قرآنی آیات پر صنفی امتیاز کے الزامات اور ان کا قرآن و تفاسیر سے جواب

Allegations of Gender Discrimination in the Quran — Rebuttal from Quran & Tafaseer

تعارف

یہ دستاویز ان قرآنی آیات کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے جن پر مغربی یا سیکولر ناقدین کی جانب سے صنفی امتیاز کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ہر آیت کے ساتھ عربی متن، اردو ترجمہ، الزام اور پھر قرآن و تفاسیر — بالخصوص مولانا مودودیؒ کی تفہیم القرآن، ابن کثیرؒ اور دیگر علماء — کی روشنی میں مدلل جواب پیش کیا گیا ہے۔

اسلامی علمی روایت کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ یہ آیات دو متکمل جنسوں کے درمیان فنکشنل اور قانونی تفریق بیان کرتی ہیں — نہ کہ کسی کی روحانی، عقلی یا انسانی برتری یا کمتری کا اعلان۔

 

۱. سورۃ النساء ۴:۳۴ — قوّامیّت

عربی آیت:

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ

اردو ترجمہ:

“مرد عورتوں پر قوّام ہیں، اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور اس لیے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبردار ہیں، غیب میں اس چیز کی حفاظت کرنے والی ہیں جس کی حفاظت اللہ نے چاہی۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا خوف ہو انہیں سمجھاؤ، پھر انہیں خوابگاہوں میں تنہا چھوڑ دو، پھر انہیں مارو۔”

الزام:

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آیت مردوں کی مستقل برتری اور عورتوں کی تابعداری قائم کرتی ہے، خصوصاً لفظ اضربوھن (مارنا) انتہائی متنازعہ ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — لفظ ‘قوّام’ کا اصل مطلب

مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں وضاحت فرماتے ہیں: قوّام یا قیّم وہ شخص ہوتا ہے جو کسی فرد یا ادارے کے معاملات کی نگرانی، حفاظت اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ہو۔ یہ کسی کی ذاتی برتری کا اعلان نہیں بلکہ مالی ذمہ داری اور سرپرستی کا کردار ہے۔

ب — ‘فضل’ سے مراد فنکشنل فرق

لفظ فضّل سے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ کسی کو دوسرے پر فطری یا روحانی شرف حاصل ہے۔ یہ صرف تکمیلی کرداروں کے درمیان فرق کی بات ہے — نہ کہ انسانی وقار میں تفاوت۔

ج — ‘اضربوھن’ — لغوی اور سیاقی باریکی

عربی میں ‘ضَرَبَ’ کے بیس سے زائد معنی ہیں: سفر کرنا، مثال بیان کرنا، الگ کرنا وغیرہ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ — سب سے بڑے مفسّر صحابی — نے فرمایا: اگر مارنا ہو تو ‘غیر مُبرِّح’ ہو، یعنی ایسا جو نشان نہ چھوڑے۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنی پوری زندگی کبھی کسی عورت کو نہیں مارا۔

د — قرآن کا مساواتی موقف — الاحزاب ۳۳:۳۵

إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ…

یہ آیت مسلمان مرد و عورت دونوں کو تیرہ اوصاف میں برابر قرار دے کر دونوں کے لیے یکساں اجر کا وعدہ کرتی ہے۔

 

۲. سورۃ البقرہ ۲:۲۸۲ — دو عورتوں کی گواہی

عربی آیت:

وَٱسْتَشْهِدُوا۟ شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ

اردو ترجمہ:

“اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بناؤ؛ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرو — تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے۔”

الزام:

ناقدین کہتے ہیں کہ عورت کی گواہی مرد کی نصف ہے، جو اس کی کمتر عقل یا قابلیت کی دلیل ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — ‘اِشہاد’ اور ‘شہادت’ میں فرق

