِنۡوَانٍ یُّسۡقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ ۟ وَ نُفَضِّلُ بَعۡضَہَا عَلٰی بَعۡضٍ فِی الۡاُکُلِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۴﴾ وَ اِنۡ تَعۡجَبۡ فَعَجَبٌ قَوۡلُہُمۡ ءَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا ءَ اِنَّا لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۬ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ الۡاَغۡلٰلُ فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۵﴾ وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبۡلَ الۡحَسَنَۃِ وَ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمُ الۡمَثُلٰتُ ؕ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغۡفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلۡمِہِمۡ ۚ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۶﴾ وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ ٪﴿۷﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔

I’m ا۔ل۔م۔ر، یہ کتاب الہٰی کی آیات ہیں، اور جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے، مگر ﴿تمہاری قوم کے﴾ اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔1
وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں2، پھر وہ اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا3، اور اُس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کاپابند بنایا۔4 اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقتِ مقرر تک کے لیے چل رہی ہے5 اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے6، شاید کہ تم اپنے ربّ کی ملاقات کا یقین کرو۔7
اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلا رکھی ہے، اس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دیے ہیں۔ اُسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں، اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے۔8 ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیےجو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
اور دیکھو، زمین میں الگ الگ خِطّے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں۔9 انگور کے باغ ہیں،کھیتیاں ہیں، کھجُور کے درخت ہیں جن میں کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے۔10 سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر۔ ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔11
اب اگر تمہیں تعجّب کرنا ہے تو تعجّب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ”جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سِروں سے پیدا کیے جائیں گے؟“ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ سے کُفر کیا ہے۔12 یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔13 یہ جہنّمی ہیں اورجہنّم میں ہمیشہ رہیں گے۔
یہ لوگ بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں14 حالانکہ ان سے پہلے ﴿ جو لوگ اس روش پر چلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی﴾ عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا ربّ سخت سزا دینے والا ہے۔
یہ لوگ جنہوں نے تمہاری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ” اِس شخص پر اِ س کے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتری؟“15۔۔۔۔ تم تو محض خبردار کر دینے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے۔16 ؏ ١

In the name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate.

Alif. Lam. Mim. Ra. These are the verses of the Divine Book; and what has been sent down to you from your Lord is the very truth, but most people ⟨of your nation⟩ do not believe.

It is Allah Who raised the heavens without any pillars that you can see, then established Himself on the throne of His Kingdom, and made the sun and the moon subservient to a law. Everything in this entire system is running its course until an appointed time, and it is Allah alone Who governs the whole affair. He explains the Signs in detail, so that you may become certain of meeting your Lord.

And it is He Who spread out this earth, set up mountains in it like pegs, and made rivers flow. He it is Who created every kind of fruit in pairs, and He it is Who causes the night to cover the day. Surely in all these things there are great Signs for those who reflect and ponder.

And behold, on the earth there are tracts lying side by side; there are vineyards, cultivated fields, and date palms — some growing from a single root and some from separate roots — all watered by the same water, yet We make some of them excel others in taste. Surely in all this there are many Signs for those who use their reason.

Now if you wish to marvel at something, then marvel at the saying of these people: “When we have turned to dust, shall we really be created anew?” These are the people who have disbelieved in their Lord. These are the ones who will have shackles round their necks. These are the inmates of Hell, and in it they shall abide forever.

These people are impatient, demanding evil to be hastened upon them even before good, although exemplary punishments have already befallen those before them ⟨who followed this same path⟩. The truth is that your Lord overlooks the wrongdoings of people despite their excesses; and it is equally true that your Lord is severe in punishment.

Those who have refused to accept your message say, “Why has no Sign been sent down to this man from his Lord?” You are only a warner, and for every people there is a guide.

اَللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی وَ مَا تَغِیۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَ مَا تَزۡدَادُ ؕ وَ کُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقۡدَارٍ ﴿۸﴾ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡکَبِیۡرُ الۡمُتَعَالِ ﴿۹﴾ سَوَآءٌ مِّنۡکُمۡ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَ مَنۡ جَہَرَ بِہٖ وَ مَنۡ ہُوَ مُسۡتَخۡفٍۭ بِالَّیۡلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّہَارِ ﴿۱۰﴾ لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ یَحۡفَظُوۡنَہٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِقَوۡمٍ سُوۡٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَہٗ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّالٍ ﴿۱۱﴾ ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنۡشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ ﴿ۚ۱۲﴾ وَ یُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِہٖ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ مِنۡ خِیۡفَتِہٖ ۚ وَ یُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیۡبُ بِہَا مَنۡ یَّشَآءُ وَ ہُمۡ یُجَادِلُوۡنَ فِی اللّٰہِ ۚ وَ ہُوَ شَدِیۡدُ الۡمِحَالِ ﴿ؕ۱۳﴾ لَہٗ دَعۡوَۃُ الۡحَقِّ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَجِیۡبُوۡنَ لَہُمۡ بِشَیۡءٍ اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیۡہِ اِلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُغَ فَاہُ وَ مَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ؕ وَ مَا دُعَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۱۴﴾ وَ لِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ ظِلٰلُہُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ ﴿ٛ۱۵﴾ قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلِ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَاتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ لَا یَمۡلِکُوۡنَ لِاَنۡفُسِہِمۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ اَمۡ ہَلۡ تَسۡتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوۡرُ ۬ۚ اَمۡ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ خَلَقُوۡا کَخَلۡقِہٖ فَتَشَابَہَ الۡخَلۡقُ عَلَیۡہِمۡ ؕ قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿۱۶﴾ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا فَاحۡتَمَلَ السَّیۡلُ زَبَدًا رَّابِیًا ؕ وَ مِمَّا یُوۡقِدُوۡنَ عَلَیۡہِ فِی النَّارِ ابۡتِغَآءَ حِلۡیَۃٍ اَوۡ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡحَقَّ وَ الۡبَاطِلَ ۬ؕ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذۡہَبُ جُفَآءً ۚ وَ اَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ ﴿ؕ۱۷﴾ لِلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمُ الۡحُسۡنٰی ؕؔ وَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَہٗ لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لَافۡتَدَوۡا بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الۡحِسَابِ ۬ۙ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿٪۱۸﴾

اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے۔ جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ با خبر رہتا ہے۔17 ہر چیز کے لیے اُس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے۔ وہ پوشیدہ اور ظاہر، ہر چیز کا عالِم ہے۔ وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالاتر رہنے والا ہے۔ تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھُپا ہُوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو، اس کے لیے سب یکساں ہیں۔ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔18 حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہو سکتا ہے۔19
وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور اُمیدیں بھی بندھتی ہیں۔ وہی ہے جو پانی سے لدے ہوئے بادل اُٹھاتا ہے۔ بادلوں کی گرج اُس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے20 اور فرشتے اُس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اُس کی تسبیح کرتے ہیں۔21 وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور ﴿بسا اوقات﴾ اُنہیں جس پر چاہتا ہے عین اس حالت میں گرا دیتا ہے جب کہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہے۔22
اسی کو پکارنا برحق ہے۔23 رہیں وہ دُوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاوٴں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ اُنہیں پُکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تُو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچے والا نہیں۔ بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرِ بے ہدف!وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعًا و کرہًا سجدہ کر رہی ہے24 اور سب چیزوں کے سائے صبح و شام اُس کے آگے جُھکتے ہیں۔25  السجدة ۲ 
اِن سے پوچھو، آسمان و زمین کا ربّ کون ہے؟۔۔۔۔ کہو، اللہ۔26 پھر، اِن سے کہو کہ جب حقیقت یہ ہے تو کیا تم نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھہرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟ کہو، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے؟27 کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں؟28 اور اگر ایسا نہیں تو کیا اِن کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیداکیا ہے کہ اُس کی وجہ سے اِن پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہو گیا؟۔۔۔۔29 کہو، ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے ، سب پر غالب!30
اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا پھر جب سیلاب اُٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آگئے۔31 اور ایسے ہی جھاگ اُن دھاتوں پر بھی اُٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں۔32 اِسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے۔
جن لوگوں نے اپنے ربّ کی دعوت قبول کر لی اُن کے لیے بھلائی ہے، اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کر لیں تو وہ خُدا کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔33 یہ وہ لوگ ہیں جن سے بُری طرح حساب لیا جائے گا* 34* اور اُن کا ٹھکانا جہنّم ہے، بہت ہی بُرا ٹھکانہ۔ ؏ ۲

