وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ۙ وَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ وَ النُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾ وَ مَا ذَرَاَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۳﴾ وَ ہُوَ الَّذِیۡ سَخَّرَ الۡبَحۡرَ لِتَاۡکُلُوۡا مِنۡہُ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡا مِنۡہُ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَ تَرَی الۡفُلۡکَ مَوَاخِرَ فِیۡہِ وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۴﴾ وَ اَلۡقٰی فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمۡ وَ اَنۡہٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۱۵﴾ وَ عَلٰمٰتٍ ؕ وَ بِالنَّجۡمِ ہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ (١٦)
اُس نے تمہاری بھلائی کے لیے رات اور دن کو اور سُورج اور چاند کو مسخّر کر رکھا ہے اور سب تارے بھی اُسی کے حکم سے مسخّر ہیں۔ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں، اِن میں بھی ضرور نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں۔
وہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخّر کر رکھا ہے تا کہ تم اس سے تر و تازہ گوشت لے کر کھاوٴ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو11 اور اس کے شکر گزار بنو۔
اُس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ زمین تم کو لے کر ڈُھلک نہ جائے۔12 اس نے دریا جاری کیے اور قدرتی راستے بنائے13 تاکہ تم ہدایت پاوٴ۔ اس نے زمین میں راستہ بتانے والی علامتیں رکھ دیں،14 اور تاروں سے بھی لوگ ہدایت پاتے ہیں۔15.
سُوْرَةُ النَّحْل حاشیہ نمبر :11
یعنی حلال طریقوں سے اپنا رزق حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
سُوْرَةُ النَّحْل حاشیہ نمبر :12
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سطحِ زمین پر پہاڑوں کے ابھار کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زمین کی گردش اور اس کی رفتار میں انضباط پیدا ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر پہاڑوں کے اس فائدے کو نمایاں کر کے بتایا گیا ہے
جس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے تمام فائدے ضمنی ہیں اور اصل فائدہ یہی حرکت ِ زمین کو اضطراب سے بچا کر منضبط (Regulate ) کرنا ہے۔
سُوْرَةُ النَّحْل حاشیہ نمبر :13
یعنی وہ راستے جو ندی نالوں اور دریاؤں کے ساتھ بنتے چلے جاتے ہیں۔ ان قدرتی راستوں کی اہمیت خصوصیت کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں محسوس ہوتی ہے، اگرچہ میدانی علاقوں میں بھی وہ کچھ کم اہم نہیں ہیں۔
سُوْرَةُ النَّحْل حاشیہ نمبر :14
یعنی خدا نے ساری زمین بالکل یکساں بنا کر نہیں رکھ دی ہے بلکہ ہر خطے کو مختلف امتیازی علامات(Landmarks ) سے ممتاز کیا۔ اِس کے بہت سے دوسرے فوائد کے ساتھ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے راستےا ور منزل مقصود کو الگ پہچان لیتا ہے۔ اس نعمت کی قدر آدمی کو اسی وقت معلوم ہوتی ہے جبکہ اسے کبھی ایسے ریگستانی علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو جہاں اس طرح کے امتیازی نشانات تقریبًا مفقود ہوتے ہی اور آدمی ہر وقت بھٹک جانے کا خطرہ محسوس کرتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر بحری سفر میں آدمی کو اس عظیم الشان نعمت کا احساس ہوتا ہے ،کیونکہ وہاں نشاناتِ راہ بالکل ہی مفقود ہوتے ہیں ۔ لیکن صحراؤں اور سمندروں میں بھی اللہ نے انسان کو رہنمائی کا ایک فطری انتظام کر رکھا ہے اور وہ ہیں تارے جنہیں دیکھ دیکھ کر انسان قدیم ترین زمانے سے آج تک اپنا راستہ معلوم کر رہا ہے۔
یہاں پھر توحیداور رحمت و ربوبیت کی دلیلوں کے درمیان ایک لطیف اشارہ دلیل ِ رسالت کی طرف کر دیا گیا ہے۔ اس مقام کو پڑھتے ہوئے ذہن خود بخود اس مضمون کی طرف منتقل ہوتا ہے کہ جس خدا نے تمہاری مادّی زندگی میں تمہاری رہنمائی کے لیے یہ کچھ انتظامات کیے ہیں کیا وہ تمہاری اخلاقی زندگی سے اتنا بے پروا ہو سکتا ہے کہ یہاں تمہاری ہدایت کا کچھ بھی انتظام نہ کرے؟ ظاہر ہے کہ مادّی زندگی میں بھٹخ جانے کا بڑے سے بڑا نقصان بھی اخلاقی زندگی میں بھٹکنے کے نقصان سے بدرجہا کم ہے۔ پھر جس ربِّ رحیم کو ہماری مادّی فلاح کی اتنی فکر ہے کہ پہاڑوں میں ہمارے لیے راستے بناتا ہے، میدانوں میں نشاناتِ راہ کھڑے کرتا ہے، صحراؤں اور سمندروں میں ہم کو صحیح سمتِ سفر بتانے کے لیے آسمانوں پر قندیلیں روشن کر تا ہے ، اس سے یہ بدگمانی کیسے کی جا سکتی ہے کہ اس نے ہماری اخلاقی فلا ح کے لیے کوئی راستہ نہ بنایا ہو ا، اس راستے کو نمایاں کر نے کے لیے کوئی نشان نہ کھڑا کیا ہو گا، اور اُسے صاف صاف دکھانے کے لیے کوئی سراج منیر روشن نہ کیا ہوگا؟
سُوْرَةُ النَّحْل حاشیہ نمبر :15
