یہ قانون ووٹروں کو ڈرانے کے لیے ہے، نہ کہ کسی حقیقی خطرے سے بچانے کے لیے۔
∙ ایک کاغذی دشمن بناؤ
∙ اس دشمن کو ہر جگہ “چھپا ہوا” دکھاؤ
∙ اپنے آپ کو “بچانے والا” پیش کرو
∙ ووٹ لو
یہ سیاست کی قدیم ترین چال ہے — خوف بیچو، طاقت خریدو۔
پہلی بات — یہ قانون کیا کہہ رہا ہے؟
جب کوئی امریکی ریاست “شریعت پر پابندی” کا قانون پاس کرتی ہے تو وہ بنیادی طور پر کہہ رہی ہے:
“ہم ایک ایسی چیز پر پابندی لگا رہے ہیں جو نہ موجود ہے، نہ آنے والی ہے، نہ کسی نے مانگی ہے۔”
یہ قانون سازی نہیں — یہ سیاسی تھیٹر ہے۔
آپ کا نکتہ — سب سے زیادہ وزنی
آپ نے جو مشاہدہ کیا وہ انتہائی اہم ہے۔ آئیے حقیقت دیکھتے ہیں:
مسلم اکثریتی ممالک کی صورتحال ملک صورتحال پاکستان آئین اسلامی ہے لیکن عملی قانون بڑی حد تک برطانوی نوآبادیاتی قانون ہے — CPC، CrPC، PPC سب انگریزوں کی دین مصر سیکولر آئین، جزوی اسلامی شقیں، فوجی حکومت ترکی مکمل سیکولر، شریعت کا کوئی قانونی وجود نہیں انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک — سیکولر آئین بنگلہ دیش سیکولر ریاست سعودی عرب جزوی نفاذ — لیکن خود علماء اسے مکمل شریعت نہیں کہتے ایران اپنا ورژن — جس پر خود مسلم علماء میں گہرا اختلاف UAE، قطر تجارتی قانون مکمل مغربی، صرف ذاتی احوال میں جزوی اسلامی
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایک ملک بھی نہیں جہاں مکمل، جامع، کلاسیکی شریعت نافذ ہو۔
تو امریکہ میں اس کے “آنے” کا خوف — کہاں سے، کیسے، کس کے ذریعے؟
امریکہ میں شریعت کے “آنے” کی حقیقت
عددی حقیقت
∙ امریکہ کی کل آبادی تقریباً ۳۳ کروڑ
∙ مسلمان آبادی تقریباً ۱ فیصد یعنی ۳۳ لاکھ
∙ یہ ایک ایسے ملک میں جہاں:
∙ پہلی ترمیم مذہب اور ریاست کی علیحدگی کی ضمانت دیتی ہے
∙ آئین سپریم ہے — کوئی مذہبی قانون اسے نہیں بدل سکتا
∙ سپریم کورٹ کسی بھی مذہبی قانون کو فوری کالعدم کر سکتی ہے
یہ ریاضی طور پر ناممکن ہے۔ یہ خوف ایسا ہے جیسے کوئی کہے کہ ناروے میں زولو قانون آنے والا ہے۔
قانونی حقیقت
امریکی قانون کا ڈھانچہ دیکھیں:
∙ Federal Constitution — سپریم
∙ Federal Laws
∙ State Constitutions
∙ State Laws
∙ Local Ordinances
کسی بھی سطح پر کوئی مذہبی قانون — چاہے اسلامی ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو — قانونی طور پر نافذ نہیں ہو سکتا۔
یہ پابندی پہلے سے موجود ہے۔ الگ قانون بنانا ایسا ہے جیسے پانی کے اوپر پانی ڈالنا — غیر ضروری اور مضحکہ خیز۔
تو پھر یہ قانون کیوں؟
۱۔ انتخابی متحرک کاری
یہ قانون ووٹروں کو ڈرانے کے لیے ہے، نہ کہ کسی حقیقی خطرے سے بچانے کے لیے۔
∙ ایک کاغذی دشمن بناؤ
∙ اس دشمن کو ہر جگہ “چھپا ہوا” دکھاؤ
∙ اپنے آپ کو “بچانے والا” پیش کرو
∙ ووٹ لو
یہ سیاست کی قدیم ترین چال ہے — خوف بیچو، طاقت خریدو۔
۲۔ مسلمانوں کو حاشیے پر رکھنا
جب کوئی ریاست باقاعدہ قانون بناتی ہے تو پیغام یہ جاتا ہے:
∙ مسلمان “دوسرے” ہیں
∙ ان کی موجودگی “خطرہ” ہے
