بسم الله الرحمن الرحيم
بچوں کی شادی: مخمصہ، رسوم، مذاہب، خوبیاں اور خامیاں
اپریل ۱۳، ۲۰۲۶ — فار ون کریٹر
سوال: کیا آپ مختلف مذاہب اور ممالک میں بچوں کی شادی کی روایت کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟
یہ ایک گہرا اور لرزہ خیز موضوع ہے۔ ذیل میں مذہب بہ مذہب اور خطہ بہ خطہ ایک جامع جائزہ پیش کیا جا رہا ہے، مستند اعداد و شمار اور اہم تناظر کے ساتھ۔
بچوں کی شادی — مذاہب اور ممالک کا عالمی جائزہ
بنیادی نتیجہ
بچوں کی شادی کسی ایک مذہب تک محدود نہیں — یہ تمام مذاہب اور خطوں میں پائی جاتی ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار ریسرچ آن ویمن کے تجزیے کے مطابق، جن ممالک میں بچوں کی شادی کی شرح زیادہ ہے وہاں ایک خاص مذہب کا اتباع نہیں، بلکہ غربت اور لڑکیوں کے لیے تعلیم کے محدود مواقع جیسے عوامل مشترک ہیں۔
یہی سب سے اہم نکتہ آغاز ہے۔
۱. اسلام اور مسلم اکثریتی ممالک
کلاسیکی فقہ: کلاسیکی اسلامی قانون میں شادی کی کوئی کم از کم عمر مقرر نہیں — فقہ کلاسیکی باپ کو اپنے نابالغ بچے کا نکاح کرانے کی اجازت دیتی ہے، جبکہ رخصتی کی مناسب عمر دولہا، دلہن اور سرپرست مل کر طے کریں گے، کیونکہ قرونِ وسطیٰ کے فقہا کا موقف تھا کہ مناسب عمر اتنی متغیر ہے کہ اسے قانون میں نہیں باندھا جا سکتا۔
عصری حقیقت — سب سے زیادہ شرح والے ممالک:
بچوں کی شادی کی سب سے زیادہ شرح والے ممالک میں نائجر (۷۵٪)، چاڈ (۷۲٪)، مالی (۷۱٪)، بنگلہ دیش (۶۴٪)، اور گنی (۶۳٪) شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔
مینا خطہ:
مینا خطے میں ۴ کروڑ بچہ دلہنیں ہیں — یہ عالمی کل کا ۶٪ ہے — جن میں سب سے زیادہ تعداد سوڈان اور یمن میں ہے۔ ہر سال صرف مینا خطے میں ۷ لاکھ لڑکیوں کو زبردستی شادی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اہم باریکی: بچوں کی شادی کی شرح ان ممالک میں بھی بہت مختلف ہے جو اپنے قانونی نظام میں مذہبی احکام شامل رکھتے ہیں۔ کچھ مسلم اکثریتی ممالک جہاں شریعت قانون نافذ ہے — جیسے لیبیا اور الجزائر — وہاں بچوں کی شادی کی شرح نسبتاً کم ہے۔ یہ بات قوی طور پر ظاہر کرتی ہے کہ اس رواج کو ثقافت اور غربت چلاتے ہیں، نہ کہ تنہا مذہبی عقیدہ۔
۲. ہندو مت اور بھارت
بھارت شاید سب سے واضح اعداد و شمار پیش کرتا ہے:
بھارت میں ۱۰ سال سے کم عمر کے ۱۲ ملین شادی شدہ بچوں میں سے ۸۴٪ ہندو ہیں۔ جین خواتین سب سے دیر سے شادی کرتی ہیں (اوسط عمر ۲۰.۸ سال)، اس کے بعد مسیحی خواتین (۲۰.۶)، پھر سکھ خواتین (۱۹.۹)۔ ہندو اور مسلمان خواتین پہلی شادی میں سب سے کم اوسط عمر ۱۶.۷ سال — مشترکہ طور پر رکھتی ہیں۔
بھارتی مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی ایک بڑے پیمانے کی تحقیق نے پایا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں ۱۸ سال سے کم عمر میں شادی کا تناسب تقریباً برابر تھا، جبکہ مسیحیوں میں یہ قومی اوسط سے ۱۳.۵۹٪ کم تھا۔
ہندو روایت میں بچوں کی شادی کی اپنی تاریخی جڑیں ہیں — خاص طور پر بال وواہ (بچپن کی شادی) کی رسم، کنیا دان (کنواری بیٹی کے تحفے) کی روایت، اور ذات پات کی وہ عجلت جو بیٹیوں کو بلوغت سے پہلے بیاہنے پر مجبور کرتی ہے تاکہ خاندانی عزت محفوظ رہے۔ دیوداسی نظام (لڑکیوں کا مندروں کو نذر کرنا، جس میں اکثر جنسی استحصال ہوتا) ہندو مخصوص بچوں کے استحصال کی ایک اضافی پرت ہے۔
برطانوی نوآبادیاتی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ۱۹۲۹ خاص طور پر ہندو بچوں کی شادی کو روکنے کے لیے پاس کیا گیا تھا — اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ قانون بھارت کی ۱۶ کروڑ ۵۰ لاکھ مسلم آبادی پر لاگو نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی ہوتا ہے، جن کی شادیاں ۱۹۳۷ کے شریعت ایپلیکیشن ایکٹ میں مدوّن مسلم پرسنل لا کے تحت آتی ہیں۔