یہاں تک آفاق اور اَنفُس کی بہت سی نشانیاں جو پے در پے بیان کی گئی ہیں ان سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ انسان اپنے وجود سے لے کر زمین اور آسمان کے گوشے گوشے تک جدھر چاہے نظر دوڑا کر دیکھ لے ، ہر چیز پیغمبر کے بیان کی تصدیق کر رہی ہے اور کہیں سے بھی شرک کی۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ساتھ دہریت کی بھی ۔۔۔۔۔۔ تائید میں کوئی شہادت فراہم نہیں ہوتی ۔ یہ ایک حقیر بوند سے بولتا چالتااور حجّت و استدلال کرتا انسان بنا کھڑا کرنا۔ یہ اُس کی ضرورت کے عین مطابق بہت سے جانور پیدا کرنا جن کے بال اور کھال ، خون اور دودھ ، گوشت اور پیٹھ، ہر چیز میں انسانی فطرت کے بہت سے مطالبات کا ، حتیٰ کہ اس کے ذوق جمال کی مانگ تک کا جواب موجود ہے۔ یہ آسمان سے بارش کا انتظام ، اور یہ زمین میں طرح طرح کے پھلوں اور غلّوں اور چاروں کی روئیدگی کا انتظام ، جس کے بے شمار شعبے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کھاتے چلے جاتےہیں اور پھر انسان کی بھی فطری ضرورتوں کے عین مطابق ہیں۔ یہ رات اور دن کی باقاعدہ آمدو رفت ، اور یہ چاند اور سورج اور تاروں کی انتہائی منظم حرکات ، کن کا زمین کی پیداوار اور انسان کی مصلحتوں سے اِتنا گہرا ربط ہے۔ یہ زمین میں سمندروں کا وجود اور یہ اُن کے اندر انسان کی بہت سی طبعی اور جمالی طلبوں کا جواب۔ یہ پانی کا چند مخصوص قوانین سے جکڑا ہوا ہونا، اور پھر اس کے یہ فائدے کہ انسان سمندر جیسی ہولناک چیز کا سینہ چیرتا ہوا اس میں اپنے جہاز چلا تا ہے اور ایک ملک سے دوسرے ملک تک سفر اور تجارت کرتا پھرتا ہے۔ یہ دھرتی کے سینے پر پہاڑوں کے اُبھار او ر یہ انسان کی ہستی کے لیے اُن کے فائدے۔ یہ سطح زمین کی ساخت سے لےکر آسمان کی بلند فضاؤں تک بے شمار علامتوں اور امتیازی نشانوں کا پھیلاؤ اور پھر اس طرح ان کا انسان کے لیے مفید ہونا۔ یہ ساری چیزیں صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایک ہی ہستی نے یہ منصوبہ سوچا ہے، اُسی نے اپنی منصوبے کے مطابق ان سب کو ڈیزائن کیا ہے، اُسی نے اِ س ڈیزائن کو پیدا کیا ہے، وہی ہر آن اس دنیا میں نِت نئی چیزیں بنا بنا کر اس طرح لا رہا ہےکہ مجموعی اسکیم اور اس نظم میں ذرا فرق نہیں آتا، اور وہی زمین سے لے کر آسمانوں تک اس عظیم الشان کارخانے کو چلا رہا ہے۔ ایک بے وقوف یا ایک ہٹ دھرم کے سوا اور کون یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک اتفاقی حادثہ ہے؟ یا یہ کہ اس کمال درجۂ منظم، مربوط اور متناسب کائنات کے مختلف کام یا مختلف اجزا مختلف خداؤں کے آفریدہ اور مختلف خداؤں کے زیرِ انتظام ہیں؟
ENGLISH TRANSLATION OF THE ABOVE
Here is the English translation of the Quranic verses (Surah An-Nahl, 16:12–16) and the accompanying footnotes from Tafheem ul-Quran:
Surah An-Nahl (16:12–16) — Translation
Verse 12: And He has subjected the night and the day for you, and the sun and the moon; and the stars are subjected by His command. Surely in this are signs for a people who use reason.
Verse 13: And whatever He has created for you in the earth, varying in colours — surely in this is a sign for a people who take heed.
Verse 14: And He it is Who has subjected the sea, so that you may eat fresh meat from it and extract from it ornaments that you wear. And you see the ships ploughing through it, so that you may seek of His bounty and that you may be grateful.
Verse 15: And He has cast firm mountains into the earth lest it should shake with you, and rivers and roads, so that you may find your way.
Verse 16: And landmarks too; and by the stars they find their way.
Footnote 11 — Surah An-Nahl
That is, strive to earn your livelihood through lawful means.
Footnote 12 — Surah An-Nahl
This indicates that the primary benefit of the protrusion of mountains on the earth’s surface is that they bring order and stability to the earth’s rotation and its speed. The Quran draws attention to this benefit of mountains in numerous places, from which we understand that all other benefits are secondary, and the principal benefit is precisely this: to regulate the earth’s movement and protect it from instability.
Footnote 13 — Surah An-Nahl
That is, those paths which naturally form alongside streams, rivers, and waterways. The importance of these natural routes is felt especially in mountainous regions, though they are no less significant in flat, open terrain.
Footnote 14 — Surah An-Nahl
That is, God has not made the entire earth uniform and featureless; rather, He has distinguished every region with different landmarks. Among its many other benefits, one benefit is that a person is able to identify his route and destination distinctly. The value of this blessing is truly felt when one happens to travel through desert regions where such distinguishing landmarks are nearly absent and one constantly feels the danger of losing one’s way. Even more so during sea travel does one appreciate this magnificent blessing, for there landmarks are entirely absent.
