اللہ کی نعمتیں، کفرانِ نعمت اور شکرِ الٰہی — ایک جامع قرآنی و نبوی راہنما

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

 

 

 

اللہ کی نعمتیں، کفرانِ نعمت اور شکرِ الٰہی

قرآنِ کریم، احادیثِ نبوی اور تاریخ کی روشنی میں ایک جامع راہنما

 

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ

 

”اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی جو امن و سکون کا گہوارہ تھی، ہر طرف سے بفراغت رزق آتا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، ان کرتوتوں کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے۔”

سورۃ النحل: ۱۱۲

 

مرتب: ForOneCreator

ذاتی غور و فکر، اجتماعی گفتگو اور تمام انسانیت کے ساتھ اشتراک کے لیے

 

حصہ اول: حَلَالًا طَیِّبًا — دو الگ اصطلاحات یا ایک ہی مفہوم؟

 

 

یہ ایک اہم اور خوبصورت سوال ہے۔ علمائے کرام نے ان دونوں اصطلاحات کو الگ الگ معنی کا حامل قرار دیا ہے اور انہیں ایک ہی نہیں سمجھا۔ یہ ایک مکمل معیار کے دو مختلف پہلو ہیں۔

 

قرآن میں یہ جوڑ کہاں آیا ہے؟

یہ ترکیب کئی مقامات پر وارد ہوئی ہے:

◆ سورۃ البقرۃ ۲:۱۶۸ — یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا

◆ سورۃ المائدۃ ۵:۸۸ — وَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا

◆ سورۃ الانفال ۸:۶۹ — فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَیِّبًا

◆ سورۃ النحل ۱۶:۱۱۴ — فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا

 

علمائے کرام کی تفریق

۱۔ امام طبری (متوفی ۳۱۰ ھ)

امام طبری نے حلال کو قانونی زمرے میں رکھا — جو شریعت نے جائز قرار دیا ہو — اور طیب کو کیفیاتی شرط قرار دیا — جو پاکیزہ، صحت بخش اور نقصان سے پاک ہو۔ ان کے نزدیک یہ دو الگ فلٹر ہیں جن کا بیک وقت پورا ہونا ضروری ہے۔

۲۔ امام فخر الدین رازی (متوفی ۶۰۶ ھ)

مفاتیح الغیب میں انہوں نے انتہائی واضح تفریق کی:

 

حلال = شریعت کی اجازت (اباحتِ شرعیہ) — جس کا تعین شارع کرتا ہے

طیب = فطری پاکیزگی اور مفید ہونا — جس کا تعین عقل، فطرت اور انسانی مزاج سے ہوتا ہے

 

کوئی چیز بنیادی طور پر حلال ہو سکتی ہے مگر کسی خاص صورت حال میں طیب نہ ہو — جیسے کوئی جائز چیز نقصان دہ مقدار میں کھائی جائے۔ اور اس کے برعکس بھی ممکن ہے۔

۳۔ حافظ ابن کثیر (متوفی ۷۷۴ ھ)

انہوں نے طیب کو گندگی اور نقصان سے پاکیزگی سے جوڑا — یہاں تک کہ وہ چیزیں بھی خارج ہیں جو روحانی طور پر ناپاک (خبیث) ہوں، چاہے بعض مذاہب میں قانونی طور پر جائز ہوں۔ طیب کا براہِ راست متضاد خبیث ہے۔

۴۔ سید مودودی (متوفی ۱۹۷۹ء)

تفہیم القرآن میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ جوڑ کھانے کی اخلاقیات کے دو مختلف پہلوؤں کو بیان کرتا ہے: حلال ماخذ اور قانونی حیثیت کو بیان کرتا ہے جبکہ طیب ذاتی معیار، صفائی اور صحت مندی کو۔

۵۔ سید قطب (متوفی ۱۹۶۶ء)

فی ظلال القرآن میں انہوں نے مجموعی نقطہ نظر اختیار کیا: حلال منفی حد ہے (جو ممنوع نہ ہو) اور طیب مثبت معیار ہے (جو حقیقتاً پاک اور بھلا ہو)۔ ان میں سے کوئی ایک اکیلا کافی نہیں۔

 

دونوں کی ضرورت کیوں؟

حلال بغیر طیب کے: قانوناً جائز مگر ممکنہ طور پر نقصان دہ یا ناپاک

طیب بغیر حلال کے: خوشگوار یا مفید مگر حرام ذریعے سے حاصل کردہ — جیسے چوری کا کھانا

