اسلام کے مقدس مقامات کی تولیت کی تاریخ

English version: https://voiceofquran5.com/2026/09/15/islamic-holy-places-full-timeline-of-custodianship/

دورِ جاہلیت (اسلام سے پہلے)

  • مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ اسلام سے پہلے ہی حج اور تجارت کا اہم مرکز تھا، جو ابراہیمی روایت (حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام) سے منسوب تھا، لیکن پانچویں چھٹی صدی عیسوی تک اس کے گرد بت پرستی کی رسومات جمع ہو چکی تھیں۔
  • تولیت قبائلی بنیاد پر تھی۔ قصی بن کلاب (نبی کریم ﷺ کے براہ راست جد، تقریباً پانچویں صدی عیسوی) نے قریش کے قبائل کو متحد کیا اور کعبہ کے گرد اہم مناصب منظم کیے:
    • سدانہ/حجابہ – کعبہ کی چابیوں اور دروازے کی نگہداشت
    • سقایہ – حجاج کو پانی پلانا
    • رفادہ – حجاج کی خوراک کا انتظام
    • لواء – پرچم برداری
  • یہ مناصب بعد میں قریش کے مختلف قبائل میں تقسیم ہو گئے — حجابہ (چابی کی نگہداشت) بنو عبد الدار کو ملی، اور نبی کریم ﷺ کے دور تک یہ ذمہ داری بنو شیبہ کی شاخ کے پاس تھی۔

نبی کریم ﷺ اور اسلامی ریاست کا قیام

  • 610ء – وحی کا آغاز۔
  • 622ء – ہجرتِ مدینہ؛ مدینہ پہلی اسلامی ریاست بنا، جسے اپنا مقدس حرم کا درجہ بھی حاصل تھا۔
  • 630ء – فتح مکہ: نبی کریم ﷺ نے کعبہ کو بتوں سے پاک کیا مگر چابی عثمان بن طلحہ (بنو شیبہ) کے حوالے کر دی — اپنے قبیلے کو یہ منصب دینے کے بجائے پرانے تولیت دار خاندان کی عزت افزائی کی، جو نبوی عدل کی مشہور مثال ہے۔ یہ تولیت (سدانہ) آج تک بنو شیبہ کی نسل کے پاس رسمی طور پر موجود ہے۔
  • حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ نے کعبہ کی چھت سے اذان دی، جو نئے دینی نظام کی علامت تھی۔
  • مسجدِ نبوی اور اس کے حرم کا درجہ خود نبی کریم ﷺ نے قائم فرمایا۔

خلافتِ راشدہ (632–661ء)

  • ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کو حجاز اور مقدس مقامات پر مجموعی سیاسی اقتدار حاصل تھا، اگرچہ کعبہ کی روزمرہ تولیت بنو شیبہ کے پاس ہی رہی۔
  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ اور مدینہ میں مسجد کی حدود کو وسعت دی اور حج کے انتظامات کو باقاعدہ بنایا۔
  • بیت المقدس حضرت عمر کے دور میں (637ء) مسلمانوں کے زیرِ اقتدار آیا، اور مسجد اقصیٰ/حرمِ شریف کا علاقہ تیسرے مقدس ترین مقام کے طور پر ترقی پایا۔

خلافتِ امویہ (661–750ء)

  • دارالحکومت دمشق منتقل ہوا؛ حجاز ایک صوبہ بن گیا، کبھی کبھار بغاوت کا مرکز بھی رہا (مثلاً عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی مخالف خلافت، 683–692ء، جس دوران کعبہ کو نقصان پہنچا اور دوبارہ تعمیر کیا گیا)۔
  • عبدالملک بن مروان نے بیت المقدس میں قبۃ الصخرہ (Dome of the Rock) تعمیر کروائی (691ء)، جس سے تیسرے حرم میں اموی تعمیراتی اور دینی سرمایہ کاری مستحکم ہوئی۔

خلافتِ عباسیہ (750–1258ء)

  • حجاز کا انتظام مقرر کردہ گورنروں اور بعد میں شرافتِ مکہ کے ذریعے چلایا گیا — یہ ایک موروثی مقامی قیادت تھی جو نبی کریم ﷺ کے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی نسل سے تھی، جو تقریباً دسویں صدی عیسوی میں باقاعدہ قائم ہوئی اور بیسویں صدی تک مختلف شکلوں میں جاری رہی۔
  • عباسی خلفاء نے حجاج کے لیے کنویں، راستے اور تعمیرات کے لیے فنڈ فراہم کیا (مثلاً ہارون الرشید کی زوجہ زبیدہ کی نہر)۔

دورِ انتشار: فاطمی، ایوبی، مملوک (دسویں تا سولہویں صدی)