∙ ان کا مذہب “قابلِ قبول نہیں”
یہ قانونی امتیازی سلوک ہے — آئین کی روح کے خلاف — لیکن سیاسی طور پر فائدہ مند۔
۳۔ توجہ ہٹانا
جب کوئی ریاست اسکول بند کر رہی ہو، صحت کا نظام ٹوٹ رہا ہو، بنیادی ڈھانچہ زوال پذیر ہو — تو کاغذی دشمن پیدا کرو اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹاؤ۔
شریعت کا خوف اس حکمت عملی کا کامل آلہ ہے۔
برطانوی قانون والا آپ کا نکتہ — انتہائی اہم
یہ وہ ستم ظریفی ہے جس پر کم لوگ توجہ دیتے ہیں:
نوآبادیاتی قانون کی میراث
جن مسلم اکثریتی ممالک میں شریعت “نہیں آئی” وہاں آج بھی چل رہا ہے:
∙ Indian Penal Code 1860 — انگریزوں کی دین، آج بھی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش میں
∙ Code of Civil Procedure — انگریزی نوآبادیاتی قانون
∙ Evidence Act — انگریزی ڈھانچہ
∙ Land Revenue Laws — استعماری زمانے کے
∙ Criminal Procedure Code — انگریزی ماخذ
یعنی جن ممالک نے ڈیڑھ سو سال پہلے اپنے ہی قانون کو چھوڑا — وہ آج بھی اپنے نوآبادیاتی آقاؤں کا قانون چلا رہے ہیں۔
یہ اپنے آپ میں ایک المیہ ہے — لیکن یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شریعت کو عملی طور پر کس قدر مؤثر طریقے سے ہٹایا گیا نوآبادیاتی دور میں۔
تو امریکہ میں اس کے آنے کا خوف — جبکہ مسلم ممالک میں بھی یہ نہیں آ سکی — عقل کی کسوٹی پر صفر ہے۔
ایک اور زاویہ — کیا یہود و نصاریٰ کے مذہبی قوانین کا خوف بھی ہے؟
یہ سوال پوچھنا ضروری ہے:
∙ یہودی شریعت (Halacha) — امریکہ میں یہودی کمیونٹیز اپنی مذہبی عدالتیں (Beth Din) چلاتی ہیں — کوئی قانون نہیں بنا
∙ عیسائی قانون (Canon Law) — کیتھولک چرچ اپنا مکمل قانونی نظام چلاتا ہے — کوئی خوف نہیں
∙ Mormon Practices — یوٹاہ میں مورمن اثر و رسوخ گہرا ہے — کوئی پابندی نہیں
صرف اسلامی قانون کا خوف کیوں؟
یہ قانونی یا آئینی سوال نہیں — یہ خالص نسلی و مذہبی تعصب ہے جسے قانونی لباس پہنایا گیا ہے۔
قرآنی تناظر
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس رویے کی عکاسی یوں کی:
“وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں — اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا چاہے کافروں کو کتنا ہی ناگوار لگے۔” (الصف: ۸)
اور یہ بھی:
“اور وہ مکر کرتے رہے اور اللہ نے بھی تدبیر کی — اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔” (آل عمران: ۵۴)
خلاصہ — ایک جملے میں
شریعت پر پابندی کا قانون ایک ایسی چیز کو روکنے کی کوشش ہے جو موجود نہیں، جو آ نہیں رہی، جو مسلم اکثریتی ممالک میں بھی نہیں آئی — لیکن جس کا خوف بیچنا سیاسی طور پر انتہائی منافع بخش ہے۔
یہ قانون سازی نہیں — یہ خوف کی صنعت کا ایک اور پروڈکٹ ہے۔
مومن کا کام یہ ہے کہ اس بیانیے کو علم، حکمت اور اعداد و شمار سے بے نقاب کرے — غصے سے نہیں، بلکہ اس اعتماد سے جو حق کو باطل کے سامنے حاصل ہوتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین