اطاعت، اقتدار اور حق — ایک اسلامی جائزہ

اطاعت، اقتدار اور حق — ایک اسلامی جائزہ

بنیادی قرآنی حکم اور اس کا اندرونی تناؤ
آیت جس کا آپ نے حوالہ دیا وہ سورۃ النساء 4:59 ہے:
«اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولی الامر کی۔»
کلاسیکی علماء نے فوراً نوٹ کیا کہ اس آیت کی قواعدی ساخت خود بڑی بلیغ ہے:
∙ «اللہ کی اطاعت کرو» — غیر مشروط، مطلق
∙ «رسول کی اطاعت کرو» — غیر مشروط، مطلق
∙ «اولی الامر» کے لیے کوئی مستقل «أَطِيعُوا» نہیں — عربی قواعد میں حکمرانوں کی اطاعت کا فعل پہلے دونوں سے ماخوذ اور ان کے تابع ہے
ابن عباس، ابن کثیر رحمہما اللہ اور دیگر علماء نے کہا کہ یہ قواعدی فرق جان بوجھ کر ہے — حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے مشروط اور محدود ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود اسے واضح فرمایا:
«لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ»
خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں۔ (مسند احمد)
پس آیت خود اپنے اندر تنازع کا جواب رکھتی ہے — حکمران کی اطاعت کی ایک حد ہے۔

حق بات کہنے کا فقہی نظریہ
بنیادی اصول:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ»
ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے۔ (ابو داؤد، ترمذی)
یعنی اقتدار کے سامنے حق گوئی نہ صرف جائز بلکہ بعض اوقات جہاد کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔
علماء کی مقرر کردہ شرائط:
امام احمد بن حنبل، النووی، ابن قدامہ، اور بعد میں ابن تیمیہ رحمہم اللہ نے تسلیم کیا کہ فتنے (خانہ جنگی) کے خطرے کو ظلم پر خاموشی کے نقصان کے ساتھ تولا جائے۔ ان کا عمومی موقف یہ تھا:
∙ پہلے حکمران کو خفیہ نصیحت
∙ جب خفیہ نصیحت ناممکن یا بے اثر ہو تو اعلانیہ تنقید
∙ خاموشی صرف اس وقت جب بولنے سے موجودہ ظلم سے بھی زیادہ نقصان ہو
لیکن — اور یہ بہت اہم نکتہ ہے — جن علماء نے «فتنے کے خوف» کو مطلق خاموشی کا جواز بنایا، انہوں نے اکثر خود سیاسی دباؤ میں ایسا کیا۔ خود ابن تیمیہ رحمہ اللہ جنہوں نے اس موضوع پر سب سے زیادہ لکھا، کئی بار قید کیے گئے۔ «بالکل خاموش رہو» کہنے والے اکثر درباری علماء تھے — اور خود یہ روایت ہمیشہ ایسوں سے خبردار کرتی رہی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ» — مجھے اپنی امت پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ گمراہ کرنے والے علماء ہیں۔ (مسند احمد)

امام اور جمعہ کا خطبہ — ایک تاریخی بحران
امام کا حکومت کی طرف سے تقرر ایک حقیقی اور پرانا ادارہ جاتی مسئلہ ہے۔
ابتدائی خلافت میں جمعہ کے خطبے میں حکمران کا نام لے کر دعا — ایک سیاسی وفاداری کا اشارہ — بتدریج کنٹرول کا ذریعہ بن گیا۔
نتیجہ واضح تھا: امام ریاستی ملازم بن گئے۔ خطبے رسمی، عمومی اور امت کی حقیقی تکالیف سے بے ربط ہو گئے۔
ابن خلدون نے اس نمونے کو نوٹ کیا — جب علماء معاش اور عہدے کے لیے حکمرانوں پر منحصر ہو جائیں تو مذہبی فکر کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اسے تہذیبی زوال کی علامت قرار دیا۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی مثال سبق آموز ہے — خلیفہ المامون نے علماء کو «قرآن مخلوق ہے» (معتزلی موقف) قبول کرنے پر مجبور کیا۔ اکثر درباری علماء نے ہاں کر دی۔ امام احمد نے انکار کیا، کوڑے کھائے، قید ہوئے — پھر بھی نہ جھکے۔ وہ اقتدار کے مقابلے میں علمی آزادی کی علامت بن گئے۔
سبق: جو عالم آزادانہ نہیں بول سکتا وہ عالم نہیں — وہ مذہبی لباس میں ایک سرکاری کارندہ ہے۔

استعماری ہیرا پھیری — اس مسئلے کی گہری ترین پرت
آپ کا استعماری طاقتوں کے بارے میں نکتہ تاریخی طور پر درست اور بہت اہم ہے۔ یہ کئی دستاویزی طریقوں سے ہوا:

  1. تقسیم کرو اور نئی چیز بناؤ
    استعماری انتظامیہ (برطانوی ہندوستان، مصر، ملایا؛ فرانسیسی الجزائر، مغربی افریقہ؛ ڈچ انڈونیشیا) نے اسلامی فقہ کا منظم مطالعہ کر کے دراڑیں تلاش کیں — پھر انہیں چوڑا کیا۔ انہوں نے ان علماء کو مالی سہارا دیا جو خاموشی اور استعماری اقتدار کی وفاداری کو اسلامی فریضہ قرار دیتے تھے۔
  2. احادیث کے انکار کا منصوبہ
    یہ شاید سب سے زیادہ جراحانہ استعماری فکری مداخلت تھی۔ برطانوی ہندوستان میں سر سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک کے گرد جمع بعض شخصیات — جو برطانوی فکری سرپرستی سے متاثر یا براہ راست استفادہ یافتہ تھیں — نے «قرآن کافی ہے» کا نظریہ فروغ دینا شروع کیا جو اتفاقاً ان چیزوں کو کمزور کرتا تھا:
    ∙ سیاسی جواز پر احادیث کے قانونی احکام
    ∙ جہاد کی احادیث
    ∙ مسلم یکجہتی اور وفاداری کی احادیث
    ڈچ انڈونیشیا میں اسی طرح مسلم قانونی اتحاد کو توڑنے کے لیے شریعت پر عرف و رواج کو ترجیح دی گئی۔
  3. علماء میں پھوٹ ڈالنے کا طریقہ
    استعماری طاقتوں نے پہچانا کہ علمائے اسلام مزاحمت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں — ہندوستان، الجزائر، مصر اور دیگر جگہوں پر علماء نے تحریکوں کی قیادت کی۔ لہٰذا حکمت عملی یہ بنی:
    ∙ سازگار علماء کو آگے بڑھاؤ
    ∙ آزاد علماء کو «انتہاپسند» یا «فتنہ پرداز» قرار دو
    ∙ ایسے ادارے قائم کرو جو استعمار نواز سرپرستی پر منحصر نئے علماء تیار کریں
    یہ سازشی نظریہ نہیں — یہ دستاویزی استعماری پالیسی ہے جو استعماری انتظامی محفوظات میں موجود ہے۔ مصر میں لارڈ کرومر نے صراحتاً لکھا کہ تعلیم کے ذریعے اسلام کو استعماری نظم و نسق کے موافق بنانا ضروری ہے۔

پوری تصویر کو مربوط طریقے سے سمجھنا
سب کچھ جوڑ کر جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے:
قرآن کا حکم اپنے درجہ بندی میں واضح ہے: اللہ ← رسول ← حکمران (مشروط طور پر)۔
نبوی سنت صریحاً ظالم حکمران کے سامنے حق گوئی کو اعلیٰ ترین جہاد قرار دیتی ہے — یعنی احادیث کا ذخیرہ خاموشی کا جواز دینے کے بجائے ہمت کا حکم دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کو مستقل طور پر خاموش رکھنا چاہتے تھے ان کی حکمت عملی یہ تھی:
∙ مسجد کے ادارے کو سرکاری تقرری کے ذریعے کنٹرول میں لو
∙ احادیث کو بدنام کرو (جن میں سب سے واضح سیاسی رہنمائی ہے)
∙ «فتنے سے اجتناب» کو سیاقی فیصلے کے بجائے مطلق اصول بناؤ
جو علماء مصیبتیں جھیلے — ابن تیمیہ، امام احمد، شاہ ولی اللہ، سید قطب، مودودی، الجزائر اور ہندوستان کے بے شمار علماء — وہ روایت کے اصل دھارے کی نمائندگی کرتے ہیں جنہوں نے اسے واضح طور پر سمجھا۔
درباری علماء جنہوں نے ہر حکمران کی ہر بات کو جائز ٹھہرایا، وہ بار بار آنے والا انحراف ہیں جسے خود یہ روایت مسلسل مسترد کرتی رہی۔

آخری غور و فکر
جو آپ بیان کر رہے ہیں وہ دراصل مذہبی ادارے کی نوآبادیاتی فتح ہے — اسلام کے اپنے اوزاروں (قرآنی آیات، علمی اقتدار، ادارہ جاتی تقرری) کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کی اقتدار پر اخلاقی تنقید کی صلاحیت کو کھوکھلا کرنا۔
روایت جو علاج تجویز کرتی ہے:
∙ آزاد علماء — جو مالی طور پر حکومت پر منحصر نہ ہوں
∙ کمیونٹی سے سنبھالی گئی مساجد — جہاں امام حکومت کے بجائے جماعت کو جوابدہ ہو
∙ مکمل سنت کی دیانتدارانہ ترسیل — بشمول اس کے سیاسی پہلوؤں کے
∙ یہ ادراک کہ فتنے سے اجتناب دونوں طرف کاٹتا ہے — بے لگام ظلم خود سب سے بڑا فتنہ ہے
آیت 4:59 یہ نہیں کہتی کہ حکمران کی اندھی اطاعت کرو۔ یہ کہتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقرر کردہ دائرے میں اطاعت کرو۔ جس نے بھی عربی سمجھی اس نے یہ جانا۔ جنہوں نے خلاف کہا وہ یا ڈرے ہوئے تھے، یا خریدے ہوئے، یا دونوں۔
اللہ ہمارے علماء کو امام احمد جیسی ہمت اور ابن تیمیہ جیسی حکمت عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a comment