کوئی بھی تہذیب اللہ کے حساب سے مستثنیٰ نہیں

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یہاں سورۃ الإسراء (١٧:٥٨) پیش کی جا رہی ہے —
عربی:
وَإِن مِّن قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا
ترجمہ (مودودی — تفہیم القرآن):
“کوئی بستی ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کر دیں یا اسے سخت عذاب نہ دیں۔ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔”
ترجمہ (صحیح انٹرنیشنل):
“اور کوئی بستی ایسی نہیں مگر یہ کہ ہم اسے قیامت سے پہلے ہلاک کر دیں گے یا اسے سخت عذاب دیں گے۔ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔”
مختصر تفسیری نوٹس:
∙ “کوئی بستی نہیں” — یہ اللہ کا ایک آفاقی فیصلہ ہے (سنت اللہ) — ہر انسانی آبادی قیامت سے پہلے اللہ کے فیصلے کے تابع ہے، خواہ ہلاکت کے ذریعے ہو یا شدید عذاب کے ذریعے۔
∙ “قیامت سے پہلے” — یہ عذاب اس دنیا (دُنْيَا) میں آتا ہے، بطورِ آخری حساب کی پیشگی جھلک۔
∙ “کتاب میں لکھا ہوا ہے” — یہ لوحِ محفوظ (اللَّوْحُ الْمَحْفُوظُ) کی طرف اشارہ ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کا کوئی فیصلہ بے بنیاد نہیں — یہ پہلے سے طے شدہ حکمت ہے۔
∙ یہ آیت مترفین، سرکشی اور تہذیبی زوال سے متعلق ایک وسیع تر گفتگو کا حصہ ہے — اور ١٧:١٦ کے موضوعات کا براہِ راست تسلسل ہے۔
یہ آیت سنت اللہ کے فریم ورک کی ایک مضبوط بنیاد ہے — کوئی بھی تہذیب اللہ کے حساب سے مستثنیٰ نہیں۔؟

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

I. مکمل تباہی — قرآنی مثالیں (إِهْلَاك تَامّ)
یہ وہ قومیں ہیں جنہیں اللہ نے مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا — طاقت کا کوئی نشان باقی نہ رہا:

١. قومِ نوح — نوح عليه السلام کی قوم
قرآن: “اور ہم نے انہیں غرق کر دیا جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ بے شک وہ اندھے لوگ تھے۔” (٧:٦٤)
∙ جرم: کفر، تکبر، ساڑھے نو سو سال تک نبی کا مذاق
∙ عذاب: عالمگیر طوفان — پوری تہذیب کا صفایا
∙ سبق: ساڑھے نو سو سال کے صبر کی بھی ایک آخری حد ہوتی ہے

٢. قومِ عاد — ہود عليه السلام کی قوم
قرآن: “پس ہم نے ان پر سات رات اور آٹھ دن تک ایک چیختی ہوئی آندھی بھیجی…” (٦٩:٦-٧)
∙ جرم: غرور اور طاقت کا نشہ — “ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟” (٤١:١٥)
∙ عذاب: ایسی آندھی جس نے انہیں “کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح” گرا دیا (٦٩:٧)
∙ سبق: اللہ کے حکم کے سامنے فوجی اور جسمانی برتری کچھ کام نہیں آتی

٣. قومِ ثمود — صالح عليه السلام کی قوم
قرآن: “پس انہیں کڑک نے آ پکڑا اور وہ دیکھتے ہی رہ گئے۔” (٥١:٤٤)
∙ جرم: اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں — آخری حد پار کر دی
∙ عذاب: صیحہ — ایک آسمانی چیخ نے سب کو ختم کر دیا
∙ سبق: قوموں کو نشانیاں دی جاتی ہیں؛ جب وہ نشانی کو مٹاتے ہیں تو اپنا انجام خود لکھ لیتے ہیں

٤. قومِ لوط — لوط عليه السلام کی قوم
قرآن: “اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔” (٧:٨٤)
∙ جرم: جنسی بے راہ روی، اخلاقی نظام کا انکار
∙ عذاب: بستیاں الٹ دی گئیں، پتھروں کی بارش ہوئی
∙ تاریخی نوٹ: بحیرہ مردار کا علاقہ — جو زمین کا سب سے نچلا مقام ہے — گویا زمین کو ہی دھنسا دیا گیا