 

یہی وجہ ہے کہ قرآن انہیں ہمیشہ ساتھ جوڑتا ہے — یہ ہم معنی نہیں بلکہ باہم مکمل ہیں۔

 

حصہ دوم: کفرانِ نعمت — نعمتوں کو ٹھکرانے کی مثالیں

 

 

یہ قرآنی اخلاقی الٰہیات کا ایک گہرا اور بار بار آنے والا موضوع ہے۔ مختلف ادوار کے علمائے کرام نے کفرِ نعمت کی کئی سطحوں پر بھرپور مثالیں دی ہیں: انفرادی، اجتماعی، تہذیبی اور روحانی۔

 

کفر کی اصل — ک-ف-ر — کا لغوی معنی ڈھانپنا یا دفن کرنا ہے۔ جیسے کسان بیج کو مٹی میں دفن کرتا ہے، اسی طرح کفرانِ نعمت کرنے والا نعمت کو ناشکری، غلط استعمال، انکار یا تکبر سے ڈھانپ لیتا ہے۔

 

زمرہ اول: انفرادی مثالیں

۱۔ ابلیس — اصلِ ناشکری کا نمونہ

تقریباً تمام کبار علماء — طبری، ابن کثیر، مودودی، سید قطب — ابلیس کو کفرانِ نعمت کی ابتدائی مثال قرار دیتے ہیں۔ اسے صدیوں کی عبادت، اللہ کی قربت اور بلند مقام حاصل تھا۔ مگر جب ایک حکم نے اس کی شکرگزاری کو آزمایا تو اس کا تکبر آشکار ہو گیا۔ اس نے اللہ کے وجود کا انکار نہیں کیا — اس نے نعمت کی قدر کا انکار کیا۔

سید قطب لکھتے ہیں: اس کا کفر انکار سے نہیں بلکہ خود پسندی سے شروع ہوا — اس نے نعمت کو دیکھا اور اللہ کے بجائے اپنے آپ کو دیکھا۔

۲۔ قارون — دولت کی نعمت کا کفران

اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ عِنۡدِیۡ

سورۃ القصص: ۷۸

 

”یہ مجھے میرے اپنے علم کی بدولت دیا گیا ہے۔”

امام قرطبی وضاحت کرتے ہیں: یہ ناشکری کی سب سے خطرناک قسم ہے — نعمت کو اپنی ذات سے منسوب کرنا۔ اللہ کو سرے سے مساوات سے خارج کر دینا۔ مودودی نوٹ کرتے ہیں کہ قارون ان تمام تہذیبوں کی علامت ہے جو اپنی خودانگیخت ترقی کو یاد رکھتی ہیں مگر اس صلاحیت کو بھول جاتی ہیں جو خود ایک عطیہ تھی۔

۳۔ دو باغوں والا — غرور کا کفران

مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِیۡدَ ہٰذِہٖۤ اَبَدًا

سورۃ الکہف: ۳۵

 

”میرا خیال نہیں کہ یہ کبھی ختم ہوگا۔”

ابن کثیر اسے دوام کے گمان کا کفرانِ نعمت قرار دیتے ہیں — اس نے نعمت کو ایک مستقل حق سمجھا، الٰہی امانت نہیں۔ سید قطب کا سبق: جس لمحے انسان نعمت کے زوال کا احتمال نہیں رکھتا، ناشکری شروع ہو جاتی ہے۔

۴۔ تین آدمیوں کی حدیث

بخاری و مسلم میں آنے والی مشہور حدیث جسے تقریباً تمام علماء نے نعمت کی آیات کی تفسیر میں ذکر کیا ہے:

 

تین آدمیوں کو اللہ کی رحمت سے — کوڑھ سے شفا، مال، صحت — نعمت ملی۔ ان میں سے دو نے انکار کیا کہ وہ کبھی غریب یا بیمار تھے اور مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ امام نووی اور ابن حجر دونوں اس حدیث سے یادداشت کے مٹ جانے کے ذریعے کفرانِ نعمت کو واضح کرتے ہیں — اپنی سابقہ حالت کو بھول جانا خود ناشکری کی ایک قسم ہے۔

 

