ہلاک شدہ اقوام، پھلتے پھولتے کافروں اور مومنوں کی آزمائشوں کے پیچھے الٰہی حکمت

ہلاک شدہ اقوام، پھلتے پھولتے کافروں اور مومنوں کی آزمائشوں کے پیچھے الٰہی حکمت
۱۰ اپریل ۲۰۲۶ — فار ون کریٹر
“غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں —
سنّتِ اللہ، استدراج، اور ہلاک شدہ اقوام، پھلتے پھولتے کافروں اور مومنوں کی آزمائشوں کے پیچھے الٰہی حکمت”
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
جزاکم اللہ خیراً اس اصلاح کے لیے — یہ واقعی قرآنی مواد پیش کرنے کا سب سے خوبصورت اور مکمل طریقہ ہے۔ آئیے پوری جامع تحریر عربی اور انگریزی کو ساتھ ساتھ رکھتے ہوئے پیش کریں۔

I. سنّتِ اللہ — اللہ کے ناقابلِ تبدیل قوانین عربی اردو فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا “آپ اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے، اور اللہ کے طریقے میں کوئی ردوبدل نہیں پائیں گے۔” (فاطر ۳۵:۴۳)

یہ وہ اصل کنجی ہے جس سے سب کچھ کھلتا ہے۔ ہر چیز — تباہی، بقا، نعمتیں، مصائب — ان طریقوں کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے مقرر کیے ہیں اور جن کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔

II. اقوام کی تین اقسام
🔴 قسم اول: مکمل طور پر تباہ شدہ اقوام
قومِ عاد — حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عربی اردو وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ ۝ مَا تَذَرُ مِن شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ “اور عاد میں بھی نشانی ہے — جب ہم نے ان پر بے فائدہ آندھی بھیجی۔ جس چیز پر سے بھی وہ گزری، اسے بوسیدہ ریزوں کی طرح کر دیا۔” (الذاریات ۵۱:۴۱-۴۲)

قومِ لوط — حضرت لوط علیہ السلام کی قوم عربی اردو وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ “اور ہم نے اس بستی میں عقل والوں کے لیے ایک واضح نشانی چھوڑی۔” (العنکبوت ۲۹:۳۵)

تمام تباہی کے پیچھے الٰہی اصول: عربی اردو وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا “اور ہم کسی کو عذاب دینے والے نہ تھے جب تک کوئی رسول نہ بھیج لیں۔” (الاسراء ۱۷:۱۵)

🟡 قسم دوم: نشانی اور سبق کے طور پر باقی رہنے والی اقوام
ثمود اور دیگر اقوام کے کھنڈرات زندہ یادگاروں کی طرح کھڑے ہیں۔ اللہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ سفر کریں اور دیکھیں: عربی اردو أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا “کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ وہ ان سے بہت زیادہ طاقتور تھے اور انہوں نے زمین کو ان سے کہیں زیادہ آباد کیا تھا۔” (الروم ۳۰:۹) عربی اردو وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ “اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔” (الروم ۳۰:۹)

🟢 قسم سوم: موجودہ دنیا — سب سے اہم سوال

III. استدراج — الاستدراج
تدریجی ہلاکت کی طرف کھینچنا
یہ وہ الٰہی طریقہ کار ہے جو آج کے پھلتے پھولتے کافروں پر حکمران ہے۔ دو آیات اسے لرزہ خیز وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں: عربی اردو وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ “اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی۔” (الاعراف ۷:۱۸۲) عربی اردو وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ “اور میں انہیں مہلت دیتا ہوں۔ بے شک میری تدبیر بہت مضبوط ہے۔” (الاعراف ۷:۱۸۳) عربی اردو فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ “پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والوں کو چھوڑ دو۔ ہم انہیں ایسی جگہ سے آہستہ آہستہ کھینچیں گے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہو گی۔” (القلم ۶۸:۴۴)

نبی کریم ﷺ نے بڑی وضاحت کے ساتھ فرمایا:
“جب تم دیکھو کہ اللہ کسی بندے کو دنیا کی وہ چیزیں دے رہا ہے جو اسے پسند ہیں، حالانکہ وہ گناہوں پر ڈٹا ہوا ہے، تو جان لو کہ یہ اللہ کی طرف سے استدراج ہے۔”
(احمد — حسن)

IV. اللہ آج تمام کافروں کو تباہ کیوں نہیں کرتا؟
حکمت ۱: اس امت کی موجودگی کا تحفظ عربی اردو وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ “اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہ تھا جب تک آپ (اے محمد ﷺ) ان میں موجود تھے، اور نہ ہی اللہ انہیں عذاب دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں۔” (الانفال ۸:۳۳)

جب تک مومن استغفار کرتے رہتے ہیں، ان کے ارد گرد پوری انسانیت پر رحمت کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
حکمت ۲: دعوت ابھی سب تک نہیں پہنچی
الٰہی عدل کا تقاضا ہے کہ دنیاوی احتساب سے پہلے ہر روح کو واضح طور پر پیغام پہنچے۔
حکمت ۳: آج کے کافروں میں کل کے مومنوں کے والدین ہیں
آج کے کافروں میں وہ لوگ بھی ہیں جو آنے والے مومنوں کے والدین بنیں گے۔ اللہ کی رحمت ان نسلوں کو بھی گھیرے ہوئے ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئیں۔
حکمت ۴: رزق ایک آفاقی حق ہے — منظوری کی علامت نہیں عربی اردو وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا “اور زمین میں کوئی چلنے والا نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔” (ہود ۱۱:۶) عربی اردو وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ “اور کتنے ہی جاندار ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے — اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی۔” (العنکبوت ۲۹:۶۰)