Allah knows what every female bears in her womb, and He is aware of what the womb falls short of and what it exceeds. With Him everything has its appointed measure. He knows both what is hidden and what is manifest. He is Great and Most High. It is all the same to Him whether any of you speaks secretly or aloud, whether one hides in the darkness of night or moves about in the light of day. For each person there are angels appointed, both before him and behind him, who watch over him by Allah’s command. Indeed, Allah does not change the condition of a people until they change what is in themselves. And when Allah decides to bring about the ruin of a people, none can avert it, nor can such a people have any protector against Allah.

It is He Who shows you the lightning, inspiring both fear and hope, and it is He Who raises up the clouds heavy with water. The thunder glorifies Him with His praise, and so do the angels, trembling in awe of Him. He sends thunderbolts and strikes with them whomever He wills — even while people are disputing about Allah. Truly His plan is mighty indeed.

To call upon Him alone is the truth. As for those other beings whom they call upon besides Him, they cannot respond to them in any way. Calling upon them is like a man stretching out his hands toward water, asking it to reach his mouth, when it can never reach him. The prayers of the disbelievers are nothing but an arrow shot without aim. To Allah alone prostrates everything in the heavens and on the earth, willingly or unwillingly, and so do their shadows, morning and evening. [Sajdah]

Ask them: Who is the Lord of the heavens and the earth? Say: Allah. Then say to them: Since this is the truth, have you taken, besides Him, protectors who have no power even to benefit or harm themselves? Say: Can the blind and the seeing be equal? Or can light and darkness be alike? Or have the partners they have set up with Allah created anything like His creation, so that creation itself has become confused for them? Say: Allah alone is the Creator of everything, and He is the One, the Supreme, the Irresistible!

Allah sends down water from the sky, and every valley flows according to its capacity, and the flood carries along a swelling foam on its surface — and a similar kind of foam rises from the metals that people melt to make ornaments and vessels. In this way Allah illustrates truth and falsehood. As for the foam, it passes away as scum; but that which benefits mankind remains on the earth. Thus does Allah set forth His parables.

For those who have responded to their Lord’s call there is the best reward; but as for those who have not responded, even if they possessed all that is on the earth and as much more besides, they would gladly offer it all as ransom to save themselves — yet a severe reckoning awaits them, and their abode is Hell — how evil a resting place! [Section 2]

اَفَمَنۡ یَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ کَمَنۡ ہُوَ اَعۡمٰی ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿ۙ۱۹﴾ الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ لَا یَنۡقُضُوۡنَ الۡمِیۡثَاقَ ﴿ۙ۲۰﴾ وَ الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ وَ یَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴿ؕ۲۱﴾ وَ الَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً وَّ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ۙ۲۲﴾ جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدۡخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ ﴿ۚ۲۳﴾ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ؕ۲۴﴾ وَ الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۙ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۲۵﴾ اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ وَ فَرِحُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ ﴿٪۲۶﴾

بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے ربّ کی اِس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے، اور وہ شخص جو اس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے، دونوں یکساں ہو جائیں؟35 نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں۔36 اور ان کا طرز عمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں، اسے مضبوط باندھے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے۔37 ان کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے38 انہیں برقرار رکھتے ہیں،اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بُری طرح حساب نہ لیا جائے۔ اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے ربّ کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں39، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں، اور بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔40 آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے ، یعنی ایسے باغ جو ان کی ابدی قیام گاہ ہوں گے۔ وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباوٴ اجداد اور اُن کی بیویوں اور اُن کی اولاد میں سے جو جو صالح ہیں وہ بھی اُن کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے اور اُن سے کہیں گے کہ ”تم پر سلامتی ہے،41 تم نے دُنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِ س کے مستحق ہوئے ہو“۔۔۔۔پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر! رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، جو اُن رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔
اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلا رزق دیتا ہے۔42 یہ لوگ دُنیوی زندگی میں مگن ہیں ، حالانکہ دُنیا کی زندگی آخرت کے مقابلےمیں ایک متاعِ قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ؏ ۳