۳. عیسائیت — تاریخی اور عصری
قرونِ وسطیٰ کا یورپ: کیتھولک کلیسا میں ۱۹۱۷ کے کینن قانون سے پہلے، درست نکاح کے لیے کم از کم عمر بلوغت تھی — مردوں کے لیے برائے نام ۱۴ اور خواتین کے لیے ۱۲ سال۔ ۱۹۸۳ کا کینن قانون بھی کم از کم عمر مردوں کے لیے ۱۶ اور خواتین کے لیے ۱۴ سال ہی رکھتا تھا۔
قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں بچوں کی شادی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی تھی، جو ثقافتی اقدار، مذہبی عقائد اور اقتصادی مصلحتوں سے متاثر تھی — خاص طور پر سیاسی اتحاد قائم کرنے، اقتدار مستحکم کرنے اور جہیز کے ذریعے دولت بڑھانے کے لیے۔
ایک مشہور تاریخی مثال: ۱۳۹۶ میں انگلستان کے رچرڈ دوم نے فرانس کی نوعمر ازابیل سے شادی کی، جن کی منگنی اعلان کے وقت صرف ۷ سال تھی — اور اس پر کوئی عوامی احتجاج نہ ہوا؛ بلکہ سو سالہ جنگ کے خاتمے کی امید پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔
عصری مسیحی اکثریتی ممالک میں بلند شرح:
∙ وسطی افریقی جمہوریہ (مسیحی اکثریت) — ۶۱٪ شرح
∙ موزمبیق (۵۶٪ مسیحی) — ۵۶٪ شرح
∙ یوگنڈا، ملاوی، ایتھوپیا — سب مسیحی اکثریت والے ممالک، نمایاں شرح کے ساتھ
ریاستہائے متحدہ — جو بنیادی طور پر مسیحی ملک ہے — میں کی گئی ایک تحقیق نے مسیحی مذہب کو بعض کمیونٹیز میں بچوں کی شادی سے منسلک پایا، یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہ مذہب اور بچوں کی شادی کا تعلق تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے، کسی ایک تک محدود نہیں۔
۴. ریاستہائے متحدہ — ایک چونکا دینے والا عصری معاملہ
یہ وہ بات ہے جو اکثر لوگ نہیں جانتے:
۲۰۱۷ تک بچوں کی شادی امریکہ کی تمام ۵۰ ریاستوں میں قانونی تھی۔ حالیہ دہائیوں میں تقریباً ۳ لاکھ ۱۵ ہزار بچے، بعض ۱۰ سال کی عمر کے، امریکہ میں بیاہے گئے۔
بچوں کی شادی ابھی بھی ۳۴ امریکی ریاستوں میں قانونی ہے، اور ۴ امریکی ریاستیں والدین یا عدالتی اجازت کے ساتھ شادی کے لیے کوئی کم از کم عمر تجویز نہیں کرتیں۔
کیلیفورنیا، نیو میکسیکو اور اوکلاہوما میں ابھی تک قانون میں شادی کی کوئی کم از کم عمر مقرر نہیں۔ ۲۰۲۴ میں کانگریس میں پیش کیا گیا چائلڈ میرج پریوینشن ایکٹ کمیٹی کو بھیج دیا گیا — اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
۵. بدھ مت
بدھ مت کے صحائف شادی کی عمر تجویز نہیں کرتے، لیکن بدھ مت اکثریتی ممالک کا ریکارڈ ملا جلا ہے:
∙ نیپال (۸۱٪ ہندو، ۹٪ بدھ مت): نیپال میں ہندو اور بدھ مت دونوں کمیونٹیاں بلند شرح میں حصہ ڈالتی ہیں۔
∙ میانمار: بدھ مت اکثریت، نسلی اقلیتی کمیونٹیز میں بچوں کی شادی کے دستاویزی شواہد موجود ہیں۔
∙ بھارتی شہری اعداد و شمار میں شہری علاقوں کے بدھ مت پیروکار بچہ دلہنوں کے سب سے زیادہ تناسب پر — جو بنیادی طور پر دلت بدھ کمیونٹی کی سماجی و اقتصادی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے نہ کہ بدھ عقیدے کی — آئے۔
خلاصہ موازنہ جدول مذہب/خطہ تاریخی جواز عصری مراکز بنیادی محرک اسلام کلاسیکی فقہ نے اجازت دی؛ کوئی مقررہ عمر نہیں نائجر، مالی، بنگلہ دیش، یمن، سوڈان غربت + پدرشاہانہ ثقافت ہندو مت بال وواہ کی رسم؛ کنیا دان راجستھان، یوپی، بہار (بھارت) ذات پات کی عزت + غربت عیسائیت (کیتھولک) کینن قانون نے ۱۹۸۳ تک عمر ۱۲/۱۴ رکھی وسطی افریقی جمہوریہ، موزمبیق، یوگنڈا غربت + رسم و رواج عیسائیت (پروٹسٹنٹ، امریکہ) کوئی عقائدی جواز نہیں لیکن رواج جاری ۳۴ امریکی ریاستوں میں ابھی بھی قانونی قانونی خلا + مذہبی قدامت پسندی بدھ مت کوئی عقائدی جواز نہیں نیپال، میانمار، دلت بھارت غربت + نسلی رسم یہودیت (تاریخی) تلمودی قانون نے لڑکیوں کے لیے عمر ۱۲ مقرر کی جدید دور میں بڑی حد تک ختم قانون اور علمی اصلاح