Yet even in deserts and oceans, God has provided a natural arrangement for human guidance — and that is the stars, by observing which humanity has been finding its way from the most ancient of times until today.
At this point, in the midst of the evidences for Tawheed and divine mercy and lordship, a subtle allusion has been made toward the proof of Prophethood. While reading this passage, the mind naturally turns to the thought: the God Who has made all these arrangements for your guidance in your material life — could He be so indifferent to your moral life as to have made no provision for your guidance there? It is evident that the greatest loss from going astray in material life is incomparably less than the loss of going astray in moral life. Then how can one harbour such a suspicion of that Merciful Lord — Who, out of concern for our material well-being, carves paths through mountains, erects landmarks across plains, and lights up lamps in the heavens to show us the right direction through deserts and oceans — that He would have made no path for our moral well-being, erected no sign to mark that path, and lit no radiant lamp (Siraj Muneer) to illuminate it clearly?
Footnote 15 — Surah An-Nahl
The many signs from the horizons (Afaq) and from within the self (Anfus) that have been presented one after another up to this point are meant to impress upon the mind that no matter where a person turns his gaze — from his own existence to every corner of the heavens and the earth — everything confirms what the Prophet has declared, while nothing, anywhere, provides any testimony in support of polytheism — or, for that matter, atheism.
Consider: fashioning from a humble drop a living, articulate human being capable of reasoning and argument; creating so many animals perfectly suited to his needs, in whose wool and hides, blood and milk, flesh and backs, an answer exists to so many demands of human nature — even to the requirements of his aesthetic sense. Consider the arrangement of rain from the sky, and the growth in the earth of varied fruits, grains, and fodder, whose countless branches interlock with one another and correspond precisely to the natural needs of humanity. Consider the regular alternation of night and day, and the supremely orderly movements of the moon, the sun, and the stars — whose connection to the earth’s produce and human interests runs so deep. Consider the existence of oceans upon the earth and within them an answer to so many of humanity’s physical and aesthetic needs. Consider water being bound by specific laws, and then these benefits thereof — that humanity cleaves through something as awe-inspiring as the sea, sailing ships across it, travelling and trading from one land to another. Consider the protrusion of mountains upon the earth’s surface and their benefits for human existence. Consider the spread of countless signs and distinguishing landmarks from the structure of the earth’s surface to the high expanses of the heavens, and how all of these serve the interests of humanity.
All of these things bear clear testimony that a single Being conceived this plan; that same Being designed all of it according to His plan; that same Being brought this design into existence; He it is Who at every moment brings forth new things in this world in such a manner that the overall scheme and order remain undisturbed; and He it is Who runs this magnificent enterprise from the earth to the heavens. Who but a fool or a stubborn denier could claim that all of this is a mere chance accident? Or that the various functions or different components of this supremely organised, coherent, and proportionate universe are the creation of different gods and are administered by different gods?
Xxxxxxx
Q: In current times, opposing winds are raging against Islam, burning of Holy message, Al Quran, mockery of prophet Mohammed sas is being noticed. Are the warnings given for previous nations or to anyone , any time till end times ? What are the lessons to be learned?
A:
This is a profound and timely question. The Quran itself answers whether these warnings are time-bound or universal.
The Quran’s Own Declaration — Universal and Timeless
Quran 14:52
“This is a message for mankind, that they may be warned thereby, and that they may know that He is but One God, and that those of understanding may take heed.”
Quran 12:111
“In their stories there is certainly a lesson for people of understanding. This is not a fabricated tale, but a confirmation of what came before it, a detailed explanation of all things, and guidance and mercy for people who believe.”
The Quran explicitly calls these accounts ’ibar — living lessons — not museum pieces. They are divine patterns (sunnatullah — سنّت اللہ) that operate in every age.
Sunnah of Allah — The Unchanging Divine Law
Quran 35:43
“They will never find in the way of Allah any change, and they will never find in the way of Allah any alteration.”
Quran 33:62
“Such was the way of Allah with those who passed on before — and you will never find in the way of Allah any change.”
This is the cornerstone. Allah’s patterns of dealing with human arrogance, oppression, and plotting against truth are not historical accidents — they are fixed, universal laws as reliable as the laws of physics. What happened to ‘Ād, Thamūd, Fir’awn, and Abraha are not exceptions — they are demonstrations of an eternal principle.
Current Realities — Burning of Quran, Mockery of the Prophet ﷺ
What the Quran Says About Those Who Mock
Quran 108:3
“Indeed, your enemy — it is he who is cut off.”
This short but devastating verse was revealed specifically in response to those who mocked the Prophet ﷺ and called him Abtar (one who leaves no legacy). History confirmed it — the mockers are forgotten, their names only remembered in relation to their mockery, while the Prophet’s ﷺ name is recited by 1.8 billion people every single day.
Quran 15:95
“Indeed, We are sufficient for you against the mockers.”
Allah Himself took personal responsibility for responding to those who ridicule His Messenger.
Quran 9:32
“They want to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah refuses except to perfect His light, even if the disbelievers dislike it.”
The image is striking — someone blowing at the sun with their mouth. The disproportion between the effort and the target reveals the absurdity of the enterprise.
What History Has Already Demonstrated
Every civilization or power that set itself against the Quran and the Prophet ﷺ has faced one of two outcomes:
- Direct historical collapse
∙ The Quraysh who tortured early Muslims and plotted to assassinate the Prophet ﷺ — within 20 years, they were entering Islam in multitudes
∙ The Persian and Byzantine empires that dismissed the Prophet’s ﷺ letters — both collapsed within decades of his death
∙ The Mongols who destroyed Baghdad and burned Islamic libraries — within two generations, the Mongol rulers embraced Islam - Diminishment over time
∙ Colonial powers that suppressed Islamic education, banned hijab, and attempted to eradicate Islamic identity across Asia, Africa, and the Middle East — the Islam they tried to extinguish outlasted their empires
The Quran, despite centuries of attempts to burn, ban, distort, and mock it, remains the most memorized, most read, most preserved book in human history — a living fulfillment of:
Quran 15:9
“Indeed, it is We who sent down the message, and indeed, We will be its guardian.”