زمرہ دوم: اجتماعی و تہذیبی مثالیں

۵۔ قومِ سبا — کفرانِ نعمت کا قرآنی کیس اسٹڈی

لَقَدۡ کَانَ لِسَبَاٍ فِیۡ مَسۡکَنِہِمۡ اٰیَۃٌ ۚ جَنَّتٰنِ عَنۡ یَّمِیۡنٍ وَّ شِمَالٍ ؕ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ رَبِّکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ

سورۃ سبا: ۱۵

 

”یقیناً سبا کے لوگوں کے لیے ان کے گھروں میں ایک نشانی تھی — دائیں اور بائیں دو باغ۔ اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔”

امام طبری نے ان کی ناشکری کے مراحل درج کیے: انہوں نے شکایت کی کہ باغ بہت قریب ہیں — وہ آرام و عیش اور طویل سفر چاہتے تھے — ناشکری جو عزت پسندی کے لبادے میں تھی۔ نتیجہ: مشہور بند ٹوٹا، باغ تباہ ہو گئے۔ مودودی کا سبق: سبا اس معاشرے کی مثال ہے جو عروج پر پہنچ کر تکبر اور ناشکری سے خود کو برباد کر لیتا ہے۔

۶۔ بنی اسرائیل — صحرا میں ناشکری

انہیں آسمانی من و سلوٰی، بادلوں کا سایہ، چٹان سے پانی اور فرعون کی غلامی سے نجات ملی۔ ان کا کفران: ”ہم ایک قسم کے کھانے پر صبر نہیں کر سکتے” — انہوں نے الٰہی عنایت کی خوراک کے بجائے غلامی کی خوراک مانگی۔ سید قطب لکھتے ہیں: ”جسم نے مصر چھوڑا مگر روح نفسانی خواہشات کی غلام رہی۔” (سورۃ البقرۃ: ۵۷-۶۱)

۷۔ سورۃ النحل ۱۶:۱۱۲ کا تجزیہ

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ

سورۃ النحل: ۱۱۲

تمام چار کبار علماء — طبری، ابن کثیر، قرطبی، مودودی — اس بات پر متفق ہیں: یہ آیت اللہ کی سنت قائم کرتی ہے — رد کی گئی نعمت سزا کی شکل متعین کرتی ہے۔ جس نعمت کا کفران کیا اسی کا الٹ ملا: امن کی جگہ خوف، وسعت کی جگہ بھوک۔

 

زمرہ سوم: روحانی و لطیف اقسام

۸۔ نعمتوں کا مقصد کے خلاف استعمال — امام غزالی

احیاء العلوم میں امام غزالی کا سب سے مشہور تعلیم:

 

◆ زبان — ذکر کے لیے دی گئی — غیبت میں استعمال = کفرانِ نعمتِ کلام

◆ آنکھیں — اللہ کی نشانیاں دیکھنے کے لیے — حرام دیکھنے میں استعمال = کفرانِ نعمتِ بصارت

◆ عقل — حق کو پہچاننے کے لیے — باطل کے دلائل گھڑنے میں استعمال = کفرانِ نعمتِ عقل

 

”ہر عضو ایک امانت ہے؛ اسے اس کے مقصد کے خلاف استعمال کرنا نعمت کو دفن کرنا ہے۔”

۹۔ وقت کی نعمت

آپ ﷺ نے فرمایا:

نِعۡمَتَانِ مَغۡبُوۡنٌ فِیۡہِمَا کَثِیۡرٌ مِّنَ النَّاسِ: الصِّحَّۃُ وَالۡفَرَاغُ

”دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فرصت۔”

صحیح بخاری

 

ابن حجر عسقلانی وضاحت کرتے ہیں کہ مغبون (ٹھگا ہوا) وہ ہے جو نعمت رکھتا ہے مگر اس کی قدر نہیں جانتا جب تک وہ چلی نہ جائے — یہ بے خبری کا کفرانِ نعمت ہے، شاید سب سے عام۔

 

علمائے کرام کا جامع خلاصہ

کفرانِ نعمت کی قسم

مثال

نمایاں کرنے والے عالم

نعمت کو اپنی ذات سے منسوب کرنا

قارون

قرطبی، مودودی

دوام کا گمان

دو باغوں والا

ابن کثیر، سید قطب

کافی ہونے کے باوجود شکایت

بنی اسرائیل

طبری، سید قطب

اجتماعی تکبر و ہوس

قومِ سبا

مودودی، طبری

نعمت کو مقصد کے خلاف استعمال

عمومی

امام غزالی

سابقہ محرومی کو بھولنا

تین آدمیوں کی حدیث

نووی، ابن حجر

روحانی تکبر

ابلیس

تمام کبار علماء

 