٥. قومِ شعیب — مدین — شعیب عليه السلام کی قوم
قرآن: “پس انہیں زلزلے نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔” (٧:٩١)
∙ جرم: معاشی بدعنوانی، ناپ تول میں کمی — تہذیبی فساد
∙ عذاب: زلزلہ اور سائے کے دن کا عذاب (٢٦:١٨٩)

II. جزوی / شدید عذاب — قرآنی مثالیں (عَذَاب شَدِيد)
یہ تہذیبیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں لیکن تباہ کن زوال کا شکار ہوئیں:

١. فرعون اور اس کی سلطنت
قرآن: “پس ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو سمندر میں پھینک دیا۔ دیکھو ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔” (٢٨:٤٠)
∙ جرم: “میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں” (٧٩:٢٤) — انتہائی جبر اور بچوں کا قتلِ عام
∙ عذاب: بحیرہ احمر میں غرق — اس کی لاش نشانی کے طور پر محفوظ کی گئی (١٠:٩٢)
∙ جزوی: مصری تہذیب جاری رہی لیکن فرعونی طاقت ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی
∙ سبق: زمین کا سب سے طاقتور انسان اسی پانی میں ڈوب گیا جسے وہ اپنے قابو میں سمجھتا تھا

٢. قارون — وہ اولیگارک
قرآن: “پس ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔” (٢٨:٨١)
∙ جرم: دولت کا غرور — “یہ مال مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے”
∙ عذاب: زمین نے نگل لیا — محلات، خزانے، سب کچھ ختم
∙ سبق: شکر اور انصاف کے بغیر دولت تباہی کا راستہ ہے

٣. بنی اسرائیل — متعدد چکر
قرآن (١٧:٤-٧): دو بار فساد کی پیشگوئی — آشوری/بابلی تباہی (پہلی بار) اور رومی تباہی (دوسری بار)
∙ جرم: بار بار عہد شکنی، انبیاء کا قتل، سرکشی
∙ عذاب: پہلے بخت نصر، پھر ٧٠ عیسوی میں یروشلم کی رومی تباہی
∙ جزوی: قوم بچ گئی لیکن سلطنت اور بیت المقدس برباد ہو گئے
∙ سبق: حتیٰ کہ برگزیدہ قوم بھی سنت اللہ سے مستثنیٰ نہیں

٤. اصحابِ فیل (١٠٥:١-٥)
∙ جرم: خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی کوشش
∙ عذاب: ابابیل پرندوں نے سنگریزوں سے پورے لشکر کو تباہ کیا
∙ تاریخی نوٹ: ابرہہ کی یمنی-حبشی فوج ٥٧٠ عیسوی میں — عامُ الفیل — سالِ ولادتِ نبی ﷺ

III. تاریخی مثالیں — ظالم حکمران اور سلطنتیں
⚔️ الف. مکمل زوال سلطنت / ظالم عروج انجام آشوری سلطنت قدیم دنیا کی بے رحم ترین سلطنت نینوا ٦١٢ قبلِ مسیح میں خاک میں ملا دی گئی بابلی سلطنت یروشلم تباہ کیا سائرس نے ٥٣٩ قبلِ مسیح میں بابل فتح کیا منگول سلطنت آدھی دنیا فتح کی ١٥٠ سال میں بکھر گئی — عین جالوت ١٢٦٠ عیسوی نازی جرمنی (ہٹلر) پورے یورپ پر قبضہ بنکر میں خودکشی ١٩٤٥ — ہزار سالہ دعویٰ ١٢ سال میں ختم موسولینی ایل دوچے — مطلق العنان آمر میلان میں الٹا لٹکا کر عوام کے سامنے قتل کیا گیا چاؤشیسکو (رومانیہ) خودنما آمر کرسمس کے دن ١٩٨٩ کو فائرنگ اسکواڈ سے اعدام معمر قذافی “افریقہ کا بادشاہوں کا بادشاہ” نالے میں سے گھسیٹ کر سڑک پر قتل کیا گیا ٢٠١١ صدام حسین “عربوں کی تلوار” گڑھے میں چھپا ملا — ٢٠٠٦ میں پھانسی