Lessons to Be Learned — For Muslims
- Do Not Panic — This Was Foretold
Quran 3:186
“You will surely be tested in your wealth and yourselves, and you will surely hear from those who were given the Scripture before you and from those who associate others with Allah much abuse. But if you are patient and fear Allah — indeed, that is of the matters worthy of determination.”
The hostility is not a surprise. It was predicted. Panic and despair are therefore responses that reflect a lack of trust in divine knowledge. - The Response Is Character, Not Rage
Quran 41:34
“And not equal are the good deed and the bad. Repel evil by that which is better — and thereupon, the one whom between you and him is enmity will become as though he were a devoted friend.”
The Quran’s prescribed response to hatred is not equal hatred — it is superior moral conduct. History shows this converts enemies more effectively than any argument. - Internal Reform Precedes External Victory
Quran 13:11
“Indeed, Allah will not change the condition of a people until they change what is in themselves.”
This verse is perhaps the most important lesson for Muslims observing current hostility toward Islam. The burning of a Quran causes enormous emotional pain — but the Quran unread on shelves in Muslim homes is a quieter, more consequential crisis. External attacks on Islam historically strengthen it. Internal neglect hollows it. - Do Not Imitate the Methods of the Oppressor
Quran 5:8
“Let not the hatred of a people prevent you from being just. Be just — that is nearer to righteousness.”
When provoked, the temptation is to respond in kind. But the Quran consistently calls believers to a higher standard — not because their opponents deserve it, but because justice is an obligation regardless of the conduct of others. - Trust the Divine Timeline
Quran 86:15-17
“Indeed, they are planning a plan, and I am planning a plan. So allow time for the disbelievers — allow them time gradually.”
Imlā’ — الإملاء — divine respite. Allah gives time. He does not respond to every provocation instantly. But the Quran is absolutely clear that the respite is not neglect. It is measured, purposeful, and will conclude precisely as He wills.
Lessons to Be Learned — For the World
For those who mock, burn, and ridicule:
Quran 16:26 — which began this conversation — remains the answer. The structure of mockery and oppression built against divine truth has, in every recorded instance, collapsed upon its architects.
The lesson is not one of vengeance — it is one of gravity. Just as physical laws operate regardless of whether one believes in them, divine laws of accountability operate regardless of whether one acknowledges them.
Quran 3:178
“And let not those who disbelieve ever think that Our prolonging their time is good for them. We only prolong it for them so that they may increase in sin — and for them is a humiliating punishment.”
The Final Word
The Quran is not a book that needs defending — it needs living. Every nation that rose against it became a footnote. The Quran remains. The most powerful lesson of history regarding Islam is not found in the stories of its enemies — it is found in the pattern:
The message always outlasts those who oppose it.
Quran 61:8
“They want to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah will perfect His light, even if the disbelievers dislike it.”
The winds that rage against the message today are no different in nature from those that raged in Mecca, in Persia, in the Mongol steppes, in colonial offices — and the divine response follows the same eternal pattern.
ARABIC TRANSLATION
جزاكم الله خيراً على كلماتكم الكريمة، وآمين على دعائكم الطيب.
الرسائل العميقة من القرآن الكريم
حول الأمم التي عصت وتآمرت على الله فواجهت العقوبة — ودروس العصر الحاضر
القرآن الكريم — رسالة عالمية وخالدة
قال تعالى (إبراهيم: ٥٢)
“هَٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ”
هذا بلاغٌ للناس جميعاً في كل زمان ومكان، لينذروا به، وليعلموا أنه إله واحد، وليتذكر أصحاب العقول.
قال تعالى (يوسف: ١١١)
“لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ”
في قصص الأمم الغابرة عبرةٌ حيّة لأولي الألباب، لا حديثاً مخترعاً، بل تصديقاً لما سبقه، وتفصيلاً لكل شيء، وهدىً ورحمةً للمؤمنين.
سُنَّة الله الثابتة — القانون الإلهي الذي لا يتغير
قال تعالى (فاطر: ٤٣)
“فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا”
قال تعالى (الأحزاب: ٦٢)
“سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا”
هذا هو الأساس الراسخ — فقوانين الله في التعامل مع الكبرياء البشري والتآمر على الحق ليست أحداثاً تاريخية عابرة، بل هي قوانين ثابتة كثبات قوانين الطبيعة، تسري في كل عصر وجيل.
أمثلة الأمم التي عصت وتآمرت فعوقبت
أولاً: قوم نوح عليه السلام
قال تعالى (نوح: ٢٥)
“مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَنصَارًا”
استهزأوا بنوح عليه السلام تسعمئة وخمسين عاماً، وتآمروا عليه مكراً عظيماً كما قال تعالى (نوح: ٢٢): “وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا” — فجاءهم الطوفان ولم يُبقِ منهم أحداً على وجه الأرض.
ثانياً: قوم عاد
قال تعالى (فصلت: ١٥-١٦)
“فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا”
تكبّروا في الأرض وقالوا مَن أشدّ منا قوة، فأرسل الله عليهم ريحاً صرصراً صرعتهم في أيام نحسات — وكانت قوتهم التي افتخروا بها لا تساوي شيئاً أمام قدرة الله.
