اسلامی موضوعات پر اہم معلومات
امام مہدی کی آمد | احادیث کا مذاق اڑانا | قرآنی آیات
حصہ اول: امام مہدی کی آمد
امام مہدی کون ہیں؟
امام مہدی (عربی: المہدی، معنی: ہدایت یافتہ) اسلامی عقیدے میں ایک مسیحائی شخصیت ہیں جو آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے۔ وہ نبی کریم ﷺ کی نسل سے ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی سے قبل دنیا کو ظلم و جور سے پاک کریں گے۔
✅ امام مہدی سے متعلق مستند احادیث
١. نسب — نبی کریم ﷺ کے خاندان سے
“المہدی من عترتی من ولد فاطمة”
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “مہدی میری نسل سے، فاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔”
📚 ماخذ: سنن ابو داود
“المہدی منا أہل البیت”
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المہدی ہم میں سے ہے، اہلِ بیت میں سے۔”
📚 ماخذ: سنن ابن ماجہ، جلد ۲، روایت نمبر ۴۰۸۵
٢. جسمانی خدوخال
“یملأ الأرض قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً”
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “مہدی میری نسل سے ہوگا، اس کی پیشانی چوڑی اور ناک اونچی ہوگی۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی، اور وہ سات سال حکومت کرے گا۔”
📚 ماخذ: سنن ابو داود
٣. مہمت — زمین کو عدل سے بھرنا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “میری امت کے آخری زمانے میں مہدی ظاہر ہوگا۔ اللہ اس پر بارش برسائے گا، زمین اپنے پھل نکالے گی، وہ مال کثرت سے دے گا، مویشی بڑھیں گے اور امت عظیم ہو جائے گی۔ وہ سات یا آٹھ سال حکومت کرے گا۔”
📚 ماخذ: مستدرک الحاکم ۴/۵۵۷-۵۵۸، علامہ البانی نے سلسلہ الاحادیث الصحیحہ میں صحیح قرار دیا
٤. دنیا اس کے بغیر ختم نہیں ہوگی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک عرب پر میرے خاندان کے ایک شخص کی حکومت نہ ہو جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا۔”
📚 ماخذ: مسند احمد ۵/۱۹۹، سنن ابو داود ۱۱/۳۷۰
٥. ایک رات میں اللہ کی ہدایت
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “مہدی ہم میں سے، اہلِ بیت میں سے ہے۔ اللہ ایک رات میں اس کے معاملات درست فرما دے گا۔”
📚 ماخذ: مسند احمد ۲/۵۸، سنن ابن ماجہ ۲/۱۳۶۷ — امام احمد شاکر اور علامہ البانی نے صحیح قرار دیا
٦. مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “ایک حاکم کی موت کے بعد لوگوں میں اختلاف ہوگا۔ مدینہ کا ایک شخص مکہ کی طرف بھاگ جائے گا۔ مکہ میں لوگ حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان اس سے زبردستی بیعت کریں گے۔ پھر شام سے ایک بڑا لشکر آئے گا لیکن جب وہ بیداء (مکہ اور مدینہ کے درمیان) پہنچیں گے تو زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔”
📚 ماخذ: ابو داود
٧. مہدی کی سخاوت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “میری امت کے آخری زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو بے حساب مال دے گا۔”
📚 ماخذ: صحیح مسلم
٨. مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “میری امت کا ایک گروہ قیامت تک حق کے لیے لڑتا رہے گا، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم اتریں گے۔ امت کے امام ان سے نماز پڑھانے کی درخواست کریں گے لیکن حضرت عیسیٰ انکار کریں گے اور فرمائیں گے کہ اللہ نے تمہارے درمیان سے ہی امام بنائے ہیں۔”
📚 ان احادیث کی صحت پر علماء کا موقف
امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا: مہدی سے متعلق احادیث تواتر کے درجے کو پہنچتی ہیں — یعنی اتنی کثیر اسناد سے مروی ہیں کہ گھڑنا ناممکن ہے۔ انہوں نے پچاس سے زائد صحیح، حسن اور ضعیف احادیث جمع کیں جو باہم ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔
📋 ظہور سے قبل کی علامات
مہدی کی آمد سے پہلے کی علامات میں شامل ہیں: بڑے فتنوں کا آنا، امانت و دیانت کا خاتمہ، نااہل لوگوں کا اقتدار، دینی جہالت کا پھیلنا، وقت کا گزرنا تیز ہونا، اور دنیا میں فساد و ظلم کا عام ہونا۔
حصہ دوم: نبی کریم ﷺ کی احادیث کا مذاق اڑانا
سوال: کیا آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی آپ ﷺ کی احادیث کا مذاق گناہ ہے؟
✅ اجماعی جواب — ہاں، بالکل
تمام مذاہب کے علماء کا متفقہ موقف یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی احادیث، افعال یا سنت کا مذاق اڑانا — چاہے آپ ﷺ حیات میں ہوں یا وفات پا چکے ہوں — یکساں طور پر حرام ہے اور اسی قدر سنگین گناہ ہے۔
📖 قرآنی دلائل
١. نبی ﷺ کی عزت ابدی ہے
“وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ”
ترجمہ: “اور ہم نے آپ کی شہرت کو بلند کیا۔” (سورۃ الشرح ۹۴:۴)
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی عزت کو دائمی اور ابدی بنا دیا ہے — آپ ﷺ کی وفات سے آپ ﷺ کا مرتبہ ذرہ برابر کم نہیں ہوا۔
٢. آپ ﷺ کو تکلیف دینے پر کوئی وقت کی قید نہیں
“إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ”
ترجمہ: “بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے۔” (سورۃ الاحزاب ۳۳:۵۷)
یہ آیت مطلق اور غیر محدود الفاظ میں ہے — یہ نہیں کہا گیا “آپ ﷺ کی حیات میں”۔ اس میں ہر زمانے میں آپ ﷺ کی احادیث اور تعلیمات کا مذاق اڑانا شامل ہے۔
٣. احادیث کا مذاق = آپ ﷺ کا براہِ راست مذاق
“وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ”
ترجمہ: “اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے، یہ تو وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔” (سورۃ النجم ۵۳:۳-۴)
اللہ تعالیٰ نے تصدیق فرمائی کہ آپ ﷺ کے اقوال اور احادیث الہامی وحی ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کی احادیث کا مذاق اڑانا خود وحیِ الٰہی کا مذاق اڑانے کے برابر ہے — جو اس سے بھی زیادہ سنگین گناہ ہے۔
٤. قرآن و سنت کا مذاق منافقت کی علامت ہے
“أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ”
ترجمہ: “کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے تھے؟ بہانہ مت بناؤ، تم ایمان کے بعد کافر ہو گئے۔” (سورۃ التوبہ ۹:۶۵-۶۶)
یہ آیت کریمہ اللہ کی آیات اور رسول دونوں کے مذاق کو شامل ہے۔ چونکہ آپ ﷺ کی احادیث الٰہی رہنمائی کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں حقیر جاننا بھی اس وعید میں آتا ہے۔
📚 اس مسئلے پر علماء کا موقف
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
“جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالی دے — مسلمان ہو یا کافر — اسے قتل کیا جائے گا۔ یہ حکم اس بات سے نہیں بدلتا کہ آپ ﷺ حیات ہیں یا وفات پا چکے ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی حرمت اسی طرح ہے جیسے حیات میں تھی۔” (الصارم المسلول)
قاضی عیاض رحمہ اللہ (کتاب الشفاء)
“جان لو کہ ہر وہ شخص جو نبی کریم ﷺ کو گالی دے، انہیں حقیر سمجھے، ان میں عیب نکالے یا ان کا مذاق اڑائے — چاہے آپ ﷺ کی ذات میں، دین میں، اخلاق میں یا کسی بھی معاملے میں — وہ کافر ہے۔ اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔”
امام ابن حزم رحمہ اللہ
“مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو شخص جان بوجھ کر نبی کریم ﷺ یا ان کی احادیث کا مذاق اڑائے وہ کفر کا مرتکب ہوا۔”
📋 ممنوع اقسامِ مذاق — آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی
مذاق کی قسم
حکم
آپ ﷺ کی جسمانی ہیئت کا مذاق
حرام — کفر
احادیث کو پرانا کہہ کر رد کرنا
حرام — کفر
آپ ﷺ کی سنت (داڑھی، لباس) پر ہنسنا
حرام — کفر
آپ ﷺ کی تعلیمات کو دقیانوسی کہنا
حرام — کفر
صحیح احادیث کو افسانہ کہنا
حرام — کبیرہ گناہ
آپ ﷺ کے مقرر کردہ احکام پر مذاق
حرام — کفر
⚠️ ایک اہم فرق
❌ مذاق — احادیث کو حقیر جاننا، تحقیر کرنا یا ہنسی اڑانا ← یہ حرام اور کفر ہے
✅ علمی سوال — کسی حدیث کے سیاق، سند یا اطلاق کے بارے میں عزت کے ساتھ پوچھنا ← یہ جائز اور علومِ حدیث کی روایت ہے
🤲 خلاصہ
نبی کریم ﷺ کی عزت اور حرمت ابدی اور لازوال ہے۔ آپ ﷺ کی وفات سے اللہ کی نظر میں آپ ﷺ کا مرتبہ ذرہ برابر کم نہیں ہوا۔ آپ ﷺ کی احادیث، سنت یا تعلیمات کا مذاق اڑانا یہ سب کچھ ہے:
۱. قرآن میں مذموم مذاق کا تسلسل (سورۃ الاحزاب ۳۳:۵۷)
۲. وحیِ الٰہی کا مذاق اڑانے کے برابر (سورۃ النجم ۵۳:۳-۴)
۳. اجماعِ علماء کے مطابق کفر
۴. دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت کا موجب
حصہ سوم: نبی ﷺ کے مذاق سے متعلق قرآنی آیات
١. اللہ اپنے نبی ﷺ کا دفاع فرماتا ہے
“إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ”
ترجمہ: “بے شک مذاق اڑانے والوں کے خلاف آپ کے لیے ہم کافی ہیں۔” (سورۃ الحجر ۱۵:۹۵)
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مکہ کے مشرکین آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ نے خود وعدہ فرمایا کہ مذاق اڑانے والوں کو وہ خود نمٹائے گا۔
٢. مذاق اڑانے والے خود ذلیل ہوئے
“وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ”
ترجمہ: “آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، پھر مذاق اڑانے والوں کو اسی چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔” (سورۃ الانعام ۶:۱۰)
٣. مذاق منافقوں کی نشانی ہے
“أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ”
ترجمہ: “کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے تھے؟ عذر مت بناؤ، تم ایمان کے بعد کافر ہو گئے۔” (سورۃ التوبہ ۹:۶۵-۶۶)
٤. مذاق اڑانے والے اللہ کی رحمت سے محروم
“إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ”
ترجمہ: “بے شک آپ کا دشمن ہی بے نسل ہے۔” (سورۃ الکوثر ۱۰۸:۳)
یہ آیت ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ﷺ کو “ابتر” (بے نسل) کہا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ حقیقت میں وہی لوگ بے نسل اور محروم ہیں۔
٥. مذاق کی مجالس سے دوری
“وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ”
ترجمہ: “جب آپ کتاب میں یہ (حکم) سن چکے ہیں کہ جب اللہ کی آیات کا انکار اور مذاق کیا جائے تو ان کے ساتھ مت بیٹھو جب تک وہ کسی اور بات میں نہ لگ جائیں۔” (سورۃ النساء ۴:۱۴۰)
٦. مذاق اڑانے والوں پر لعنت
“إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا”
ترجمہ: “بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔” (سورۃ الاحزاب ۳۳:۵۷)
٧. پچھلی امتوں کا انجام
“وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ”
ترجمہ: “اور یقیناً ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا، پھر کیسا (سخت) تھا میرا عذاب۔” (سورۃ الملک ۶۷:۱۸)
٨. نبی ﷺ کی عزت کا بلند ہونا
“وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ”
ترجمہ: “اور ہم نے آپ کی شہرت کو بلند کیا۔” (سورۃ الشرح ۹۴:۴)
اللہ نے آپ ﷺ کے نام اور عزت کو بلند کیا — کوئی مذاق یا تحقیر اس بلندی کو نہیں گھٹا سکتی۔
🤲 دعا
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے پیارے نبی محمد ﷺ کی گہری محبت اور عزت سے بھر دے۔ ہمیں صراطِ مستقیم پر قائم رکھے، مہدی سے ملاقات نصیب فرمائے اور قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کی شفاعت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