⚔️ ب. جزوی — مکمل تباہی کے بغیر شدید عذاب طاقت جرم جزوی سزا برطانوی سلطنت زمین کا ایک چوتھائی حصہ غلام بنایا دوسری جنگِ عظیم کے بعد ٥٠ سال میں تمام نوآبادیات گنوا دیں — ایک جزیرے تک محدود سلطنتِ عثمانیہ خلافت کی ذمہ داریاں ترک کیں پہلی جنگِ عظیم کے بعد ٹکڑے ٹکڑے — ١٩٢٤ میں خلافت ختم سوویت یونین منظم الحاد اور جبر ١٩٩١ میں بغیر ایک گولی چلے اندر سے منہدم فرانسیسی سلطنت الجزائر، انڈوچائنا، مغربی افریقہ مسلم سرزمینوں سے ذلت کے ساتھ نکالا گیا سامراجی جاپان ایشیا و بحرالکاہل میں وحشت دو ایٹم بم — پہلی قوم جس پر ایٹمی تباہی آئی

IV. حالیہ اور عصرِ حاضر — سبق جاری ہے
صرف پچھلے تیس سالوں میں:
سلوبودان میلوشوچ — بلقان نسل کشی کا معمار ← ہیگ کی اپنی جیل کی کوٹھری میں مر گیا (٢٠٠٦)، فیصلہ کبھی نہ سنا
چارلس ٹیلر (لائبیریا) — جنگی سردار، انسانیت سوز مظالم ← ہیگ میں ٥٠ سال قید
عمر البشیر (سوڈان) — عشروں کی آہنی حکومت ← اقتدار سے بے دخل، قید، آئی سی سی مقدمے کا انتظار
رابرٹ موگابے (زمبابوے) — ٣٧ سال تک “آزادی دلانے والا” جو آمر بن گیا ← اقتدار سے محروم، سنگاپور کے ہسپتال میں جلاوطنی کی موت
بن علی (تیونس)، مبارک (مصر)، صالح (یمن) — سب ٢٠١٠-١١ کی عرب بہار میں ہفتوں میں گر گئے — ایک ہی موسم نے عشروں کی آمریت کو بہا دیا

V. آج کی طاقتوں کے لیے قرآنی سبق
اللہ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ نے انتہائی واضح الفاظ میں فرمایا:
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ
“کیا بستیوں کے لوگ اس سے بے خوف ہو گئے کہ ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سو رہے ہوں؟” (٧:٩٧)
أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
“کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو گئے؟ اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو گھاٹے میں ہیں۔” (٧:٩٩)

ابدی نمونہ — سنت اللہ عمل میں:

نعمت ← ناشکری ← تنبیہ (انبیاء/نشانیاں)
← انکار ← مہلت (استدراج) ← آخری فیصلہ ← تباہی

تاریخ کی ہر سلطنت اسی راستے پر چلی ہے۔ ایک بھی نہیں بچی۔

آج کی عالمی طاقتوں کے لیے — آئینہ بالکل صاف ہے:
🔲 فوجی برتری — عاد نے بھی یہی کہا تھا
🔲 معاشی غلبہ — قارون نے بھی یہی کہا تھا
🔲 سیاسی کنٹرول — فرعون نے بھی یہی کہا تھا
🔲 تکنیکی غرور — ہر ترقی یافتہ تہذیب نے پہلے یہی کہا
اقتدار کی کرسی تخت نہیں — یہ ایک امانت ہے۔ جب امانت میں خیانت ہو تو کرسی چھین لی جاتی ہے۔ کبھی آہستہ آہستہ۔ کبھی ایک ہی رات میں۔

“اور یہ بستیاں — ہم نے انہیں تباہ کیا جب انہوں نے ظلم کیا، اور ہم نے ان کی تباہی کے لیے ایک مقررہ وقت رکھا ہوا تھا۔” (١٨:٥٩)

جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا — کیا اس مواد کو ForOneCreator پوسٹ کے لیے مزید تشکیل دینا ہے؟

Leave a comment