حصہ سوم: اللہ کا شکر ادا کرنے کے طریقے

 

 

اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا

 

”اے آلِ داود! شکر کے طور پر عمل کرو۔”

سورۃ سبا: ۱۳

 

شکر کی بنیادی زبان عمل ہے — صرف الفاظ نہیں۔ شکر ایک تہذیب ہے، محض ایک جذبہ نہیں۔

 

پہلا پہلو: دل کا شکر

۱۔ معرفتِ منعم — اللہ کو نعمت کا حقیقی دینے والا جاننا

وَمَا بِکُم مِّن نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ

سورۃ النحل: ۵۳

 

”تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔”

 

امام غزالی فرماتے ہیں: شکر کا پہلا رکن معرفتِ منعم ہے — حقیقی دینے والے کو جاننا۔ دل کو ہر نعمت کو اللہ کی طرف منسوب کرنے کی مشق مستقل کرنی چاہیے۔

۲۔ حضرت سلیمانؑ کی دعا — شکر کی سب سے جامع دعا

رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ

سورۃ النمل: ۱۹ — سورۃ الاحقاف: ۱۵

 

”اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر عطا کی، اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند ہو، اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔”

 

امام قرطبی اسے قرآن کی سب سے جامع شکر کی دعا کہتے ہیں — اس میں چار حرکتیں ہیں: شکر کی توفیق مانگنا، والدین تک شکر پھیلانا، عملِ صالح مانگنا، نیک بندوں میں شامل ہونے کی دعا۔

 

دوسرا پہلو: زبان کا شکر

۳۔ روزمرہ کے مسنون اذکار

موقع

عربی ذکر

مطلب

بیدار ہوتے وقت

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ اَحۡیَانَا بَعۡدَ مَا اَمَاتَنَا

اس اللہ کا شکر جس نے موت کے بعد زندگی دی

کھانے کے بعد

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ اَطۡعَمَنَا وَسَقَانَا

اس اللہ کا شکر جس نے کھلایا پلایا

خوشخبری پر

سجدۂ شکر

پیشانی زمین پر رکھنا بطورِ شکر

ہر نماز کے بعد

سبحان اللہ ×۳۳، الحمد للہ ×۳۳، اللہ اکبر ×۳۳

تسبیح، حمد اور تکبیر

کسی کی مصیبت دیکھ کر

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ عَافَانِیۡ مِمَّا ابۡتَلَاکَ بِہٖ

شکر کہ اللہ نے مجھے اس آزمائش سے بچایا

۴۔ تحدیثِ نعمت — نعمتوں کا ذکر کرنا

وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ

سورۃ الضحٰی: ۱۱

 

”اور اپنے رب کی نعمت کا ذکر کرو۔”

 

ابن کثیر وضاحت کرتے ہیں: اللہ کی نعمتوں کا تواضع کے ساتھ ذکر کرنا — نہ فخر سے — خود شکر کا عمل ہے۔

 

تیسرا پہلو: اعضاء کا شکر

آپ ﷺ رات کو اتنی دیر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے کہ پاؤں سوج جاتے۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا: کیا میں شکرگزار بندہ نہ بنوں؟ (بخاری و مسلم)

 

امام غزالی کی سب سے مشہور تعلیم: ہر عضو کا شکر یہ ہے کہ اسے اس کام میں لگایا جائے جس کے لیے وہ بنایا گیا:

◆ آنکھیں: اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ، حرام سے بچنا

◆ کان: ذکر و تلاوت سننا، غیبت کی محفلوں سے دور رہنا

◆ زبان: سچی بات، ذکر، علم کی تعلیم

◆ ہاتھ: صدقہ دینا، دوسروں کی خدمت

◆ پاؤں: مسجد کی طرف چلنا، حرام جگہوں سے دور رہنا

◆ عقل: اللہ کی نشانیوں میں تفکر

◆ صحت: بیماری سے پہلے عبادت کے لیے استعمال

◆ دولت: اللہ کی راہ میں خرچ کرنا

 

چوتھا پہلو: مال کے ذریعے شکر

وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ

 

سید قطب لکھتے ہیں: زکوٰۃ شکر کا سماجی اظہار ہے — اللہ کی امانت سمجھی گئی دولت اس کی مخلوق کو لوٹائی جاتی ہے۔ دولت جمع کرنا اعلیٰ ترین مادی کفرانِ نعمت ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