Is it then possible that the person who knows this Book which your Lord has sent down to you to be the truth, and the person who is blind to this reality, could be equal? Only people of understanding take heed. And their way is this: they fulfill their covenant with Allah and do not break it after having bound themselves firmly to it. Their conduct is such that they maintain those bonds and relationships which Allah has commanded to be maintained; they fear their Lord and dread the possibility of a severe reckoning. Their state is such that they remain steadfast in seeking their Lord’s pleasure, establish Prayer, spend out of what We have provided them, both openly and secretly, and repel evil with good. For such people is the reward of the Final Abode — everlasting gardens which they will enter, along with the righteous among their forefathers, their spouses, and their offspring. Angels will come to welcome them from every side, saying, “Peace be upon you! This is your reward today for the patience you observed” — how excellent is this Final Abode!

As for those who break Allah’s covenant after having bound themselves firmly to it, who sever the bonds that Allah has commanded to be joined, and who spread corruption in the earth — upon them is the curse, and theirs is the most evil abode in the Hereafter.

Allah grants abundant provision to whomever He wills, and gives in due measure to whomever He wills. These people are engrossed in the life of this world, whereas the life of this world, compared with the Hereafter, is nothing but a fleeting enjoyment. [Section 3]

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ اَنَابَ ﴿ۖۚ۲۷﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰی لَہُمۡ وَ حُسۡنُ مَاٰبٍ ﴿۲۹﴾ کَذٰلِکَ اَرۡسَلۡنٰکَ فِیۡۤ اُمَّۃٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہَاۤ اُمَمٌ لِّتَتۡلُوَا۠ عَلَیۡہِمُ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ ؕ قُلۡ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ اِلَیۡہِ مَتَابِ ﴿۳۰﴾ وَ لَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا سُیِّرَتۡ بِہِ الۡجِبَالُ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِہِ الۡاَرۡضُ اَوۡ کُلِّمَ بِہِ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلۡ لِّلّٰہِ الۡاَمۡرُ جَمِیۡعًا ؕ اَفَلَمۡ یَایۡـَٔسِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا تُصِیۡبُہُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَۃٌ اَوۡ تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمۡ حَتّٰی یَاۡتِیَ وَعۡدُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿٪۳۱﴾

یہ لوگ جنہوں نے ﴿ رسالتِ محمدی ؐ کو ماننے سے﴾ انکار کر دیا ہے کہتے ہیں ” اِس شخص پر اِس کے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتری؟“43۔۔۔۔کہو، اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رُجوع کرے۔44 ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے ﴿اِس نبی ؐ کی دعوت کو﴾ مان لیا ہے اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ خبر دار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے ۔ پھر جن لوگوں نے دعوتِ حق کو مانا اور نیک عمل کیے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لیے اچھا انجام ہے۔
اے محمد ؐ ، اِسی شان سے ہم نے تم کو رسُول بنا کر بھیجا ہے45، ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں، تا کہ تم اِن لوگوں کو وہ پیغام سُناوٴ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے، اِس حال میں کہ یہ اپنے نہایت مہربان خدا کے کافر بنے ہوئے ہیں۔46 اِن سےکہو کہ وہی میرا ربّ ہے ، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں،اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میں ملجا و ماویٰ ہے۔
اور کیا ہو جاتا اگر کوئی ایسا قرآن اُتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین شق ہو جاتی، یا مُردے قبروں سے نکل بولنے لگتے؟47﴿اِس طرح کی نشانیاں دِکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے﴾ بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔48 پھر کیا اہلِ ایمان ﴿ابھی تک کفّار کی طلب کے جواب میں کِسی نشانی کے ظہُور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ﴾ مایوس نہیں ہو گئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا ؟49 جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کُفر کا رویّہ اختیار کر رکھا ہے اُن پر ان کے کر تُو توں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کےگھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پُورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدوں کے خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ؏ ۴

