سوال: اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب سے زیادہ بخشنے والے ہیں، لیکن جب جرائم، توہین رسالت، بغاوت، نافرمانی کے لیے سزا کے احکام والی آیات کا ذکر آتا ہے تو اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ قرآن اور تفاسیر میں ان کی وضاحت کیسے کی گئی ہے؟
جواب:
یہ ایک گہرا اور انتہائی اہم اسلامی علمی موضوع ہے۔ میں اسے جامع اور منظم طریقے سے پیش کرتا ہوں۔
اللہ کی مغفرت اور قرآن میں سزا کی آیات کا سوال
🔑 بنیادی اصول: عذاب اور رحمت متضاد نہیں ہیں
مخصوص آیات کو دیکھنے سے پہلے، کلاسیکی تفاسیر سے حاصل ہونے والی سب سے اہم الہیاتی بصیرت یہ ہے:
قرآن کریم میں سزا کا ہر حکم رحمت کے ایک فریم ورک میں ڈھالا گیا ہے۔ قرآن کبھی بھی سزا کا اعلان توبہ کا دروازہ کھولے بغیر، گواہی کی شرائط واضح کیے بغیر، اور قاری کو اللہ کی غفوریت اور رحمت کی یاد دہانی کرائے بغیر نہیں کرتا۔
ابن کثیر اور قرطبی جیسے مفسرین بتاتے ہیں کہ قرآنی فقرہ “شَدِيدُ الْعِقَابِ” (سخت سزا دینے والا) ہمیشہ اللہ کی وسیع مغفرت اور رحمت کے اعلانات سے متوازن ہوتا ہے، جیسا کہ سورۃ المائدہ (5:98) اور سورۃ المؤمن (40:3) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سزا ایک روک اور بغاوت کا نتیجہ ہے، جبکہ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے — جو مومن کے اللہ سے تعلق کو رجاء (امید) اور خوف کے درمیان ایک صحت مند توازن میں قائم کرتا ہے۔
⚖️ اسلامی سزا کا سہ سطحی ڈھانچہ
اسلامی تعزیراتی قانون سزاؤں کو تین الگ الگ زمروں میں تقسیم کرتا ہے، جو سیکولر قانونی نظاموں سے مختلف ہے جہاں تمام سزاؤں کو ایک ہی قسم سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہیں: حدود (اللہ کے مقرر کردہ مخصوص سنگین جرائم کے لیے مقررہ سزائیں)، قصاص (زخمی یا قتل کے بدلے میں عادلانہ انتقام)، اور تعزیرات (وہ اختیاری سزائیں جو جج کی سمجھ بوجھ پر چھوڑ دی جاتی ہیں)۔ یہ ساختی سطح بندی بہت اہم ہے — یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ نظام کوئی پھیکا ہتھیار نہیں، بلکہ انصاف کا باریک بینی سے ترتیب دیا گیا ڈھانچہ ہے۔
📖 مشتبہ آیات — زمرہ وار تفصیل
جرائم (چوری): سورۃ المائدہ (5:38)
“اور چور، خواہ مرد ہو یا عورت، ان کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کے کیے کی سزا ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ہے، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔”
الزام: چوری پر ہاتھ کاٹنا وحشیانہ اور غیر متناسب سزا ہے۔
قرآنی تردید — اگلی ہی آیت (5:39):
“پھر جو شخص اپنے ظلم کے بعد توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو بیشک اللہ اس پر مہربانی سے توجہ فرمائے گا۔ بے شک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔”
سزا والی آیت اور معافی والی آیت لازم و ملزوم ہیں — یہ متواتر ہیں۔ اللہ تعالیٰ سزا کا اعلان کرتے ہی فوراً واپسی کا راستہ بھی بتا دیتے ہیں۔
تفاسیر کی وضاحت — وہ شرائط جو اس سزا کے نفاذ کو انتہائی نایاب بناتی ہیں:
چوری کی سزا بلا امتیاز نہیں لگائی جاتی۔ چوری کی گئی چیز کی مالیت ایک مخصوص کم از کم حد (سوا دینار یا اس سے زیادہ) سے تجاوز کرے، اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ معمولی چوری پر یہ سزا نہ ہو۔ اسلامی تاریخ میں ہاتھ کاٹنے کے واقعات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ثبوت کی شرط بہت بلند ہے۔ نبی کریم ﷺ کے دور میں انتہائی سزائیں صرف انتہائی محدود، مکمل تصدیق شدہ حالات میں ہی نافذ کی گئیں۔
“حدود کو شبہات سے ٹالنا” (ادرءوا الحدود بالشبهات) کا اصول اسلامی فوجداری نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اصول، جو احادیث نبوی سے ماخوذ ہے اور فقہاء نے اس کی تفصیل بیان کی ہے، حکم دیتا ہے کہ شک و شبہ کی صورت میں مقررہ سزائیں نافذ نہ کی جائیں۔ یہ اس نظام کے فطری رجحان کو اجاگر کرتا ہے کہ جب تک جرم کا یقین مکمل نہ ہو جائے، سزا سے بچا جائے۔
سزا کی حکمت: مقررہ سزاؤں کی حکمت یہ ہے کہ یہ روک تھام، تحفظ اور گناہوں سے پاکی کا ذریعہ ہیں۔ یہ اللہ کے حقوق اور مسلمانوں کی بہتری کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ یہ سزائیں دنیا اور آخرت میں انسانیت کی بہترین مفاد میں ہیں — ان کا مقصد ظلم نہیں، بلکہ معاشرے کو جرائم کے خطرات سے بچانا ہے۔
بغاوت اور مسلح فساد: سورۃ المائدہ (5:33)
“بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا ان کے مخالف سمتوں سے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے جائیں یا جلاوطن کر دیے جائیں۔”
الزام: یہ آیت مبینہ طور پر مبہم جرائم کے لیے انتہائی سزائیں تجویز کرتی ہے۔
تفاسیر کی وضاحت — “اللہ سے لڑنے” کا اصل مطلب:
یہ سزا ان ڈاکوؤں اور مسلح باغیوں کے لیے ہے جو گروہی طاقت سے حملہ کرکے عوامی امن کو تباہ کرتے ہیں اور ملک کے قانون کو کھلم کھلا توڑتے ہیں۔ لفظ “محاربہ” خاص طور پر زبردستی استعمال کرکے انتشار پھیلانے اور عوامی امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے — یہ جدید اصطلاح میں ڈاکہ زنی، مسلح بغاوت اور منظم دہشت گردی ہے، نہ کہ انفرادی نافرمانی یا ذاتی گناہ۔
رحمت کی شق — اسی باب میں آیت (5:34):
“ہاں جو لوگ توبہ کر لیں اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔”
ابن کثیر ایک تاریخی واقعہ نقل کرتے ہیں: علی الاسدی نامی ایک ڈاکو نے محاربہ کیا، راستے بند کیے، خون بہایا اور مال لوٹا۔ اس نے ایک شخص کو یہ آیت پڑھتے سنا: “اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو” (الزمر 53)۔ اس نے اپنی تلوار رکھ دی، توبہ کرتے ہوئے مدینہ آیا، فجر کی نماز پڑھی، اور پکڑے جانے سے پہلے اپنی توبہ کا اعلان کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کی معافی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: “اس نے سچ کہا”۔ علی کو مکمل طور پر بری کر دیا گیا اور بعد میں اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔
توہین رسالت — سب سے زیادہ متنازع سوال
قرآن اصل میں کیا کہتا ہے:
قرآن کریم میں کوئی ایک آیت بھی نہیں ہے جو صرف توہین رسالت کے لیے کوئی دنیاوی سزا تجویز کرتی ہو۔ قرآن میں “قانون توہین رسالت” ہونے کے الزامات زیادہ تر فقہی اور تاریخی تشکیل ہیں، نہ کہ براہ راست قرآنی حکم۔
نبی کریم ﷺ کے دور میں جن لوگوں کو “توہین رسالت” کے الزام میں سزائے موت دی گئی، وہ بیک وقت متعدد مرکب جرائم کے مرتکب تھے — واضح نشانیاں آنے کے بعد رسول کا انکار، امن معاہدوں کی خلاف ورزی، نبی ﷺ کو قتل کرنے کی فوجی سازش، اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال پھیلانا۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ان افراد کو صرف توہین رسالت کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا۔ یہ الہی حکم جو رسول کے انکار سے متعلق ہے، واضح طور پر ایک رسول کے اپنی قوم میں موجود ہونے کے ساتھ خاص ہے اور اس کا قیامت تک نافذ رہنے والی شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔
توہین کے بارے میں قرآن کا اپنا حکم:
قرآن خود حکم دیتا ہے: “اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور ان سے بہترین طریقے سے بحث کرو” (النحل 16:125)۔ قرآن بار بار دکھاتا ہے کہ اللہ کے تمام پیغمبروں، بشمول نبی کریم ﷺ کو، ان کی قوموں نے گالیاں دیں — پھر بھی اللہ نے کبھی نبی ﷺ یا صحابہ کو حکم نہیں دیا کہ وہ غصے یا طاقت سے جواب دیں۔
اہم بات یہ ہے کہ قرآن بیان کرتا ہے کہ سزائے موت صرف دو قسم کے جرائم میں لاگو ہوتی ہے: قتل کے بدلے میں سزا، اور زمین میں فساد پھیلانے کی سزا۔ اگر افراد یا گروہ اپنی صوابدید پر بغیر کسی خود مختار ریاست کے سزا نافذ کرنے کی کوشش کریں تو وہ خود “فساد فی الارض” کے مرتکب قرار پا سکتے ہیں۔
زنا: سورۃ النور (24:2)
“زانیہ عورت اور زانی مرد، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔”
ثبوت کی غیرمعمولی سخت شرط:
حدود کا نفاذ غیر متزلزل ثبوت اور متعدد تحفظات کا تقاضا کرتا ہے۔ زنا کے جرم میں سزا صرف اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب چار معتبر عینی شاہد خود عملِ زنا کی گواہی دیں۔ معمولی سا شک یا توبہ کا امکان پورے عمل کو روک سکتا ہے۔ بہت سے تاریخی واقعات میں اسلامی ججوں نے حدود کے نفاذ سے بچنے کے قانونی طریقے ترجیح دیے، جو رحمت، انصاف اور سماجی تحفظ پر زور دیتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک عمدہ حدیث — ماعز رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور چار مرتبہ زنا کا اقرار کیا۔ نبی ﷺ نے بار بار اس سے فرمایا: “تجھ پر افسوس، واپس جا، اللہ سے مغفرت مانگ اور اس کے سامنے توبہ کر۔” چوتھی مرتبہ اصرار کے بعد مقدمہ چلا۔ سزا کے بعد نبی ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا: “اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک پوری قوم میں تقسیم کر دی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے۔”
یہ حدیث ایک گہری حقیقت بتاتی ہے: نبی ﷺ کی پہلی، دوسری اور تیسری جبلت اس آدمی کو توبہ کرنے کے لیے واپس بھیجنے کی تھی — سزا دینے کی نہیں۔ نظام کا رجحان رحمت کی طرف ہے۔
حکم الٰہی کی نافرمانی اور بغاوت
سورۃ البقرہ (2:178–179) — قصاص
“اے ایمان والو! تم پر مقتولوں میں قصاص فرض کیا گیا ہے… پھر جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو مناسب طریقے سے خوں بہے کا اتباع کیا جائے۔”
آیت میں بنی ہوئی رحمت:
قصاص کے معاملات میں مقتول کے وارثین کو صریح حق ہے کہ وہ معاف کر دیں یا دیت (خون بہا) قبول کریں۔ یہ ہمدردی کی گنجائش پیدا کرتا ہے اور جھگڑے کو بڑھانے کے بجائے تعلقات بحال کرتا ہے۔ قرآن نے قصاص کی آیت کے فوراً بعد فرمایا: “یہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے” — اللہ خود قصاص کے پورے نظام کو، جس میں معافی کا اختیار بھی شامل ہے، اپنی رحمت کے طور پر بیان کرتا ہے۔
