Surah Ha-Mim as-Sajdah:52 Footnote 69

Rejection of Quran without evidence to backing up this claim?

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ ہُوَ فِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ

اے نبیؐ، ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور تم اس کا انکار کرتے رہے تو اس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہو گا جو اس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟69

سُوْرَةُ حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :69

69۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محض اس خطرے کی بنا پر ایمان لے آؤ کہ اگر کہیں یہ قرآن خدا ہی طرف سے ہوا تو انکار کر کے ہماری شامت نہ آ جاۓ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سر سری طور پر بے سوچے سمجھے تم انکار کر رہے ہو، اور بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجاۓ کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہو، اور خواہ مخواہ کی ضد میں آ کر مخالفت پر تل گۓ ہو، یہ کو ئی دانشمندی کی بات نہیں ہے۔ تم یہ دعویٰ تو نہیں کر سکتے کہ تمہیں اس قرآن کے خدا کی طرف سے نہ ہونے کا علم ہو گیا ہے اور تم یقین کے ساتھ یہ جان چکے ہو کہ خدا نے اسے نہیں بھیجا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسے کلام الہٰی ماننے سے تمہارا انکار علم کی بنا پر نہیں بلکہ گمان کی بنا پر ہے۔ جس کا صحیح ہونا اگر بادی النظر میں ممکن ہے تو غلط ہونا بھی ممکن ہے۔ اب ذرا ان دونوں قسم کے امکانات کا جائزہ لے کر دیک لو۔ تمہارا گمان فرض کرو کہ صحیح نکلا تو تمہارے اپنے خیال کے مطابق زیادہ بس یہی ہو گا کہ ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں یکساں رہیں گے، کیونکہ دونوں ہی کو مر کر مٹی میں مل جانا ہے، اور آگے کوئی زندگی نہیں ہے جس میں کفر و ایمان کے کچھ نتائج نکلنے والے ہوں ۔ لیکن اگر فی الواقع یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور وہ سب کچھ پیش آ گیا جس کی یہ خبر دے رہا ہے، پھر بتاؤ کہ اس کا انکار کر کے اور اس کی مخالفت میں اتنی دور جا کر تم کس انجام سے دوچار ہو گے۔ اس لیے تمہارا اپنا مفاد یہ تقاضا کرتا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر سنجیدگی کے ساتھ اس قرآن پر غور کرو۔ اور غور کرنے کے بعد بھی تم ایمان نہ لانے ہی کا فیصلہ کرتے ہو تو نہ لاؤ، مگر مخالفت پر کمر بستہ ہو کر اس حد تک آگے تو نہ بڑھ جاؤ کہ جھوٹ اور مکر و تلبیس اور ظلم و ستم کے ہتھیار اس دعوت کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کرنے لگو، اور خود ایمان نہ لانے پر اکتفا نہ کر کے دوسوں کو بھی ایمان لانے سے روکتے پھرو۔

Surah Ha-Mim as-Sajdah, Footnote 69

This does not mean that you should embrace faith merely out of the risk that, if the Qur’an should turn out to be from God, disaster might befall you for having denied it. Rather, it means this: the manner in which you are rejecting it hastily and without reflection—stopping your ears instead of trying to listen and understand, and digging in out of sheer stubbornness—is simply not wise. You cannot claim to know for certain that this Qur’an is not from God; you have not arrived at any certain knowledge that God did not send it. Clearly, then, your denial that it is divine speech rests not on knowledge but on conjecture—conjecture which, on the face of it, could just as easily turn out to be wrong as right. Now consider both possibilities. Suppose your conjecture turns out to be correct: by your own reckoning, the most that would follow is that believers and disbelievers end up the same, since both must die and return to dust, with no further life in which faith or disbelief would produce any consequence. But if this Qur’an really is from God, and everything it warns of comes to pass, then consider what fate you will meet after denying it and opposing it so vehemently. Your own interest, then, demands that you set aside stubbornness and obstinacy and reflect seriously on this Qur’an. And if, even after reflecting, you still decide not to believe, then do not believe—but do not go so far in your opposition that you resort to lies, deception, and oppression to block this message’s path, and, not content with withholding your own faith, go on to obstruct others from believing as well.

Leave a comment