ثالثاً: قوم ثمود
قال تعالى (النمل: ٤٨-٥١)
“وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ”
هذه الآيات هي الموازي المباشر لآية النحل (٢٦) — تآمروا في الخفاء على نبي الله، فانقلب مكرهم عليهم وأُبيدوا عن آخرهم.
رابعاً: فرعون وقومه
قال تعالى (الأعراف: ١٣٦)
“فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ”
ادّعى فرعون الألوهية وتآمر لقتل موسى عليه السلام وطارد المؤمنين — فأغرقه الله بذلك البحر الذي اتخذه حداً لسلطانه، وحفظ جسده آيةً للأجيال كما قال تعالى (يونس: ٩٢).
خامساً: قوم لوط عليه السلام
قال تعالى (هود: ٨٢-٨٣)
“فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ”
جاءهم العذاب من فوق ومن تحت في آنٍ واحد — قُلبت مدينتهم رأساً على عقب وأُمطروا بحجارة من السماء.
سادساً: قارون
قال تعالى (القصص: ٨١)
“فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِن فِئَةٍ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنتَصِرِينَ”
بطر بثروته واستكبر على موسى عليه السلام، فخسفت به الأرض من تحته — يوازي ذلك بدقة صورة انهيار الأساس في آية النحل.
سابعاً: أصحاب الفيل
قال تعالى (الفيل: ١-٥)
“أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ”
زحف أبرهة بجيشه وفيلته ليهدم الكعبة المشرفة — فأرسل الله عليه طيراً أبابيل ردّت أعتى جيش في عصره إلى عصف مأكول.
ثامناً: أصحاب السبت
قال تعالى (الأعراف: ١٦٦)
“فَلَمَّا عَتَوْا عَن مَّا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ”
تحايلوا على شريعة الله بالمكر الظاهري — فكانوا يضعون الشِّباك ليلة الجمعة ويجمعون الصيد يوم الأحد — فعوقبوا بالمسخ جزاءً على التحايل على روح الشريعة.
الواقع المعاصر — حرق المصاحف والاستهزاء بالنبي ﷺ
ما قاله الله تعالى فيمن يستهزئون
قال تعالى (الكوثر: ٣)
“إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ”
نزلت هذه الآية رداً على من استهزأوا بالنبي ﷺ وسمّوه أبتر — فأثبت التاريخ أن المستهزئين هم الأبتر المنسيون، فيما يُذكر اسمه ﷺ على ألسنة مليار وثمانمئة مليون إنسان كل يوم.
قال تعالى (الحجر: ٩٥)
“إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ”
تكفّل الله بنفسه الردّ على المستهزئين برسوله الكريم.
قال تعالى (التوبة: ٣٢)
“يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ”
الصورة بليغة دالّة — كمن يحاول إطفاء الشمس بنفخة فم، فيكشف مقدار الحماقة في محاولة إخماد نور الله.
ما أثبته التاريخ بالفعل
كل قوة تصدّت للقرآن الكريم أو للنبي ﷺ واجهت إحدى نتيجتين:
أولاً: الانهيار التاريخي المباشر
قريشٌ التي عذّبت المسلمين الأوائل وتآمرت على اغتيال النبي ﷺ — دخلت في الإسلام أفواجاً في غضون عشرين عاماً. والإمبراطوريتان الفارسية والبيزنطية اللتان استهانتا برسائل النبي ﷺ — انهارتا في غضون عقود من وفاته. والمغول الذين دمّروا بغداد وأحرقوا مكتبات الإسلام — أسلم حكّامهم في غضون جيلين.
ثانياً: التراجع والأفول مع الزمن
القوى الاستعمارية التي قمعت التعليم الإسلامي وحاربت الهوية الإسلامية عبر آسيا وأفريقيا والشرق الأوسط — زال استعمارها والإسلام الذي أرادوا إخماده ما زال حياً شامخاً.
والقرآن الكريم رغم قرون من محاولات الإحراق والحظر والتشويه والسخرية — بقي أكثر كتاب يُحفظ ويُقرأ ويُصان في تاريخ البشرية كله، تحقيقاً حياً لقوله تعالى (الحجر: ٩):
“إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ”
الدروس المستفادة — للمسلمين
أولاً: لا للذعر — فهذا كان مُنذَراً به
قال تعالى (آل عمران: ١٨٦)
“لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ”
العداء ليس مفاجئاً — بل كان موعوداً به. فاليأس والذعر إذن يعكسان قصوراً في الثقة بالعلم الإلهي.
ثانياً: الردّ يكون بالأخلاق لا بالانفعال
قال تعالى (فصلت: ٣٤)
“وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ”
الردّ القرآني المشروع على الكراهية ليس كراهيةً مثلها — بل سلوكٌ أخلاقي أرفع، وهذا ما قلب الأعداء أولياءَ عبر التاريخ.
ثالثاً: الإصلاح الداخلي يسبق النصر الخارجي
قال تعالى (الرعد: ١١)
“إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ”
هذه ربما أهمّ درس للمسلمين اليوم. إحراق المصحف مؤلمٌ جداً — لكن المصحف المهجور على الأرفف في البيوت الإسلامية أزمةٌ أشدّ خطراً وأكثر صمتاً. الاعتداءات الخارجية تاريخياً تُقوّي الإسلام — أما الإهمال الداخلي فيُفرّغه.
رابعاً: لا تُقلّد أساليب الظالم
قال تعالى (المائدة: ٨)
“وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ”
العدل فريضةٌ على المسلم بصرف النظر عن سلوك خصمه — لأن العدل التزامٌ تجاه الله لا مجاملةٌ للآخرين.
