تفاسیر کی روشنی میں ایک علمی جائزہ
قرآنِ کریم اور غیر مسلموں کے ساتھ
بظاہر امتیازی برتاؤ کا سوال اور قرآنی جواب
تفاسیر کی روشنی میں ایک علمی جائزہ
اسلامی فکر میں یہ سوال ہمیشہ سے زیرِ بحث رہا ہے کہ قرآنِ کریم میں ایمان والوں اور کافروں کے درمیان جو فرق بیان کیا گیا ہے، کیا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتِ عامہ کے منافی نہیں؟ حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی صفات میں سب سے نمایاں ”الرَّحْمٰن” اور ”الرَّحِیْم” ہیں جو تمام مخلوقات پر احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ ذیل میں اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا جاتا ہے۔
۱۔ بنیادی علمی کلید: رحمانیت اور رحیمیت میں فرق
اس پوری بحث کی اصل چابی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دو مستقل پہلو ہیں — اور انھیں خلط ملط کرنے سے ہی یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے:
اَلرَّحْمٰنُ — وہ رحمتِ عامہ جو پوری کائنات کو محیط ہے، مومن ہو یا کافر، ہر مخلوق اس سے حصہ پاتی ہے۔ اَلرَّحِیْمُ — وہ رحمتِ خاصہ جو اہلِ ایمان کو آخرت میں عطا ہوگی اور جو ایمان و عمل کے صلے میں ملتی ہے۔
یہ فرق امتیاز نہیں بلکہ ”عطائے عمومی” اور ”جزائے خاص” کا فرق ہے۔ سورج کی روشنی سب پر یکساں پڑتی ہے، لیکن جو اس کی طرف رخ کرے، اس کی حرارت پوری طرح محسوس کرتا ہے۔
سنن ترمذی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ نے رحمت کو سو حصوں میں تقسیم فرمایا، نناوے حصے اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ زمین پر اتارا — اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوقات میں محبت اور شفقت پائی جاتی ہے۔
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ
(الاعراف: ۱۵۶) ”اور میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔”
۲۔ وہ آیاتِ کریمہ جن پر اعتراض کیا جاتا ہے
(الف) سورۃ البقرہ ۲:۶-۷ — ”وہ ایمان نہیں لائیں گے”
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۞ خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ
ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، انھیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، یکساں ہے — وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ہے۔
اعتراض:
کیا اللہ نے ان لوگوں پر پہلے سے کفر کا فیصلہ لکھ کر پھر انھیں اس کی سزا دی؟ یہ تو ظلم معلوم ہوتا ہے۔
قرآنی جواب اور تفسیر:
قرآن خود اس کی وضاحت کرتا ہے:
كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ
(المطففین: ۱۴) ”بلکہ ان کے دلوں پر وہ (زنگ) چڑھ گیا جو وہ کماتے رہے۔”
مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں فرماتے ہیں: یہ آیت مکہ کے ان مخصوص سرداروں کے بارے میں ہے جنھوں نے ہر نشانی دیکھنے کے بعد شعوری طور پر انکار کیا۔ یہ کوئی ابدی الٰہی حکم نہیں بلکہ ایک مخصوص گروہ کی حالت کا بیان ہے جو ان کے اپنے ارادوں کا نتیجہ ہے۔ مہر ان کے اپنے بار بار کے انکار کا منطقی انجام ہے، نہ کہ ابتدائی ظلم۔
(ب) سورۃ المائدہ ۵:۵۱ — ”یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ”
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ
ترجمہ: اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا ولی نہ بناؤ۔
اعتراض:
کیا قرآن تمام غیر مسلموں سے ہر قسم کے تعلقات منع کرتا ہے؟ کیا یہ فرقہ وارانہ نفرت کی تعلیم نہیں؟
قرآنی جواب — لفظ ”اولیاء” کی تحقیق:
عربی لفظ ”وَلِیّ / اَوْلِیَاء” کا مطلب محض ”دوست” نہیں، بلکہ یہ سیاسی سرپرست، فوجی اتحادی، یا وہ شخص جس کے حوالے اپنے تمام معاملات کردیے جائیں — کے معنوں میں ہے۔ یہ آیت دشمن قوتوں کو سیاسی سرپرست بنانے سے منع کرتی ہے، عام دوستی اور ہمسائیگی سے نہیں۔
معارف القرآن میں اس کی تین درجے بندی یوں ہے:
• مُوَالاۃ (گہری وفاداری و سیاسی اطاعت) — دشمنانِ اسلام کے ساتھ حرام
• مُدَارَاۃ (شائستہ اور ادب آمیز میل جول) — تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز
• عَدل و اِنصاف (انصاف کا برتاؤ) — قرآن کا صریح حکم (الممتحنہ: ۸)
لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ… أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ
(الممتحنہ: ۸) ”اللہ تمھیں ان لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی۔”
(ج) سورۃ التوبہ ۹:۵ — ”آیتِ سیف”
فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ
ترجمہ: پس مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔
اعتراض:
کیا یہ تمام غیر مسلموں کے خلاف دائمی جنگ کا حکم نہیں؟
قرآنی جواب — سیاق و سباق:
مولانا مودودیؒ اس آیت کے پس منظر پر بالتفصیل روشنی ڈالتے ہیں:
یہ آیت ہجرت کے نویں سال کے مخصوص حالات سے متعلق ہے۔ مکہ فتح ہوچکا تھا اور عرب کے کئی مشرک قبیلوں نے صلح نامے توڑ دیے تھے۔ یہ ان عہد شکن قبیلوں کے خلاف فوجی حکم تھا — عمومی غیر مسلموں کے بارے میں کوئی دائمی دینی حکم نہیں۔
اسی سورت کے آگے ارشاد ہے:
وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ
(التوبہ: ۶) ”اور اگر کوئی مشرک پناہ مانگے تو اسے پناہ دو یہاں تک کہ وہ کلامِ الٰہی سنے، پھر اسے اس کی پناہ گاہ پہنچا دو۔” — یہ انسانی وقار کا کھلا اعتراف ہے۔
(د) سورۃ آل عمران ۳:۲۸ — ”کافروں کو دوست نہ بناؤ”
مولانا مودودیؒ اس آیت کی توضیح میں تقیہ (بحالتِ مجبوری) کی اجازت کا ذکر کرتے ہیں:
جو مومن کمزور اور بے بس ہو اور اسے ظلم یا قتل کا خوف ہو، اسے اپنا ایمان چھپانے اور ظاہراً دشمنوں سے دوستانہ رویہ رکھنے کی اجازت ہے۔ یہ استثنا ثابت کرتا ہے کہ آیت نظریاتی وفاداری اور سیاسی تسلیم کے بارے میں ہے — عام انسانی شفقت اور مہربانی کے بارے میں نہیں۔
۳۔ قرآن کا اپنا جواب — سورۃ الزمر ۳۹:۵۳
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
ترجمہ: کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہ معاف فرمادیتا ہے۔ وہ غفور و رحیم ہے۔
مولانا مودودیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”یہاں خطاب ”عِبَادِی” (میرے بندوں) سے ہے اور کوئی مضبوط دلیل نہیں کہ اسے صرف مسلمانوں تک محدود سمجھا جائے۔ یہ آیت اہلِ جاہلیت کو بھی خطاب کرتی تھی جو اپنے گناہوں کی کثرت سے مایوس ہوچکے تھے۔ پیغام یہ ہے: جو بھی اپنے رب کی طرف پلٹ جائے، اس کا ہر گناہ معاف ہے۔”
۴۔ تفاسیر کا خلاصہ — تین بنیادی اصول
اصولِ اول: جنگ کا سیاق بمقابلہ امن کا سیاق
تمام ”سخت” آیات تقریباً بلا استثنا ان لوگوں سے متعلق ہیں جو فعلاً جنگ میں تھے، عہد توڑ چکے تھے، یا مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے تھے۔ یہ فوجی اور سیاسی احکام ہیں — غیر مسلموں کی انسانی حیثیت کے بارے میں الٰہی موقف نہیں۔
اصولِ دوم: رحمانیت بمقابلہ رحیمیت
اَلرَّحْمٰن — ہر جاندار کو رزق، صحت، اور وجود دینے والی عالمگیر رحمت اَلرَّحِیم — ایمان و عمل کے بدلے آخرت میں ملنے والی خصوصی رحمت یہ تفریق استحقاق کی بات نہیں — یہ ردِّعمل کی بات ہے: رحمت سب کو گھیرے ہوئے ہے، لیکن اسے جو پوری طرح سمیٹنا چاہے وہ ایمان کا راستہ اختیار کرے۔
اصولِ سوم: نبی کریم ﷺ — رحمۃٌ للعالمین
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
(الانبیاء: ۱۰۷) ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔”
”عالمین” میں صرف مسلمان نہیں — تمام انسان، بلکہ تمام مخلوقات شامل ہیں۔ خود رسالتِ مآب ﷺ کا وجود تمام بنی نوع انسان پر اللہ کی رحمت کا ظہور ہے۔
۵۔ خلاصۂ بحث
قرآنِ کریم ایمان والوں اور کافروں میں فرق ضرور کرتا ہے — لیکن یہ فرق آخرت اور تعلق کی نوعیت کے باب میں ہے، انسانی وقار اور دنیاوی الٰہی رحمت کے باب میں نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اپنے اوپر لازم ٹھہرائی ہے (الانعام: ۱۲)، ہر مخلوق کو رزق دیتا ہے، ہر دل میں محبت رکھتا ہے۔ مخصوص آیات میں جو سختی نظر آتی ہے وہ جنگ، عہد شکنی، اور سیاسی غداری کی مخصوص تاریخی صورتِ حال کا جواب ہے — غیر مسلموں کے بارے میں عمومی الٰہی موقف نہیں۔
سورۃ الفاتحہ کی ساخت خود اس پوری بحث کا جواب ہے: اللہ سب سے پہلے ”رَبُّ الْعَالَمِیْن” (تمام جہانوں کا رب) ہے — یعنی آفاقی ربوبیت پہلے آتی ہے۔ پھر ”رَحْمٰن” اور ”رَّحِیم” کے طور پر ذکر ہوتا ہے، اور پھر ”مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن” (جزا کے دن کا مالک) — یعنی آفاقی پرورش پہلے ہے، مخصوص جزا بعد میں۔
وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
اور اللہ ہی درستی کو سب سے بہتر جانتا ہے