سوال و جواب: قرآن اور صنفی مساوات
قرآن، تفہیم القرآن اور کلاسیکی تفاسیر کی روشنی میں
حصہ اول — سورۃ النساء ۴:۳۴ | قوّامیّت
Section 1 — Surah An-Nisa 4:34 | Male Authority (Qawwamiyyah)
سوال:
قرآن کریم کی آیت النساء ۴:۳۴ میں ‘قوّام’ کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ مردوں کی برتری کا اعلان ہے؟
Q:
What does ‘Qawwam’ mean in An-Nisa 4:34? Does it declare male superiority?
ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ
جواب:
‘قوّام’ یا ‘قیّم’ کا مطلب ہے وہ شخص جو کسی فرد یا ادارے کے معاملات کی نگرانی، حفاظت اور ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ہو — یہ سرپرستی اور مالی ذمہ داری کا کردار ہے، نہ کہ ذاتی برتری یا تسلط کا۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں: یہ ایک فنکشنل کردار ہے جو مالی ذمہ داریوں کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر مرد نفقہ ادا نہ کرے تو اس کی قوّامیّت کمزور پڑ جاتی ہے۔
A:
‘Qawwam’ means a custodian or guardian responsible for managing, protecting, and providing for another — it is a role of financial responsibility, not ontological dominance. Mawdudi’s Tafheem clarifies: this is a conditional functional role; if a man fails in financial provision, his qawwamah is fundamentally undermined.
سوال:
آیت میں لفظ ‘فضل’ سے کیا مراد ہے — کیا اللہ نے مردوں کو عورتوں سے بہتر بنایا ہے؟
Q:
What does ‘Fadl’ (excellence/distinction) mean here — did Allah make men better than women?
جواب:
لفظ ‘فضّل’ یہاں انسانی وقار یا روحانی شرف میں فرق کے لیے نہیں آیا — یہ تکمیلی کرداروں کی تفریق کی بات ہے۔ قرآن دوسری جگہ (الحجرات ۴۹:۱۳) صراحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو — یہاں جنس کا کوئی ذکر نہیں۔
A:
‘Fadl’ here does not denote superiority in human dignity or spiritual worth — it refers to differentiation in complementary social roles. The Quran elsewhere (49:13) declares explicitly that the most honoured in Allah’s sight is the most righteous — with no gender qualifier whatsoever.
سوال:
آیت میں ‘اضربوھن’ (مارنا) کا ذکر ہے — کیا اسلام بیوی کو مارنے کی اجازت دیتا ہے؟
Q:
The verse mentions ‘Idribuhunna’ (strike them) — does Islam permit wife-beating?
جواب:
عربی میں ‘ضَرَبَ’ کے بیس سے زائد معانی ہیں: سفر کرنا، مثال دینا، الگ کرنا وغیرہ۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: اگر مارنا ہو تو ‘غیر مُبرِّح’ ہو — یعنی نشان نہ چھوڑے، نہ تکلیف دہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ‘تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی سے بہترین ہو’ (ترمذی)۔ آپ ﷺ نے اپنی پوری حیات میں کبھی کسی عورت کو نہیں مارا۔ علماء کی اکثریت اس کو بطور آخری علامتی اقدام سمجھتی ہے جو عملاً حوصلہ شکنی کا نشانہ ہے۔
A:
Arabic ‘daraba’ carries 20+ meanings including to travel, to cite an example, to separate. Ibn Abbas (RA) said if striking occurs it must be ‘ghayr mubarrih’ — leaving no mark and causing no pain. The Prophet ﷺ himself never struck a woman in his entire life. The scholarly majority treats this as a symbolic final step, strongly discouraged in practice.
حصہ دوم — سورۃ البقرہ ۲:۲۸۲ | گواہی
Section 2 — Al-Baqarah 2:282 | Witness Testimony
سوال:
قرآن نے دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر کیوں رکھی — کیا یہ عورت کی کم عقلی کی دلیل ہے؟
Q:
Why does the Quran equate two women’s testimony to one man’s — does this imply women are less intelligent?
فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ
جواب:
ہرگز نہیں۔ علماء نے ‘شہادت’ (عدالتی گواہی) اور ‘اِشہاد’ (دستاویزی گواہ بنانا) میں فرق واضح کیا ہے۔ یہ آیت صرف مالی معاہدوں کی دستاویز سازی سے متعلق ہے۔ دوسری عورت کا کردار یادداشت کی مدد کرنا ہے — ساتویں صدی میں عورتیں تجارتی معاملات سے دور رکھی جاتی تھیں، اس لیے یہ ناتجربہ کاری کا معاملہ ہے، عقل کا نہیں۔ یہ ذہانت کا نہیں، سیاق کا مسئلہ ہے۔
A:
Not at all. Scholars distinguish ‘Shahadah’ (court testimony) from ‘Ishhad’ (contract attestation). This verse concerns only financial documentation. The second woman’s role is memory support — in 7th-century Arabia women were largely excluded from commercial practice, so this is a matter of inexperience, not intellect. This is a contextual, not cognitive, provision.
سوال:
کیا قرآن نے کہیں ایک تنہا عورت کی گواہی قبول کی ہے؟
Q:
Does the Quran ever accept the testimony of a single woman alone?
جواب:
جی ہاں۔ سورۃ النور ۲۴:۶ تا ۹ (لِعان) میں ایک عورت کی تنہا قسم اس کے خاوند کی قسم کے برابر قانونی وزن رکھتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں جنس بذاتِ خود کبھی مطلق قانونی معیار نہیں رہی — سیاق اور حالات فیصلہ کرتے ہیں۔
A:
Yes. In Surah An-Nur 24:6–9 (Li’an), a wife’s single sworn oath carries full legal weight equal to her husband’s oath. This conclusively demonstrates that gender alone was never the absolute criterion in Quranic law — context and circumstance determine the ruling.
سوال:
جاہلیت میں عورت کی گواہی کا کیا حال تھا؟ قرآن نے کیا تبدیلی کی؟
Q:
What was the status of women’s testimony in pre-Islamic Arabia? What did the Quran change?
جواب:
دورِ جاہلیت میں عورت کو گواہی کا کوئی قانونی حق حاصل نہ تھا۔ قرآن نے عورت کو پہلی بار باقاعدہ قانونی گواہ کا درجہ دے کر تاریخ میں ایک انقلاب برپا کیا۔ یہ آیت پسماندگی کی علامت نہیں بلکہ ساتویں صدی کے تناظر میں ایک عظیم اصلاح تھی۔
A:
In pre-Islamic Arabia, women had absolutely no legal standing as witnesses. The Quran mandated for the first time that women be included as legal witnesses — a foundational reform. This verse is not a sign of backwardness but a monumental step forward in its 7th-century context.
حصہ سوم — سورۃ النساء ۴:۱۱ | وراثت
Section 3 — An-Nisa 4:11 | Inheritance
سوال:
قرآن نے عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف وراثت کیوں دی — کیا یہ معاشی ناانصافی نہیں؟
Q:
Why does the Quran give women half the inheritance of men — is this not economic injustice?
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصْفُ
جواب:
نہیں، یہ ایک متوازن نظام ہے۔ مرد پر لازم ہے: مہر ادا کرنا، بیوی کا مکمل نفقہ، بچوں کا خرچ — یہ تمام ذمہ داریاں مرد پر ہیں۔ عورت پر ان میں سے کوئی بھی لازم نہیں۔ عورت کی وراثت مکمل طور پر اس کی ذاتی ملکیت ہے — وہ اسے کسی پر خرچ کرنے کی پابند نہیں۔ ابن القیمؒ اور دیگر علماء نے حساب لگایا ہے کہ مجموعی اعتبار سے مسلمان عورت اکثر اپنے مرد رشتہ داروں سے زیادہ قابل تصرف دولت رکھتی ہے۔
A:
No — it is a balanced system. A man is obligated to pay mahr, fully maintain his wife, and cover all children’s expenses. A woman bears none of these obligations. Her inheritance is entirely her own to keep and invest. Ibn al-Qayyim and others calculated that accounting for mahr received, full exemption from financial obligations, and personal retention of earnings, Muslim women often hold greater net disposable wealth.
سوال:
کیا عورت ہمیشہ مرد سے آدھی وارث ہوتی ہے؟
Q:
Is a woman’s inheritance always half that of a man in all cases?
جواب:
نہیں، ۲:۱ کا تناسب ہر صورت پر لاگو نہیں ہوتا۔ اگر عورت اکیلی وارث ہو تو اسے نصف ترکہ مستقل ملتا ہے۔ کلالہ کی صورت (کوئی اولاد نہ ہو، النساء ۴:۱۷۶) میں بھائی اور بہن برابر کے وارث ہیں۔ ماں کو مستقل حصہ ملتا ہے۔ اسلامی وراثت کا نظام پیچیدہ اور سیاق کے مطابق ہے — ایک سادہ جملے میں اسے سمیٹنا درست نہیں۔
A:
No, the 2:1 ratio is not universal. A sole daughter receives half the estate independently. In kalalah (no direct descendants, 4:176), brothers and sisters inherit equally. A mother receives her own fixed share. The Islamic inheritance system is nuanced and situational — it cannot be reduced to a single blanket ratio.
سوال:
وراثت کے حوالے سے قرآن نے کیا تاریخی اصلاح کی؟
Q:
What was the historical reform the Quran introduced regarding women’s inheritance?
جواب:
ابن کثیرؒ نوٹ کرتے ہیں: دورِ جاہلیت میں عورتوں کو وراثت سے سرے سے محروم رکھا جاتا تھا۔ قرآن نے دنیا کی قانونی تاریخ میں پہلی بار عورت کے لیے ایک متعین، ناقابلِ تبدیل حصہ لازم قرار دیا۔ یہ محرومی سے حقوق کی طرف ایک انقلابی جست تھی۔
A:
Ibn Kathir notes: In pre-Islamic Arabia, women received absolutely nothing from inheritance. The Quran mandated for the first time in world legal history a fixed, inviolable share for women. This was a revolutionary leap from total exclusion to guaranteed rights.