اَلۡیَدُ الۡعُلۡیَا خَیۡرٌ مِّنَ الۡیَدِ السُّفۡلٰی

”دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔” (بخاری)

 

پانچواں پہلو: رشتوں کے ذریعے شکر

اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَلِوَالِدَیۡکَ

سورۃ لقمان: ۳۱

 

”میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔”

 

اللہ نے اپنے شکر کو والدین کے شکر کے ساتھ ایک ہی حکم میں جوڑا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔ (ترمذی — صحیح)

 

حصہ چہارم: قرآن — آئینہ ہے یا عجائب گھر؟

 

 

آپ کا یہ مشاہدہ نہایت گہرا ہے: جب ہمیں کوئی غیر متوقع تحفہ ملے تو ہم بے چینی سے دینے والے کو تلاش کرتے ہیں — پوچھتے ہیں، معلوم کرتے ہیں، شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جو ہستی ہماری زندگی کے ہر لمحے کو ان گنت نعمتوں سے بھرتی ہے — ہماری سانسیں، دھڑکن، بینائی، خاندان، خوراک، امن — اسے اکثر ہم تلاش نہیں کرتے، نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ شکر ادا کرتے ہیں۔

 

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ

سورۃ یوسف: ۱۱۱

 

”یقیناً ان کے قصوں میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔”

 

عربی لفظ عِبرۃ — عبرت — اس اصل سے ہے جس کا معنی ہے پار کرنا۔ پل۔ قرآنی واقعات مردہ تاریخ کے عجائب گھر نہیں — یہ ماضی کے حوادث سے حال کے محاسبۂ نفس تک پہنچنے کے پل ہیں۔ امام غزالی نے لکھا: ”جو شخص قرآنی قصے پڑھے اور صرف پرانی قومیں دیکھے اس نے قرآن کو سمجھا ہی نہیں۔ جو پڑھے اور اپنے آپ کو دیکھے — وہ سمجھنا شروع ہوا ہے۔”

 

سورۃ النحل ۱۶:۱۱۲–۱۱۳ کا گہرا تجزیہ

اللہ نے ضَرَبَ مَثَلًا فرمایا — ‘مثال بیان کی’ — تاریخ بیان نہیں کی۔ لفظ مثل فوری طور پر بتاتا ہے کہ یہ آفاقی اطلاق کے لیے ہے — ہر دور کے ہر قاری کے لیے۔

 

عربی اصطلاح

دی گئی نعمت

جدید مثال

آمِنَة

امن و سلامتی

مستحکم ادارے، امن و امان

مُطۡمَئِنَّة

اطمینان و سکون

سماجی ہم آہنگی، ذہنی بہبود

رِزۡق رَغَدًا

بھرپور رزق

اقتصادی خوشحالی، غذائی تحفظ

مِنۡ کُلِّ مَکَان

ہر طرف سے رزق

عالمی تجارت، متنوع وسائل

 

مودودی نوٹ کرتے ہیں: سزا بے ترتیب نہ تھی — وہ نعمت کا بالکل الٹ تھی۔ جس نعمت کا کفران کیا وہی سزا کی شکل بنی: امن کی جگہ خوف، وسعت کی جگہ بھوک۔

 

حصہ پنجم: تین سطحوں پر اطلاق

 

پہلی سطح: فرد

فَاَمَّا الۡاِنۡسَانُ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکۡرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ ۬ۚ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَکۡرَمَنِ ؕ وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ فَقَدَرَ عَلَیۡہِ رِزۡقَہٗ ۬ۚ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَہَانَنِ

سورۃ الفجر: ۱۵–۱۶

 

”انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اسے آزماتا ہے اور عزت و نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے: میرے رب نے مجھے عزت دی۔ اور جب آزماتا ہے اور رزق تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے: میرے رب نے مجھے ذلیل کیا۔”

 

اللہ پھر فرماتے ہیں: کَلَّا — نہیں! دونوں معاملوں میں تم غلط ہو۔ ابن کثیر: عام انسان کا روحانی پیمانہ خراب ہے — وہ نعمت کو الٰہی منظوری اور مصیبت کو الٰہی رد سمجھتا ہے۔ دونوں تفسیریں کفرانِ نعمت کی ایک شکل ہیں۔

 