Those who have refused ⟨to accept the Messengership of Muhammad⟩ say, “Why has no Sign been sent down to this man from his Lord?” Say: Allah lets go astray whomever He wills, and guides to Himself whoever turns to Him. Such are the people who have accepted ⟨the message of this Prophet⟩ and whose hearts find contentment in the remembrance of Allah. Be aware! It is in the remembrance of Allah alone that hearts find contentment. Those who have accepted the call to truth and done righteous deeds — they are the fortunate ones, and theirs is an excellent end.

O Muhammad, thus have We sent you forth as a Messenger, among a people before whom many other peoples have passed away, so that you may recite to them what We have revealed to you, even though they are disbelieving in their Most Merciful Lord. Say to them: He alone is my Lord; there is no god but Him; in Him alone have I placed my trust, and to Him alone shall I return.

And what would happen if a Qur’an were sent down by which the mountains could be set moving, or the earth could be cleft asunder, or the dead could be made to speak? ⟨Producing such Signs is not difficult⟩ — indeed, all power rests with Allah alone. Have the believers not yet realized ⟨despite still hoping for some Sign to appear in response to the disbelievers’ demand⟩ that had Allah so willed, He could have guided all mankind? As for those who have adopted an attitude of disbelief toward Allah, some calamity or other keeps befalling them because of their misdeeds, or it strikes near their homes, and this will go on until Allah’s promise is fulfilled. Surely Allah does not fail in His promise. [Section 4]

وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَمۡلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۳۲﴾ اَفَمَنۡ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ۚ وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡہُمۡ ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَہٗ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاہِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ؕ بَلۡ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مَکۡرُہُمۡ وَ صُدُّوۡا عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾ لَہُمۡ عَذَابٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۳۴﴾ مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ اُکُلُہَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّہَا ؕ تِلۡکَ عُقۡبَی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ٭ۖ وَّ عُقۡبَی الۡکٰفِرِیۡنَ النَّارُ ﴿۳۵﴾ وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ یُّنۡکِرُ بَعۡضَہٗ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ وَ لَاۤ اُشۡرِکَ بِہٖ ؕ اِلَیۡہِ اَدۡعُوۡا وَ اِلَیۡہِ مَاٰبِ ﴿۳۶﴾ وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ حُکۡمًا عَرَبِیًّا ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ ﴿٪۳۷﴾

تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جا چکا ہے، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخرِ کار ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔
پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفّس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے50 ﴿اُس کے مقابلے میں یہ جسارتیں کی جارہی ہیں51 کہ﴾ لوگوں نے اُس کے کچھ شریک ٹھہرا رکھے ہیں؟ اے نبی ؐ ، اِن سےکہو، ﴿اگر واقعی وہ خدا کے اپنے بنائے ہوئے شریک ہیں تو﴾ ذرا اُن کے نام لو کہ وہ کون ہیں؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا؟ تا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہو؟52 حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لیے اُن کی مکّاریاں53 خوشنما بنا دی گئی ہیں اور وہ راہِ راست سے روک دیے گئے ہیں54، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اُس کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے دُنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے ، اور آخرت کا عذاب اُس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ کوئی ایسا نہیں جو اُنہیں خدا سے بچانے والا ہو۔ خداترس انسانوں کے لیے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال ۔ یہ انجام ہے متقی لوگوں کا۔ اور منکرینِ حق کا انجام یہ ہےکہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے۔
اے نبی ؐ ، جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے ، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے۔ تم صاف کہہ دو کہ”مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراوٴ۔ لہٰذا میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجُوع ہے55۔“ اِسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمانِ عربی تم پر نازل کیا ہے۔ اب اگر تم نے اِس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے۔؏۵

Even before you, many Messengers were mocked, but I always gave respite to the deniers, and in the end I seized them — so behold how severe was My punishment!

Is He, then, Who watches over every soul, keeping account of all that it earns, ⟨like those who cannot⟩? Yet such is the audacity being shown against Him — that people have set up partners for Him! Say to them, O Prophet, “⟨If they are truly partners you have set up for God,⟩ then name them — who are they? Are you informing Allah of something on His earth that He does not know? Or are you merely uttering hollow words?” The truth is that their scheming has been made to seem fair to those who have refused to accept the call to truth, and they have been barred from the Straight Path. Whomever Allah lets go astray, none can show him guidance. For such people there is punishment in the life of this world, and the punishment of the Hereafter is far more severe. There is none who can save them from Allah.

The Paradise promised to the God-fearing has this description: beneath it rivers flow, its fruits are everlasting, and its shade is unending. This is the reward of the righteous, whereas the reward of those who deny the truth is the Fire of Hell.

O Prophet, those to whom We had given the Book before rejoice over this Book which We have sent down to you; yet among the various factions there are also those who deny some parts of it. Say plainly, “I have only been commanded to worship Allah and not to associate any partner with Him. To Him alone do I call, and to Him alone is my return.” Thus have We sent down this Qur’an in Arabic, containing this very guidance. Now if, after all the knowledge that has come to you, you were to follow the desires of these people, then you would have no protector or helper against Allah, nor could anyone save you from His seizure. [Section 5]

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً ؕ وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ ﴿۳۸﴾ یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ ۚۖ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ ﴿۳۹﴾ وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ وَ عَلَیۡنَا الۡحِسَابُ ﴿۴۰﴾ اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ وَ اللّٰہُ یَحۡکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکۡمِہٖ ؕ وَ ہُوَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۴۱﴾ وَ قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلِلّٰہِ الۡمَکۡرُ جَمِیۡعًا ؕ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الۡکُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿۴۲﴾ وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا ؕ قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۙ وَ مَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ ﴿٪۴۳﴾

تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسُول بھیج چکے ہیں اور اُن کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا۔56 اور کسی رسُول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لا دکھاتا۔57 ہر دَور کے لیے ایک کتاب ہے۔ اللہ جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، اُمُّ الکتاب اُسی کے پاس ہے۔58
اور اے نبی ؐ ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اِن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہُور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اُٹھا لیں، بہر حال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔59 کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اِس سرزمین پر چلے آرہے ہیں اور اس کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آرہے ہیں؟60 اللہ حکومت کر رہا ہے، کوئی اس کے فیصلوں پر نظرثانی کرنے والا نہیں ہے، اور حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ اِن سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں وہ بھی بڑی بڑی چالیں چل چکے ہیں 61، مگر اصل فیصلہ کُن چال تو پُوری کی پُوری اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کر رہا ہے، اور عنقریب یہ منکرینِ حق دیکھ لیں گے کہ انجام کس کا بخیر ہوتا ہے۔
یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔ کہو، ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے اور پھر ہر اُس شخص کی گواہی جو کتابِ آسمانی کا علم رکھتا ہے۔“62 ؏ ٦

Even before you, We sent many Messengers, and We made them men who ate food and walked in the markets, with wives and children. No Messenger had the power to bring forth any Sign except by Allah’s permission. For every era there is a Book. Allah blots out whatever He wills and confirms whatever He wills; with Him is the Mother of the Book.

And, O Prophet, whether We show you a part of the evil end We are threatening these people with during your own lifetime, or whether We take you away before it comes to pass, in either case your task is only to deliver the message; the reckoning is Our concern. Do these people not see that We are advancing upon this land, narrowing it down from every side? Allah is ruling, and none can reverse His decisions; He is swift in reckoning. Those who came before them also devised great schemes, but the truly decisive scheme belongs entirely to Allah. He knows what everyone is earning, and soon these deniers of the truth will see whose end is best.

These deniers say, “You have not been sent by Allah.” Say: “Allah’s testimony is sufficient between me and you, and so is the testimony of everyone who has knowledge of the heavenly Book.” [Section 6]

Leave a comment