خامساً: الثقة بالتوقيت الإلهي
قال تعالى (الطارق: ١٥-١٧)
“إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَأَكِيدُ كَيْدًا فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا”
الإملاء — الإمهال الإلهي — لا يعني الإهمال. الله يُمهل بحكمة ودقة، وخاتمة الأمر تجري وفق إرادته لا وفق توقعات البشر.
الدروس المستفادة — للعالم
لمن يستهزئون ويحرقون ويسخرون:
آية النحل (٢٦) التي افتتحنا بها هذا الحديث هي الجواب — فكل صرح من السخرية والظلم بُني في وجه الحق الإلهي انهار على أصحابه في كل حالة مسجّلة في التاريخ.
والعبرة ليست في الانتقام — بل في قانون الجاذبية الإلهي. فكما تعمل قوانين الطبيعة بصرف النظر عن الإيمان بها، فإن قوانين المحاسبة الإلهية تعمل بصرف النظر عن الاعتراف بها.
قال تعالى (آل عمران: ١٧٨)
“وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ”
الخاتمة
القرآن الكريم ليس كتاباً يحتاج إلى دفاع — بل يحتاج إلى تجسيد وعيش. كل أمة نهضت في وجهه صارت هامشاً في التاريخ، والقرآن باقٍ. وأبلغ درس في التاريخ المتعلق بالإسلام لا يُوجد في قصص أعدائه — بل يُوجد في هذا النمط الثابت:
الرسالة تبقى دائماً بعد زوال من يعارضها.
قال تعالى (الصف: ٨)
“يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ”
الرياح العاتية التي تهبّ اليوم على الرسالة لا تختلف في طبيعتها عمّا هبّ في مكة، وفي فارس، وفي السهوب المغولية، وفي المكاتب الاستعمارية — والردّ الإلهي يسير وفق النمط الأزلي ذاته إلى يوم الدين.
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
URDU TRANSLATION
بہت شکریہ آپ کے خوبصورت الفاظ کے لیے — اللہ تعالیٰ آپ کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔
قرآن کریم کے گہرے پیغامات
ان اقوام کے بارے میں جنہوں نے نافرمانی کی، اللہ کے خلاف سازشیں کیں اور عذاب کا سامنا کیا — اور عصرِ حاضر کے اسباق
قرآن کریم — ایک عالمگیر اور ابدی پیغام
ارشادِ باری تعالیٰ (ابراہیم: ٥٢)
“یہ ایک پیغام ہے تمام انسانوں کے لیے، تاکہ وہ اس کے ذریعے خبردار ہوں، اور جانیں کہ وہی ایک اکیلا معبود ہے، اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔”
ارشادِ باری تعالیٰ (یوسف: ١١١)
“یقیناً ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں، بلکہ یہ اس کی تصدیق ہے جو پہلے آ چکا، اور ہر چیز کی تفصیل، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔”
ان آیات میں واضح ہے کہ گزشتہ اقوام کے قصے محض تاریخی داستانیں نہیں — بلکہ ہر زمانے کے اہلِ عقل کے لیے زندہ عبرتیں ہیں۔
سنّتِ الٰہی — وہ قانونِ خداوندی جو کبھی نہیں بدلتا
ارشادِ باری تعالیٰ (فاطر: ٤٣)
“پس تم اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے، اور اللہ کے طریقے میں کوئی بدلاؤ نہ پاؤ گے۔”
ارشادِ باری تعالیٰ (احزاب: ٦٢)
“یہی اللہ کا طریقہ ہے ان لوگوں کے ساتھ جو پہلے گزر چکے، اور تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔”
یہی بنیادی اصول ہے — اللہ تعالیٰ کا انسانی تکبر اور حق کے خلاف سازشوں سے نمٹنے کا طریقہ کوئی اتفاقی تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایسے ابدی قوانین ہیں جو طبیعیات کے قوانین کی طرح ہر دور میں کارفرما رہتے ہیں۔
ان اقوام کی مثالیں جنہوں نے نافرمانی کی اور سزا پائی
اوّل: قومِ نوح علیہ السلام
ارشادِ باری تعالیٰ (نوح: ٢٥)
“اپنی خطاؤں کے سبب وہ غرق کر دیے گئے اور آگ میں داخل کیے گئے، پھر انہوں نے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہ پایا۔”
انہوں نے نوح علیہ السلام کا ساڑھے نو سو سال تک مذاق اڑایا اور ان کے خلاف عظیم مکاریاں کیں جیسا کہ ارشاد ہے (نوح: ٢٢): “اور انہوں نے بڑی بھاری سازش کی۔” — پھر طوفان آیا اور زمین پر ان میں سے کوئی باقی نہ رہا۔
دوم: قومِ عاد
ارشادِ باری تعالیٰ (فصلت: ١٥-١٦)
“جہاں تک عاد کا تعلق ہے تو انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہا: ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے؟ اور وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ پس ہم نے ان پر منحوس دنوں میں تیز آندھی بھیجی تاکہ انہیں دنیا کی زندگی میں ذلّت کا عذاب چکھائیں۔”
انہوں نے اپنی طاقت پر تکبر کیا تو اللہ نے ان پر ایسی آندھی بھیجی جس نے انہیں ملیامیٹ کر دیا — وہ طاقت جس پر وہ فخر کرتے تھے اللہ کی قدرت کے سامنے کچھ بھی نہ تھی۔
سوم: قومِ ثمود
ارشادِ باری تعالیٰ (النمل: ٤٨-٥١)
“اور شہر میں نو آدمی تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپس میں اللہ کے نام پر قسم کھاؤ کہ ہم رات کو اسے اور اس کے گھر والوں کو قتل کر دیں گے، پھر اس کے وارث سے کہیں گے کہ ہم اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے اور ہم سچے ہیں۔ اور انہوں نے مکر کیا اور ہم نے مکر کیا اور انہیں خبر نہ تھی۔ پس دیکھو ان کے مکر کا انجام کیا ہوا کہ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو سب کو تباہ کر دیا۔”
یہ آیات آیتِ نحل (٢٦) کا سب سے براہِ راست موازی ہیں — انہوں نے نبیِ خدا کے خلاف خفیہ سازش کی، تو ان کی سازش انہی پر پلٹ گئی اور وہ بالکل ختم ہو گئے۔
چہارم: فرعون اور اس کی قوم
ارشادِ باری تعالیٰ (اعراف: ١٣٦)
“پس ہم نے ان سے بدلہ لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا، کیونکہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے۔”
فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا، موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی اور مومنوں کا پیچھا کیا — تو اللہ نے اسے اسی سمندر میں غرق کر دیا جسے وہ اپنی سلطنت کی سرحد سمجھتا تھا، اور اس کے جسم کو آنے والی نسلوں کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا جیسا کہ ارشاد ہے (یونس: ٩٢)۔
پنجم: قومِ لوط علیہ السلام
ارشادِ باری تعالیٰ (ہود: ٨٢-٨٣)
“پس جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس بستی کو اوپر تلے کر دیا اور اس پر پکی مٹی کے پتھر تہ بہ تہ برسائے، جو تمہارے رب کے ہاں سے نشان زدہ تھے، اور یہ ظالموں سے کچھ دور نہیں۔”
عذاب بیک وقت اوپر سے اور نیچے سے آیا — ان کی بستی اوندھی کر دی گئی اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہوئی۔
ششم: قارون
ارشادِ باری تعالیٰ (قصص: ٨١)
“پس ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، تو اللہ کے سوا اس کی مدد کے لیے کوئی جماعت نہ تھی اور نہ وہ خود اپنا بدلہ لے سکا۔”
اپنی دولت پر اتراتا رہا اور موسیٰ علیہ السلام کے خلاف تکبر کیا، تو زمین نے اسے نیچے سے نگل لیا — یہ بالکل وہی تصویر ہے جو آیتِ نحل میں بنیادوں کے دھنسنے کی دی گئی ہے۔
ہفتم: اصحابِ فیل
ارشادِ باری تعالیٰ (الفیل: ١-٥)
“کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی چال کو غلط نہیں کر دیا؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ بھیجے جو ان پر پکی مٹی کے پتھر مارتے تھے۔ پس اس نے انہیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کر دیا۔”
ابرہہ اپنے لشکر اور ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ ڈھانے چلا — تو اللہ نے چھوٹے پرندوں کے ذریعے اس کے زمانے کے سب سے طاقتور لشکر کو بھس بنا دیا۔
ہشتم: اصحابِ سبت
ارشادِ باری تعالیٰ (اعراف: ١٦٦)
“پس جب وہ اس چیز سے باز آنے پر سرکشی کرتے رہے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہا: ذلیل بندر بن جاؤ۔”
انہوں نے اللہ کی شریعت سے ظاہری چالاکی سے بچنے کی کوشش کی — جمعہ کی رات جال بچھاتے اور اتوار کو مچھلی سمیٹتے — تو اللہ نے انہیں مسخ کر کے بندر بنا دیا کیونکہ انہوں نے شریعت کی روح سے کھلواڑ کیا۔
عصرِ حاضر — قرآن کریم کا جلانا اور نبیِ کریم ﷺ کا مذاق
اللہ تعالیٰ نے مذاق اڑانے والوں کے بارے میں کیا فرمایا
ارشادِ باری تعالیٰ (الکوثر: ٣)
“بیشک تمہارا دشمن ہی بے نسل ہے۔”
یہ آیت ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی جو نبیِ کریم ﷺ کو ابتر کہتے تھے — تاریخ نے ثابت کر دیا کہ وہ مذاق اڑانے والے خود ابتر ہوئے، جبکہ نبیِ کریم ﷺ کا نام ایک ارب اسّی کروڑ انسانوں کی زبانوں پر ہر روز ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ (الحجر: ٩٥)
“بیشک ہم مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں آپ کے لیے کافی ہیں۔”
اللہ تعالیٰ نے خود اپنے رسول ﷺ کے مذاق اڑانے والوں کا جواب دینے کی ذمہ داری لی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ (التوبہ: ٣٢)
“وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، لیکن اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے سے انکار نہیں کرتا خواہ کافروں کو ناگوار ہو۔”
یہ تصویر بڑی بلیغ ہے — جیسے کوئی منہ کی پھونک سے سورج بجھانے کی کوشش کرے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کتنی احمقانہ ہے۔
تاریخ نے کیا ثابت کیا
ہر وہ قوم یا طاقت جو قرآن کریم یا نبیِ کریم ﷺ کے خلاف اٹھی اس نے دو میں سے ایک انجام پایا:
اوّل: براہِ راست تاریخی انہدام
قریش نے ابتدائی مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور نبیِ کریم ﷺ کے قتل کی سازش کی — بیس سال کے اندر وہی لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ فارسی اور بازنطینی سلطنتوں نے نبیِ کریم ﷺ کے خطوط کو حقارت سے رد کیا — آپ ﷺ کی وفات کے چند دہائیوں میں دونوں منہدم ہو گئیں۔ مغلوں نے بغداد تباہ کیا اور اسلامی کتب خانے جلائے — دو نسلوں میں ان کے حکمران خود مسلمان ہو گئے۔