🏗️ عظیم الہیاتی ڈھانچہ: سزا خود کیوں رحمت ہے؟
تفاسیر کی روایت اللہ کی مغفرت اور سزا کی آیات کے درمیان کشیدگی کو چار بنیادی اصولوں کے ذریعے حل کرتی ہے:
اصول 1 — سزا جراحی ہے، عمومی نہیں۔
الہی سزا قرآن کے مستقل نمونے کے مطابق ہوتی ہے: دنیاوی سزا ظالموں کا فیصلہ کن خاتمہ اور آئندہ نسلوں کے لیے سبق ہوتی ہے۔ قرطبی مزید کہتے ہیں کہ سزا صرف اس وقت ہوتی ہے جب مہلت دینے کے بعد مسلسل اور جان بوجھ کر سرکشی کی جائے — اللہ کی ناراضگی صرف اس وقت آتی ہے جب بار بار تنبیہ کے باوجود کوئی سبق نہ لیا جائے۔
اصول 2 — توبہ کا دروازہ تقریباً ہر چیز پر مقدم ہے۔
پکڑے جانے یا مقدمے سے پہلے توبہ کر لینا اکثر سزا کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔ متاثرہ شخص کی معافی کو بہت زیادہ اجر ملتا ہے اور قانونی طور پر اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ سزا کے بجائے حفاظتی پالیسیوں اور اخلاقی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے۔ وسیع تر مقصد ہمیشہ اصلاح اور اجتماعی ہم آہنگی کا تحفظ ہوتا ہے، نہ کہ محض انتقام۔
اصول 3 — استدراج: صبر الٰہی کی باریک ترین صورت۔
قرآنی تصور “استدراج” (رفتہ رفتہ پکڑنا) ایک گہرا پہلو ظاہر کرتا ہے: اللہ تعالیٰ اصرار کرنے والے گنہگاروں کو دنیاوی نعمتیں عطا کر سکتا ہے، یہ ان کے حق میں پسندیدگی نہیں، بلکہ اس کی مہلت کا تسلسل ہوتا ہے — تاکہ کسی بھی حساب سے پہلے واپسی کا ہر موقع دیا جائے۔ یہ تصور، جسے قرطبی نے بیان کیا، ظاہر کرتا ہے کہ گناہوں کے سامنے اللہ کی خاموشی بھی ایک طویل رحمت ہوتی ہے۔
اصول 4 — سزا پاک کر دیتی ہے، ہمیشہ کے لیے سزا نہیں دیتی۔
دنیاوی حد کی سزا، ایک بار نافذ ہونے کے بعد، اس جرم کا حساب دنیا میں ختم کر دیتی ہے — لیکن یہ خود بخود آخرت کا حساب نہیں مٹاتی، جب تک کہ سچی توبہ نہ ہو۔ اس کے برعکس، سچی توبہ آخرت کا حساب مٹا دیتی ہے چاہے دنیاوی سزا پھر بھی نافذ ہو۔ یہ دوہرا نظام ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کا انصاف اور اس کی رحمت الگ الگ راستوں پر چلتے ہیں — کوئی دوسرے کو منسوخ نہیں کرتا۔
🌿 اللہ کی مغفرت کے بارے میں قرآن کا حتمی بیان
“کہہ دو: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ بے شک وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔” (الزمر 39:53)
“اور آپ کا رب بخشنے والا، رحمت والا ہے۔ اگر وہ انہیں ان کے کیے پر پکڑ لے تو وہ ان کے لیے عذاب جلدی کر دیتا، لیکن ان کے لیے ایک وعدے کی میعاد ہے جس سے وہ بچ نہیں سکیں گے۔” (الکہف 18:58)
یہ آیات قرآن کا اپنا مستقل، غیر مشروط رد ہیں کسی بھی ایسی قرأت کے لیے جو سزا کی آیات سے اللہ کو سخت یا نابخشندہ ظاہر کرتی ہو۔ قرآن کی ہر سزا والی آیت ان وسیع تر اعلانات کے تابع ہے — یہی پورے نظام کا لہجہ اور فریم ورک متعین کرتی ہیں۔
قرآنی نظام عدل کا خلاصہ اس طرح کیا جا سکتا ہے: لامحدود صبر → بار بار تنبیہ → رحمت کی پیشکش → اگر مسترد کی اور دوسروں کو نقصان پہنچایا → ناپے ہوئے احتساب → اور پھر بھی، آخری لمحے سے پہلے توبہ قبول۔