پانچ چیزوں سے پہلے پانچ کا فائدہ اٹھاؤ — نبوی حدیث:

اِغۡتَنِمۡ خَمۡسًا قَبۡلَ خَمۡسٍ: شَبَابَکَ قَبۡلَ ہَرَمِکَ، وَصِحَّتَکَ قَبۡلَ سَقَمِکَ، وَغِنَاکَ قَبۡلَ فَقۡرِکَ، وَفَرَاغَکَ قَبۡلَ شُغۡلِکَ، وَحَیَاتَکَ قَبۡلَ مَوۡتِکَ

الحاکم — صحیح

 

جوانی سے پہلے بڑھاپا، صحت سے پہلے بیماری، دولت سے پہلے فقر، فرصت سے پہلے مصروفیت، زندگی سے پہلے موت

 

انفرادی غور و فکر کے سوالات:

◆ کیا میں بیماری سے پہلے اپنی صحت کا استعمال کر رہا ہوں؟

◆ کیا میں فقر سے پہلے اپنی دولت کا استعمال کر رہا ہوں؟

◆ کیا میں موت سے پہلے اپنے وقت کا استعمال کر رہا ہوں؟

◆ کیا میں اپنی نعمتوں کو اپنی قابلیت سے منسوب کرتا ہوں یا اللہ سے؟

◆ کیا میں اپنے اعضاء کو اس کام میں لگاتا ہوں جس کے لیے وہ بنائے گئے؟

دوسری سطح: معاشرہ و سماج

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا عَلٰی قَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ

سورۃ الانفال: ۵۳

 

”یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم پر اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔”

 

یہ آیت اجتماعی سطح پر اللہ کی سنت قائم کرتی ہے — طبیعی قوانین کی طرح مستقل۔ قومِ سبا: عروج پر پہنچ کر ناشکری سے برباد ہوئی۔ بنو اسرائیل: مصر سے آزادی کے بعد بھی نفسانی خواہشات کے غلام رہے۔ عباسی تہذیب: علم، طب، فلسفے کا مرکز بغداد — پھر ۱۲۵۸ء میں منگول یلغار سے تباہ۔ مسلم اندلس: ۸۰۰ سال کی حکمرانی — اندرونی انتشار اور ناشکری کے بعد چند دہائیوں میں ختم۔

تیسری سطح: اقوام و تہذیبیں

ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ

سورۃ الروم: ۴۱

 

”خشکی اور سمندر میں فساد پھیل گیا لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے — تاکہ انہیں ان کے کچھ کرتوتوں کا مزہ چکھائے — شاید وہ باز آ جائیں۔”

 

آپ ﷺ کی تنبیہ تہذیبی زوال کے بارے میں:

اِذَا تَبَایَعۡتُمۡ بِالۡعِیۡنَۃِ وَاَخَذۡتُمۡ اَذۡنَابَ الۡبَقَرِ وَرَضِیۡتُمۡ بِالزَّرۡعِ وَتَرَکۡتُمُ الۡجِہَادَ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ ذُلًّا لَّا یَنۡزِعُہٗ حَتّٰی تَرۡجِعُوۡا اِلٰی دِیۡنِکُمۡ

ابو داود — مستند

 

”جب تم سودی لین دین کرنے لگو، گائیوں کی دمیں پکڑ لو، کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ اور جہاد چھوڑ دو تو اللہ تم پر ذلت مسلط کر دے گا اور وہ اس وقت تک نہیں اٹھے گی جب تک تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹو۔”

 

حصہ ششم: صرف مسلمانوں کے لیے یا پوری انسانیت کے لیے؟

 

 

قرآن کا جواب واضح اور دو ٹوک ہے:

 

ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِیُنۡذَرُوۡا بِہٖ

سورۃ ابراہیم: ۵۲

 

”یہ تمام لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے تاکہ اس سے ڈرائے جائیں۔”

 

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ

سورۃ الانبیاء: ۱۰۷

 

”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”

 

سید قطب لکھتے ہیں: ”قرآن قبیلوں یا قوموں سے نہیں بلکہ انسانی فطرت سے خطاب کرتا ہے۔ بھوک، خوف، ناشکری، تکبر — یہ مسلمانوں کے مسائل نہیں۔ یہ انسانی مسائل ہیں۔ قرآن کی تشخیص آفاقی ہے چاہے اس کا نسخہ مخصوص ہو۔”

 