حصہ چہارم — سورۃ البقرہ ۲:۲۲۸ | مردوں کا ‘درجہ’
Section 4 — Al-Baqarah 2:228 | The ‘Degree’ (Darajah)
سوال:
البقرہ ۲:۲۲۸ میں ‘مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ’ سے کیا مراد ہے — کیا یہ مردوں کی ہمہ گیر برتری ہے؟
Q:
What does ‘men have a degree above women’ mean in 2:228 — is this a declaration of universal male superiority?
وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
جواب:
یہ آیت طلاق کے احکام کے ضمن میں نازل ہوئی۔ تمام کلاسیکی مفسرین — طبریؒ، زمخشریؒ، رازیؒ، ابن کثیرؒ — کا اتفاق ہے کہ یہ ‘درجہ’ مرد کے یک طرفہ طلاق کے اختیار سے متعلق ہے، جو ساتھ ہی عدت کے دوران نفقہ اور مؤخر مہر ادا کرنے کی بھاری ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ یہ ‘قانونی ذمہ داری اور جوابدہی کا درجہ’ ہے — روحانی یا مابعدالطبیعاتی برتری نہیں۔
A:
This verse was revealed in the context of divorce rulings. All classical commentators — Tabari, Zamakhshari, Razi, Ibn Kathir — agree this ‘degree’ refers specifically to the husband’s right to initiate talaq, which carries the corresponding heavy obligations of providing maintenance during ‘iddah and paying deferred mahr. It is a degree of legal responsibility and accountability — not spiritual or metaphysical superiority.
سوال:
اسی آیت کا پہلا حصہ کیا کہتا ہے؟
Q:
What does the first part of the same verse (2:228) actually say?
جواب:
‘وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ’ — یعنی عورتوں کے حقوق بھی ایسے ہی ہیں جیسے ان پر مردوں کے حقوق ہیں۔ ساتویں صدی کی کسی بھی مذہبی یا قانونی دستاویز میں حقوقِ زوجین کا اتنا جامع اور متوازن اعلان نہیں ملتا۔ یہ جملہ اس آیت کی اصل روح ہے۔
A:
‘Women have rights similar to those against them in a just manner’ — this is one of the most sweeping declarations of mutual spousal rights in any 7th-century religious or legal document in the world. This opening clause is the spirit of the verse, which must frame our reading of the rest.
حصہ پنجم — قرآن کا اپنا جواب: مکمل مساوات کی آیات
Section 5 — The Quran’s Own Answer: Verses of Absolute Equality
سوال:
کیا قرآن نے کہیں مرد اور عورت کی روحانی مساوات کا صریح اعلان کیا ہے؟
Q:
Does the Quran explicitly declare the spiritual equality of men and women?
جواب:
متعدد مقامات پر، انتہائی صریح الفاظ میں:
A:
Yes, in multiple places and in unambiguous terms:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ — الحجرات ۴۹:۱۳
“اللہ کے نزدیک تم میں سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو” — کوئی صنفی قید نہیں۔
“The most honoured of you in Allah’s sight is the most righteous” — no gender qualifier.
لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ — آل عمران ۳:۱۹۵
“میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، خواہ مرد ہو یا عورت۔”
“I will not let the deeds of any worker go to waste, whether male or female.”
مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةً طَيِّبَةً — النحل ۱۶:۹۷
“جو کوئی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔”
“Whoever does righteous deeds, male or female, while being a believer — We will grant them a good life.”
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ — النساء ۴:۱۲۴
“جو کوئی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، اور مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔”
“Whoever does righteous deeds — male or female — while being a believer, they will enter Paradise.”
سوال:
ان تمام آیات کو دیکھ کر مجموعی نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
Q:
What is the overall conclusion drawn from all these verses together?
جواب:
اسلامی علمی روایت — ابن کثیرؒ، طبریؒ، مولانا مودودیؒ اور معاصر علماء — مسلسل یہی موقف پیش کرتی ہے: یہ آیات دو تکمیلی جنسوں کے درمیان فنکشنل اور قانونی تفریق بیان کرتی ہیں — نہ کہ کسی کی روحانی، عقلی یا انسانی کمتری کا اعلان۔ قرآن کریم کا ہر جزوی حکم ان آیات کے مرکزی فریم ورک میں سمجھنا ضروری ہے جو مرد و عورت کی یکساں روحانی حیثیت، یکساں الٰہی جوابدہی اور یکساں اجر کا اعلان کرتی ہیں۔
A:
The Islamic scholarly tradition — from Ibn Kathir and Tabari through Mawdudi to contemporary scholars — consistently holds: these verses address functional and legal differentiation within a complementary social system, not declarations of spiritual, intellectual, or human inferiority of women. Every particular Quranic ruling must be understood within the overarching framework of verses that declare equal spiritual standing, equal divine accountability, and equal reward for righteous deeds for both sexes.
وَٱللَّهُ أَعْلَمُ
اور اللہ سب سے بہتر جاننے والا ہے
And Allah knows best.