comprehensive understanding of these verses (74:11–25) with their context:
ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا ﴿ۙ۱۱﴾ وَّ جَعَلۡتُ لَہٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ﴿ۙ۱۲﴾ وَّ بَنِیۡنَ شُہُوۡدًا ﴿ۙ۱۳﴾ وَّ مَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمۡہِیۡدًا ﴿ۙ۱۴﴾ ثُمَّ یَطۡمَعُ اَنۡ اَزِیۡدَ ﴿٭ۙ۱۵﴾ کَلَّا ؕ اِنَّہٗ کَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیۡدًا ﴿ؕ۱۶﴾ سَاُرۡہِقُہٗ صَعُوۡدًا ﴿ؕ۱۷﴾ اِنَّہٗ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ ﴿ۙ۱۸﴾ فَقُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۱۹﴾ ثُمَّ قُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۲۰﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿ۙ۲۱﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَ ﴿ۙ۲۲﴾ ثُمَّ اَدۡبَرَ وَ اسۡتَکۡبَرَ ﴿ۙ۲۳﴾ فَقَالَ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ یُّؤۡثَرُ ﴿ۙ۲۴﴾ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ ﴿ؕ۲۵﴾
چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص10 کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا11، بہت سامال اُس کو دیا، اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے12، اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دُوں13۔ ہر گز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے۔ میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواوٴں گا۔ اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی ، تو خدا کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں ، خدا کی مار اُس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر ﴿لوگوں کی طرف﴾ دیکھا۔ پھر پیشانی سکیڑی اور مُنہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبُّر میں پڑ گیا۔ آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادُو جو پہلے سے چلا آرہا ہے، یہ تو ایک انسانی کلام ہے14
Multi lingual translations link:
Intellectual arrogance: multilingual article
The Subject: Walid ibn Mughirah
The passage is about Walid ibn Mughirah, one of the wealthiest and most powerful chiefs of Makkah. Allah addresses the Prophet ﷺ saying: “Leave him to Me” — meaning, do not let this man’s opposition burden you; his reckoning is with Allah directly.
What Allah Had Granted Him
Allah reminds us of the immense favours bestowed upon Walid:
∙ Created alone — born with nothing; everything he had came solely from Allah
∙ Abundant wealth — he was among the richest men of Arabia
∙ Sons always present — ten to twelve sons, prominent and powerful, always at his side
∙ Smooth path to power — Allah paved the way for his social and political dominance
Despite all this, he still craved more — reflecting the insatiable nature of a heart disconnected from gratitude.
His Fatal Flaw: Wilful Hostility
Allah states clearly: “He has been stubbornly hostile to Our signs.”
This is the key diagnosis. His rejection was not due to ignorance or genuine doubt. He knew — his heart had already recognised the Quran as divine. His hostility was wilful, driven purely by ego and worldly self-interest.
The Conference Scene — A Portrait of Inner Conflict
The Quraysh leaders held a conference to decide what to tell the pilgrims about the Prophet ﷺ. They needed a unified label — sorcerer? Poet? Madman?
Walid, being the most senior and intellectually respected, was asked to decide. The Quran captures what happened next in stunning psychological detail: Action Meaning “He thought and schemed” He deliberated carefully “May he be accursed” (repeated twice) Divine condemnation of his scheming “Then he looked around” Gauged public reaction, weighed his options “He frowned and scowled” His conscience was troubling him visibly “He turned back and waxed arrogant” Chose pride over truth “He said: this is magic” Settled on his slander despite knowing better
This sequence is one of the most psychologically precise descriptions in the Quran — capturing a man fighting his own conscience in real time and losing.