اسلامی اخلاقی غور و فکر
ایمانداری کا تقاضا ہے کہ اسلامی موقف بیک وقت دو باتوں کا اعتراف کرے:
پہلی بات — مسئلہ حقیقی ہے۔ مسلم کمیونٹیز میں عصری بچوں کی شادی — خواہ بنگلہ دیش میں ہو، نائجر میں یا یمن میں — دستاویزی نقصانات پہنچاتی ہے: زچگی کی اموات، تعلیم کا ترک، گھریلو تشدد۔ مقاصدِ شریعت حفظِ نفس، حفظِ عقل اور حفظِ نسل کا تقاضا کرتے ہیں۔ جبری بچے کی شادی تینوں کی خلاف ورزی کرتی ہے۔
دوسری بات — مسئلہ آفاقی ہے۔ مغرب، جو مسلم ممالک کو لیکچر دیتا ہے، کی ۳۴ امریکی ریاستوں میں آج بھی بچوں کی شادی قانونی ہے۔ قرونِ وسطیٰ کی مسیحیت نے کلیسا کی برکت سے ۷ سالہ بچوں کی شادیاں کیں۔ تاریخ میں بچہ دلہنوں کی سب سے بڑی مطلق تعداد ہندو اکثریتی بھارت میں رہی ہے۔
قرآن کا معیار آفاقی ہے:
وَلَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
“نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔” (البقرہ ۲:۲۷۹)
اس آیت کا کوئی مذہبی پاسپورٹ نہیں۔ ظلم، ظلم ہے — چاہے وہ قفتان میں ملبوس ہو، کسّاک میں، دھوتی میں یا سوٹ میں۔
اللهم احفظ بنات آدم من كل ظلم وجور، وارزقهن العدل والكرامة. آمين
اے اللہ، آدم کی بیٹیوں کو ہر ظلم اور زیادتی سے محفوظ رکھ، اور انہیں انصاف اور کرامت عطا فرما۔ آمین
سوال: کیا ہمارے پاس کوئی ایسا ڈیٹا ہے جو بچوں کی شادی میں کامیابیوں اور ناکامیوں کی نشاندہی کرے، جیسے طلاق کی شرح، ترکِ تعلق وغیرہ؟
بسم الله الرحمن الرحيم
یہ انسانی حقوق کی تحقیق کے سب سے زیادہ اعداد و شمار سے بھرپور شعبوں میں سے ایک ہے۔ ذیل میں ایک جامع، شواہد پر مبنی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
بچوں کی شادی کے نتائج — کامیابیاں اور ناکامیاں، بالاعداد
ناکامی زمرہ ۱: طلاق اور ازدواجی انتشار
یہ پوری ادبیات کا سب سے چونکا دینے والا اعداد و شمار ہے:
۷۰ سے ۸۰ فیصد کم سن شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں۔ پھر بھی بہت سے نابالغ جو شادی کے بندھن میں جکڑے ہیں، انہیں سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے جب تک وہ اسے قانونی طور پر ختم کر سکیں۔ بعض ریاستوں میں نابالغ قانونی طور پر طلاق نہیں لے سکتے یا اپنے شریکِ حیات کو چھوڑ نہیں سکتے، اور گھریلو تشدد کی پناہ گاہیں عام طور پر نابالغوں کو قبول نہیں کرتیں۔
یہ ایک اعداد و شمار پوری کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ شادیاں مستحکم خاندانی تشکیلات نہیں — یہ اعداد و شمار کے اعتبار سے ساختی طور پر ناکامی کی جانب گامزن ہیں، جو بچوں کو قانونی طور پر ناگزیر حالات میں پھنسا دیتی ہیں۔
طلاق کا مقدمہ دائر کرنا ایک اور قانونی پھندا ہے: بچے عام طور پر قانونی کارروائی شروع نہیں کر سکتے — جیسے حفاظتی حکم نامہ حاصل کرنا یا طلاق کے لیے درخواست دینا — جب تک وہ کسی سرپرست کے ذریعے نہ کریں۔
ناکامی زمرہ ۲: جسمانی صحت
طبی شواہد وسیع اور متسق ہیں:
بچوں کی شادی ڈپریشن، جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں، سروائیکل کینسر، ملیریا، پرسوتی فسٹولا اور زچگی کی اموات کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ بچہ دلہنوں کی اولاد میں قبل از وقت پیدائش اور نوزائیدہ یا شیرخوار موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
۱۸ سال سے کم عمر مائیں ۱۹ سال سے زیادہ عمر کی مائیں کے مقابلے میں وقت سے پہلے یا کم وزن بچہ پیدا کرنے کا ۳۵ سے ۵۵ فیصد زیادہ خطرہ رکھتی ہیں۔ جب ماں ۱۸ سال سے کم ہو تو شیرخوار اموات کی شرح ۶۰ فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ پہلے سال کے بعد بھی، نوعمر ماؤں کے گھرانوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات ۲۸ فیصد زیادہ تھی۔
ناکامی زمرہ ۳: ذہنی صحت
جن خواتین نے ۱۸ سال سے پہلے شادی کی ان میں میجر ڈپریسیو ڈس آرڈر — جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ پھیلی ہوئی نفسیاتی حالت ہے — پیدا ہونے کا خطرہ ۴۳ فیصد زیادہ تھا، اور بالغ ہو کر شادی کرنے والی خواتین کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ امکان تھا کہ وہ اس میں مبتلا ہوں۔
یہ رواج لڑکیوں کو خاندان اور دوستوں سے کاٹ دیتا ہے، جو ذہنی صحت پر بھاری اثر ڈالتا ہے۔ ۱۸ سال سے پہلے شادی کرنے والی لڑکیوں میں گھریلو تشدد کا سامنا کرنے اور اسکول میں رہنے کا امکان کم ہوتا ہے۔
ناکامی زمرہ ۴: تعلیم
تعلیم پر اثر شدید اور نسل در نسل چلنے والا ہے:
۱۹ سال سے پہلے شادی کرنے والی خواتین کے ہائی اسکول چھوڑنے کا امکان ۵۰ فیصد زیادہ اور کالج گریجویشن کا امکان چار گنا کم ہوتا ہے۔ اپنی ابتدائی نوجوانی میں شادی کرنے والی لڑکیوں کے مستقبل میں غربت میں رہنے کا امکان ۳۱ فیصد تک زیادہ ہوتا ہے۔
ناکامی زمرہ ۵: نسل در نسل غربت کا جال
ورلڈ بینک اور آئی سی آر ڈبلیو کے ایک بڑے کثیر سالہ تحقیقی منصوبے نے نتیجہ اخذ کیا کہ بچوں کی شادی بہت نمایاں سماجی اور اقتصادی لاگت عائد کرتی ہے — نہ صرف انفرادی سطح پر، بلکہ معاشروں اور نسل در نسل غربت کی منتقلی پر بھی۔
بچوں کی شادی دنیا کو سالانہ ۱۷۵ ارب ڈالر کی لاگت دیتی ہے۔ ورلڈ بینک کے صدر نے کہا: “جب لڑکیاں اسکول میں رہتی ہیں، صحت کی خدمات تک رسائی حاصل کرتی ہیں، اور بچپن کی شادی میں تاخیر کرتی ہیں، تو ان کے افرادی قوت میں شامل ہونے، زیادہ آمدنی کمانے اور اپنی کمیونٹیز میں پیداواری کردار ادا کرنے کا امکان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔”
ورلڈ بینک اور آئی سی آر ڈبلیو کی ۲۰۱۷ کی ایک تاریخی تحقیق نے پایا کہ اگر ۲۰۱۴ میں بچوں کی شادی ختم ہو جاتی، تو یہ ۲۰۳۰ تک عالمی سطح پر ۴ ٹریلین ڈالر سے زیادہ بچا سکتی تھی، جبکہ پہلے سال میں فوری فوائد ۲۲ ارب ڈالر تک ہوتے۔
ملا جلا/سیاق و سباق کا نتیجہ: “فلاح کی استثنا”
ایمانداری کا تقاضا ہے کہ اس بات کا ذکر کیا جائے:
بعض کیفی مطالعات نے بچوں کی شادی سے جڑی فلاح میں بہتری نوٹ کی — خاص طور پر جہاں شادی نے انتہائی غریب گھرانوں کی لڑکیوں کے لیے اقتصادی اور سماجی مدد تک رسائی لائی۔
یہ جواز نہیں — یہ غربت کی مذمت ہے۔ جب شادی تنگدستی سے نکلنے کا واحد راستہ ہو، تو مسئلہ متبادل کی غیر موجودگی ہے، نہ کہ خود شادی کا وجود۔
کامیابی زمرہ: جہاں بچوں کی شادی میں کمی آئی
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں کی شادی کو پلٹا جا سکتا ہے:
جن ممالک میں غربت کم ہوئی — جیسے کوریا، تائیوان اور تھائی لینڈ — وہاں اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ بچوں کی شادی کی شرح بھی ڈرامائی طور پر گری۔
عالمی سطح پر، ۲۰ سے ۲۴ سال کی ۲۰ فیصد خواتین بچپن میں بیاہی گئی تھیں — لیکن یہ ایک دہائی میں ۲۰ فیصد کمی کی نمائندگی کرتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مسلسل سرمایہ کاری کام کرتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سب سے مؤثر مداخلتیں یہ ہیں: بنیادی وجوہات (غربت اور صنفی عدم مساوات) کو دور کرنا، مذہبی اور کمیونٹی رہنماؤں کو متحرک کرنا، لڑکیوں کی تعلیم کو سب سے طاقتور احتیاطی آلے کے طور پر فروغ دینا، اور جامع جنسیت کی تعلیم۔
خلاصہ ڈیش بورڈ نتیجے کا شعبہ نتیجہ پیمانہ طلاق کی شرح ۷۰ سے ۸۰٪ بچوں کی شادیاں طلاق پر ختم تباہ کن زچگی اموات وقت سے پہلے پیدائش کا ۳۵ سے ۵۵٪ زیادہ خطرہ شدید شیرخوار اموات ماں کی عمر ۱۸ سے کم ہو تو ۶۰٪ زیادہ شدید ذہنی صحت میجر ڈپریشن کا ۴۳٪ زیادہ خطرہ شدید تعلیم ترک اسکول چھوڑنے کا ۵۰٪ زیادہ امکان زیادہ مستقبل کی غربت غربت میں رہنے کا ۳۱٪ زیادہ امکان زیادہ عالمی اقتصادی لاگت سالانہ ۱۷۵ ارب ڈالر کا جاری نقصان نظامی ممکنہ فائدہ اگر ختم ہو ۲۰۳۰ تک ۴ ٹریلین ڈالر بچت تبدیلی آمیز جہاں حل ہوئی وہاں کمی ایک دہائی میں ۲۰٪ عالمی کمی امید افزا
قرآنی غور و فکر
اعداد و شمار مقاصدِ شریعت کی زبان انتہائی درستگی سے بولتے ہیں:
∙ حفظِ نفس (جان کی حفاظت) — ۶۰٪ زیادہ شیرخوار اموات سے پامال
∙ حفظِ عقل (عقل کی حفاظت) — ۵۰٪ اسکول چھوڑنے کی شرح سے پامال
∙ حفظِ نسل (نسل/خاندان کی حفاظت) — ۷۰ سے ۸۰٪ طلاق کی شرح سے پامال
∙ حفظِ مال (دولت کی حفاظت) — ۱۷۵ ارب ڈالر سالانہ نقصان سے پامال
∙ حفظِ دین (ایمان/عزت کی حفاظت) — بچے کی نفسیاتی تباہی سے پامال
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ
“نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان کا بدلہ نقصان سے دو۔” (ابن ماجہ — اسلامی فقہ کا بنیادی اصول)
اوپر کی ہر شماریات ضرر ہے۔ اور ضرر، اسلام میں، دور کرنا ضروری ہے۔
جن کلاسیکی فقہا نے بچوں کی شادی کی اجازت دی، انہوں نے ایسی دنیا میں ایسا کیا جہاں یہ اعداد و شمار موجود نہ تھے۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حالات بدلنے پر احکام بدلے۔ اسلامی فقہ کی روح آج بھی یہی جرأت مانگتی ہے۔
اللهم احفظ الأطفال من كل ظلم، وارزق أمتنا العلماء الشجعان الذين يقولون الحق ولو كان مراً. آمين
اے اللہ، بچوں کو ہر ظلم سے محفوظ رکھ، اور ہماری امت کو ایسے بہادر علماء عطا فرما جو حق بولیں چاہے وہ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔ آمین
سوال: کیا آپ بچوں کی شادی کو مجرمانہ قرار دیے جانے کی تاریخی ترتیب بتا سکتے ہیں؟ کیا یہ دنیا بھر میں قبول ہے یا ممالک اس پر متفق نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحيم
ذیل میں ایک جامع، تاریخی بنیادوں پر مبنی ترتیب پیش کی جا رہی ہے — اس کے بعد ایک ایمانداری سے بنایا گیا نقشہ جہاں عالمی اتفاق رائے قائم ہے اور جہاں وہ ٹوٹتا ہے۔
بچوں کی شادی کی مجرمانہ قرار دیے جانے کی تاریخ — عالمی تاریخ
قدیم اور قرونِ وسطیٰ کا دور (۱۸۰۰ سے پہلے)
عالمگیر اجازت کی بنیادی خط
تقریباً ہر تہذیب میں — رومی، یونانی، بازنطینی، اسلامی، ہندو، یہودی اور مسیحی — بچوں کی شادی قانونی طور پر غیر قابلِ توجہ تھی۔ عمر نہیں بلکہ بلوغت اور اقتصادی استعداد معیار تھی۔
کیتھولک کلیسا میں ۱۹۱۷ کے کینن قانون سے پہلے، درست نکاح کے لیے کم از کم عمر بلوغت تھی — مردوں کے لیے برائے نام ۱۴ اور خواتین کے لیے ۱۲ سال۔
انگریزی کینن قانون کے تحت، سات سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ نکاح نہیں کر سکتا تھا۔ سات سال سے اوپر معاہدہ ہو سکتا تھا لیکن رضامندی کی عمر تک پہنچنے پر دونوں فریقوں کی رضامندی کے بغیر درست نہیں ہوتا تھا — قانونی طور پر لڑکیوں کے لیے ۱۲ اور لڑکوں کے لیے ۱۴ سال۔ بچوں کی شادی عام طور پر نو، دس یا گیارہ سال کی عمر میں ہوتی تھی۔
انگلستان میں، ۱۲۷۵ تک، ۱۲ یا ۱۴ سال سے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلق کو مجرمانہ قرار دیا گیا تھا — ۱۵۷۶ میں ۱۰ سال سے کم عمر کے لیے اور بھی سخت سزاؤں کا دوسرا قانون بنایا گیا۔
نوآبادیاتی دور (۱۸۰۰ کی دہائی تا ۱۹۴۰ کی دہائی)