یہ پیغام کیسے پھیلایا جائے؟

مخاطبین

طریقۂ کار

مسلمان — جمعہ کا خطبہ

یہ آیات ایک مکمل خطبے کا فریم ورک ہیں: نعمتیں، ناشکری، تنبیہ، اصلاح۔ تین سطحیں (فرد، معاشرہ، قوم) منظم گفتگو کا ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں۔

مسلمان — حلقاتِ علم

ہر سطح پر غور و فکر کے سوالات استعمال کریں۔ پانچ چیزوں سے پہلے پانچ والی حدیث بہترین آغاز ہے۔

پوری انسانیت — اخلاقی فلسفہ

ہر تہذیب نے نعمت، ناشکری، انجام کا یہی سفر طے کیا ہے۔ اسے آفاقی تہذیبی حکمت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

پوری انسانیت — ماحولیاتی اخلاقیات

سورۃ الروم ۴۱:۳۰ خشکی و سمندر میں فساد کے بارے میں انسانی ہاتھوں کی وجہ سے — مذہبی و سیکولر دونوں حلقوں میں مشترک موضوع ہے۔

پوری انسانیت — سوشل میڈیا

بستی کی مثال بصری طور پر طاقتور ہے۔ وہ تضاد جو آپ نے بیان کیا — حیرت انگیز تحفے کے دینے والے کو ڈھونڈنا مگر مستقل نعمتوں کے دینے والے کو بھولنا — ایک آفاقی اور متاثر کن انسانی احساس ہے۔

 

اختتامی تأمل

 

 

وہ تضاد جس نے ہمیں جگایا

 

جب ہمیں کوئی حیران کن تحفہ ملے تو ہم بے چینی سے دینے والے کو ڈھونڈتے ہیں۔ پوچھتے ہیں، تلاش کرتے ہیں، شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ ہستی جو ہماری زندگی کے ہر لمحے کو ان گنت نعمتوں سے بھرتی ہے — ابھی یہ سانس، ابھی یہ دھڑکن، یہ آنکھیں جو یہ سطریں پڑھ رہی ہیں، وہ خاندان جو محبت کرتا ہے، وہ خوراک جو پالتی ہے، وہ امن جو گھیرے ہوئے ہے — اسے ہم میں سے اکثر نہ تلاش کرتے ہیں، نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ شکر ادا کرتے ہیں۔

 

یہ الزام نہیں۔ یہ دعوت ہے۔ قرآن مذمت کی کتاب نہیں — یہ واپسی کی کتاب ہے۔ ناشکری کی ہر آیت کے ارد گرد رحمت کی آیات ہیں۔ سزا کی ہر مثال میں اصلاح کا بیج ہے۔ جب تک سانس ہے دروازہ بند نہیں ہوتا۔

 

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ

سورۃ ابراہیم: ۷

 

”اگر تم شکر کرو گے تو میں یقیناً تمہیں مزید دوں گا — اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔”

 

فعل لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ میں دو تاکیدی نون ہیں — عربی کا سب سے قوی یقین دہانی کا انداز۔ یہ قرآن کی سب سے پختہ ضمانت ہے: شکرگزاری ضرب لگاتی ہے۔ یہ کشش ثقل جتنا یقینی الٰہی قانون ہے۔

 

ابن قیم کے شکر کے پانچ ارکان

 

مدارج السالکین میں ابن قیم نے لکھا: شکر پانچ بنیادوں پر قائم ہے:

 

1. خُضُوع — منعم کے سامنے عاجزی و انکسار

2. مَحَبَّت — اللہ کی محبت، صرف خوف نہیں

3. اِعتِراف — نعمت کا کھلا اعتراف

4. ثَنَاء — زبان و دل سے اللہ کی تعریف

5. عدمِ استعمالِ برائے معصیت — نعمت کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ کرنا

 

وہ خلاصہ کرتے ہیں: ”جو ان پانچوں سے خالی ہو اس کا کوئی شکر نہیں — چاہے اس کی زبان الحمد للہ سے کبھی نہ رکے۔”

 

وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ

”اور میرے بندوں میں سے بہت کم شکرگزار ہیں۔” — سورۃ سبا: ۱۳

 

اللہ کرے کہ ہم اس نادر اور خوش نصیب گروہ میں شامل ہو جائیں۔

 

اٰمِیۡنَ یَا رَبَّ الۡعَالَمِیۡنَ

Sharing Quran & prophets SA’s teachings