The Verdict
Allah declares:
∙ “I shall make him climb a steep mountain” — a powerful metaphor for unrelenting, exhausting punishment; every effort leading only to more hardship
∙ The punishment fits the crime: he used his intellect and status to obstruct the truth, so his path forward becomes one of perpetual struggle with no arrival
The Deeper Lesson
These verses teach several profound truths:
1. Wealth and status are not signs of divine approval — Walid had everything and was still spiritually bankrupt
2. The worst kufr is the kufr of recognition — rejecting what you privately know to be true is the gravest form of denial
3. Allah protects His Prophet — the command “leave him to Me” is a reassurance that divine justice operates even when human effort feels insufficient
4. Conscience cannot be permanently silenced — Walid’s visible inner struggle, recorded for all time in the Quran, is itself a testimony against him
SubhanAllah — these verses remain as relevant today as they were in Makkah, wherever people suppress truth for the sake of power, position, or social standing.
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :10
10۔ یہ خطاب ہے نبی ﷺ سے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی، کفار کی اس کانفرنس میں جس شخص (ولید بن مغیرہ) نے تمہیں بدنام کرنے کے لیے یہ مشورہ دیا ہے کہ تمام عرب سے آنے والے حاجیوں میں تمہیں جادوگر مشہور کیا جائے۔ اس کا معاملہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔ اس سے نمٹنا اب میرا کام ہے، تمہیں اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :11
11۔ اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ جب میں نے اسے پیدا کیا تھا اس وقت یہ کوئی مال اور اولاد و جاہت اور ریاست لے کر پیدا نہیں ہوا تھا۔ دوسرا یہ کہ اس کا پیدا کرنے والا ا کیلا میں ہی تھا، وہ دوسرے معبود ، جن کی خدائی قائم رکھنے کے لیے تمہاری دعوت توحید کی مخالفت میں اس قدر سرگرم ہے، اس کو پیدا کرنے میں میرے ساتھ شریک نہ تھے۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :12
12۔ ولید بن مغیرہ کے دس بارہ لڑکے تھے جن میں سے حضرت خالد بن ولید تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ ان بیٹوں کے لیے شھود کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کہیں اپنی روزی کے لیے دوڑ دھوپ اور سفر کرنے کی حاجت پیش نہیں آتی، ان کے گھر کھانے کو اتنا موجود ہے کہ ہر وقت باپ کے پاس موجود اور اس کی مدد کے لیے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کے سب بیٹے نامور ا ور با اثر ہیں، مجلسوں اور محفلوں میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ اس مرتبے کے لوگ ہیں کہ معاملات میں ان کی شہادت قبول کی جاتی ہے۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :13
13۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس پر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہوئی۔ اتنا کچھ پانے کے بعد بھی وہ بس اسی فکر میں لگا ہوا ہے کہ اسے دنیا بھر کی نعمتیں عطا کر دی جائیں۔ دوسرا مطلب حضرت حسن بصری اور بعض دوسرے بزرگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر واقعی محمدؐ کا یہ بیان سچا کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی جنت بھی ہو گی تو وہ جنت میرے ہی لیے بنائی گئی ہے۔
سُوْرَةُ الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :14
14۔ یہ اس واقعہ کا ذکر ہے جو کفار مکہ کی مذکورہ بالا کانفرنس میں پیش آیا تھا۔ اس کی جوتفصیلات ہم دیباچے میں نقل کر چکے ہیں ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ شخص دل میں قرآن کے کلام الہی ہونے کا قائل ہو چکا تھا۔ لیکن اپنی قوم میں محض اپنی وجاہت و ریاست برقرار رکھنے کے لیے ایمان لانے پر تیار نہ تھا۔ جب کفار کی اس کانفرنس میں پہلے اس نے خود ان تمام الزامات کو رد کر دیا جو قریش کے سردار رسول اللہ ﷺ پر لگا رہے تھے تو اسے مجبور کیا گیا کہ وہ خود کوئی ایسا الزام تراشے جسے عرب کے لوگوں میں پھیلا کر حضورؐ کو بد نام کیا جا سکتا ہو۔ اس موقع پر جس طرح وہ اپنے ضمیر سے لڑا ہے اور جس شدید ذہنی کشمکش میں کافی دیر مبتلا رہ کر آخر کار اس نے ایک الزام گھرا ہے اس کی پوری تصویر یہاں کھینچ دی گئی ہے۔