  • فاطمی (شیعہ، مصر بنیاد) نے دسویں سے بارہویں صدی میں حجاز پر اثر و رسوخ کے لیے کوششیں کیں۔
  • صلاح الدین ایوبی/ایوبیوں نے 1187ء میں صلیبیوں سے بیت المقدس واپس لیا، جس سے وہاں مسلم تولیت بحال ہوئی۔
  • مملوک سلطنت (قاہرہ، 1250–1517ء) کو مکہ اور مدینہ پر باقاعدہ بالادستی حاصل تھی، جو مکہ کے مقامی اشراف کے ساتھ مل کر کام کرتی تھی، اور حرمین کی تعمیرات کے بڑے سرپرست تھے۔

دورِ عثمانیہ (1517–1924ء)

  • 1517ء – سلطان سلیم اول نے مملوکوں کو شکست دی اور تولیت سنبھالی، خادم الحرمین الشریفین کا لقب اختیار کیا۔
  • شرافتِ مکہ عثمانی بالادستی کے تحت مقامی موروثی حکمرانی کے طور پر جاری رہی، روزمرہ امور سنبھالتی رہی جبکہ عثمانی سلطنت فنڈنگ، سیکیورٹی، اور ہر سال کسوہ (کعبہ کا غلاف) اور محمل قافلہ فراہم کرتی رہی۔
  • عثمانیوں نے بیت المقدس کا انتظام بھی سنبھالا، شہر کی فصیل دوبارہ تعمیر کروائی (سلطان سلیمان القانونی) اور مسجد اقصیٰ/قبۃ الصخرہ کی دیکھ بھال کی۔
  • یہ انتظام تقریباً 400 سال تک قائم رہا۔

عبوری دور (1916–1932ء)

  • 1916ء – بغاوتِ عرب: مکہ کے شریف حسین بن علی نے، برطانوی حمایت سے، عثمانی حکومت کے خلاف بغاوت کی اور خود کو “بادشاہِ حجاز” قرار دیا۔
  • 1924ء – عثمانیوں کے خلافت ختم کرنے کے بعد شریف حسین نے مختصر طور پر خلافت کا دعویٰ کیا — جسے وسیع پیمانے پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
  • 1924–1925ء – ابن سعود (عبدالعزیز آل سعود) کی سعودی-وہابی افواج نے حجاز فتح کیا، مکہ اور مدینہ پر ہاشمی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ یہ ایک تاریخی اور سیاسی طور پر حساس واقعہ ہے — اس کی حیثیت اور دینی تناظر پر مختلف مآخذ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
  • 1932ء – ابن سعود نے اپنی سلطنتوں کو مملکتِ سعودی عرب کے نام سے متحد کیا۔

جدید دور (1932ء تا حال)

  • سعودی شاہی خاندان نے خادم الحرمین الشریفین کا لقب اختیار کیا — یہ باقاعدہ طور پر 1986ء میں شاہ فہد نے اپنایا، “عزت مآب” کے بجائے، تاکہ حکومت کی بنیاد بادشاہت کے بجائے دینی خدمت پر رکھی جائے۔
  • سعودی حکومت اس کے بعد سے حج/عمرہ کے انتظامات، مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی توسیع، اور دونوں مقامات پر سیکیورٹی کی ذمہ دار ہے۔
  • نوٹ: سعودی تولیت مسلم دنیا کے بعض حلقوں میں متنازعہ موضوع ہے — کچھ (بشمول حریف ریاستیں اور اسلام پسند تحریکیں) سعودی جواز یا طرزِ حکومت پر اعتراض کرتے ہیں، جبکہ دیگر اسے تاریخی اسلامی تولیتی روایت کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ اس معاملے کو غیرجانبداری سے پیش کرنا مناسب ہو گا۔
  • کعبہ کے دروازے کی چابی کی نگہداشت (سدانہ) آج بھی رسمی طور پر بنو شیبہ کی نسل کے پاس ہے، جو نبی کریم ﷺ کے 630ء کے فیصلے سے بلاتعطل چلی آ رہی ہے — اسلامی تاریخ کے قابلِ ذکر تسلسل میں سے ایک۔
  • بیت المقدس/مسجد اقصیٰ کی تولیت آج باقاعدہ طور پر اردنی ہاشمی تولیت کے پاس ہے (معاہدوں اور وقف انتظامات سے تصدیق شدہ)، جو حجاز کے مقامات سے الگ انتظام ہے — یہ خود بھی جاری علاقائی سیاسی تنازعات کا حصہ ہے۔

کعبہ کی تاریخ میں کئی بار انہدام اور تعمیرِ نو

کعبہ کی تاریخ میں کئی بار انہدام اور تعمیرِ نو ہوئی ہے۔ تاریخی ترتیب درج ذیل ہے:

1۔ قبل از اسلام کی ابتدا اسلامی روایت کے مطابق کعبہ کی تعمیر (یا از سرِ نو تعمیر) حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے کی، جیسا کہ قرآن (2:127) میں مذکور ہے۔ اس سے پہلے کی تاریخی تہیں بعض روایات میں حضرت آدم علیہ السلام سے منسوب کی جاتی ہیں، لیکن یہ قابلِ اعتماد تاریخی ریکارڈ سے پہلے کا معاملہ ہے۔

2۔ قریش کے ہاتھوں تعمیرِ نو (تقریباً 605ء، نبوت سے پہلے) ایک سیلاب نے کعبہ کی دیواروں کو نقصان پہنچایا۔ قریش نے اسے دوبارہ تعمیر کیا، اور نبی کریم ﷺ — جن کی عمر اُس وقت تقریباً 35 برس تھی — نے خود پتھر اٹھا کر تعمیر میں حصہ لیا۔ یہی وہ موقع تھا جب آپ ﷺ نے حجرِ اسود کی جگہ رکھنے کے مشہور فیصلے میں ثالثی فرمائی۔ پاکیزہ مال کی کمی کی وجہ سے قریش نے شمال مغربی جانب کا ایک حصہ چھوڑ دیا، جسے اب حجرِ اسماعیل/حطیم کہا جاتا ہے، جس سے تعمیر ابراہیمی طوالت سے کم ہو گئی۔

3۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیرِ نو (683–684ء / 64–65ھ) اموی-زبیری خانہ جنگی کے دوران، پہلے محاصرۂ مکہ (683ء) میں کعبہ آگ اور منجنیق کے پتھروں سے متاثر ہوا؛ روایت ہے کہ حجرِ اسود ٹکڑوں میں ٹوٹ گیا اور اسے چاندی سے جوڑا گیا۔ ابن زبیر نے پھر اسے مکمل طور پر منہدم کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بتائے گئے طول و عرض کے مطابق دوبارہ تعمیر کیا — حجرِ اسماعیل کو عمارت میں شامل کیا اور زمینی سطح پر دروازے بنائے۔

4۔ حجاج بن یوسف کے ہاتھوں انہدام اور تعمیرِ نو (692–693ء / 73ھ) عبداللہ بن زبیر کو شکست دینے کے بعد، حجاج نے — خلیفہ عبدالملک بن مروان کی جانب سے — ابن زبیر کی تعمیر شدہ عمارت کو منہدم کر کے دوبارہ قریش کے دور کی چھوٹی طوالت پر تعمیر کیا، اور حجرِ اسماعیل کو دوبارہ عمارت سے خارج کر دیا۔ یہی وہ شکل ہے جو آج تک برقرار ہے۔

5۔ قرامطہ کا حملہ (930ء) قرامطہ نے مکہ پر حملہ کیا، حاجیوں کو قتل کیا، اور حجرِ اسودخود اٹھا کر مشرقی عرب لے گئے۔ اسے فدیہ دے کر تقریباً 951–952ء میں واپس لایا گیا۔ اس موقع پر عمارت کا بنیادی ڈھانچہ دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا، لیکن یہ ایک بڑا واقعہ ہے جس کا ذکر ضروری ہے۔

6۔ عثمانی دور کی تعمیرِ نو (1629–1630ء / 1039–1040ھ) 1611ء اور پھر 1629ء کے شدید سیلابوں کی وجہ سے دیواریں گر گئیں (صرف جنوبی دیوار باقی رہی)۔ سلطان مراد چہارم کے دور میں، کعبہ کو حجاج کی قائم کردہ بنیاد پر گرینائٹ پتھروں سے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ یہی وہ ڈھانچہ ہے جو آج تک بنیادی طور پر برقرار ہے — بعد کے کام (1993-94، 1996-97) مکمل انہدام کی بجائے دیواروں/بنیادوں/چھت کی مرمت پر مشتمل تھے۔

آپ کے تحریری کام کے لیے نوٹ: ابن زبیر سے حجاج تک کا واقعہ تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ تفصیلی ہے (جو سنی حدیث لٹریچر — مثلاً صحیح مسلم/بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت جس میں نبی کریم ﷺ نے حجرِ اسماعیل کو کعبہ میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی — اور امام طبری اور امام ازرقی کی “اخبار مکہ” جیسی کلاسیکی تاریخی کتب میں محفوظ ہے)۔ اگر آپ چاہیں تو میں وہ مخصوص حدیث بھی نکال سکتا ہوں جس میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اگر قریش نے حال ہی میں اسلام قبول نہ کیا ہوتا تو آپ حجرِ اسماعیل کو شامل کر دیتے — کیونکہ یہی وہ متنی بنیاد ہے جس کی بنا پر ابن زبیر نے اپنی تعمیرِ نو کی۔

Leave a Reply