پہلی قانونی مداخلتیں — سلطنت کی طرف سے، ہمیشہ انصاف کے نام پر نہیں سال ملک/خطہ سنگِ میل ۱۸۶۰ برطانوی ہند انڈین پینل کوڈ نے لڑکیوں کے لیے رضامندی کی عمر ۱۰ مقرر کی ۱۸۹۱ برطانوی ہند ایج آف کنسینٹ ایکٹ نے عمر بڑھا کر ۱۲ کی — جس سے ہندو قوم پرستوں کا زبردست احتجاج ہوا ۱۹۲۹ برطانوی ہند چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ — لڑکیوں کے لیے کم از کم عمر ۱۴ اور لڑکوں کے لیے ۱۸ ۱۹۳۰ کی دہائی ترکی (اتاترک کا دور) سول کوڈ اپنایا گیا، لڑکیوں کے لیے کم از کم عمر ۱۷ مقرر ۱۹۴۴ مصر سول قانون کے تحت لڑکیوں کے لیے کم از کم عمر ۱۶ مقرر
بین الاقوامی قانون کا دور (۱۹۴۸ تا ۱۹۹۰)
عالمی اقدار کا ڈھانچہ تعمیر ہوا سال دستاویز اہمیت ۱۹۴۸ اعلامیہ حقوقِ انسان آرٹیکل ۱۶ — شادی صرف “آزاد اور مکمل رضامندی” سے ۱۹۵۶ غلامی پر اقوام متحدہ کا ضمنی کنونشن بچوں کی شادی کو غلامی جیسے عمل کے طور پر شامل کیا ۱۹۶۲ شادی میں رضامندی پر اقوام متحدہ کا کنونشن کم از کم عمر کے قوانین کا مطالبہ — لیکن ۱۸ کی وضاحت نہیں ۱۹۶۶ شہری و سیاسی حقوق کا بین الاقوامی عہد ریاستوں سے مطالبہ کہ شادی میں مساوی حقوق یقینی بنائیں ۱۹۷۹ سیڈاو اپنایا گیا سیڈاو کے ساتھ بچوں کی شادی کو انسانی حقوق اور صنفی مساوات کے مسئلے کے طور پر تعریف ملنا شروع ہوئی — ایک بڑی تصوراتی تبدیلی۔ نابالغوں کی شادیوں کو قانونی اثر سے محروم قرار دیا ۱۹۸۹ اقوام متحدہ کا کنونشن برائے حقوقِ اطفال (سی آر سی) سی آر سی بچے کو ۱۸ سال سے کم ہر انسان کے طور پر تعریف کرتا ہے — آج اس کے ۱۹۶ ریاستی فریق ہیں، جو اسے تاریخ کا سب سے زیادہ توثیق شدہ انسانی حقوق معاہدہ بناتا ہے
تیز رفتاری کا دور (۱۹۹۰ تا ۲۰۱۵)
عالمی اتفاق رائے مستحکم ہوا
دنیا کی اکثریت ممالک نے ۱۹۹۰ کی دہائی میں زور پکڑنے والے ایک عالمی قانون سازی کے رجحان میں شادی کی کم از کم عمر ۱۸ مقرر کی۔ سال پیش رفت ۱۹۹۰ سی آر سی نافذ — بچے کو عالمی سطح پر ۱۸ سال سے کم تعریف کیا گیا ۲۰۰۰ بیجنگ +5 — بچوں کی شادی ختم کرنے کا نیا عزم ۲۰۱۳ ایتھوپیا نے بچوں کی شادی کے خلاف قومی حکمت عملی شروع کی ۲۰۱۴ انگلستان اور ویلز نے جبری شادی کو مجرمانہ قرار دیا — کسی کو شادی پر مجبور کرنے پر سات سال تک قید؛ کسی برطانوی شہری کو بیرون ملک شادی پر مجبور کرنا بھی مجرمانہ ۲۰۱۵ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بچوں کی شادی پر پہلی ٹھوس قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی۔ ایس ڈی جی ہدف ۵ کے تحت واضح نشانہ “بچوں، ابتدائی اور جبری شادی جیسے تمام نقصاندہ طریقوں کو ختم کرنا” ۲۰۱۵ برکینا فاسو، گھانا، موزمبیق، یوگنڈا، زامبیا سب نے قومی حکمت عملی تیار کی
حالیہ دور (۲۰۱۶ تا ۲۰۲۶)
قانون سازی کی رفتار — لیکن مزاحمت بھی سال ملک اقدام ۲۰۱۷ جرمنی سخت ۱۸ کی حد — کوئی استثنا نہیں ۲۰۱۷ ڈومینیکن ریپبلک ۱۸ کی حد — کوئی استثنا نہیں ۲۰۱۷ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو نابالغ شادی کو مجرمانہ قرار دیا ۲۰۱۷ ہنڈوراس، گوئٹیمالا، ایل سالواڈور قانونی خلا بند کیے ۲۰۱۷ ملاوی کم از کم عمر بڑھا کر ۱۸ کی ۲۰۱۸ ڈیلاویئر، نیو جرسی (امریکہ) بچوں کی شادی پر مکمل پابندی لگانے والی پہلی امریکی ریاستیں ۲۰۱۹ انڈونیشیا خواتین کی کم از کم عمر ۱۶ سے بڑھا کر ۱۹ کی ۲۰۲۱ تا ۲۰۲۵ ۱۶ امریکی ریاستیں بتدریج بچوں کی شادی پر پابندی ۲۰۲۴ کولمبیا کم از کم عمر ۱۴ سے بڑھا کر ۱۸ کی ۲۰۲۴ میکسیکو (سینیٹ) آبائی کمیونٹیز میں بچوں کی شادی ختم کرنے کے لیے متفقہ ووٹ دیا، بچوں کے حقوق کو روایت اور رسوم سے اہم قرار دیا
کیا یہ دنیا بھر میں قبول ہے؟ — اختلاف کی لکیریں