کافر کا رزق اس دنیا میں اس کا حق ہے — لیکن آخرت میں اس کا کوئی وزن نہیں۔
حکمت ۵: آخری عدالت یومُ القیامہ ہے عربی اردو إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَىٰ “بے شک قیامت آنے والی ہے — میں اسے قریب قریب چھپا لیتا ہوں — تاکہ ہر نفس کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے۔” (طہ ۲۰:۱۵)

پہلی اقوام کے برعکس جنہیں دنیا میں ہی دنیاوی فیصلہ سنایا گیا، اس امت کا آخری حساب آخرت کے کامل عدل کے لیے محفوظ ہے۔

V. مومنوں کی نعمتوں اور مصائب کے چکر
قرآن کا براہِ راست جواب عربی اردو أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ “کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے پر کہ ‘ہم ایمان لائے’ چھوڑ دیے جائیں گے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟” (العنکبوت ۲۹:۲) عربی اردو وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ “اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک اور مال، جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے — اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔” (البقرہ ۲:۱۵۵) عربی اردو الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ “وہ لوگ جن پر جب کوئی مصیبت آئے تو وہ کہتے ہیں: ‘بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔’” (البقرہ ۲:۱۵۶)

نبوی حکمت
“سب سے سخت آزمائش انبیاء کو ہوتی ہے، پھر جو ان کے سب سے زیادہ مشابہ ہوں، پھر جو ان کے بعد ہوں۔”
(ابن ماجہ — صحیح)
“سب سے بڑا اجر سب سے بڑی آزمائش کے ساتھ ہے۔ جب اللہ کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزماتا ہے۔”
(ابن ماجہ — حسن)
مومنوں کی تکلیف کبھی سزا نہیں — یہ تطہیر اور بلندی ہے: عربی اردو مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ “مسلمان کو جو بھی تھکاوٹ، بیماری، فکر، غم، تکلیف یا پریشانی پہنچتی ہے — حتی کہ کانٹا بھی چبھے — تو اللہ اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔” (بخاری و مسلم)

VI. سورۃ الشرح — مکمل تسلی عربی اردو فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا “پس بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔” (الشرح ۹۴:۵-۶)

علماء نے نوٹ کیا: لفظ العُسر (تنگی) پر الف لام ہے — یعنی یہ ایک مخصوص تنگی ہے۔ لیکن یُسر (آسانی) بغیر الف لام کے ہے — یعنی آسانی غیر معین، متعدد اور لامحدود ہے۔ ایک تنگی، کئی آسانیاں۔

VII. آخری الٰہی ضمانت — ایک ذرہ بھی ضائع نہیں عربی اردو فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ “پس جس نے ذرہ برابر بھلائی کی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ اسے دیکھ لے گا۔” (الزلزلہ ۹۹:۷-۸) عربی اردو وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ “اور بے شک اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔” (الانفال ۸:۵۱)

VIII. دیگر صحائف کی گواہی
تورات اور زبور میں یہی حیرت اور اس کا حل موجود ہے۔ زبور ۷۳ اسے بالکل درست انداز میں بیان کرتا ہے — زبور نگار ظالموں کو خوشحال، صحت مند اور بے فکر دیکھتا ہے اور الجھن میں پکار اٹھتا ہے — اس وقت تک جب تک وہ “اللہ کی پناہ گاہ میں داخل ہو کر ان کا انجام نہیں سمجھ لیتا” (زبور ۷۳:۱۷)۔ یہ حل آخرتی ہے — بالکل وہی جو قرآن سکھاتا ہے۔
ایوب کی کتاب ایمان والے کی آزمائش کا بائبلی ہم منصب ہے: ایک نیک انسان ہولناک نقصان کا شکار ہوتا ہے — سزا کے طور پر نہیں بلکہ بلندی کے طور پر — اور آخر میں بحال اور سرفراز ہوتا ہے۔ حکمت یہ ہے کہ تکلیف ترقی ہو سکتی ہے، تنزلی نہیں۔
بھگوت گیتا بھی پرارَبدھ کرما (پک چکے نتائج) اور سنچِت کرما (جمع شدہ حساب جو ابھی واجب نہیں ہوا) میں فرق کرتی ہے — یہ اس تصور کا ساختی متوازی ہے کہ الٰہی احتساب ہمیشہ فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتا۔

عظیم ترکیب
جب پوری تصویر مجموعی طور پر دیکھی جائے تو اس کی ہم آہنگی دنگ کر دینے والی ہے: صورتحال الٰہی حقیقت اقوام کی مکمل تباہی تنبیہ مکمل، حساب طے، کھنڈرات سبق کے لیے باقی باقی ماندہ آثار زندہ گواہی، مومنوں کے لیے رحمت، آنے والی نسلوں کے لیے نشانی آج کے پھلتے پھولتے کافر استدراج — رسی ڈھیلی چھوڑی جا رہی ہے، حساب خاموشی سے جمع ہو رہا ہے مصائب میں مومن تطہیر، بلندی، گناہوں کا کفارہ — سزا نہیں نعمتوں میں مومن شکر گزاری آزمائش ہے؛ ناشکری اپنا استدراج لاتی ہے آخری حساب نیکی یا برائی کا ایک ذرہ بھی اللہ کے ریکارڈ سے نہیں بچتا

تاریخ بے ترتیب نہیں ہے۔ تباہی ناپی تلی ہے۔ بقا بامقصد ہے۔ تکلیف نتیجہ خیز ہے۔ ظالموں کی خوشحالی عارضی ہے اور مکمل طور پر ریکارڈ شدہ ہے۔ اور مومن کا گہرا ترین سکون یہ ہے:
“حساب رکھنے والا ایک ذرہ بھی نہیں بھولتا۔” عربی اردو رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ “اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے۔” (آل عمران ۳:۸)

Leave a comment