محمد عمارہ جیسے معاصر علماء نے یہ اہم فرق واضح کیا ہے: ‘شہادت’ عدالتی گواہی ہے اور ‘اِشہاد’ کاروباری دستاویز سازی میں گواہ بنانا۔ یہ آیت صرف مالی معاملات کی دستاویز سازی سے متعلق ہے — تمام عدالتی معاملات پر عمومی حکم نہیں۔

ب — ‘تَضِلَّ’ کا سیاق

لفظ ‘أن تَضِلَّ’ (بھول جائے) ایک خاص سیاق میں ہے — ساتویں صدی میں عورتیں تجارتی معاملات سے بڑی حد تک دور رکھی جاتی تھیں، اس لیے یہ نادانی نہیں بلکہ ناتجربہ کاری کا معاملہ تھا۔ دوسری عورت یادداشت کی مدد کے لیے ہے، آزادانہ گواہی کے لیے نہیں۔

ج — ایک تاریخی انقلاب

دور جاہلیت میں عورت کو گواہی کا کوئی قانونی حق ہی حاصل نہ تھا۔ قرآن نے عورت کو پہلی بار باقاعدہ قانونی گواہ کا درجہ دیا — یہ تاریخ میں ایک انقلابی قدم تھا۔

د — قرآن نے تنہا عورت کی گواہی بھی قبول کی

سورۃ النور ۲۴:۶ تا ۹ (لعان) میں ایک عورت کی تنہا قسم اس کے خاوند کی قسم کے برابر قانونی وزن رکھتی ہے۔ ثابت ہوا کہ جنس بذات خود کبھی مطلق معیار نہیں رہی۔

 

۳. سورۃ النساء ۴:۱۱ — وراثت

عربی آیت:

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصْفُ

اردو ترجمہ:

“اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں حکم دیتا ہے: لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اگر سب لڑکیاں ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی ملے گا؛ اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اسے نصف ملے گا۔”

الزام:

عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف وراثت ملتی ہے — اسے معاشی ناانصافی قرار دیا جاتا ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — مالی ذمہ داریوں کا توازن

مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں وضاحت فرماتے ہیں: اسلامی قانون میں مرد پر مالی ذمہ داریاں کہیں زیادہ ہیں — مہر، بیوی کا مکمل نفقہ، بچوں کا خرچ — جبکہ عورت پر یہ ذمہ داریاں بالکل نہیں۔ عورت کی وراثت مکمل طور پر اس کی ذاتی ملکیت ہے، اسے کسی پر خرچ کرنا لازم نہیں۔ اس لیے انصاف کا تقاضا یہی تناسب ہے۔

ب — تاریخی انقلاب — ابن کثیر

ابن کثیرؒ نے نوٹ کیا ہے کہ دور جاہلیت میں عورت کو وراثت سے سرے سے محروم رکھا جاتا تھا۔ قرآن نے دنیا کی قانونی تاریخ میں پہلی بار عورت کے لیے ایک متعین، ناقابل تبدیل حصہ لازم قرار دیا۔

ج — قرآن نے عورت کو مرکز بنایا

قرآن نے یہ نہیں کہا: ‘دو عورتوں کا حصہ ایک مرد کے برابر ہے’ — بلکہ کہا: ‘مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے’۔ اس طرز بیان سے عورت کے حصے کو بنیاد بنایا گیا، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

د — بعض صورتوں میں عورت کا حصہ زیادہ یا برابر

اگر عورت اکیلی وارث ہو تو نصف ترکہ اسے ملتا ہے۔ ‘کلالہ’ کی صورت میں بھائی اور بہن برابر کے وارث ہیں (۴:۱۷۶)۔ ماں کو مستقل حصہ ملتا ہے جو باپ سے کم نہیں۔ ۲:۱ کا تناسب ہر صورت پر لاگو نہیں — یہ حالات کے مطابق بدلتا ہے۔