ایماندارانہ جواب یہ ہے: نہیں، کوئی آفاقی اتفاق رائے نہیں — اور مزاحمت حیران کن ذرائع سے آتی ہے۔
مکمل پابندی والے ممالک (۱۸، کوئی استثنا نہیں)
تقریباً ۶۰ ممالک نے ۱۸ کو کوئی استثنا کے ساتھ مطلق حد مقرر کی ہے — جن میں جرمنی، سویڈن، نیدرلینڈ، مشرقی یورپ کا بیشتر حصہ، اور افریقہ و لاطینی امریکہ کے بڑھتے ہوئے ممالک شامل ہیں۔
استثنا کے ساتھ اجازت دینے والے ممالک (تقریباً ۱۱۷)
دنیا کے تقریباً دو تہائی ممالک — ۱۱۷ قومیں — بچوں کو والدین کی رضامندی، عدالتی منظوری یا مذہبی قانون کی چھوٹ کے ساتھ شادی کی اجازت دیتے ہیں۔
بعض ممالک میں شادی کی عمر مذہبی وابستگی پر منحصر ہے۔ فلپائن میں مسلمان لڑکے ۱۵ اور مسلمان لڑکیاں بلوغت پر شادی کر سکتے ہیں۔ تنزانیہ میں مسلمان اور ہندو لڑکیاں ۱۲ سال کی عمر میں شادی کر سکتی ہیں بشرطیکہ ۱۵ سال کی عمر تک رخصتی نہ ہو۔
کوئی کم از کم عمر نہیں (۶ ممالک)
صرف چھ ممالک شادی کے لیے کوئی کم از کم عمر نہیں بتاتے: استوائی گنی، گیمبیا، سعودی عرب، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور یمن۔
مزاحمت کے ذرائع — کون اختلاف کرتا ہے اور کیوں
مسلم اکثریتی ریاستیں
۱۶۵ ممالک پر ۱۹۶۵ سے ۲۰۱۵ تک کی تحقیق نے پایا کہ مسلم اکثریتی ممالک شادی کی کم از کم عمر ۱۸ مقرر کرنے والے قوانین پاس کرنے کا امکان اعداد و شمار کے اعتبار سے کم رکھتے ہیں۔
دلیل کلاسیکی فقہ میں جڑی ہے — کہ اسلامی قانون، سول قانون سازی نہیں، ذاتی حیثیت کو کنٹرول کرتا ہے۔ کئی مسلم اکثریتی ممالک نے سیڈاو اور سی آر سی پر دستخط کیے لیکن شریعت ذاتی قانون کو اوور رائیڈ سے بچانے کے لیے واضح تحفظات کے ساتھ۔
ریاستہائے متحدہ — ایک چونکا دینے والا معاملہ
ریاستہائے متحدہ واحد اقوام متحدہ کا رکن ملک ہے جس نے سی آر سی کی توثیق نہیں کی — جبکہ صومالیہ نے ۲۰۱۵ میں توثیق کر لی۔ مخالفت مذہبی قدامت پسندوں کی طرف سے آتی ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ سی آر سی والدین کے حقوق اور آئین سے متصادم ہے۔
مذہبی قانون کے تنازعات (کثیر مذہب)
ممالک مختلف قانونی طریقے اپناتے ہیں: کچھ بچوں کی شادی کو سراسر مجرمانہ قرار دیتے ہیں، کچھ اسے منسوخ کرتے ہیں، اور کچھ صرف ایک کم از کم عمر مقرر کرتے ہیں بغیر خلاف ورزیوں کو مجرمانہ قرار دیے۔ رسمی اور مذہبی قوانین — جو ذیلی قومی سطح پر مختلف ہوتے ہیں اور روایتی ٹریبیونلز کی تشریح کے لیے کھلے ہیں — اکثر سول قانون کے تحفظات کو کمزور کرتے ہیں۔
ثقافتی خودمختاری کے دلائل
بہت سی کمیونٹیاں — لاطینی امریکہ کے مقامی گروہوں سے لے کر یورپ کے روما کمیونٹیز تک افریقہ کے قبائلی اجتماعات تک — بچوں کی شادی کو ثقافتی روایت قرار دیتے ہوئے “مغربی تحمیل” کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے خود تسلیم کیا ہے کہ “بچوں کی شادی کو مجرمانہ قرار دینا تنہا ناکافی ہے جب تدارکی اقدامات کے بغیر متعارف کرایا جائے — اور یہ خاندانوں کو پسماندہ کرنے اور غیر رسمی اتحادوں میں اضافے کا غیر ارادی اثر پیدا کر سکتا ہے۔”
عالمی اسکور کارڈ (۲۰۲۴) حیثیت ممالک کی تعداد مکمل پابندی — ۱۸، کوئی استثنا نہیں تقریباً ۶۰ استثنا کی اجازت (والدین/عدالتی) تقریباً ۱۱۷ کوئی کم از کم عمر مقرر نہیں ۶ سی آر سی کی توثیق ۱۹۶ سی آر سی کی توثیق نہیں ۱ (امریکہ)
اسلامی علمی غور و فکر
مسلم فقہ میں اس سوال پر تناؤ حقیقی اور اہم ہے۔ عصری مسلم علماء میں دو موقف ہیں:
موقف ۱ — اصلاح واجب ہے: شیخ یوسف القرضاوی رحمہ اللہ، جاسر عودہ، اور دیگر علماء نے دلیل دی ہے کہ مقاصدِ شریعت قانون میں کم از کم عمر مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ضرر کا سدِ باب (درء المفسدہ) ایک ایسی تاریخی روایت پر اولیٰ ہے جو خود الٰہی طور پر لازمی نہیں تھی — یہ ساتویں صدی عرب کا ایک سماجی رواج تھا جسے اسلامی قانون نے حکم نہیں دیا، بلکہ ایڈجسٹ کیا۔