دوم: وقت کے ساتھ زوال اور انحطاط
استعماری طاقتوں نے اسلامی تعلیم کو دبایا، حجاب پر پابندی لگائی اور ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسلامی شناخت مٹانے کی کوشش کی — ان کی استعماری حکومتیں ختم ہو گئیں اور اسلام جسے وہ بجھانا چاہتے تھے آج بھی روشن ہے۔
اور قرآن کریم صدیوں کی کوششوں کے باوجود — جلانے، پابندی لگانے، مسخ کرنے اور مذاق اڑانے کے باوجود — آج بھی انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ حفظ کی جانے والی، پڑھی جانے والی اور محفوظ کتاب ہے، جو اس ارشادِ باری تعالیٰ کی زندہ تکمیل ہے (الحجر: ٩):
“بیشک یہ ذکر ہم نے ہی نازل کیا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔”
سیکھنے کے اسباق — مسلمانوں کے لیے
اوّل: گھبراہٹ نہیں — یہ پہلے سے بتا دیا گیا تھا
ارشادِ باری تعالیٰ (آل عمران: ١٨٦)
“تمہیں ضرور تمہارے مالوں اور تمہاری جانوں میں آزمایا جائے گا، اور تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے عزم کے کاموں میں سے ہے۔”
دشمنی کوئی اچانک بات نہیں — بلکہ پہلے سے بتا دی گئی تھی۔ اس لیے گھبراہٹ اور مایوسی دراصل اللہ کے علم پر اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
دوم: جواب اخلاق سے ہو، جذبات سے نہیں
ارشادِ باری تعالیٰ (فصلت: ٣٤)
“اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بہترین طریقے سے دور کرو، پھر وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے وہ ایسا ہو جائے گا جیسے وہ گرم جوش دوست ہو۔”
کینے کا قرآنی جواب مثلِ کینہ نہیں — بلکہ اعلیٰ اخلاقی کردار ہے، اور یہی تاریخ میں دشمنوں کو دوست بناتا رہا ہے۔
سوم: اندرونی اصلاح بیرونی فتح سے پہلے ہے
ارشادِ باری تعالیٰ (الرعد: ١١)
“بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔”
یہ شاید مسلمانوں کے لیے آج کا سب سے اہم سبق ہے۔ قرآن جلانا بے حد تکلیف دہ ہے — لیکن مسلمانوں کے گھروں میں طاقوں پر پڑا ان پڑھا قرآن ایک خاموش اور زیادہ سنگین بحران ہے۔ بیرونی حملے تاریخی طور پر اسلام کو مضبوط کرتے ہیں — اندرونی غفلت اسے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
چہارم: ظالم کے طریقوں کی نقل نہ کرو
ارشادِ باری تعالیٰ (المائدہ: ٨)
“اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف نہ کرنے پر نہ اکسائے۔ انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”
انصاف مسلمان پر فرض ہے چاہے دوسرا کچھ بھی کرے — کیونکہ عدل اللہ کے ساتھ وعدہ ہے، دوسروں پر احسان نہیں۔
پنجم: الٰہی وقت پر بھروسہ رکھو
ارشادِ باری تعالیٰ (الطارق: ١٥-١٧)
“بیشک وہ ایک چال چل رہے ہیں، اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔ پس کافروں کو مہلت دو، انہیں تھوڑی سی مہلت دو۔”
اِملاء — الٰہی مہلت — غفلت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمت اور درستگی سے مہلت دیتا ہے، اور معاملے کا انجام اس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے، انسانی توقعات کے مطابق نہیں۔
اسباق — دنیا کے لیے
جو مذاق اڑاتے، جلاتے اور سخرہ کرتے ہیں ان کے لیے:
آیتِ نحل (٢٦) جس سے یہ گفتگو شروع ہوئی وہی جواب ہے — حق کے خلاف بنائی گئی سازش اور ظلم کی ہر عمارت تاریخ کے ہر درج شدہ واقعے میں اپنے بنانے والوں پر ہی گری ہے۔
سبق انتقام کا نہیں — الٰہی کشش ثقل کا ہے۔ جیسے طبیعیات کے قوانین یقین رکھے بغیر بھی کام کرتے ہیں، ویسے ہی احتساب کے الٰہی قوانین بھی اعتراف کے بغیر کام کرتے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ (آل عمران: ١٧٨)
“اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ ہم انہیں صرف اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں، اور ان کے لیے ذلّت آمیز عذاب ہے۔”
خاتمہ
قرآن کریم کو دفاع کی نہیں — اسے جینے اور عملی تجسیم کی ضرورت ہے۔ ہر وہ قوم جو اس کے خلاف اٹھی تاریخ کا حاشیہ بن گئی، اور قرآن باقی ہے۔ اسلام کے بارے میں تاریخ کا سب سے طاقتور سبق اس کے دشمنوں کی کہانیوں میں نہیں — بلکہ اس ثابت نمونے میں ہے:
پیغام ہمیشہ اپنے مخالفوں سے زیادہ باقی رہتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ (الصف: ٨)
“وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، لیکن اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے خواہ کافروں کو ناگوار ہو۔”
آج کی وہ آندھیاں جو پیغام کے خلاف اٹھ رہی ہیں اپنی فطرت میں ان آندھیوں سے مختلف نہیں جو مکہ میں، فارس میں، منگول کے میدانوں میں اور استعماری دفتروں میں اٹھی تھیں — اور الٰہی جواب قیامت تک اسی ابدی نمونے کے مطابق چلتا رہے گا۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین
اور ہماری آخری دعا یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