ہ — خالص مالی حیثیت اکثر عورت کے حق میں

ابن القیمؒ اور جمال بدوی جیسے علماء نے حساب لگایا ہے کہ جب مہر، نفقے سے مکمل آزادی اور ذاتی آمدن کو ملایا جائے تو مسلمان عورت اکثر اپنے مرد رشتہ داروں سے زیادہ قابل تصرف دولت رکھتی ہے۔

 

۴. سورۃ البقرہ ۲:۲۲۸ — مردوں کو ایک درجہ

عربی آیت:

وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اردو ترجمہ:

“اور عورتوں کے حقوق بھی ویسے ہی ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں، معروف طریقے سے — البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔”

الزام:

یہ آیت مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ برتر قرار دیتی ہے — اسے ہمہ گیر مردانہ برتری سمجھا جاتا ہے۔

قرآن و تفاسیر سے جواب:

الف — ‘درجہ’ کا مخصوص سیاق

یہ آیت طلاق کے احکام کے ضمن میں نازل ہوئی۔ تمام کلاسیکی مفسرین — طبریؒ، زمخشریؒ، رازیؒ، ابن کثیرؒ — کا اتفاق ہے کہ یہ ‘درجہ’ مرد کے یک طرفہ طلاق کے اختیار (طلاق) سے متعلق ہے — جو ساتھ میں عدت کے دوران نفقہ اور مؤخر مہر ادا کرنے کی ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ یعنی یہ ذمہ داری اور قانونی جوابدہی کا درجہ ہے، نہ کہ مابعدالطبیعاتی یا روحانی برتری۔

ب — آیت کا آغاز مساوات سے

آیت کا پہلا حصہ — ‘وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ’ — یعنی عورتوں کے حقوق بھی اسی طرح ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں — ساتویں صدی کی کسی بھی مذہبی دستاویز میں حقوقِ زوجین کا سب سے جامع اور متوازن اعلان ہے۔

 

۵. قرآنی جواب — مکمل روحانی مساوات کی آیات

ان تمام آیات کو پڑھتے وقت ذہن میں یہ رکھنا ضروری ہے کہ قرآن نے متعدد مقامات پر مرد و عورت کی روحانی، اخلاقی اور الٰہی حیثیت میں کامل مساوات کا اعلان کیا ہے:

 

الحجرات ۴۹:۱۳

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَٰكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَٰكُمْ شُعُوبًا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ

“اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔”

— یہاں مرد یا عورت کا کوئی استثناء نہیں، صرف تقوٰی کا معیار ہے۔

 

آل عمران ۳:۱۹۵

فَٱسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّى لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍ

“پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، خواہ مرد ہو یا عورت — تم ایک دوسرے سے ہو۔”

 

النحل ۱۶:۹۷

مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةً طَيِّبَةً

“جو کوئی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ہم اسے یقیناً پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔”

 

النساء ۴:۱۲۴

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ

“اور جو کوئی نیک اعمال کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔”

 

خلاصہ و نتیجہ

اسلامی علمی روایت — ابن کثیرؒ اور طبریؒ سے لے کر مولانا مودودیؒ اور معاصر علماء تک — مسلسل یہی موقف پیش کرتی ہے کہ مذکورہ بالا آیات دو تکمیلی جنسوں کے درمیان فنکشنل اور قانونی تفریق بیان کرتی ہیں، نہ کہ کسی کی ذاتی، روحانی یا انسانی کمتری کا اعلان کرتی ہیں۔

قرآن کریم کی وہ آیات جو مرد و عورت کی مساوی روحانی حیثیت، یکساں الٰہی جوابدہی اور نیک اعمال پر یکساں اجر کا وعدہ کرتی ہیں، ان تمام دیگر آیات کی تفسیر کا وہ مرکزی فریم ورک فراہم کرتی ہیں جس کی روشنی میں تمام جزوی احکام کو سمجھنا ضروری ہے۔

 

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ

اور اللہ سب سے بہتر جاننے والا ہے

Sharing Quran & prophets SA’s teachings