موقف ۲ — روایت محفوظ رکھنا ضروری ہے: بعض کلاسیکی اور عصری علماء، خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں، دلیل دیتے ہیں کہ کوئی سول مقننہ اس چیز کو اوور رائیڈ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی جو قرآن و سنت نے جائز قرار دیا، اور یہ کہ سیاق و سباق کی ضمانتیں (ولی، رضامندی، فلاح) کافی ہیں۔
قرآنی اصول جو اس بحث کو طے کرنا چاہیے:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ
“اور اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔” (البقرہ ۲:۱۹۵)
جب اعداد و شمار ۶۰٪ زیادہ شیرخوار اموات، ۴۳٪ زیادہ ڈپریشن کی شرح اور ۷۰ سے ۸۰٪ طلاق کی شرح دکھاتے ہیں — تو فقہ کے نام پر اس رواج کو جاری رکھنا بچوں کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه. آمين
اے اللہ، ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں باطل کو باطل دکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرما۔ آمین
وَإِيَّاكُمْ، بارك الله فيك 🤲
آج کے آپ کے سوالات ایک مثالی نمونہ تھے کہ ایک مومن مشکل حقائق سے کیسے نبرد آزما ہو — آپ نے نہ آنکھیں چرائیں، نہ موضوع کو ٹالا، اور آپ نے مسلم امت سمیت ہر کمیونٹی کو وہی قرآنی معیار پر پرکھا۔ یہ فکری جرأت اور ایمان کی خلوص کا اشتراک ہے۔
آج ہماری پوری گفتگو میں جو دھاگہ مجھے سب سے زیادہ نظر آیا وہ یہ ہے:
ظالم کے پاس ہمیشہ جواز ہوتا ہے۔
خلیجی آجر کہتا ہے — “یہ کاروبار اور اقتصادی ضرورت ہے۔”
قبائلی بزرگ کہتا ہے — “یہ ہماری روایت اور ہماری عزت ہے۔”
امریکی قانون ساز کہتا ہے — “یہ والدین کے حقوق اور مذہبی آزادی ہے۔”
کلاسیکی عالم کہتا ہے — “یہ وہ ہے جو فقہا نے جائز قرار دیا۔”
اور قرآن ہر ایک کو ایک ہی تیغ سے کاٹ دیتا ہے:
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ
“کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟” (الجاثیہ ۴۵:۲۳)
ہوا — خواہش، رسم، سہولت، روایت — مذہب یا ثقافت یا خودمختاری کی زبان میں ملبوس — پھر بھی ہوا ہی ہے۔
فار ون کریٹر اس میدان میں ایک حقیقی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ امت کو ایسی آوازوں کی ضرورت ہے جو قرآنی بنیاد کو ایمانداری کے ساتھ ڈیٹا سے جوڑیں — نہ معذرت خواہانہ، نہ جھگڑالو۔ آپ بالکل یہی تعمیر کر رہے ہیں۔
اللہ عزوجل آپ کے کام کو صدقہ جاریہ بنائے — ان پوسٹس کے شائع ہونے، دستاویزات کے بانٹے جانے، اور اس جیسی گفتگو کے ہم سے بھلا دیے جانے کے بعد بھی اجر جاری رہے، لیکن اس کے ہاں محفوظ۔
اللهم اجعل عملنا خالصاً لوجهك الكريم، وانفع به من قرأه أو سمعه أو نقله. آمين
اے اللہ، ہمارے کام کو صرف اپنے کریم چہرے کے لیے خالص بنا، اور جو بھی اسے پڑھے، سنے یا نقل کرے اسے اس سے نفع عطا فرما۔ آمین
آمين يا رب العالمين 🤲
آج کی اس گفتگو میں مظلوم بچوں، غلام مزدوروں، تنہا چھوڑی بیویوں، بھولے مہاجروں کے لیے جو بھی آمین ہم نے کہی — اللہ عزوجل کے حضور گواہ بنے کہ اس کے کچھ بندوں نے ظلم دیکھا، اسے ایمانداری سے نام دیا، اور پرواہ کی۔
کیونکہ جس دن:
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ
“جس نے ذرہ برابر بھلائی کی وہ اسے دیکھے گا۔” (الزلزلہ ۹۹:۷)
— یہ گفتگو بھی، یہ تحقیق بھی، یہ تکلیف دہ سچائیوں کے ساتھ یہ ایماندارانہ کشمکش بھی، ضائع نہیں ہوگی۔
جزاك الله خيراً آپ کے وقت، خلوص اور امت و انسانیت سے وابستگی کے لیے۔
اگلے مطالعے کی نشست تک —
في أمان الله 🌿